صحیح بخاری — حدیث #۶۵۷۱

حدیث #۶۵۷۱
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ كَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ‏.‏ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ‏.‏ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى‏.‏ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا‏.‏ أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا‏.‏ فَيَقُولُ تَسْخَرُ مِنِّي، أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ‏"‏‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَكَانَ يُقَالُ ذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً‏.‏
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اہل جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہل جنت میں کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ تمہیں دنیا اور اس سے دس گنا دیا جاتا ہے یا ( اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ) تمہیں دنیا کے دس گنا دیا جاتا ہے۔ وہ شخص کہے گا تو میرا مذاق بناتا ہے حالانکہ تو شہنشاہ ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔
راوی
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
صحیح بخاری # ۸۱/۶۵۷۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۸۱: نرم دلی
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Paradise #Hellfire #Mother

متعلقہ احادیث