۲۶۰ حدیث
۰۱
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۱۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏
"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انہیں ابن شہاب نے، انہیں سلیمان بن یسار نے، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس ( حجۃ الوداع میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت آئی۔ فضل اس کو دیکھنے لگے وہ بھی انہیں دیکھ رہی تھی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ بار بار دوسری طرف موڑ دینا چاہتے تھے۔ اس عورت نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کا فریضہ حج میرے والد کے لیے ادا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں اونٹنی پر بیٹھ نہیں سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج ( بدل ) کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجتہ الوداع کا واقعہ تھا۔
۰۲
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۱۴
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حَتَّى تَسْتَوِيَ بِهِ قَائِمَةً‏.‏
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں بن شہاب نے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحلیفہ میں دیکھا کہ اپنی سواری پر چڑھ رہے ہیں۔ پھر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک کہا۔
۰۳
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۱۵
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، سَمِعَ عَطَاءً، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ إِهْلاَلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ‏.‏ رَوَاهُ أَنَسٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهم‏.‏
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے خبر دی، کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا جب سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ابراہیم بن موسیٰ کی یہ حدیث ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
۰۴
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۱۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
وَقَالَ أَبَانُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مَعَهَا أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْمَرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، وَحَمَلَهَا عَلَى قَتَبٍ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ شُدُّوا الرِّحَالَ فِي الْحَجِّ، فَإِنَّهُ أَحَدُ الْجِهَادَيْنِ‏.‏
اور ابان نے کہا ہم سے مالک بن دینار نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمٰن کو بھیجا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کرایا اور پالان کی پچھلی لکڑی پر ان کو بٹھا لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالانیں باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔
۰۵
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۱۷
ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ حَجَّ أَنَسٌ عَلَى رَحْلٍ، وَلَمْ يَكُنْ شَحِيحًا، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَّ عَلَى رَحْلٍ وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ‏.‏
محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہ ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عزرہ بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ایک پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے اور آپ بخیل نہیں تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے تھے، اسی پر آپ کا اسباب بھی لدا ہوا تھا۔
۰۶
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۱۸
القاسم بن محمد رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْتَمَرْتُمْ وَلَمْ أَعْتَمِرْ‏.‏ فَقَالَ ‏
"‏ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ اذْهَبْ بِأُخْتِكَ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ‏"‏‏.‏ فَأَحْقَبَهَا عَلَى نَاقَةٍ فَاعْتَمَرَتْ‏.‏
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایمن بن نابل نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انھوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ لوگوں نے تو عمرہ کر لیا لیکن میں نہ کر سکی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن اپنی بہن کو لے جا اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرا لا۔ چنانچہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اونٹ کے پیچھے بٹھا لیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ ادا کیا۔
۰۷
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۱۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏‏.‏ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ حَجٌّ مَبْرُورٌ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج مبرور۔
۰۸
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ قَالَ ‏
"‏ لاَ، لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں حبیب بن ابی عمرہ نے خبر دی، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد سب نیک کاموں سے بڑھ کر ہے۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ سب سے افضل جہاد حج ہے جو مبرور ہو۔
۰۹
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏"‏‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیارابوالحکم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو حزم سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
۱۰
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۲
زید بن جبیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فِي مَنْزِلِهِ وَلَهُ فُسْطَاطٌ وَسُرَادِقٌ، فَسَأَلْتُهُ مِنْ أَيْنَ يَجُوزُ أَنْ أَعْتَمِرَ قَالَ فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ‏.‏
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن جبیر نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے۔ وہاں قنات کے ساتھ شامیانہ لگا ہوا تھا ( زید بن جبیر نے کہا کہ ) میں نے پوچھا کہ کس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لیے قرن، مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر کیا ہے۔
