جنازہ
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُسِّلَ فِي قَمِيصٍ .
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل دیئے گئے ایک قمیص میں۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ فَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " . تَعْنِي بِحِقْوِهِ إِزَارَهُ .
ام عطیہ انصاریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے انتقال کیا تو آئے ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کہا کہ غسل دو ان کو تین بار یا پانچ بار پانی اور بیری کے پتوں سے اور اخیر میں کافور بھی شامل کرو اور جب تم غسل سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع دو کہا ام عطیہ نے جب غسل سے ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہہ بند دیا اور کہا کہ یہ ان کے بدن پر لپیٹ دو ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۲
حدثني مالك عن [عبد الله بن أبي بكر] أن [أسماء بنت عميس] غسلت أبا بكر الصديق حين مات. ثم خرجت أسماء بنت عميس، فسألت من حضر من المهاجرين؟ قال: إني صائم، واليوم شديد البرد، أفأغتسل؟ أجابوا؛ "لا
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ اسما بنت عمیس نے اپنے شوہر ابوبکر صدیق کو غسل دیا جب ان کی وفات ہوئی پھر نکل کر مہاجرین سے پوچھا کہ میں روزے سے ہوں اور سردی بہت ہے کیا مجھ پر بھی غسل لازم ہے بولے نہیں ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ .
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفن دیئے گئے تین سفید کپڑوں میں جو سحول کے بنے ہوئے تھے نہ ان میں قمیص تھی نہ عمامہ ۔ یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفن دیئے گئے تین سفید کپڑوں میں جو سحول کے بنے ہوئے تھے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ .
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے اور یحییٰ بن سعید کی سند سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید اور ساٹن کے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، قَالَ لِعَائِشَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خُذُوا هَذَا الثَّوْبَ - لِثَوْبٍ عَلَيْهِ قَدْ أَصَابَهُ مِشْقٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ - فَاغْسِلُوهُ ثُمَّ كَفِّنُونِي فِيهِ مَعَ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَمَا هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحَىُّ أَحْوَجُ إِلَى الْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ وَإِنَّمَا هَذَا لِلْمُهْلَةِ .
یحیی بن سعید نے کہا مجھے پہنچا کہ ابوبکر صدیق نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا اپنی بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے کپڑوں میں کفن دیئے گئے تھے حضرت عائشہ نے کہا سفید تین کپڑوں میں سحول کے، تب ابوبکر نے کہا کہ یہ کپڑا جو میں پہنے ہوں اس میں گیرو یا زعفران لگا ہوا ہے اس کو دھو کر اور دو کپڑے لے کر مجھے کفن دے دینا حضرت عائشہ بولیں یہ کیا بات ہے ابوبکر بولے کہ مردے سے زیادہ زندے کو کپڑے کی حاجت ہے کفن تو پیپ اور خون کے لئے ہے ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ الْمَيِّتُ يُقَمَّصُ وَيُؤَزَّرُ وَيُلَفُّ فِي الثَّوْبِ الثَّالِثِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ كُفِّنَ فِيهِ .
عمر وبن عاص سے روایت ہے کہ مردہ قمیص پہنایا جائے اور تہ بند پہنایا جائے پھر تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اگر ایک ہی کپڑا ہو تو اس میں کفن دیا جائے ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ وَالْخُلَفَاءُ هَلُمَّ جَرًّا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر بن خطاب اور تمام خلفاء جنازے کے آگے چلتے تھے اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا کرتے تھے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رِبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَدِيرِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقْدُمُ النَّاسَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ فِي جَنَازَةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ .
ربیعہ بن عبداللہ بن الہدیر سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا حضرت عمر کو آگے چلتے تھے زینب بن جحش کے جنازے میں ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۲۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَبِي قَطُّ فِي جَنَازَةٍ إِلاَّ أَمَامَهَا - قَالَ - ثُمَّ يَأْتِي الْبَقِيعَ فَيَجْلِسُ حَتَّى يَمُرُّوا عَلَيْهِ .
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ عروہ کو ہمیشہ جنازہ کے آگے چلتے دیکھا یہاں تک کہ وہ بقیع میں آجاتے اور بیٹھے رہتے یہاں تک کہ جنازہ آ کر گزر جاتا ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ الْمَشْىُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ مِنْ خَطَإِ السُّنَّةِ .
