۵۲ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۷۸
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اونٹوں سے کم میں زکوة نہیں ہے اور پانچ اوقیوں سے جو چاندی کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے اور پانچ وسق سے جو غلہ کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۷۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقِيَّ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کھجور پانچ وسق سے کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے اور جو چاندی پانچ اوقیہ سے کم ہو اس میں زکوة نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوة نہیں ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا اپنے عامل کو دمشق میں کہ زکوة سونے چاندی اور زراعت اور جانوروں میں ہے ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ‏:‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِلَى عَامِلِهِ عَلَى دِمَشْقَ فِي الصَّدَقَةِ ‏:‏ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ فِي الْحَرْثِ وَالْعَيْنِ وَالْمَاشِيَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ ‏:‏ وَلاَ تَكُونُ الصَّدَقَةُ إِلاَّ فِي ثَلاَثَةِ أَشْيَاءَ ‏:‏ فِي الْحَرْثِ وَالْعَيْنِ وَالْمَاشِيَةِ ‏.‏
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے دمشق میں اپنے مالک کو صدقہ کے بارے میں لکھا: صدقہ صرف کھیتی میں ہے۔ اور جائیداد اور مویشی۔ مالک نے کہا: زکوٰۃ صرف تین چیزوں میں ہونی چاہیے: کھیتی، مال اور مویشی۔ .
۰۴
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ ‏:‏ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُكَاتَبٍ، لَهُ قَاطَعَهُ بِمَالٍ عَظِيمٍ هَلْ عَلَيْهِ فِيهِ زَكَاةٌ فَقَالَ الْقَاسِمُ ‏:‏ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمْ يَكُنْ يَأْخُذُ مِنْ مَالٍ زَكَاةً حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ ‏.‏ قَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ‏:‏ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَعْطَى النَّاسَ أَعْطِيَاتِهِمْ يَسْأَلُ الرَّجُلَ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ عَلَيْكَ فِيهِ الزَّكَاةُ فَإِذَا قَالَ ‏:‏ نَعَمْ، أَخَذَ مِنْ عَطَائِهِ زَكَاةَ ذَلِكَ الْمَالِ، وَإِنْ قَالَ ‏:‏ لاَ، أَسْلَمَ إِلَيْهِ عَطَاءَهُ وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ‏.‏
محمد بن عقبہ نے پوچھا قاسم بن محمد بن ابی بکر سے کہ میں نے اپنے مکاتب سے مقاطعت کی ہے ایک مال عظیم پر تو کیا زکوة اس میں واجب ہے قاسم بن محمد نے کہا کہ ابوبکر صدیق کسی مال میں سے زکوة نہ لیتے تھے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ قَالَ ‏:‏ كُنْتُ إِذَا جِئْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَقْبِضُ عَطَائِي سَأَلَنِي ‏:‏ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ عَلَيْكَ فِيهِ الزَّكَاةُ قَالَ فَإِنْ قُلْتُ ‏:‏ نَعَمْ أَخَذَ مِنْ عَطَائِي زَكَاةَ ذَلِكَ الْمَالِ، وَإِنْ قُلْتُ ‏:‏ لاَ، دَفَعَ إِلَىَّ عَطَائِي ‏.‏
قدامہ بن مظعون سے روایت ہے کہ جب میں عثمان بن عفان کے پاس اپنی سالانہ تنخواہ لینے آیا تو مجھ سے پوچھتے کہ تمہارے پاس کوئی ایسا مال ہے جس پر زکوة واجب ہو اگر میں کہتا ہاں تو تنخواہ میں سے زکوة اس مال کی لے لیتے اور جو کہتا نہیں تو تنخواہ دے دیتے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ ‏:‏ لاَ تَجِبُ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کسی مال میں زکوة واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر کوئی سال نہ گزرے ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ ‏:‏ أَوَّلُ مَنْ أَخَذَ مِنَ الأَعْطِيَةِ الزَّكَاةَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ ‏:‏ السُّنَّةُ الَّتِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهَا عِنْدَنَا أَنَّ الزَّكَاةَ تَجِبُ فِي عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا كَمَا تَجِبُ فِي مِائَتَىْ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ ‏:‏ لَيْسَ فِي عِشْرِينَ دِينَارًا نَاقِصَةً بَيِّنَةَ النُّقْصَانِ زَكَاةٌ، فَإِنْ زَادَتْ حَتَّى تَبْلُغَ بِزِيَادَتِهَا عِشْرِينَ دِينَارًا وَازِنَةً فَفِيهَا الزَّكَاةُ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا الزَّكَاةُ، وَلَيْسَ فِي مِائَتَىْ دِرْهَمٍ نَاقِصَةً بَيِّنَةَ النُّقْصَانِ زَكَاةٌ، فَإِنْ زَادَتْ حَتَّى تَبْلُغَ بِزِيَادَتِهَا مِائَتَىْ دِرْهَمٍ وَافِيةً فَفِيهَا الزَّكَاةُ، فَإِنْ كَانَتْ تَجُوزُ بِجَوَازِ الْوَازِنَةِ رَأَيْتُ فِيهَا الزَّكَاةَ دَنَانِيرَ كَانَتْ أَوْ دَرَاهِمَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ سِتُّونَ وَمِائَةُ دِرْهَمٍ وَازِنَةً وَصَرْفُ الدَّرَاهِمِ بِبَلَدِهِ ثَمَانِيَةُ دَرَاهِمَ بِدِينَارٍ ‏:‏ أَنَّهَا لاَ تَجِبُ فِيهَا الزَّكَاةُ، وَإِنَّمَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَىْ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ مِنْ فَائِدَةٍ أَوْ غَيْرِهَا، فَتَجَرَ فِيهَا فَلَمْ يَأْتِ الْحَوْلُ حَتَّى بَلَغَتْ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ ‏:‏ أَنَّهُ يُزَكِّيهَا وَإِنْ لَمْ تَتِمَّ إِلاَّ قَبْلَ أَنْ يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ بِيَوْمٍ وَاحِدٍ، أَوْ بَعْدَ مَا يَحُولُ عَلَيْهَا الْحَوْلُ بِيَوْمٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ لاَ زَكَاةَ فِيهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ زُكِّيَتْ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَجَرَ فِيهَا فَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ وَقَدْ بَلَغَتْ عِشْرِينَ دِينَارًا ‏:‏ أَنَّهُ يُزَكِّيهَا مَكَانَهَا وَلاَ يَنْتَظِرُ بِهَا أَنْ يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ بَلَغَتْ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ لِأَنَّ الْحَوْلَ قَدْ حَالَ عَلَيْهَا وَهِيَ عِنْدَهُ عِشْرُونَ ثُمَّ لَا زَكَاةَ فِيهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ زُكِّيَتْ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي إِجَارَةِ الْعَبِيدِ وَخَرَاجِهِمْ وَكِرَاءِ الْمَسَاكِينِ وَكِتَابَةِ الْمُكَاتَبِ أَنَّهُ لَا تَجِبُ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ الزَّكَاةُ قَلَّ ذَلِكَ أَوْ كَثُرَ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمِ يَقْبِضُهُ صَاحِبُهُ. وَقَالَ مَالِك فِي الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ يَكُونُ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ إِنَّ مَنْ بَلَغَتْ حِصَّتُهُ مِنْهُمْ عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَعَلَيْهِ فِيهَا الزَّكَاةُ وَمَنْ نَقَصَتْ حِصَّتُهُ عَمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ وَإِنْ بَلَغَتْ حِصَصُهُمْ جَمِيعًا مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ وَكَانَ بَعْضُهُمْ فِي ذَلِكَ أَفْضَلَ نَصِيبًا مِنْ بَعْضٍ أُخِذَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ إِذَا كَانَ فِي حِصَّةِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنْ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ ذَهَبٌ أَوْ وَرِقٌ مُتَفَرِّقَةٌ بِأَيْدِي أُنَاسٍ شَتَّى فَإِنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُحْصِيَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُخْرِجَ مَا وَجَبَ عَلَيْهِ مِنْ زَكَاتِهَا كُلِّهَا قَالَ مَالِك وَمَنْ أَفَادَ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا إِنَّهُ لَا زَكَاةَ عَلَيْهِ فِيهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهَا
