صحیح بخاری — حدیث #۴۳۲۵

حدیث #۴۳۲۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الطَّائِفَ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ ‏"‏ إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا نَذْهَبُ وَلاَ نَفْتَحُهُ ـ وَقَالَ مَرَّةً نَقْفُلُ ـ فَقَالَ ‏"‏ اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ‏"‏‏.‏ فَغَدَوْا فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَأَعْجَبَهُمْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَتَبَسَّمَ‏.‏ قَالَ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس نابینا شاعر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ اب ان شاءاللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں ( راوی نے ) ایک مرتبہ «نذهب» کے بجائے «نقفل» کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم۔۔۔ لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں ( یہ کیونکر ہو سکتا ہے ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔ پس وہ صحابہ سویرے ہی آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔ اب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس چلیں گے۔ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری خبر بیان کی۔
راوی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح بخاری # ۶۴/۴۳۲۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۶۴: مغازی
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث