سنن ابو داؤد — حدیث #۱۹۳۰۲
حدیث #۱۹۳۰۲
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلاً وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَاىَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي فَقَالَ " اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " . فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَىَّ مِنْهُ رَدْعٌ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَقَالَ " اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " . فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَىَّ وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ وَلاَ الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ وَلاَ الْجُنُبَ " . قَالَ وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ .
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق ( ایک مرکب خوشبو ہے ) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر ( دھبہ ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا: فرشتے کافر کے جنازہ میں کوئی خیر لے کر نہیں آتے، اور نہ اس شخص کے جو زعفران ملے ہو، نہ جنبی کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کر لے۔
راوی
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۶
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۳۵: بال سنوارنا
موضوعات:
#Mother