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: سب سے پہلے ہدیہ سے زکوٰۃ لینے والے معاویہ بن ابی سفیان تھے۔ اس نے کہا۔ مالک: وہ سنت جس میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ بیس دینار پر واجب ہے جس طرح دو سو درہم پر واجب ہے۔ مالک نے کہا: واضح طور پر نامکمل بیس دینار پر زکوٰۃ نہیں ہے، لہٰذا اگر اس میں اضافہ کر دیا جائے یہاں تک کہ بیس دینار تک پہنچ جائیں جو متوازن ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے، اور اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ بیس دینار سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے اور دو سو درہم جو صریحاً نامکمل ہوں اس پر زکوٰۃ نہیں ہے، پس اگر اس سے زیادہ ہو تو اس میں زکوٰۃ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ زکوٰۃ بیس دینار یا دو سو درہم پر واجب ہے۔ مالک نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جس کے پاس پانچ دینار سود یا کوئی اور چیز تھی اور اس نے اس پر خرچ کیا اور سال ایسا نہیں آیا جب تک کہ وہ اس مقام پر نہ پہنچے جس پر زکوٰۃ واجب ہے: وہ اس پر زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ سال بیس دینار تک پہنچ گیا: اس کی جگہ اس کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اس عمر کو پہنچنے والے دن سے ایک سال گزرنے کی امید نہیں رکھتا۔ اس پر زکوٰۃ واجب ہے کیونکہ اس پر ایک سال گزر گیا اور اس کے پاس بیس ہو گئے تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کے پاک ہونے کے دن سے ایک سال نہ گزر جائے۔ شریکوں میں سے جس کا حصہ بیس دینار یا دو سو درہم تک پہنچ جائے وہ زکوٰۃ ادا کرے اور جس کا حصہ زکوٰۃ سے کم ہو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، اس لیے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے، خواہ ان کے حصے مل کر زکوٰۃ کے برابر ہوں، اور ان میں سے بعض اس میں بہتر تھے۔ ان میں سے ہر ایک سے اس کے حصے کے تناسب سے ایک حصہ لیا گیا، اگر ان میں سے ہر ایک کے حصے میں کوئی ایسی چیز شامل ہو جس پر زکوٰۃ واجب تھی، اور یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونس کاغذ سے کم کا صدقہ نہیں ہے۔ مالک نے کہا کہ میں نے جو کچھ سنا ہے ان میں یہ سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اسی طرح مالک نے کہا: اگر کسی آدمی کے ہاتھ میں سونا یا کاغذ کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہوں تو وہ ان سب کو شمار کرے اور پھر ان سب کو شمار کرے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے جو اس پر واجب ہے۔ مالک اور جس نے سونا یا کاغذ چھڑایا اس پر اس پر زکوٰۃ واجب نہیں جب تک کہ اسے منتقل نہ کر دیا جائے۔ کراس آئیڈ جس دن سے اس نے اطلاع دی۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ لِبِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ - وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرْعِ - فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لاَ يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَى الْيَوْمِ إِلاَّ الزَّكَاةُ ‏.‏
کئی ایک لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگیر کر دی تھیں بلال بن حارث مزنی کو کانیں قبیلہ کی جو فرح کی طرف ہیں تو ان کانوں سے آج تک کچھ نہیں لیا جاتا سوائے زکوة کے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکاز میں پانچواں حصہ لیا جائے گا ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَلِي بَنَاتِ أَخِيهَا يَتَامَى فِي حَجْرِهَا لَهُنَّ الْحَلْىُ فَلاَ تُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّكَاةَ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ پرورش کرتی تھیں اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کی یتیم بیٹیوں کی اور ان کے پاس زیور تھا تو نہیں نکالتی تھیں اس میں سے زکوة ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُحَلِّي بَنَاتِهُ وَجَوَارِيَهُ الذَّهَبَ ثُمَّ لاَ يُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّكَاةَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ تِبْرٌ أَوْ حَلْىٌ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ لاَ يُنْتَفَعُ بِهِ لِلُبْسٍ فَإِنَّ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةَ فِي كُلِّ عَامٍ يُوزَنُ فَيُؤْخَذُ رُبُعُ عُشْرِهِ إِلاَّ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ وَزْنِ عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَإِنْ نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيهِ زَكَاةٌ وَإِنَّمَا تَكُونُ فِيهِ الزَّكَاةُ إِذَا كَانَ إِنَّمَا يُمْسِكُهُ لِغَيْرِ اللُّبْسِ فَأَمَّا التِّبْرُ وَالْحُلِيُّ الْمَكْسُورُ الَّذِي يُرِيدُ أَهْلُهُ إِصْلاَحَهُ وَلُبْسَهُ فَإِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمَتَاعِ الَّذِي يَكُونُ عِنْدَ أَهْلِهِ فَلَيْسَ عَلَى أَهْلِهِ فِيهِ زَكَاةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَيْسَ فِي اللُّؤْلُؤِ وَلاَ فِي الْمِسْكِ وَلاَ الْعَنْبَرِ زَكَاةٌ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کا زیور پہناتے تھے اور ان کے زیوروں میں سے زکوة نہیں نکالتے تھے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۸۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ اتَّجِرُوا فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى لاَ تَأْكُلُهَا الزَّكَاةُ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن خطاب نے فرمایا تجارت کرو یتیموں کے مال میں تاکہ زکوة ان کو تمام نہ کرے ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَلِينِي وَأَخًا لِي يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِهَا فَكَانَتْ تُخْرِجُ مِنْ أَمْوَالِنَا الزَّكَاةَ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ پرورش کرتی تھیں میری اور میرے بھائی کی دونوں یتیم تھے ان کی گود میں تو نکالتی تھیں ہمارے مالوں میں سے زکوة ۔ ا مام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ یتیموں کا مال تاجر کو دیتی تھیں تاکہ وہ اس میں تجارت کریں ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تُعْطِي أَمْوَالَ الْيَتَامَى الَّذِينَ فِي حَجْرِهَا مَنْ يَتَّجِرُ لَهُمْ فِيهَا ‏.‏
اس نے مجھے مالک کی سند سے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان یتیموں کی رقم جو ان کی کفالت میں تھیں ایک اسمگلر کو دے دیتی تھیں۔ وہ اس میں ہے...