۱۱
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلاَ يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ، فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى‏}‏‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلاً‏.‏
ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا، ان سے ورقاء بن عمرو نے، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یمن کے لوگ راستہ کا خرچ ساتھ لائے بغیر حج کے لیے آ جاتے تھے۔ کہتے تو یہ تھے کہ ہم توکل کرتے ہیں لیکن جب مکہ آتے تو لوگوں سے مانگنے لگتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ”اور توشہ لے لیا کرو کہ سب سے بہتر توشہ تو تقویٰ ہی ہے۔“ اس کو ابن عیینہ نے عمرو سے بواسطہ عکرمہ مرسلاً نقل کیا ہے۔
۱۲
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۴
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے احرام کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے قرن منزل، یمن والوں کے یلملم متعین کیا۔ یہاں سے ان مقامات والے بھی احرام باندھیں اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے آئیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہیں سفر شروع کرنا ہے۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔
۱۳
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۵
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّأْمِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، شام کے لوگ حجفہ سے اور نجد کے لوگ قرن المنازل سے۔ عبداللہ نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یمن کے لوگ یلملم سے احرام باندھیں۔
۱۴
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۶
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَاكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم۔ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔
۱۵
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۷
سلیم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَّتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی، ان سے سالم نے کہا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات متعین کر دیئے تھے۔
۱۶
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۸
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّأْمِ مَهْيَعَةُ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، وَأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ زَعَمُوا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ ‏"‏ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ ‏"‏‏.‏
(دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے مہیعہ یعنی حجفہ اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن والے احرام یلملم سے باندھیں لیکن میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔
۱۷
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۲۹
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ میقات ٹھہرایا اور شام والوں کے لیے حجفہ، یمن والوں کے لیے یلملم اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل۔ یہ ان ملکوں کے لوگوں کے لیے ہیں اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزریں۔ اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں۔ تو وہ اپنے شہروں سے احرام باندھیں، تاآنکہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔
۱۸
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۰
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لأَهْلِهِنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ‏.‏
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم۔ یہ ان ملکوں کے باشندوں کے میقات ہیں اور تمام ان دوسرے مسلمانوں کے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر آئیں اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں تو ( وہ احرام وہیں سے باندھیں ) جہاں سے سفر شروع کریں تاآنکہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔
۱۹
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۱
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا فُتِحَ هَذَانِ الْمِصْرَانِ أَتَوْا عُمَرَ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّ لأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَهُوَ جَوْرٌ عَنْ طَرِيقِنَا، وَإِنَّا إِنْ أَرَدْنَا قَرْنًا شَقَّ عَلَيْنَا‏.‏ قَالَ فَانْظُرُوا حَذْوَهَا مِنْ طَرِيقِكُمْ‏.‏ فَحَدَّ لَهُمْ ذَاتَ عِرْقٍ‏.‏
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب یہ دو شہر ( بصرہ اور کوفہ ) فتح ہوئے تو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ یا امیرالمؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ قرن المنازل قرار دی ہے اور ہمارا راستہ ادھر سے نہیں ہے، اگر ہم قرن کی طرف جائیں تو ہمارے لیے بڑی دشواری ہو گی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تم لوگ اپنے راستے میں اس کے برابر کوئی جگہ تجویز کر لو۔ چنانچہ ان کے لیے ذات عرق کی تعیین کر دی۔
۲۰
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۲
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا‏.‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَفْعَلُ ذَلِكَ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ذوالحلیفہ کے پتھریلے میدان میں اپنی سواری روکی اور پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
۲۱
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۳
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ الشَّجَرَةِ، وَإِذَا رَجَعَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي، وَبَاتَ حَتَّى يُصْبِحَ‏.‏