ابن شہاب نے کہا جنازہ کے پیچھے چلنا خطا ہے یعنی خلاف سنت ہے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ لأَهْلِهَا أَجْمِرُوا ثِيَابِي إِذَا مِتُّ ثُمَّ حَنِّطُونِي وَلاَ تَذُرُّوا عَلَى كَفَنِي حِنَاطًا وَلاَ تَتْبَعُونِي بِنَارٍ .
اسما بن ابی ابکر نے کہا اپنے گھر والوں سے میں جب مر جاؤں تو میرے کپڑوں کو خوشبو سے بسانا پھر میرے بدن پر خوشبو لگانا لیکن میرے کفن پر نہ چھڑکنا اور میرے جنازہ کے ساتھ آگ نہ رکھنا ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُتْبَعَ، بَعْدَ مَوْتِهِ بِنَارٍ . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَكْرَهُ ذَلِكَ .
ابوہریرہ نے منع کیا کہ ان کے جنازے کے ساتھ آگ رکھی جائے ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى النَّجَاشِيَّ لِلنَّاسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ جس دن نجاشی کا انتقال ہوا اسی روز آپ نے لوگوں کو خبر دی اس کی موت کی اور نکلے مصلے کی طرف اور صف کھڑی کر کے نماز پڑھی جنازے کی اور تکیبریں کہیں چار ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - بِمَرَضِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي بِهَا " . فَخُرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلاً فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِهَا فَقَالَ " أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْنَا أَنْ نُخْرِجَكَ لَيْلاً وَنُوقِظَكَ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
ابوامامہ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسکین بیمار ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ یہ تھا کہ بیمار پرسی کرتے تھے مسکینوں کی اور ان کا حال پوچھتے تھے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مر جائے یہ عورت تو مجھے خبر کرنا سو رات کو اس کا جنازہ نکلا اور صحابہ نے ناپسند کیا کہ جگائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب صبح ہوئی تو اس کی کیفیت معلوم ہوئی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے تو تم سے کہہ دیا تھا کہ مجھے خبر کر دینا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جگانا اور رات کو باہر نکالنا نا گوار ہوا سو نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صف باندھی اس کی قبر پر اور چار تکبیریں کہیں
۱۶
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الرَّجُلِ، يُدْرِكُ بَعْضَ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَيَفُوتُهُ بَعْضُهُ فَقَالَ يَقْضِي مَا فَاتَهُ مِنْ ذَلِكَ .
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ جس شخص کو بعض تکبیریں جنازہ کی ملیں اور بعض نہ ملیں وہ کیا کرے کہا جس قدر نہ ملیں ان کی قضا کر لے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا لَعَمْرُ اللَّهِ، أُخْبِرُكَ أَتَّبِعُهَا، مِنْ أَهْلِهَا فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ وَحَمِدْتُ اللَّهَ وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ ثُمَّ أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلاَ تَفْتِنَّا بَعْدَهُ .
ابو سعید مقبری نے پوچھا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس طرح تم نماز پڑھتے ہو جنازہ کی کہا ابوہریرہ نے قسم ہے اللہ جل جلالہ کی بقا کی میں تمہیں خبر دوں گا میں جنازہ کے ساتھ ہوتا ہوں اس کے گھر سے پھر جب رکھا جاتا ہے تو میں تکبیر کہہ کر اللہ کی تعریف کرتا ہوں اور پیغمبر پر اس کے درود بھیجتا ہوں پھر کہتا ہوں یا اللہ تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیری لونڈی کا بیٹا اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ کوئی معبود سچا تیرے سوا نہیں ہے اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے پیغمبر ہیں اور تو اس کا حال خوب جانتا ہے اے پروردگار اگر وہ نیک ہو تو زیادہ کر اجر اس کا اور جو گناہگار ہو تو درگزر کر اس کے گناہوں سے اے پروردگار مت محروم کر ہم کو اس کے ثواب سے اور مت فتنہ میں ڈال ہم کو بعد اس کے ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى صَبِيٍّ لَمْ يَعْمَلْ خَطِيئَةً قَطُّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
سعید بن مسیب کہتے تھے نماز پڑھی میں نے ابوہریرہ کے پیچھے ایک لڑکے پر جو بے گناہ تھا تو سنا میں نے ان سے کہتے تھے اے اللہ بچا اس کو قبر کے عذاب سے ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قرآن نہیں پڑھتے تھے جنازہ کی نماز میں ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۳۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تُوُفِّيَتْ - وَطَارِقٌ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ - فَأُتِيَ بِجَنَازَتِهَا بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ فَوُضِعَتْ بِالْبَقِيعِ . قَالَ وَكَانَ طَارِقٌ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ . قَالَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ لأَهْلِهَا إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَى جَنَازَتِكُمُ الآنَ وَإِمَّا أَنْ تَتْرُكُوهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ .
محمد بن ابی حرملہ سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ مر گئیں اور اس زمانے میں طارق حاکم تھے مدینہ کے تو لایا گیا جنازہ ان کا بعد نماز صبح کے اور رکھا گیا بقیع میں اور طارق نماز پڑھا کرتے تھے صبح کی اندھیرے میں ابی حرمہ نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا وہ کہتے تھے زینب کے لوگوں سے یا تو تم جنازہ کی نماز اب پڑھ لو یا رہنے دو یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو جائے ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ إِذَا صُلِّيَتَا لِوَقْتِهِمَا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا نماز جنازہ کی پڑھی جائے بعد عصر کے اور بعد صبح کے جب یہ دونوں نمازیں اپنے وقت میں پڑھی جائیں ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَمَرَتْ أَنْ يُمَرَّ عَلَيْهَا بِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ مَاتَ لِتَدْعُوَ لَهُ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ .
حضرت ام المومنین عائشہ نے حکم دیا کہ سعد بن ابی وقاص کا جنازہ مسجد میں سے ہو کر ان کے حجرہ پر سے جائے تاکہ میں دعا کروں ان کے لئے سو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تب کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جلدی لوگ بھول گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضا پر نماز نہیں پڑھی مگر مسجد میں ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ صُلِّيَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْمَسْجِدِ .
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، نافع کی سند سے، عبداللہ بن عمر کی سند سے، انہوں نے کہا کہ عمر بن الخطاب کے لیے مسجد میں نماز پڑھو۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ كَانُوا يُصَلُّونَ عَلَى الْجَنَائِزِ بِالْمَدِينَةِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَيَجْعَلُونَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ .
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضرت عمر پر نماز پڑھی گئی مسجد میں امام مالک کو پہنچا کہ عثمان بن عفان اور عبداللہ بن عمر نماز پڑھتے تھے عورتوں اور مردوں پر ایک ہی وقت میں تو مردوں کو امام کے نزدیک رکھتے تھے اور عورتوں کو قبلہ کے نزدیک
۲۵
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ يُسَلِّمُ حَتَّى يُسْمِعَ مَنْ يَلِيهِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب نماز پڑھ لیتے تھے جنازہ کی سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ ان کے نزدیک جو لوگ ہوتے تھے وہ سن لیتے تھے ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ يُصَلِّي الرَّجُلُ عَلَى الْجَنَازَةِ إِلاَّ وَهُوَ طَاهِرٌ . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُ أَنْ يُصَلَّى عَلَى وَلَدِ الزِّنَا وَأُمِّهِ .