۱۵
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ اشْتَرَى لِبَنِي أَخِيهِ - يَتَامَى فِي حَجْرِهِ - مَالاً فَبِيعَ ذَلِكَ الْمَالُ بَعْدُ بِمَالٍ كَثِيرٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ بِالتِّجَارَةِ فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى لَهُمْ إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ مَأْذُونًا فَلاَ أَرَى عَلَيْهِ ضَمَانًا ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کے یتیم لڑکوں کے واسطے کچھ مال خریدا پھر وہ مال بڑی قیمت کا بکا ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَ يَقُولُ هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ فَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيُؤَدِّ دَيْنَهُ حَتَّى تَحْصُلَ أَمْوَالُكُمْ فَتُؤَدُّونَ مِنْهُ الزَّكَاةَ ‏.‏
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان فرماتے تھے یہ مہینہ تمہاری زکوة کا ہے تو جس شخص پر کچھ قرض ہو تو چاہئے کہ قرض اپنا ادا کر دے اور باقی جو مال بچ جائے اس کی زکوة ادا کرے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ فِي مَالٍ قَبَضَهُ بَعْضُ الْوُلاَةِ ظُلْمًا يَأْمُرُ بِرَدِّهِ إِلَى أَهْلِهِ وَيُؤْخَذُ زَكَاتُهُ لِمَا مَضَى مِنَ السِّنِينَ ثُمَّ عَقَّبَ بَعْدَ ذَلِكَ بِكِتَابٍ أَنْ لاَ يُؤْخَذُ مِنْهُ إِلاَّ زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنَّهُ كَانَ ضِمَارًا ‏.‏
ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا ایک مال کے بارے میں (جس کو بعض حکام نے ظلم سے چھین لیا تھا) کہ پھیر دیں اس کو مالک کی طرف اور اس میں سے زکوة ان برسوں کی جو گزر گئے وصول کرلیں اس کے بعد ایک نامہ لکھا کہ زکوة ان برسوں کی نہ لی جائے کیونکہ وہ مال ضمار تھا ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ، لَهُ مَالٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مِثْلُهُ أَعَلَيْهِ زَكَاةٌ فَقَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا فِي الدَّيْنِ أَنَّ صَاحِبَهُ لاَ يُزَكِّيهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَإِنْ أَقَامَ عِنْدَ الَّذِي هُوَ عَلَيْهِ سِنِينَ ذَوَاتِ عَدَدٍ ثُمَّ قَبَضَهُ صَاحِبُهُ لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِ إِلاَّ زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ قَبَضَ مِنْهُ شَيْئًا لاَ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَإِنَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ سِوَى الَّذِي قُبِضَ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَإِنَّهُ يُزَكَّى مَعَ مَا قَبَضَ مِنْ دَيْنِهِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَاضٌّ غَيْرُ الَّذِي اقْتَضَى مِنْ دَيْنِهِ وَكَانَ الَّذِي اقْتَضَى مِنْ دَيْنِهِ لاَ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلاَ زَكَاةَ عَلَيْهِ فِيهِ وَلَكِنْ لِيَحْفَظْ عَدَدَ مَا اقْتَضَى فَإِنِ اقْتَضَى بَعْدَ ذَلِكَ عَدَدَ مَا تَتِمُّ بِهِ الزَّكَاةُ مَعَ مَا قَبَضَ قَبْلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ ‏.‏ قَالَ فَإِنْ كَانَ قَدِ اسْتَهْلَكَ مَا اقْتَضَى أَوَّلاً أَوْ لَمْ يَسْتَهْلِكْهُ فَالزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْهِ مَعَ مَا اقْتَضَى مِنْ دَيْنِهِ فَإِذَا بَلَغَ مَا اقْتَضَى عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَعَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ ثُمَّ مَا اقْتَضَى بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ فَعَلَيْهِ الزَّكَاةُ بِحَسَبِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالدَّلِيلُ عَلَى الدَّيْنِ يَغِيبُ أَعْوَامًا ثُمَّ يُقْتَضَى فَلاَ يَكُونُ فِيهِ إِلاَّ زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ أَنَّ الْعُرُوضَ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لِلتِّجَارَةِ أَعْوَامًا ثُمَّ يَبِيعُهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي أَثْمَانِهَا إِلاَّ زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى صَاحِبِ الدَّيْنِ أَوِ الْعُرُوضِ أَنْ يُخْرِجَ زَكَاةَ ذَلِكَ الدَّيْنِ أَوِ الْعُرُوضِ مِنْ مَالٍ سِوَاهُ وَإِنَّمَا يُخْرِجُ زَكَاةَ كُلِّ شَىْءٍ مِنْهُ وَلاَ يُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ شَىْءٍ عَنْ شَىْءٍ غَيْرِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَكُونُ عَلَيْهِ دَيْنٌ وَعِنْدَهُ مِنَ الْعُرُوضِ مَا فِيهِ وَفَاءٌ لِمَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ وَيَكُونُ عِنْدَهُ مِنَ النَّاضِّ سِوَى ذَلِكَ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَإِنَّهُ يُزَكِّي مَا بِيَدِهِ مِنْ نَاضٍّ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنَ الْعُرُوضِ وَالنَّقْدِ إِلاَّ وَفَاءُ دَيْنِهِ فَلاَ زَكَاةَ عَلَيْهِ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَهُ مِنَ النَّاضِّ فَضْلٌ عَنْ دَيْنِهِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَعَلَيْهِ أَنْ يُزَكِّيَهُ ‏.‏
یزید بن خصیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سلیمان بن یسار سے ایک شخص کے پاس مال ہے لیکن اس پر اسی قدر قرض ہے کیا زکوة اس پر واجب ہے بولے نہیں ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۶
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَيَّانَ، - وَكَانَ زُرَيْقٌ عَلَى جَوَازِ مِصْرَ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ وَسُلَيْمَانَ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ - فَذَكَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنِ انْظُرْ مَنْ مَرَّ بِكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَخُذْ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ مِمَّا يُدِيرُونَ مِنَ التِّجَارَاتِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا فَمَا نَقَصَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ حَتَّى يَبْلُغَ عِشْرِينَ دِينَارًا فَإِنْ نَقَصَتْ ثُلُثَ دِينَارٍ فَدَعْهَا وَلاَ تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا وَمَنْ مَرَّ بِكَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَخُذْ مِمَّا يُدِيرُونَ مِنَ التِّجَارَاتِ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا دِينَارًا فَمَا نَقَصَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ حَتَّى يَبْلُغَ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ فَإِنْ نَقَصَتْ ثُلُثَ دِينَارٍ فَدَعْهَا وَلاَ تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا وَاكْتُبْ لَهُمْ بِمَا تَأْخُذُ مِنْهُمْ كِتَابًا إِلَى مِثْلِهِ مِنَ الْحَوْلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَا يُدَارُ مِنَ الْعُرُوضِ لِلتِّجَارَاتِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَدَّقَ مَالَهُ ثُمَّ اشْتَرَى بِهِ عَرْضًا بَزًّا أَوْ رَقِيقًا أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ ثُمَّ بَاعَهُ قَبْلَ أَنْ يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنَّهُ لاَ يُؤَدِّي مِنْ ذَلِكَ الْمَالِ زَكَاةً حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ صَدَّقَهُ وَأَنَّهُ إِنْ لَمْ يَبِعْ ذَلِكَ الْعَرْضَ سِنِينَ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ الْعَرْضِ زَكَاةٌ وَإِنْ طَالَ زَمَانُهُ فَإِذَا بَاعَهُ فَلَيْسَ فِيهِ إِلاَّ زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي بِالذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ حِنْطَةً أَوْ تَمْرًا أَوْ غَيْرَهُمَا لِلتِّجَارَةِ ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ ثُمَّ يَبِيعُهَا أَنَّ عَلَيْهِ فِيهَا الزَّكَاةَ حِينَ يَبِيعُهَا إِذَا بَلَغَ ثَمَنُهَا مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ وَلَيْسَ ذَلِكَ مِثْلَ الْحَصَادِ يَحْصُدُهُ الرَّجُلُ مِنْ أَرْضِهِ وَلاَ مِثْلَ الْجِدَادِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَا كَانَ مِنْ مَالٍ عِنْدَ رَجُلٍ يُدِيرُهُ لِلتِّجَارَةِ وَلاَ يَنِضُّ لِصَاحِبِهِ مِنْهُ شَىْءٌ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَإِنَّهُ يَجْعَلُ لَهُ شَهْرًا مِنَ السَّنَةِ يُقَوِّمُ فِيهِ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْ عَرْضٍ لِلتِّجَارَةِ وَيُحْصِي فِيهِ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْ نَقْدٍ أَوْ عَيْنٍ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَإِنَّهُ يُزَكِّيهِ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ وَمَنْ تَجَرَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَمَنْ لَمْ يَتْجُرْ سَوَاءٌ لَيْسَ عَلَيْهِمْ إِلاَّ صَدَقَةٌ وَاحِدَةٌ فِي كُلِّ عَامٍ تَجَرُوا فِيهِ أَوْ لَمْ يَتْجُرُوا ‏.‏
زریق بن حیان سے روایت ہے کہ وہ مقرر تھے مصر کے محصول خانہ پر ولید اور سلیمان بن عبدالملک اور عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا ان کو جو شخص گزرے اوپر تیرے مسلمانوں میں سے تو جو مال ان کو ظاہر ہو اموال تجارت میں سے تو لے اس میں سے ہر چالیس دینار میں سے ایک دینار یعنی چالیسواں حصہ اور جو چالیس دینار سے کم ہو تو اسی حساب سے بیس دینار تک اگر بیس دینار سے ایک تہائی دینار بھی کم تو اس مال کو چھوڑ دے اس میں سے کچھ نہ لے اور جو تیرے اوپر کوئی ذمی گزرے تو اس کے مال تجارت میں سے ہر بیس دینار میں سے ایک دینار لے جو کم ہو اسی حساب سے دس دینار تک اگر دس دینار سے ایک تہائی دینار بھی کم ہو تو کچھ نہ لے اور جو کچھ تو لے اس کی ایک رسید سال تمام کے واسطے لکھ دے ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْكَنْزِ، مَا هُوَ فَقَالَ هُوَ الْمَالُ الَّذِي لاَ تُؤَدَّى مِنْهُ الزَّكَاةُ ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا عبداللہ بن عمر سے کسی نے پوچھا کنز کسے کہتے ہیں جواب دیا کنز وہ مال ہے جس کی زکوة نہ دی جائے ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مَالٌ لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَطْلُبُهُ حَتَّى يُمْكِنَهُ يَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ کہتے تھے جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اس کی زکوة ادا نہ کرے تو قیامت کے روز وہ مال ایک گنجے سانپ کی صورت بنے گا جس کی دو آنکھوں پر سیاہ داغ ہوں گے اور ڈھونڈے گا اپنے مالک کو یہاں تک کہ پائے گا اس کو پھر کہے گا اس سے میں تیرا مال ہوں جس کی زکوة تو نے نہیں دی تھی ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۱۷/۵۹۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الصَّدَقَةِ قَالَ فَوَجَدْتُ فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ كِتَابُ الصَّدَقَةِ فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَدُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنِ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ جَذَعَةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى تِسْعِينَ ابْنَتَا لَبُونٍ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ مِنَ الإِبِلِ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ ثَلاَثُ شِيَاهٍ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلاَ يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلاَ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ إِلاَّ مَا شَاءَ الْمُصَّدِّقُ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَفِي الرِّقَةِ إِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ أَوَاقٍ رُبُعُ الْعُشْرِ ‏.‏
امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوة کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل میں چرتی ہوں جب چالیس تک پہنچ جائیں ایک بکری زکوة کی لازم ہوگی اس سے زیادہ میں تین سو بکریوں تک تین بکریاں بعد اس کے ہر سینکڑے میں ایک بکری دینا ہوگی اور زکوة میں بکرا نہ لیا جائے گا اسی طرح بوڑھے اور عیب دار مگر جب زکوۃ لینے والے کی رائے میں مناسب ہو اور جد اجدا اموال ایک نہ کئے جائیں گے اسی طرح ایک مال جدا جدا نہ کیا جائے گا زکوة کے خوف سے اور جو دو آدمی شریک ہوں تو وہ آپس میں رجوع کر لیں برابر کا حصہ لگا کر اور چاندی میں جب پانچ اوقیہ ہو تو چالیسواں حصہ لازم آئے گا ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخَذَ مِنْ ثَلاَثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا وَمِنْ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً وَأُتِيَ بِمَا دُونَ ذَلِكَ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا وَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ شَيْئًا حَتَّى أَلْقَاهُ فَأَسْأَلَهُ ‏.‏ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِيمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ عَلَى رَاعِيَيْنِ مُفْتَرِقَيْنِ أَوْ عَلَى رِعَاءٍ مُفْتَرِقِينَ فِي بُلْدَانٍ شَتَّى أَنَّ ذَلِكَ يُجْمَعُ كُلُّهُ عَلَى صَاحِبِهِ فَيُؤَدِّي مِنْهُ صَدَقَتَهُ وَمِثْلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الذَّهَبُ أَوِ الْوَرِقُ مُتَفَرِّقَةً فِي أَيْدِي نَاسٍ شَتَّى أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَجْمَعَهَا فَيُخْرِجَ مِنْهَا مَا وَجَبَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ مِنْ زَكَاتِهَا ‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الضَّأْنُ وَالْمَعْزُ أَنَّهَا تُجْمَعُ عَلَيْهِ فِي الصَّدَقَةِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ صُدِّقَتْ وَقَالَ إِنَّمَا هِيَ غَنَمٌ كُلُّهَا وَفِي كِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَإِنْ كَانَتِ الضَّأْنُ هِيَ أَكْثَرَ مِنَ الْمَعْزِ وَلَمْ يَجِبْ عَلَى رَبِّهَا إِلاَّ شَاةٌ وَاحِدَةٌ أَخَذَ الْمُصَدِّقُ تِلْكَ الشَّاةَ الَّتِي وَجَبَتْ عَلَى رَبِّ الْمَالِ مِنَ الضَّأْنِ وَإِنْ كَانَتِ الْمَعْزُ أَكْثَرَ مِنَ الضَّأْنِ أُخِذَ مِنْهَا فَإِنِ اسْتَوَى الضَّأْنُ وَالْمَعْزُ أَخَذَ الشَّاةَ مِنْ أَيَّتِهِمَا شَاءَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ الإِبِلُ الْعِرَابُ وَالْبُخْتُ يُجْمَعَانِ عَلَى رَبِّهِمَا فِي الصَّدَقَةِ ‏.‏ وَقَالَ إِنَّمَا هِيَ إِبِلٌ كُلُّهَا فَإِنْ كَانَتِ الْعِرَابُ هِيَ أَكْثَرَ مِنَ الْبُخْتِ وَلَمْ يَجِبْ عَلَى رَبِّهَا إِلاَّ بَعِيرٌ وَاحِدٌ فَلْيَأْخُذْ مِنَ الْعِرَابِ صَدَقَتَهَا فَإِنْ كَانَتِ الْبُخْتُ أَكْثَرَ فَلْيَأْخُذْ مِنْهَا فَإِنِ اسْتَوَتْ فَلْيَأْخُذْ مِنْ أَيَّتِهِمَا شَاءَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ الْبَقَرُ وَالْجَوَامِيسُ تُجْمَعُ فِي الصَّدَقَةِ عَلَى رَبِّهَا ‏.