سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۷۶۲
حدیث #۱۸۷۶۲
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ قَالَ فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى . قَالَ " فَهَبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا وَكَذَا " . أَمْرًا رَغَّبَهُ فِيهِ فَأَبَى فَقَالَ " أَنْتَ مُضَارٌّ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَنْصَارِيِّ " اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ " .
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے کھجور کے کچھ چھوٹے چھوٹے درخت تھے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ جب اپنے درختوں کے لیے جاتے تو انصاری کو تکلیف ہوتی اور ان پر شاق گزرتا اس لیے انصاری نے ان سے اسے فروخت کر دینے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر اس نے ان سے یہ گزارش کی کہ وہ درخت کا تبادلہ کر لیں وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا، تو آپ نے بھی ان سے فرمایا: اسے بیچ ڈالو پھر بھی وہ نہ مانے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درخت کے تبادلہ کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے ہبہ کر دو، اس کے عوض فلاں فلاں چیزیں لے لو بہت رغبت دلائی مگر وہ نہ مانے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «مضار» یعنی ایذا دینے والے ہو تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: جاؤ ان کے درختوں کو اکھیڑ ڈالو ۔
راوی
ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۳۶
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۲۵: قضا