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ آدمی جنازہ کی نماز نہ پڑھے جب تک کہ وہ پاک نہ ہو۔ یحییٰ نے کہا: میں نے مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اہل علم میں سے کسی کو ایسا نہیں دیکھا جو زنا کے بچے اور اس کی ماں پر نماز پڑھنا ناپسند کرتا ہو۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَدُفِنَ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ وَصَلَّى النَّاسُ عَلَيْهِ أَفْذَاذًا لاَ يَؤُمُّهُمْ أَحَدٌ . فَقَالَ نَاسٌ يُدْفَنُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ . وَقَالَ آخَرُونَ يُدْفَنُ بِالْبَقِيعِ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا دُفِنَ نَبِيٌّ قَطُّ إِلاَّ فِي مَكَانِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ " . فَحُفِرَ لَهُ فِيهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ غُسْلِهِ أَرَادُوا نَزْعَ قَمِيصِهِ فَسَمِعُوا صَوْتًا يَقُولُ لاَ تَنْزِعُوا الْقَمِيصَ فَلَمْ يُنْزَعِ الْقَمِيصُ وَغُسِّلَ وَهُوَ عَلَيْهِ صلى الله عليه وسلم .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جنازہ کی نماز بغیر وضو کے کوئی نہ پڑھے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کی دو شبنہ کے روز اور دفن کئے گئے منگل کے روز اور نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں نے اکیلے اکیلے کوئی ان کا امام نہ تھا پھر کہا بعض لوگوں نے دفن کئے جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پاس اور بعض نے کہا بقیع میں تو آئے حضرت ابوبکر اور کہا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نہیں دفن کیا گیا کوئی نبی مگر اس مقام میں جہاں اس کی وفات ہوئی پھر کھودی گئی قبر اسی مقام میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تھی جب غسل کا وقت آیا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اتارنا چاہا سو ایک آواز سنی مت اتارو کرتے کو پس نہ اتارا گیا کرتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور غسل دیئے گئے کرتہ پہنے ہوئے ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالآخَرُ لاَ يَلْحَدُ فَقَالُوا أَيُّهُمَا جَاءَ أَوَّلُ عَمِلَ عَمَلَهُ . فَجَاءَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ دو آدمی قبر کھود نے والے تھے ایک ان میں سے بغلی بناتا تھا اور دوسرا نہیں بناتا تھا لوگوں نے کہا جو پہلے آئے گا وہی اپنا کام شروع کرے گا تو پہلے وہی آیا جو بغلی بناتا تھا پس قبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلی بنائی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی ام سلمہ کہتی تھیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا یقین نہیں یہاں تک کہ میں نے کدال مارنے کی آواز سنی ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ مَا صَدَّقْتُ بِمَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَمِعْتُ وَقْعَ الْكَرَازِينِ .
انہوں نے مجھ سے مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یقین نہیں رکھتی تھی، یہاں تک کہ میں نے سن لیا کہ کیا ہوا ہے۔ مبلغین...
۳۰
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۴۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ رَأَيْتُ ثَلاَثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي فَقَصَصْتُ رُؤْيَاىَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ هَذَا أَحَدُ أَقْمَارِكِ وَهُوَ خَيْرُهَا .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند گر پڑے سو میں نے اس خواب کو ابوبکر صدیق سے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہو چکے تھے ابوبکر نے کہا کہ ان تین چاندوں میں سے ایک چاند آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ تینوں چاندوں میں بہتر ہیں ۔ کئی ایک معتبر لوگوں سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید کی وفات ہوئی عقیق میں (ایک جگہ ہے مدینہ کے قریب) اور ان کا جنازہ اٹھا کر مدینہ میں لایا گیا اور وہاں دفن ہوئے
۳۱
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِمَّنْ يَثِقُ بِهِ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَسَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ تُوُفِّيَا بِالْعَقِيقِ وَحُمِلاَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَدُفِنَا بِهَا .
مجھے مالک کی سند سے ایک سے زیادہ لوگوں کی سند سے، جن پر وہ اعتبار کرتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کا انتقال ہوا ہے۔ عقیق کے ساتھ انہیں مدینہ لے جایا گیا اور وہاں دفن کیا گیا۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ، بِالْبَقِيعِ لأَنْ أُدْفَنَ بِغَيْرِهِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُدْفَنَ بِهِ إِنَّمَا هُوَ أَحَدُ رَجُلَيْنِ إِمَّا ظَالِمٌ فَلاَ أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَهُ وَإِمَّا صَالِحٌ فَلاَ أُحِبُّ أَنْ تُنْبَشَ لِي عِظَامُهُ .
عروہ بن زبیر نے کہا مجھے بقیع میں دفن ہونا پسند نہیں ہے اگر میں کہیں اور دفن ہوں تو اچھا ہے اس لئے کہ بقیع میں جہاں پر میں دفن ہوں گا وہاں پر کوئی گناہگار شخص دفن ہو چکا ہے تو اس کے ساتھ مجھے دفن ہونا منظور نہیں ہے اور یا کوئی نیک شخص دفن ہو چکا ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میرے لئے اس کی ہڈیاں کھودی جائیں ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُومُ فِي الْجَنَائِزِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدُ .
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید کی سند سے، واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کی سند سے، نافع بن جبیر بن مطعم کی سند سے، مسعود بن الحکم کی سند سے، انہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر درود بھیجتے تھے۔ جنازے پر کھڑے ہوں اور پھر بیٹھ جائیں۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يَتَوَسَّدُ الْقُبُورَ وَيَضْطَجِعُ عَلَيْهَا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا نُهِيَ عَنِ الْقُعُودِ عَلَى الْقُبُورِ فِيمَا نُرَى لِلْمَذَاهِبِ .
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تھے جنازوں میں پھر بیٹھنے لگے بعد اس کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت علی تکیہ لگاتے تھے قبروں پر اور لیٹ جاتے تھے ان پر ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، يَقُولُ كُنَّا نَشْهَدُ الْجَنَائِزَ فَمَا يَجْلِسُ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى يُؤْذَنُوا .
ابو امامہ کہتے تھے ہم جنازوں میں جاتے تھے تو اخیر کا شخص بھی بدوں اذن کے نہ بیٹھتا تھا۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ، - وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو أُمِّهِ - أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ " . فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ جَابِرٌ يُسَكِّتُهُنَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوُجُوبُ قَالَ " إِذَا مَاتَ " . فَقَالَتِ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ " . قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشُّهَدَاءُ سَبْعَةٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْحَرِقُ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ " .
جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت کی عیادت کو آئے تو دیکھا ان کو بیماری کی شدت میں سو پکارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انہوں نے جواب نہ دیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور فرمایا ہم مغلوب ہوئے تمہارے پر اے ابوالربیع! پس رونا شروع کیا عورتوں نے چلا کر اور جابر بن عتیک ان کو چپ کرانے لگے سو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھی عورتوں کو رونے دو جب آن پڑے تو اس وقت کوئی نہ روئے۔ رونے والی صحابیہ نے پوچھا کیا مطلب ہے آن پڑنے کا فرمایا جب مر جائے۔ اتنے میں عبداللہ بن ثابت کی بیٹی نے کہا مجھے امید تھی کہ تم شہید ہو گے کیونکہ تم سامان جہاد کا تیار کر چکے تھے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل جلالہ اجر دے گا مواقف اس کی نیت کے۔ تم کس چیز کو شہادت سمجھتی ہو بولی اللہ جل جلالہ کی راہ میں مارے جانے کو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوا اس کے سات شہید ہیں ایک وہ جو طاعون سے مر جائے دوسرے وہ جو ڈوب کر مر جائے تیسرے وہ جو ذات الجنب سے مر جائے چوتھے جو پیٹ کی عارضہ سے مر جائے پانچویں وہ جو آگ سے جل کر مر جائے چھٹے وہ جو دب کر مر جائے سا تو اں وہ عورت جو زچگی میں مر جائے ۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
عمرہ بن عبدالر حمن سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب ان کے سامنے بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں مردہ کو عذاب دیا جاتا ہے زندہ کے رونے سے اللہ بخشے ابا عبدالرحمن کو انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے اصل اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ایک یہودن پر جو مر گئی تھی اور لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس پر عذاب قبر میں ہو رہا ہے ۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے تین بچے مر جائیں پھر وہ جہنم میں جائے یہ ممکن نہیں مگر قسم پورا کرنے کو ۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ السَّلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَحْتَسِبُهُمْ إِلاَّ كَانُوا جُنَّةً مِنَ النَّارِ " . فَقَالَتِ امْرَأَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوِ اثْنَانِ قَالَ " أَوِ اثْنَانِ " .
ابو النصر سلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین لڑکے مر جائیں اور وہ صبر کرے تو قیامت کے روز وہ لڑکے بچائیں گے اس کو جہنم سے ایک عورت نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر دو مر جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ مسلمان کو مصیبت پہنچتی ہے اس کی اولاد اور عزیزوں میں یہاں تک کہ ملتا ہے اپنے پروردگار سے اور کوئی گناہ اس کا نہیں ہوتا۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۵۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصَابُ فِي وَلَدِهِ وَحَامَّتِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَتْ لَهُ خَطِيئَةٌ " .
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے ابو الحباب سے، سعید بن یسار سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کو اپنے بچے اور ساس میں ایذا پہنچتی رہے گی یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملے اور اس پر کوئی گناہ نہ ہو۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِيُعَزِّ الْمُسْلِمِينَ فِي مَصَائِبِهِمُ الْمُصِيبَةُ بِي " .
عبدالرحمن بن قاسم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی تمام مصیتبیں ہلکی ہو جاتی ہیں میری مصیبت کو یاد کرکے ۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَقَالَ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ (إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَعْقِبْنِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا فَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ بِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ ذَلِكَ ثُمَّ قُلْتُ وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَأَعْقَبَهَا اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَهَا
حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے پھر وہ جیسا اس کو اللہ نے حکم کیا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر کہے اے پروردگار مجھ کو اس مصیبت میں اجر دے اور اس سے بہتر نیک بدلہ مجھے عنایت فرما تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے ساتھ ایسا ہی کرے گا ام سلمہ کہتی ہیں جب میرے خاوند نے وفات پائی تو میں نے یہی دعا مانگی پھر میں نے اپنے جی میں کہا ابوسلمہ سے کون بہتر ہوگا سو اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کیا ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ هَلَكَتِ امْرَأَةٌ لِي فَأَتَانِي مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ يُعَزِّينِي بِهَا فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ فَقِيهٌ عَالِمٌ عَابِدٌ مُجْتَهِدٌ وَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ - وَكَانَ بِهَا مُعْجَبًا وَلَهَا مُحِبًّا - فَمَاتَتْ فَوَجَدَ عَلَيْهَا وَجْدًا شَدِيدًا وَلَقِيَ عَلَيْهَا أَسَفًا حَتَّى خَلاَ فِي بَيْتٍ وَغَلَّقَ عَلَى نَفْسِهِ وَاحْتَجَبَ مِنَ النَّاسِ فَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ وَإِنَّ امْرَأَةً سَمِعَتْ بِهِ فَجَاءَتْهُ فَقَالَتْ إِنَّ لِي إِلَيْهِ حَاجَةً أَسْتَفْتِيهِ فِيهَا لَيْسَ يُجْزِينِي فِيهَا إِلاَّ مُشَافَهَتُهُ فَذَهَبَ النَّاسُ وَلَزِمَتْ بَابَهُ وَقَالَتْ مَا لِي مِنْهُ بُدٌّ . فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ إِنَّ هَا هُنَا امْرَأَةً أَرَادَتْ أَنْ تَسْتَفْتِيَكَ وَقَالَتْ إِنْ أَرَدْتُ إِلاَّ مُشَافَهَتَهُ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ وَهِيَ لاَ تُفَارِقُ الْبَابَ . فَقَالَ ائْذَنُوا لَهَا . فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي جِئْتُكَ أَسْتَفْتِيكَ فِي أَمْرٍ . قَالَ وَمَا هُوَ قَالَتْ إِنِّي اسْتَعَرْتُ مِنْ جَارَةٍ لِي حَلْيًا فَكُنْتُ أَلْبَسُهُ وَأُعِيرُهُ زَمَانًا ثُمَّ إِنَّهُمْ أَرْسَلُوا إِلَىَّ فِيهِ أَفَأُؤَدِّيهِ إِلَيْهِمْ فَقَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ . فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ مَكَثَ عِنْدِي زَمَانًا . فَقَالَ ذَلِكَ أَحَقُّ لِرَدِّكِ إِيَّاهُ إِلَيْهِمْ حِينَ أَعَارُوكِيهِ زَمَانًا . فَقَالَتْ أَىْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَفَتَأْسَفُ عَلَى مَا أَعَارَكَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ مِنْكَ وَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْكَ فَأَبْصَرَ مَا كَانَ فِيهِ وَنَفَعَهُ اللَّهُ بِقَوْلِهَا .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ میری زوجہ مر گئی سو آئے محمد بن کعب قرظی تعزیت دینے مجھ کو اور کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص فقیہ عالم عابد مجتہد تھا اور اس کی ایک بیوی تھی جس پر وہ نہایت فریفتہ تھا اور اس کو بہت چاہتا تھا اتفاق سے وہ عورت مر گئی تو اس شخص کو نہایت رنج ہوا اور بڑا افسوس ہوا اور وہ ایک گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہا اور لوگوں سے ملاقات چھوڑ دی تو اس کے پاس کوئی نہ جاتا تھا ایک عورت نے یہ قصہ سنا اور اس کے دروازے پر جا کر کہا کہ مجھ کو ایک مسئلہ پوچھنا ہے میں اسی سے پوچھوں گی بغیر اس سے ملے ہوئے یہ کام نہیں ہو سکتا تو اور جتنے لوگ آئے تھے وہ چلے گئے اور وہ عورت دروازے پر جمی رہی اور کہا کہ بغیر اس سے طے کئے کوئی علاج نہیں ہے سو ایک شخص نے اندر جا کر اس کو اطلاع دی اور بیان کیا کہ ایک عورت مسئلہ پوچھنے کو تم سے آئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں تو سب لوگ چلے گئے مگر وہ عورت دروازہ چھوڑ کر نہیں جاتی تب اس شخص نے کہا اچھا اس کو آنے دو پس آئی وہ عورت اس کے پاس اور کہا کہ میں ایک مسئلہ تجھ سے پوچھنے کو آئی ہوں وہ بولا کیا مسئلہ ہے اس عورت نے کہا میں نے اپنے ہمسایہ میں ایک عورت سے کچھ زیور مانگ کر لیا تھا تو میں نے ایک مدت تک اس کو پہنا اور لوگوں کو مانگنے پر بھی دیا اب اس عورت نے وہ زیور مانگ بھیجا ہے کیا میں اسے پھر واپس دے دوں اس شخص نے کہا ہاں قسم اللہ کی واپس دیدے عورت نے کہا کہ وہ زیور ایک مدت تک میرے پاس رہا ہے اس شخص نے کہا کہ اس سبب سے اور زیادہ تجھے واپس دینا ضروری ہے کیونکہ ایک زمانے تک تجھے اس نے مانگنے پر دیا عورت بولی اے فلانے اللہ تجھ پر رحم کرے تو کیوں افسوس کرتا ہے اس چیز پر جو اللہ جل جلالہ نے تجھے مستعار دی تھی پھر تجھ سے لے لی اللہ جل جلالہ زیادہ حقدار ہے تجھ سے جب اس شخص نے غور کیا تو عورت کی بات سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع دیا۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ، لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُخْتَفِيَ وَالْمُخْتَفِيَةَ يَعْنِي نَبَّاشَ الْقُبُورِ .
عمرہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ لعنت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد پر جو کفن چرائے اور اس عورت پر جو کفن چرائے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ فرماتی تھیں کہ میت مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسا ہے جیسا زندہ مسلمان کی ہڈی توڑنا۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ كَسْرُ عَظْمِ الْمُسْلِمِ مَيْتًا كَكَسْرِهِ وَهُوَ حَىٌّ . تَعْنِي فِي الإِثْمِ .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ مسلمان کی ہڈی کو جب وہ مر جائے تو اس کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے وہ زندہ ہو۔ اس کا مطلب ہے گناہ میں
۴۶
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِهَا وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات سے پہلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگاۓ ہوئے تھے حضرت عائشہ کے سینے پر اور حضرت عائشہ کان لگائے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے یا اللہ رحم کر مجھ پر اور ملادے مجھ کو بڑے درجے کے رفیقوں سے ۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کوئی پیغمبر نہیں مرتا ہے یہاں تک کہ اس کو اختیار دیا جاتا ہے کہا حضرت عائشہ نے میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے یا اللہ میں نے اختیار کیا بلند رفیقوں کو تب میں نے جانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانے والے ہیں دنیا سے
۴۷
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمُوتُ حَتَّى يُخَيَّرَ " . قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى " . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ ذَاهِبٌ .
انہوں نے مجھے مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے سنا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں ہے جسے اختیار نہ دیا جائے“۔ اس نے کہا: تو میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے خدا، سب سے اعلیٰ رفیق۔ تو میں جانتا تھا کہ وہ جا رہا ہے۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ يُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو صبح اور شام اس کا مقام اس کو بتایا جاتا ہے اگر جنت والوں میں سے ہے تو جنت میں اور اگر دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ٹھکانا ہے تیرا جب تجھے اٹھائے گا اللہ جل جلالہ دن قیامت کے ۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ الأَرْضُ إِلاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام بدن کو آدمی کے زمین کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو اسی سے پیدا ہوا اور اسی سے پیدا کیا جائے گا دن قیامت کے ۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۶۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ
کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرندہ کی شکل بن کر جنت کے درخت سے لٹکتی رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ پھر اس کو لوٹا دے گا اس کے بدن کی طرف جس دن اس کو اٹھائے گا ۔