‏ وَقَالَ إِنَّمَا هِيَ بَقَرٌ كُلُّهَا فَإِنْ كَانَتِ الْبَقَرُ هِيَ أَكْثَرَ مِنَ الْجَوَامِيسِ وَلاَ تَجِبُ عَلَى رَبِّهَا إِلاَّ بَقَرَةٌ وَاحِدَةٌ فَلْيَأْخُذْ مِنَ الْبَقَرِ صَدَقَتَهُمَا وَإِنْ كَانَتِ الْجَوَامِيسُ أَكْثَرَ فَلْيَأْخُذْ مِنْهَا فَإِنِ اسْتَوَتْ فَلْيَأْخُذْ مِنْ أَيَّتِهِمَا شَاءَ فَإِذَا وَجَبَتْ فِي ذَلِكَ الصَّدَقَةُ صُدِّقَ الصِّنْفَانِ جَمِيعًا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ مَنْ أَفَادَ مَاشِيَةً مِنْ إِبِلٍ أَوْ بَقَرٍ أَوْ غَنَمٍ فَلاَ صَدَقَةَ عَلَيْهِ فِيهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهَا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ قَبْلَهَا نِصَابُ مَاشِيَةٍ وَالنِّصَابُ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ إِمَّا خَمْسُ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ وَإِمَّا ثَلاَثُونَ بَقَرَةً وَإِمَّا أَرْبَعُونَ شَاةً فَإِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ خَمْسُ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ أَوْ ثَلاَثُونَ بَقَرَةً أَوْ أَرْبَعُونَ شَاةً ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهَا إِبِلاً أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا بِاشْتِرَاءٍ أَوْ هِبَةٍ أَوْ مِيرَاثٍ فَإِنَّهُ يُصَدِّقُهَا مَعَ مَاشِيَتِهِ حِينَ يُصَدِّقُهَا وَإِنْ لَمْ يَحُلْ عَلَى الْفَائِدَةِ الْحَوْلُ وَإِنْ كَانَ مَا أَفَادَ مِنَ الْمَاشِيَةِ إِلَى مَاشِيَتِهِ قَدْ صُدِّقَتْ قَبْلَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا بِيَوْمٍ وَاحِدٍ أَوْ قَبْلَ أَنْ يَرِثَهَا بِيَوْمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ يُصَدِّقُهَا مَعَ مَاشِيَتِهِ حِينَ يُصَدِّقُ مَاشِيَتَهُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ الْوَرِقِ يُزَكِّيهَا الرَّجُلُ ثُمَّ يَشْتَرِي بِهَا مِنْ رَجُلٍ آخَرَ عَرْضًا وَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ فِي عَرْضِهِ ذَلِكَ إِذَا بَاعَهُ الصَّدَقَةُ فَيُخْرِجُ الرَّجُلُ الآخَرُ صَدَقَتَهَا هَذَا الْيَوْمَ وَيَكُونُ الآخَرُ قَدْ صَدَّقَهَا مِنَ الْغَدِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لاَ تَجِبُ فِيهَا الصَّدَقَةُ فَاشْتَرَى إِلَيْهَا غَنَمًا كَثِيرَةً تَجِبُ فِي دُونِهَا الصَّدَقَةُ أَوْ وَرِثَهَا أَنَّهُ لاَ تَجِبُ عَلَيْهِ فِي الْغَنَمِ كُلِّهَا الصَّدَقَةُ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهَا بِاشْتِرَاءٍ أَوْ مِيرَاثٍ وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ مَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ مِنْ مَاشِيَةٍ لاَ تَجِبُ فِيهَا الصَّدَقَةُ مِنْ إِبِلٍ أَوْ بَقَرٍ أَوْ غَنَمٍ فَلَيْسَ يُعَدُّ ذَلِكَ نِصَابَ مَالٍ حَتَّى يَكُونَ فِي كُلِّ صِنْفٍ مِنْهَا مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ فَذَلِكَ النِّصَابُ الَّذِي يُصَدِّقُ مَعَهُ مَا أَفَادَ إِلَيْهِ صَاحِبُهُ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَوْ كَانَتْ لِرَجُلٍ إِبِلٌ أَوْ بَقَرٌ أَوْ غَنَمٌ تَجِبُ فِي كُلِّ صِنْفٍ مِنْهَا الصَّدَقَةُ ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهَا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً أَوْ شَاةً صَدَّقَهَا مَعَ مَاشِيَتِهِ حِينَ يُصَدِّقُهَا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي هَذَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْفَرِيضَةِ تَجِبُ عَلَى الرَّجُلِ فَلاَ تُوجَدُ عِنْدَهُ أَنَّهَا إِنْ كَانَتِ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَلَمْ تُوجَدْ أُخِذَ مَكَانَهَا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ وَإِنْ كَانَتْ بِنْتَ لَبُونٍ أَوْ حِقَّةً أَوْ جَذَعَةً وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ كَانَ عَلَى رَبِّ الإِبِلِ أَنْ يَبْتَاعَهَا لَهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ بِهَا وَلاَ أُحِبُّ أَنْ يُعْطِيَهُ قِيمَتَهَا ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ فِي الإِبِلِ النَّوَاضِحِ وَالْبَقَرِ السَّوَانِي وَبَقَرِ الْحَرْثِ إِنِّي أَرَى أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ إِذَا وَجَبَتْ فِيهِ الصَّدَقَةُ ‏.‏
طاؤس یمانی سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نے تیس گایوں میں سے ایک گائے ایک برس کی لی اور چالیس گایوں میں دو برس کی ایک گائے لی اور اس سے کم میں کچھ نہ لیا اور کہا کہ نہیں سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں یہاں تک کہ پوچھوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پس وفات پائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کے آنے سے پہلے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَهُ مُصَدِّقًا فَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ فَقَالُوا أَتَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ وَلاَ تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ تَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلاَ تَأْخُذُهَا وَلاَ تَأْخُذُ الأَكُولَةَ وَلاَ الرُّبَّى وَلاَ الْمَاخِضَ وَلاَ فَحْلَ الْغَنَمِ وَتَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْغَنَمِ وَخِيَارِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالسَّخْلَةُ الصَّغِيرَةُ حِينَ تُنْتَجُ ‏.‏ وَالرُّبَّى الَّتِي قَدْ وَضَعَتْ فَهِيَ تُرَبِّي وَلَدَهَا ‏.‏ وَالْمَاخِضُ هِيَ الْحَامِلُ ‏.‏ وَالأَكُولَةُ هِيَ شَاةُ اللَّحْمِ الَّتِي تُسَمَّنُ لِتُؤْكَلَ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْغَنَمُ لاَ تَجِبُ فِيهَا الصَّدَقَةُ فَتَوَالَدُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهَا الْمُصَدِّقُ بِيَوْمٍ وَاحِدٍ فَتَبْلُغُ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ بِوِلاَدَتِهَا قَالَ مَالِكٌ إِذَا بَلَغَتِ الْغَنَمُ بِأَوْلاَدِهَا مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ فَعَلَيْهِ فِيهَا الصَّدَقَةُ وَذَلِكَ أَنَّ وِلاَدَةَ الْغَنَمِ مِنْهَا وَذَلِكَ مُخَالِفٌ لِمَا أُفِيدَ مِنْهَا بِاشْتِرَاءٍ أَوْ هِبَةٍ أَوْ مِيرَاثٍ وَمِثْلُ ذَلِكَ الْعَرْضُ لاَ يَبْلُغُ ثَمَنُهُ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ ثُمَّ يَبِيعُهُ صَاحِبُهُ فَيَبْلُغُ بِرِبْحِهِ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ فَيُصَدِّقُ رِبْحَهُ مَعَ رَأْسِ الْمَالِ وَلَوْ كَانَ رِبْحُهُ فَائِدَةً أَوْ مِيرَاثًا لَمْ تَجِبْ فِيهِ الصَّدَقَةُ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهُ أَوْ وَرِثَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَغِذَاءُ الْغَنَمِ مِنْهَا كَمَا رِبْحُ الْمَالِ مِنْهُ غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ يَخْتَلِفُ فِي وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهِ مَالاً تَرَكَ مَالَهُ الَّذِي أَفَادَ فَلَمْ يُزَكِّهِ مَعَ مَالِهِ الأَوَّلِ حِينَ يُزَكِّيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَى الْفَائِدَةِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهَا وَلَوْ كَانَتْ لِرَجُلٍ غَنَمٌ أَوْ بَقَرٌ أَوْ إِبِلٌ تَجِبُ فِي كُلِّ صِنْفٍ مِنْهَا الصَّدَقَةُ ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهَا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً أَوْ شَاةً صَدَّقَهَا مَعَ صِنْفِ مَا أَفَادَ مِنْ ذَلِكَ حِينَ يُصَدِّقُهُ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ الصِّنْفِ الَّذِي أَفَادَ نِصَابُ مَاشِيَةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ ‏.‏
سفیان بن عبداللہ کو عمر بن خطاب نے متصدق ( یعنی زکوۃ وصول کرنے والا ) کرکے بھیجا تو وہ بکریوں میں بچوں کو بھی شمار کرتے تھے لوگوں نے کہا تم بچوں کو شمار کرتے ہیں لیکن بچہ لیتے نہیں ہو تو جب آئے وہ عمر بن خطاب کے پاس بیان کیا ان سے یہ امر تو کہا حضرت عمر نے ہاں ہم گنتے ہیں بچوں کو بلکہ اس بچے کو جس کو چرواہا اٹھا کر چلتا ہے لیکن نہیں لیتے اس کو نہ موٹی بکری کو جو کھانے کے واسطے موٹی کی جائے اور نہ اس بکری کو جو اپنے بچے کو پالتی ہو اور نہ حاملہ کو اور نہ نر کو اور لیتے ہیں ہم ایک سال یا دوسال کی بکری ہو جو متوسط ہے نہ بچہ ہے نہ بوڑھی ہے نہ بہت عمدہ ہے ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مُرَّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَأَى فِيهَا شَاةً حَافِلاً ذَاتَ ضَرْعٍ عَظِيمٍ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذِهِ الشَّاةُ فَقَالُوا شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ مَا أَعْطَى هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ لاَ تَفْتِنُوا النَّاسَ لاَ تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے پاس بکریاں آئیں زکوة کی اس میں ایک بکری دیکھی بہت دودھ والی تو پوچھا آپ نے یہ بکری کیسی ہے لوگوں نے کہا زکوة کی بکری ہے حضرت عمر نے فرمایا کہ اس کے مالک نے کبھی اس کو خوشی سے نہ دیا ہوگا لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالو ان کے بہترین اموال نہ لو اور باز آؤ ان کا رزق چھین لینے سے ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلاَنِ، مِنْ أَشْجَعَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيَّ، كَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا فَيَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ أَخْرِجْ إِلَىَّ صَدَقَةَ مَالِكَ ‏.‏ فَلاَ يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَاءٌ مِنْ حَقِّهِ إِلاَّ قَبِلَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ السُّنَّةُ عِنْدَنَا - وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا - أَنَّهُ لاَ يُضَيَّقُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي زَكَاتِهِمْ وَأَنْ يُقْبَلَ مِنْهُمْ مَا دَفَعُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ‏.‏
محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ خبر دی مجھ کو دو شخصوں نے قبیلہ اشجع سے کہ محمد بن مسلمہ انصاری آتے تھے زکوة لینے کو تو کہتے تھے صاحب مال سے لاؤ میرے پاس زکوة اپنے مال کی پھر وہ جو بکری لے کر آتا اگر وہ زکوة کے لائق ہوتی تو قبول کر لیتے ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلاَّ لِخَمْسَةٍ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَى الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي قَسْمِ الصَّدَقَاتِ أَنَّ ذَلِكَ لاَ يَكُونُ إِلاَّ عَلَى وَجْهِ الاِجْتِهَادِ مِنَ الْوَالِي فَأَىُّ الأَصْنَافِ كَانَتْ فِيهِ الْحَاجَةُ وَالْعَدَدُ أُوثِرَ ذَلِكَ الصِّنْفُ بِقَدْرِ مَا يَرَى الْوَالِي وَعَسَى أَنْ يَنْتَقِلَ ذَلِكَ إِلَى الصِّنْفِ الآخَرِ بَعْدَ عَامٍ أَوْ عَامَيْنِ أَوْ أَعْوَامٍ فَيُؤْثَرُ أَهْلُ الْحَاجَةِ وَالْعَدَدِ حَيْثُمَا كَانَ ذَلِكَ وَعَلَى هَذَا أَدْرَكْتُ مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ لِلْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَاتِ فَرِيضَةٌ مُسَمَّاةٌ إِلاَّ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى الإِمَامُ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوة درست نہیں مالدار کی مگر پانچ آدمیوں کو درست ہے پہلے غازی جو جہاد کرتا ہو اللہ کی راہ میں دوسرے جو عامل ہو زکوة کا یعنی زکوة کو وصول اور تحصیل کرتا ہو تیسرے مدیون یعنی جو قرضدار ہو چوتھے جو زکوة کو خرید لے اپنے مال کے عوض میں پانچویں جو مسکین ہمسایہ کے پاس سے بطور ہدیہ کے آئے ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، قَالَ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ ‏.‏
امام مالک سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ اگر نہ دیں گے رسی بھی اونٹ باندھنے کی تو میں جہاد کروں گا ان پر ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ - قَدْ سَمَّاهُ - فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا ‏.‏ فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدَهُ فَاسْتَقَاءَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ مَنْ مَنَعَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ يَسْتَطِعِ الْمُسْلِمُونَ أَخْذَهَا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِمْ جِهَادُهُ حَتَّى يَأْخُذُوهَا مِنْهُ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، زید بن اسلم سے، انہوں نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا اور اسے پسند کیا، تو انہوں نے دودھ پلانے والے سے پوچھا کہ یہ کہاں کا ہے؟ دودھ، تو اس نے اسے اطلاع دی کہ اس میں پانی آگیا ہے، اس نے اس کا نام رکھا ہے، تو دیکھو، صدقہ کی برکتوں میں سے ایک نعمت ہے، اور وہ مجھے پانی پلا رہے تھے، تو انہوں نے اپنے دودھ سے مجھے دودھ پلایا، تو میں نے اس میں ڈال دیا۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَامِلاً، لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلاً مَنَعَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ دَعْهُ وَلاَ تَأْخُذْ مِنْهُ زَكَاةً مَعَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَأَدَّى بَعْدَ ذَلِكَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ خُذْهَا مِنْهُ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا وہاں پر جانور زکوة کے پانی پی رہے تھے لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا تو حضرت عمر نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک عامل نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوة نہیں دیتا عمر نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دے اس کو اور مسلمانوں کے ساتھ اور زکوة نہ لیا کر اس سے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی اس کو برا معلوم ہوا اور اپنے مال کی زکوة ادا کر دی بعد اس کے عامل نے حضرت عمر کو اطلاع دی انہوں نے جواب میں لکھا کہ لے لے زکوة کو اس شخص سے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ وَالْبَعْلِ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بارانی اور زیر چشمہ یا تالاب کی زمین میں اور اس کھجور میں جس کو پانی کی حاجت نہ ہو دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جو زمین پانی سینچ کر ترکی جائے اس میں بیسواں حصہ زکوة کا ہے ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۰۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ لاَ يُؤْخَذُ فِي صَدَقَةِ النَّخْلِ الْجُعْرُورُ وَلاَ مُصْرَانُ الْفَارَةِ وَلاَ عَذْقُ ابْنِ حُبَيْقٍ ‏.‏ قَالَ وَهُوَ يُعَدُّ عَلَى صَاحِبِ الْمَالِ وَلاَ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي الصَّدَقَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا مِثْلُ ذَلِكَ الْغَنَمُ تُعَدُّ عَلَى صَاحِبِهَا بِسِخَالِهَا وَالسَّخْلُ لاَ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي الصَّدَقَةِ وَقَدْ يَكُونُ فِي الأَمْوَالِ ثِمَارٌ لاَ تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ مِنْهَا مِنْ ذَلِكَ الْبُرْدِيُّ وَمَا أَشْبَهَهُ لاَ يُؤْخَذُ مِنْ أَدْنَاهُ كَمَا لاَ يُؤْخَذُ مِنْ خِيَارِهِ ‏.‏ قَالَ وَإِنَّمَا تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ مِنْ أَوْسَاطِ الْمَالِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لاَ يُخْرَصُ مِنَ الثِّمَارِ إِلاَّ النَّخِيلُ وَالأَعْنَابُ فَإِنَّ ذَلِكَ يُخْرَصُ حِينَ يَبْدُو صَلاَحُهُ وَيَحِلُّ بَيْعُهُ وَذَلِكَ أَنَّ ثَمَرَ النَّخِيلِ وَالأَعْنَابِ يُؤْكَلُ رُطَبًا وَعِنَبًا فَيُخْرَصُ عَلَى أَهْلِهِ لِلتَّوْسِعَةِ عَلَى النَّاسِ وَلِئَلاَّ يَكُونَ عَلَى أَحَدٍ فِي ذَلِكَ ضِيقٌ فَيُخْرَصُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ يَأْكُلُونَهُ كَيْفَ شَاءُوا ثُمَّ يُؤَدُّونَ مِنْهُ الزَّكَاةَ عَلَى مَا خُرِصَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا مَا لاَ يُؤْكَلُ رَطْبًا وَإِنَّمَا يُؤْكَلُ بَعْدَ حَصَادِهِ مِنَ الْحُبُوبِ كُلِّهَا فَإِنَّهُ لاَ يُخْرَصُ وَإِنَّمَا عَلَى أَهْلِهَا فِيهَا إِذَا حَصَدُوهَا وَدَقُّوهَا وَطَيَّبُوهَا وَخَلُصَتْ حَبًّا فَإِنَّمَا عَلَى أَهْلِهَا فِيهَا الأَمَانَةُ يُؤَدُّونَ زَكَاتَهَا إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ وَهَذَا الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ النَّخْلَ يُخْرَصُ عَلَى أَهْلِهَا وَثَمَرُهَا فِي رُءُوسِهَا إِذَا طَابَ وَحَلَّ بَيْعُهُ وَيُؤْخَذُ مِنْهُ صَدَقَتُهُ تَمْرًا عِنْدَ الْجِدَادِ فَإِنْ أَصَابَتِ الثَّمَرَةَ جَائِحَةٌ بَعْدَ أَنْ تُخْرَصَ عَلَى أَهْلِهَا وَقَبْلَ أَنْ تُجَذَّ فَأَحَاطَتِ الْجَائِحَةُ بِالثَّمَرِ كُلِّهِ فَلَيْسَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةٌ فَإِنْ بَقِيَ مِنَ الثَّمَرِ شَىْءٌ يَبْلُغُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ فَصَاعِدًا بِصَاعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُخِذَ مِنْهُمْ زَكَاتُهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيمَا أَصَابَتِ الْجَائِحَةُ زَكَاةٌ وَكَذَلِكَ الْعَمَلُ فِي الْكَرْمِ أَيْضًا وَإِذَا كَانَ لِرَجُلٍ قِطَعُ أَمْوَالٍ مُتَفَرِّقَةٌ أَوِ اشْتِرَاكٌ فِي أَمْوَالٍ مُتَفَرِّقَةٍ لاَ يَبْلُغُ مَالُ كُلِّ شَرِيكٍ أَوْ قِطَعُهُ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ وَكَانَتْ إِذَا جُمِعَ بَعْضُ ذَلِكَ إِلَى بَعْضٍ يَبْلُغَ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَإِنَّهُ يَجْمَعُهَا وَيُؤَدِّي زَكَاتَهَا ‏.‏
ابن شہاب زہری نے کہا کہ کھجور کی زکوۃ میں جعرور (ایک قسم کی خراب کھجور ہے جو سوکھنے سے کوڑا ہو جاتی ہے) اور مصران الفارہ اور عذق بن حبیق(یہ بھی ردی کھجوروں کی قسم ہیں) نہ لی جائیں گی اور مثال ان کی بکریوں کی سی ہے کہ صاحب مال کے مال کے شمار میں سب قسم کی شمار کی جائیں گی لیکن لی نہ جائیں گی ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الزَّيْتُونِ، فَقَالَ فِيهِ الْعُشْرُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنَ الزَّيْتُونِ الْعُشْرُ بَعْدَ أَنْ يُعْصَرَ وَيَبْلُغَ زَيْتُونُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ فَمَا لَمْ يَبْلُغْ زَيْتُونُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ فَلاَ زَكَاةَ فِيهِ وَالزَّيْتُونُ بِمَنْزِلَةِ النَّخِيلِ مَا كَانَ مِنْهُ سَقَتْهُ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلاً فَفِيهِ الْعُشْرُ وَمَا كَانَ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ وَلاَ يُخْرَصُ شَىْءٌ مِنَ الزَّيْتُونِ فِي شَجَرِهِ ‏.‏ وَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا فِي الْحُبُوبِ الَّتِي يَدَّخِرُهَا النَّاسُ وَيَأْكُلُونَهَا أَنَّهُ يُؤْخَذُ مِمَّا سَقَتْهُ السَّمَاءُ مِنْ ذَلِكَ وَمَا سَقَتْهُ الْعُيُونُ وَمَا كَانَ بَعْلاً الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِالصَّاعِ الأَوَّلِ صَاعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَا زَادَ عَلَى خَمْسَةِ أَوْسُقٍ فَفِيهِ الزَّكَاةُ بِحِسَابِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْحُبُوبُ الَّتِي فِيهَا الزَّكَاةُ الْحِنْطَةُ وَالشَّعِيرُ وَالسُّلْتُ وَالذُّرَةُ وَالدُّخْنُ وَالأُرْزُ وَالْعَدَسُ وَالْجُلْبَانُ وَاللُّوبِيَا وَالْجُلْجُلاَنُ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْحُبُوبِ الَّتِي تَصِيرُ طَعَامًا فَالزَّكَاةُ تُؤْخَذُ مِنْهَا بَعْدَ أَنْ تُحْصَدَ وَتَصِيرَ حَبًّا ‏.‏ قَالَ وَالنَّاسُ مُصَدَّقُونَ فِي ذَلِكَ وَيُقْبَلُ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ مَا دَفَعُوا ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ مَتَى يُخْرَجُ مِنَ الزَّيْتُونِ الْعُشْرُ أَوْ نِصْفُهُ أَقَبْلَ النَّفَقَةِ أَمْ بَعْدَهَا فَقَالَ لاَ يُنْظَرُ إِلَى النَّفَقَةِ وَلَكِنْ يُسْأَلُ عَنْهُ أَهْلُهُ كَمَا يُسْأَلُ أَهْلُ الطَّعَامِ عَنِ الطَّعَامِ وَيُصَدَّقُونَ بِمَا قَالُوا فَمَنْ رُفِعَ مِنْ زَيْتُونِهِ خَمْسَةُ أَوْسُقٍ فَصَاعِدًا أُخِذَ مِنْ زَيْتِهِ الْعُشْرُ بَعْدَ أَنْ يُعْصَرَ وَمَنْ لَمْ يُرْفَعْ مِنْ زَيْتُونِهِ خَمْسَةُ أَوْسُقٍ لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِ فِي زَيْتِهِ الزَّكَاةُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ بَاعَ زَرْعَهُ وَقَدْ صَلَحَ وَيَبِسَ فِي أَكْمَامِهِ فَعَلَيْهِ زَكَاتُهُ وَلَيْسَ عَلَى الَّذِي اشْتَرَاهُ زَكَاةٌ وَلاَ يَصْلُحُ بَيْعُ الزَّرْعِ حَتَّى يَيْبَسَ فِي أَكْمَامِهِ وَيَسْتَغْنِيَ عَنِ الْمَاءِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ‏}‏ أَنَّ ذَلِكَ الزَّكَاةُ وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ بَاعَ أَصْلَ حَائِطِهِ أَوْ أَرْضَهُ وَفِي ذَلِكَ زَرْعٌ أَوْ ثَمَرٌ لَمْ يَبْدُ صَلاَحُهُ فَزَكَاةُ ذَلِكَ عَلَى الْمُبْتَاعِ وَإِنْ كَانَ قَدْ طَابَ وَحَلَّ بَيْعُهُ فَزَكَاةُ ذَلِكَ عَلَى الْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهَا عَلَى الْمُبْتَاعِ ‏.‏
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ زیتون میں کیا واجب ہے بولے دسواں حصہ۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ہے مسلمان پر اپنے گھوڑے اور غلام کی زکوة ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَهْلَ الشَّامِ، قَالُوا لأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ خُذْ مِنْ خَيْلِنَا وَرَقِيقِنَا صَدَقَةً ‏.‏ فَأَبَى ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَبَى عُمَرُ ثُمَّ كَلَّمُوهُ أَيْضًا فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ إِنْ أَحَبُّوا فَخُذْهَا مِنْهُمْ وَارْدُدْهَا عَلَيْهِمْ وَارْزُقْ رَقِيقَهُمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَعْنَى قَوْلِهِ رَحِمَهُ اللَّهُ وَارْدُدْهَا عَلَيْهِمْ يَقُولُ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ شام کے لوگوں نے ابوعبیدہ بن جراح سے کہا کہ ہمارے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوة لیا کرو انہوں نے انکار کیا اور حضرت عمر بن خطاب کو لکھ بھیجا حضرت عمر نے بھی انکار کیا پھر لوگوں نے دوبارہ ابوعبیدہ سے کہا انہوں نے حضرت عمر کو لکھا حضرت عمر نے جواب میں لکھا کہ اگر وہ لوگ ان چیزوں کی زکوة دینا چاہیں تو اسے ان سے لے کر انہی کے فقیروں کو دے دے اور ان کے غلاموں اور لونڈیوں کی خوراک میں صرف کر ۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي وَهُوَ بِمِنًى أَنْ لاَ يَأْخُذَ مِنَ الْعَسَلِ وَلاَ مِنَ الْخَيْلِ صَدَقَةً ‏.‏
