سنن ابو داؤد — حدیث #۱۵۹۰۰
حدیث #۱۵۹۰۰
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَطَسَ شَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَ مَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ " . قَالَ فَسَكَتَ الشَّابُّ ثُمَّ قَالَ " مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا قُلْتُهَا لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ خَيْرًا . قَالَ " مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آ گئی، تو اس نے کہا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة» اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ ، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا ، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے ( بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے ) ۔
راوی
ربیعہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲/۷۷۴
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۲: نماز