صحیح بخاری — حدیث #۴۴۳۵

حدیث #۴۴۳۵
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ ‏{‏مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ‏}‏ الآيَةَ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ‏.‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ آپ آیت «مع الذين أنعم الله عليهم‏» کی تلاوت فرما رہے تھے ( یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے ) مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
صحیح بخاری # ۶۴/۴۴۳۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۶۴: مغازی
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Charity #Mother #Death

متعلقہ احادیث