سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۵۱۸

حدیث #۱۸۵۱۸
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، كِلاَهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَاللَّفْظُ لِلأَوْزَاعِيِّ - حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلاَّ هَذَا فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَىْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ وَقَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ رَافِعٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ نَحْوَهُ ‏.‏
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے ( یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا ) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔
راوی
حنظلہ بی۔ قیس الانصاری رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۳/۳۳۹۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۳: خرید و فروخت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث