صحیح مسلم — حدیث #۷۵۹۶
حدیث #۷۵۹۶
روى أبو نضر هاشم بن قاسم حديثًا قال: سمعنا أبا عقيل (يحيى بن متوكل)، سيد بهية، يروي حديثًا قال: كنتُ جالسًا مع قاسم بن عبيد الله (بن عبد الله بن عمر، أمه أم عبد الله بنت قاسم بن محمد بن أبي بكر) ويحيى بن سعيد، فقال يحيى لقاسم بن عبيد الله: يا أبا محمد! إن هذا ذنب عظيم على رجل مثلك، إنه لأمر عظيم أن تُسأل عن أمر من هذا الدين ولا تعلم فيه ولا تجد له حلًا، أو (قل هذه الكلمات) لا تعلم فيه ولا مخرجًا. فقال له قاسم: ما السبب؟ قال (يحيى): لأنك ابن إمامي الهدى، أبو بكر وعمر. قال: قال له قاسم: "إن رجلًا أُعطيَ ذكاءً من الله، لشرٌ عليّ أن أقول شيئًا بغير علم، أو أن أروي عن غير أمين". (عند سماع هذا، التزم يحيى الصمت ولم يجبه).
۔ ابو نضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل ( یحییٰ بن متوکل ) نے حدیث بیان کی ، کہا : میں قاسم بن عبید اللہ ( بن عبد اللہ بن بن عمر جن کی والدہ ام عبد اللہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں ) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبید اللہ سے کہا : جناب ابو محمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے ، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں ( کچھ ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا ( یہ الفاظ کہے ) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ ۔ تو قاسم نے ان سے کہا : کس وجہ سے؟ ( یحییٰ نے ) کہا : کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابو بکر اور عمرؓ کے فرزند ہیں ۔ کہا : قاسم اس سے کہنے لگے : جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو ، اس کے نزدیک اس سے بھی بد تر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو ۔ ( یہ سن کر یحییٰ ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱/۳۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱: ایمان