سنن ابو داؤد — حدیث #۱۶۷۵۵

حدیث #۱۶۷۵۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلاَهُ فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلاَ وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلاَ فَأَمَّا الأَقْرَعُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ فَلَفَّهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ وَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَكَانَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَرَانِي حَامِلاً إِلَى قَوْمِي كِتَابًا لاَ أَدْرِي مَا فِيهِ كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ ‏.‏ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ بِقَوْلِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ‏"‏ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَمَا الْغِنَى الَّذِي لاَ تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ قَالَ ‏"‏ قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ‏"‏ أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبَعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصِرًا عَلَى هَذِهِ الأَلْفَاظِ الَّتِي ذُكِرَتْ ‏.‏
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ۱؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بے نیاز کر دیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ ( ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے جہنم کی آگ کے بجائے جہنم کا انگارہ کہا ہے ) ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کر دیتا ہے؟ ( نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے ۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔
راوی
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۹/۱۶۲۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۹: زکوٰۃ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Hellfire #Mother

متعلقہ احادیث