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ کے راستے سے گزرتے ہوئے ”معرس“ کے راستے سے مدینہ آتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ جاتے تو شجرہ کی مسجد میں نماز پڑھتے لیکن واپسی میں ذوالحلیفہ کے نشیب میں نماز پڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات وہیں گزارتے تاآنکہ صبح ہو جاتی۔
۲۲
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۴
عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ التِّنِّيسِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِوَادِي الْعَقِيقِ يَقُولُ ‏
"‏ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةً فِي حَجَّةٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوبکر عبداللہ حمیدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید اور بشر بن بکر تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کا بیان تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی عقیق میں سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ رات میرے پاس میرے رب کا ایک فرشتہ آیا اور کہا کہ اس ”مبارک وادی“ میں نماز پڑھ اور اعلان کر کہ عمرہ حج میں شریک ہو گیا۔
۲۳
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۵
موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رُئِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي قِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ‏.‏ وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ، يَتَوَخَّى بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ، يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذَلِكَ‏.‏
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی ( وادی عقیق ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب دکھایا گیا۔ ( جس میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تھا کہ آپ اس وقت ”بطحاء مبارکہ“ میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ سالم نے ہم کو بھی وہاں ٹھہرایا وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں عبداللہ اونٹ بٹھایا کرتے تھے یعنی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے۔ وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف میں ہے جو نالے کے نشیب میں ہے۔ اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ ( وادی عقیق مدینہ سے چار میل بقیع کی جانب ہے ) ۔
۲۴
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۶
صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ
قَالَ أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى قَالَ لِعُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ أَرِنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ يُوحَى إِلَيْهِ قَالَ فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْجِعْرَانَةِ، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ، وَهْوَ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاعَةً فَجَاءَهُ الْوَحْىُ، فَأَشَارَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى يَعْلَى، فَجَاءَ يَعْلَى، وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْمَرُّ الْوَجْهِ، وَهُوَ يَغِطُّ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ الَّذِي سَأَلَ عَنِ الْعُمْرَةِ ‏"‏ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ فَقَالَ ‏"‏ اغْسِلِ الطِّيبَ الَّذِي بِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَانْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَرَادَ الإِنْقَاءَ حِينَ أَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ نَعَمْ‏.‏
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم، ضحاک بن مخلد نبیل نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ نے، کہا کہ ان کے باپ یعلیٰ بن امیہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کبھی آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دکھایئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جس نے عمرہ کا احرام اس طرح باندھا کہ اس کے کپڑے خوشبو میں بسے ہوئے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑا تھا جس کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے کپڑے کے اندر اپنا سر کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ روئے مبارک سرخ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لے رہے ہیں۔ پھر یہ حالت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے جس نے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا۔ شخص مذکور حاضر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لے اور اپنا جبہ اتار دے۔ عمرہ میں بھی اسی طرح کر جس طرح حج میں کرتے ہو۔ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تین مرتبہ دھونے کے حکم سے پوری طرح صفائی مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔
۲۵
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۷
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ قَالَ مَا تَصْنَعُ بِقَوْلِهِ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ‏.‏
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے بالوں میں تیل لگاتے تھے۔ میں نے ابراہیم سے کہا جنہوں نے کہا: اس قول کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے: اسود عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں: گویا میں اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے ٹوٹنے میں خوشبو کی چمک دیکھ رہا ہوں جب وہ محرم تھے؟
۲۶
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۸
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ قَالَ مَا تَصْنَعُ بِقَوْلِهِ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ‏.‏
ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے بالوں میں تیل لگاتے تھے۔ میں نے یہ بات ابراہیم علیہ السلام سے کہی جس نے کہا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ بیان: اسود عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں: گویا میں اب اس کی خوشبو کو دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کاٹنا جبکہ وہ محرم تھے؟
