صحیح بخاری — حدیث #۶۱۳۱
حدیث #۶۱۳۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، حَدَّثَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ. أَنَّهُ، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ " ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ". أَوْ " بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ". فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْكَلاَمَ. فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ مَا قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ فِي الْقَوْلِ. فَقَالَ " أَىْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ ـ أَوْ وَدَعَهُ ـ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بلا لو، یہ اپنی قوم کا بہت ہی برا آدمی ہے۔ جب وہ شخص اندر آ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ابھی اس کے متعلق کیا فرمایا تھا اور پھر اتنی نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے وہ شخص سب سے برا ہے جسے لوگ اس کی بدخلقی کی وجہ سے چھوڑ دیں۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
صحیح بخاری # ۷۸/۶۱۳۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۷۸: آداب
موضوعات:
#Mother