صحیح مسلم — حدیث #۸۵۰۴

حدیث #۸۵۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ‏.‏ فَقَالَتْ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ‏.‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ - قَالَتْ - فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ - قَالَتْ - فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُمْ مَكَانَكَ ‏.‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ - قَالَتْ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر جلد غم زدہ ہو جانے والے انسان ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت بھی ) نہیں سنا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دے دیں ( تو بہتر بہتر ہو گا ۔ ) آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نم نبی اکرمﷺ سے کہو کہ ابو بکر جلد غمزدہ ہونے والے انسان ہیں ، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت ) نہ سنا سکیں ، چنانچہ اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہہ دیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتوں ہی طرح ہو ، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم پہنچا دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہﷺ نے طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی ، آپ اٹھے ، دو آدمی آپ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے ۔ وہ فرماتی ہیں : جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کی آہٹ سن لی ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر رسول اللہﷺ آگے بڑے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا کر رہے تھے ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۴/۹۴۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۴: نماز
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Prayer #Mother

متعلقہ احادیث