۲۷
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۳۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ حِينَ يُحْرِمُ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے لیے اور اسی طرح بیت اللہ کے طواف زیارت سے پہلے حلال ہونے کے لیے، خوشبو لگایا کرتی تھیں۔
۲۸
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۰
سلیم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا‏.‏
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبید کی حالت میں لبیک کہتے سنا۔
۲۹
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۱
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، کہ وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے قریب ہی پہنچ کر احرام باندھا تھا۔
۳۰
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ يَلْبَسُ الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ، إِلاَّ أَحَدٌ لاَ يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ أَوْ وَرْسٌ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! محرم کو کس طرح کا کپڑا پہننا چاہئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کرتہ پہنے، نہ عمامہ باندھے، نہ پاجامہ پہنے، نہ باران کوٹ، نہ موزے۔ لیکن اگر اس کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزے اس وقت پہن سکتا ہے جب ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ لیا ہو۔ ( اور احرام میں ) کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے لیکن کنگھا نہ کرے۔ بدن بھی نہ کھجلانا چاہئے او جوں سر اور بدن سے نکال کر زمین پر ڈالی جا سکتی ہے۔
۳۱
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۳
عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أُسَامَةَ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى‏.‏ قَالَ فَكِلاَهُمَا قَالَ لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ‏.‏
عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرفات سے مزدلفہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری کی، پھر الفضل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مزدلفہ سے منیٰ تک سوار ہوئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید کہا کہ ان دونوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرات عقبہ کی رمی کی۔
۳۲
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۴
عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أُسَامَةَ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى‏.‏ قَالَ فَكِلاَهُمَا قَالَ لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ‏.‏
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرفات سے مزدلفہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری کی، پھر الفضل تک۔ مزدلفہ سے منیٰ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید کہا: ان دونوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرات عقبہ کی رمی کی۔ "
۳۳
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۵
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ، بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ وَلَبِسَ إِزَارَهُ وَرِدَاءَهُ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمْ يَنْهَ عَنْ شَىْءٍ مِنَ الأَرْدِيَةِ وَالأُزْرِ تُلْبَسُ إِلاَّ الْمُزَعْفَرَةَ الَّتِي تَرْدَعُ عَلَى الْجِلْدِ، فَأَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَلَّدَ بَدَنَتَهُ، وَذَلِكَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، فَقَدِمَ مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ بُدْنِهِ لأَنَّهُ قَلَّدَهَا، ثُمَّ نَزَلَ بِأَعْلَى مَكَّةَ عِنْدَ الْحَجُونِ، وَهْوَ مُهِلٌّ بِالْحَجِّ، وَلَمْ يَقْرَبِ الْكَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّى رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يُقَصِّرُوا مِنْ رُءُوسِهِمْ ثُمَّ يَحِلُّوا، وَذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ بَدَنَةٌ قَلَّدَهَا، وَمَنْ كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فَهِيَ لَهُ حَلاَلٌ، وَالطِّيبُ وَالثِّيَابُ‏.‏
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حجتہ الوداع میں ظہر اور عصر کے درمیان ہفتہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنگھا کرنے اور تیل لگانے اور ازار اور رداء پہننے کے بعد اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت زعفران میں رنگے ہوئے ایسے کپڑے کے سوا جس کا رنگ بدن پر لگتا ہو کسی قسم کی چادر یا تہبند پہننے سے منع نہیں کیا۔ دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچ گئے ( اور رات وہیں گزاری ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیداء سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے لبیک کہا اور احرام باندھا اور اپنے اونٹوں کو ہار پہنایا۔ ذی قعدہ کے مہینے میں اب پانچ دن رہ گئے تھے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی حلال نہیں ہوئے کیونکہ قربانی کے جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن میں ہار ڈال دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجون پہاڑ کے نزدیک مکہ کے بالائی حصہ میں اترے۔ حج کا احرام اب بھی باقی تھا۔ بیت اللہ کے طواف کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس وقت تک تشریف نہیں لے گئے جب تک میدان عرفات سے واپس نہ ہو لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کریں، پھر اپنے سروں کے بال ترشوا کر حلال ہو جائیں۔ یہ فرمان ان لوگوں کے لیے تھا جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے۔ اگر کسی کے ساتھ اس کی بیوی تھی تو وہ اس سے ہمبستر ہو سکتا تھا۔ اسی طرح خوشبودار اور ( سلے ہوئے ) کپڑے کا استعمال بھی اس کے لیے جائز تھا۔
۳۴
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۶
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں لیکن ذوالحلیفہ میں دو رکعت ادا فرمائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں گزاری۔ صبح کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری۔
