صحیح بخاری — حدیث #۶۲۹۱

حدیث #۶۲۹۱
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا قِسْمَةً فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ‏.‏ قُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لآتِيَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهْوَ فِي مَلأٍ، فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ مال تقسیم فرمایا اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہ تھی میں نے کہا کہ ہاں! اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا۔ چنانچہ میں گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں چپکے سے یہ بات کہی تو آپ غصہ ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا پھر آپ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا ( پس میں بھی صبر کروں گا ) ۔
راوی
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
صحیح بخاری # ۷۹/۶۲۹۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۷۹: اجازت مانگنا
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Patience #Mercy #Mother

متعلقہ احادیث