صحیح بخاری — حدیث #۲۷۴۸

حدیث #۲۷۴۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ‏.‏ تَأْمُلُ الْغِنَى، وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا سفیان ثوری سے ‘ وہ عمارہ سے ‘ ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا یہ کہ صدقہ تندرستی کی حالت میں کر کہ ( تجھ کو اس مال کو باقی رکھنے کی ) خواہش بھی ہو جس سے کچھ سرمایہ جمع ہو جانے کی تمہیں امید ہو اور ( اسے خرچ کرنے کی صورت میں ) محتاجی کا ڈر ہو اور اس میں تاخیر نہ کر کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے بیٹھ جائے کہ اتنا مال فلاں کے لیے ‘ فلانے کو اتنا دینا ‘ اب تو فلانے کا ہو ہی گیا ( تو تو دنیا سے چلا ) ۔
راوی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
صحیح بخاری # ۵۵/۲۷۴۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵۵: وصیت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Charity #Mother #Death

متعلقہ احادیث