سنن ابو داؤد — حدیث #۱۶۵۰۴
حدیث #۱۶۵۰۴
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قُلْتُ لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا . فَقَالَ مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا . فَقَالَ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ - زَادَ مُسَدَّدٌ وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا أَوْ أَحَبَّ أَنْ لاَ يَتَّكِلُوا ثُمَّ اتَّفَقَا - وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لاَ يَسْتَثْنِي . قُلْتُ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ قَالَ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قُلْتُ لِزِرٍّ مَا الآيَةُ قَالَ تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ .
زر کہتے ہیں کہ ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پا لے گا، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے ( مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کر لیں، ( آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے ) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ ( عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات ( کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں ) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔
راوی
زرر رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۶/۱۳۷۸
درجہ
Hasan Sahih
زمرہ
باب ۶: رمضان کی نفل نماز