۳۵
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۷
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ وَأَحْسِبُهُ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی لیکن ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ رات صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ہی گزار دی۔
۳۶
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر مدینہ منورہ میں چار رکعت پڑھی۔ لیکن نماز عصر ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔ میں نے خود سنا کہ لوگ بلند آواز سے حج اور عمرہ دونوں کے لیے لبیک کہہ رہے تھے۔
۳۷
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۴۹
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ تَلْبِيَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللهم لبيك،‏‏‏‏ لبيك لا شريك لك لبيك،‏‏‏‏ إن الحمد والنعمة لك والملك،‏‏‏‏ لا شريك لك‏» ”حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں میں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حاضر ہوں، تمام حمد تیرے ہی لیے ہے اور تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں، بادشاہت تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔“
۳۸
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنِّي لأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ‏.‏
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اعمش سے بیان کیا، ان سے عمارہ نے ان سے ابوعطیہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں جانتی ہوں کہ کس طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے تھے «لبيك اللهم لبيك،‏‏‏‏ لبيك لا شريك لك لبيك،‏‏‏‏ إن الحمد والنعمة لك‏» ( ترجمہ گزر چکا ہے ) اس کی متابعت سفیان ثوری کی طرح ابومعاویہ نے اعمش سے بھی کی ہے۔ اور شعبہ نے کہا کہ مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی کہ میں نے خیثمہ سے سنا اور انہوں نے ابوعطیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
۳۹
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ مَعَهُ بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، حَمِدَ اللَّهَ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا، حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ وَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا، وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَنَسٍ‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، مدینہ میں ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو وہیں رہے۔ صبح ہوئی تو مقام بیداء سے سواری پر بیٹھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی تسبیح اور تکبیر کہی۔ پھر حج اور عمرہ کے لیے ایک ساتھ احرام باندھا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا ( یعنی قران کیا ) جب ہم مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ( جن لوگوں نے حج تمتع کا احرام باندھا تھا ان ) سب نے احرام کھول دیا۔ پھر آٹھویں تاریخ میں سب نے حج کا احرام باندھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کھڑے ہو کر بہت سے اونٹ نحر کئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عید الاضحی کے دن ) مدینہ میں بھی دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ بعض لوگ اس حدیث کو یوں روایت کرتے ہیں ایوب سے، انہوں نے ایک شخص سے، انہوں نے انس سے۔
۴۰
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً‏.‏
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے صالح بن کیسان نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پوری طرح کھڑی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکارا۔
۴۱
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۳
وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا صَلَّى بِالْغَدَاةِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ ثُمَّ رَكِبَ، فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ قَائِمًا، ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَبْلُغَ الْمَحْرَمَ، ثُمَّ يُمْسِكُ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ اغْتَسَلَ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ ذَلِكَ‏.‏ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ فِي الْغَسْلِ‏.‏
اور ابومعمر نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ چکے تو اپنی اونٹنی پر پالان لگانے کا حکم فرمایا، سواری لائی گئی تو آپ اس پر سوار ہوئے اور جب وہ آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تو آپ کھڑے ہو کر قبلہ رو ہو گئے اور پھر لبیک کہنا شروع کیا تاآنکہ حرم میں داخل ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لبیک کہنا بند کر دیا۔ پھر ذی طویٰ میں تشریف لا کر رات وہیں گزارتے صبح ہوتی تو نماز پڑھتے اور غسل کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہوتے ) آپ یقین کے ساتھ یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ عبدالوارث کی طرح اس حدیث کو اسماعیل نے بھی ایوب سے روایت کیا۔ اس میں غسل کا ذکر ہے۔
۴۲
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۴
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى مَكَّةَ ادَّهَنَ بِدُهْنٍ لَيْسَ لَهُ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ الْحُلَيْفَةِ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْكَبُ، وَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَحْرَمَ، ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ‏.‏
ہم سے ابوالربیع سلیمان بن داود نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ جانے کا ارادہ کرتے تھے پہلے خوشبو کے بغیر تیل استعمال کرتے۔ اس کے بعد مسجد ذوالحلیفہ میں تشریف لاتے یہاں صبح کی نماز پڑھتے، پھر سوار ہوتے، جب اونٹنی آپ کو لے کر پوری طرح کھڑی ہو جاتی تو احرام باندھتے۔ پھر فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا تھا۔
