صحیح بخاری — حدیث #۷۱۲۸
حدیث #۷۱۲۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يَنْطُفُ ـ أَوْ يُهَرَاقُ ـ رَأْسُهُ مَاءً قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ مَرْيَمَ. ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ، فَإِذَا رَجُلٌ جَسِيمٌ أَحْمَرُ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ. أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ ". رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا ( خواب میں ) کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو گندم گوں تھے اور ان کے سر کے بال سیدھے تھے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا ( ان پر میری نظر پڑی ) میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ میرے ساتھ کے لوگوں نے بتایا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہیں پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو موٹے شخص پر نظر پڑی جو سرخ تھا اس کے بال گھونگھریالے تھے، ایک آنکھ کا کانا تھا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح اٹھی ہوئی تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔
راوی
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح بخاری # ۹۲/۷۱۲۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۹۲: فتنے
موضوعات:
#Mother