۴۳
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۵
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ وَلَكِنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَمَّا مُوسَى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے ان سے مجاہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو یہ نہیں سنا۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ نالے میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں۔
۴۴
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏‏.‏ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا‏.‏
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے، ان سے نبی کریم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجتہ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پہلے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی ہو تو اسے عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہئے۔ ایسا شخص درمیان میں حلال نہیں ہو سکتا بلکہ حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ حلال ہو گا۔ میں بھی مکہ آئی تھی اس وقت میں حائضہ ہو گئی، اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا سر کھول ڈال، کنگھا کر اور عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لے۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا ( اور عمرہ ادا کیا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے۔ ( جسے تم نے چھوڑ دیا تھا ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے ( حجۃ الوداع میں ) صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف صفا اور مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے۔ پھر منیٰ سے واپس ہونے پر دوسرا طواف ( یعنی طواف الزیارۃ ) کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا، انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا یعنی طواف الزیارۃ کیا۔
۴۵
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۷
Ata
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ ـ رضى الله عنه ـ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَذَكَرَ قَوْلَ سُرَاقَةَ‏.‏
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں۔ انہوں نے سراقہ کا قول بھی ذکر کیا تھا۔ اور محمد بن ابی بکر نے ابن جریج سے یوں روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا علی! تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے عرض کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا احرام باندھا ہو ( اسی کا میں نے بھی باندھا ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قربانی کر اور اپنی اسی حالت پر احرام جاری رکھ۔
۴۶
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ بِمَا أَهْلَلْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ‏"‏‏.‏ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ‏"‏‏.‏ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ ‏"‏‏.‏
ہم سے حسن بن علی خلال ہذلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مروان اصفر سے سنا اور ان سے انس بن مالک نے بیان کیا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کس طرح کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔
۴۷
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۵۹
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْمٍ بِالْيَمَنِ فَجِئْتُ وَهْوَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ ‏"‏ بِمَا أَهْلَلْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أَهْلَلْتُ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ هَلْ مَعَكَ مِنْ هَدْىٍ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ‏.‏ فَأَمَرَنِي فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَحْلَلْتُ فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي، أَوْ غَسَلَتْ رَأْسِي، فَقَدِمَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ قَالَ اللَّهُ ‏{‏وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ‏}‏ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْىَ‏.‏
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے پاس یمن بھیجا تھا۔ جب ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطحاء میں ملاقات ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس کا احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا باندھا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ قربانی ہے؟ میں نے عرض کی کہ نہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں بیت اللہ کا طواف، صفا اور مروہ کی سعی کروں چنانچہ میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس آیا۔ انہوں نے میرے سر کا کنگھا کیا یا میرا سر دھویا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ کی کتاب پر عمل کریں تو وہ یہ حکم دیتی ہے کہ حج اور عمرہ پورا کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اور حج اور عمرہ پورا کرو اللہ کی رضا کے لیے۔“ اور اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی سے فراغت نہیں حاصل فرمائی۔
۴۸
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۶۰
القاسم بن محمد رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَلَيَالِي الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا بِسَرِفَ قَالَتْ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ مَعَهُ هَدْىٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ فَلاَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَالآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَتْ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَكَانُوا أَهْلَ قُوَّةٍ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْىُ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهْ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ سَمِعْتُ قَوْلَكَ لأَصْحَابِكَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا شَأْنُكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ أُصَلِّي‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ يَضِيرُكِ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى فَطَهَرْتُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى فَأَفَضْتُ بِالْبَيْتِ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الآخِرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبَ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ ‏"‏ اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا، ثُمَّ ائْتِيَا هَا هُنَا، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي ‏"‏‏.‏ ـ قَالَتْ ـ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ، وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ فَرَغْتُمْ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَآذَنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ فَمَرَّ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ ضَيْرُ مِنْ ضَارَ يَضِيرُ ضَيْرًا، وَيُقَالُ ضَارَ يَضُورُ ضَوْرًا وَضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا‏.‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں اور حج کے دنوں میں نکلے۔ پھر سرف میں جا کر اترے۔ آپ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو اور وہ چاہتا ہو کہ اپنے احرام کو صرف عمرہ کا بنا لے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہ کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے اس فرمان پر عمل کیا اور بعض نے نہیں کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض اصحاب جو استطاعت و حوصلہ والے تھے ( کہ وہ احرام کے ممنوعات سے بچ سکتے تھے۔ ) ان کے ساتھ ہدی بھی تھی، اس لیے وہ تنہا عمرہ نہیں کر سکتے تھے ( پس انہوں نے احرام نہیں کھولا ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ( اے بھولی بھالی عورت! تو ) رو کیوں رہی ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کے اپنے صحابہ سے ارشاد کو سن لیا، اب تو میں عمرہ نہ کر سکوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا میں نماز پڑھنے کے قابل نہ رہی ( یعنی حائضہ ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ آخر تم بھی تو آدم کی بیٹیوں کی طرح ایک عورت ہو اور اللہ نے تمہارے لیے بھی وہ مقدر کیا ہے جو تمام عورتوں کے لیے کیا ہے۔ اس لیے ( عمرہ چھوڑ کر ) حج کرتی رہ اللہ تعالیٰ تمہیں جلد ہی عمرہ کی توفیق دیدے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کیا کہ ہم حج کے لیے نکلے۔ جب ہم ( عرفات سے ) منیٰ پہنچے تو میں پاک ہو گئی۔ پھر منٰی سے جب میں نکلی تو بیت اللہ کا طواف الزیارۃ کیا۔ آپ نے بیان کیا کہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب واپس ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی محصب میں آن کر اترے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلا کر کہا کہ اپنی بہن کو لے کر حرم سے باہر جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ پھر عمرہ سے فارغ ہو کر تم لوگ یہیں واپس آ جاؤ، میں تمہارا انتظار کرتا رہوں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ) چلے اور جب میں اور میرے بھائی طواف سے فارغ ہو لیے تو میں سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ فارغ ہو لیں؟ میں نے کہا ہاں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے سفر شروع کر دینے کے لیے کہا۔ سفر شروع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ جو «لايضيرک» ہے وہ «ضار يضير ضيراا» سے مشتق ہے ضار يضور ضورا» بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور جس روایت میں «لايضرک» ہے وہ «ضر يضر ضرا‏» سے نکلا ہے۔
۴۹
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۶۱
الاسود رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ ‏"‏ وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَقْرَى حَلْقَى، أَوَمَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ بَأْسَ، انْفِرِي ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ، وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهْوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا‏.‏
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم حج کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ( اور لوگوں نے ) بیت اللہ کا طواف کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے۔ چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے۔ ( افعال عمرہ کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں، اس لیے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی تھیں اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی ( یعنی عمرہ چھوٹ گیا اور حج کرتی چلی گئی ) جب محصب کی رات آئی، میں نے کہا یا رسول اللہ! اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کر سکی تھی؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ ( پھر عمرہ ادا کر ) ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے اور صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ ( لوگوں ) کو روکنے کا سبب بن جاؤں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے یوم نحر کا طواف نہیں کیا تھا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں میں تو طواف کر چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں چل کوچ کر۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصہ پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس چڑھاؤ کے بعد اتر رہے تھے۔
۵۰
صحیح بخاری # ۲۵/۱۵۶۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا اور کچھ نے صرف حج کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پہلے ) صرف حج کا احرام باندھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی شریک کر لیا، پھر جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا، ان کا احرام دسویں تاریخ تک نہ کھل سکا۔