عبداللہ بن ابی حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا خط میرے باپ کے پاس آیا جب وہ منی میں تھے کہ شہد اور گھوڑے کی زکوة کچھ نہ لے ۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ صَدَقَةِ الْبَرَاذِينِ، فَقَالَ وَهَلْ فِي الْخَيْلِ مِنْ صَدَقَةٍ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے سعید بن مسیب سے کہ ترکی گھوڑوں میں زکوة کیا ہے انہوں نے جواب دیا کیا گھوڑوں میں بھی زکوة ہے ۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسَ وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَخَذَهَا مِنَ الْبَرْبَرِ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا بحرین کے مجوس سے اور عمر بن خطاب نے جزیہ لیا فارس کے مجوس سے اور عثمان بن عفان نے جزیہ لیا بربر سے ۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ذَكَرَ الْمَجُوسَ فَقَالَ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِي أَمْرِهِمْ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ ‏"‏ ‏.‏
امام محمد بن باقر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ذکر کیا مجوس کا اور کہا کہ میں نہیں جانتا کیا کروں ان کے بارے میں تو کہا عبدالرحمن بن عوف نے گواہی دیتا ہوں میں کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے وہ طریقہ برتو جو اہل کتاب سے برتتے ہو ۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ضَرَبَ الْجِزْيَةَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مَعَ ذَلِكَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ وَضِيَافَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ‏.‏
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے مقرر کیا جزیہ کو سونے والوں پر ہر سال میں چار دینار اور چاندی والوں پر ہر سال میں چالیس درہم اور ساتھ اس کے یہ بھی تھا کہ بھوکے مسلمانوں کو کھانا کھلائیں اور جو کوئی مسلمان ان کے یہاں آکر اترے تو اس کی تین روز کی ضیافت کریں ۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ فِي الظَّهْرِ نَاقَةً عَمْيَاءَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ادْفَعْهَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَنْتَفِعُونَ بِهَا ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ وَهِيَ عَمْيَاءُ فَقَالَ عُمَرُ يَقْطُرُونَهَا بِالإِبِلِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ كَيْفَ تَأْكُلُ مِنَ الأَرْضِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ فَقُلْتُ بَلْ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَرَدْتُمْ - وَاللَّهِ - أَكْلَهَا ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ ‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ فَنُحِرَتْ وَكَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ فَلاَ تَكُونُ فَاكِهَةٌ وَلاَ طُرَيْفَةٌ إِلاَّ جَعَلَ مِنْهَا فِي تِلْكَ الصِّحَافِ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَكُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَتِهِ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ كَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ - قَالَ - فَجَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ فَصُنِعَ فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَرَى أَنْ تُؤْخَذَ النَّعَمُ مِنْ أَهْلِ الْجِزْيَةِ إِلاَّ فِي جِزْيَتِهِمْ ‏.‏
اسلم بن عدوی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا حضرت عمر بن خطاب سے کہ شتر خانے میں ایک اندھی اونٹنی ہے تو فرمایا حضرت عمر نے وہ اونٹنی کسی گھروالوں کو دے دے تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں میں نے کہا وہ اندھی ہے حضرت عمر نے کہا اس کو اونٹوں کی قطار میں باندھ دیں گے میں نے کہا وہ چارہ کیسے کھائے گی حضرت عمر نے کہا وہ جزیے کے جانوروں میں سے ہے یا صدقہ کے میں نے کہا وہ جزیے کے حضرت عمر نے کہا و اللہ تم لوگوں نے اس کے کھانے کا ارادہ کیا ہے میں نے کہا نہیں اس پر نشانی جزیہ کی موجود ہے تو حکم کیا حضرت عمر نے اور وہ نحر کی گئی اور حضرت عمر کے پاس نو پیالے تھے جو میوہ یا اچھی چیز آتی آپ ان میں رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو بھیجا کرتے اور سب سے آخر میں اپنی بیٹی حفصہ کے پاس بھیجتے اگر وہ چیز کم ہوتی تو کمی حفصہ کے حصے میں ہوتی تو پہلے آپ نے گوشت کو پیالوں میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو روانہ کیا بعد اس کے پکانے کا حکم کیا اور سب مہاجرین اور انصار کی دعوت کر دی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھ بھیجا اپنے عاملوں کو جو لوگ جزیہ والوں میں سے مسلمان ہوں ان کا جزیہ معاف کریں ۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَضَعُوا الْجِزْيَةَ عَمَّنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْجِزْيَةِ حِينَ يُسْلِمُونَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لاَ جِزْيَةَ عَلَى نِسَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلاَ عَلَى صِبْيَانِهِمْ وَأَنَّ الْجِزْيَةَ لاَ تُؤْخَذُ إِلاَّ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِينَ قَدْ بَلَغُوا الْحُلُمَ وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ وَلاَ عَلَى الْمَجُوسِ فِي نَخِيلِهِمْ وَلاَ كُرُومِهِمْ وَلاَ زُرُوعِهِمْ وَلاَ مَوَاشِيهِمْ صَدَقَةٌ لأَنَّ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا وُضِعَتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ تَطْهِيرًا لَهُمْ وَرَدًّا عَلَى فُقَرَائِهِمْ وَوُضِعَتِ الْجِزْيَةُ عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ صَغَارًا لَهُمْ فَهُمْ مَا كَانُوا بِبَلَدِهِمُ الَّذِينَ صَالَحُوا عَلَيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِمْ شَىْءٌ سِوَى الْجِزْيَةِ فِي شَىْءٍ مِنْ أَمْوَالِهِمْ إِلاَّ أَنْ يَتَّجِرُوا فِي بِلاَدِ الْمُسْلِمِينَ وَيَخْتَلِفُوا فِيهَا فَيُؤْخَذُ مِنْهُمُ الْعُشْرُ فِيمَا يُدِيرُونَ مِنَ التِّجَارَاتِ وَذَلِكَ أَنَّهُمْ إِنَّمَا وُضِعَتْ عَلَيْهِمُ الْجِزْيَةُ وَصَالَحُوا عَلَيْهَا عَلَى أَنْ يُقَرُّوا بِبِلاَدِهِمْ وَيُقَاتَلَ عَنْهُمْ عَدُوُّهُمْ فَمَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ مِنْ بِلاَدِهِ إِلَى غَيْرِهَا يَتْجُرُ إِلَيْهَا فَعَلَيْهِ الْعُشْرُ مَنْ تَجَرَ مِنْهُمْ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ إِلَى الشَّامِ وَمِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى الْعِرَاقِ وَمِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى الْمَدِينَةِ أَوِ الْيَمَنِ أَوْ مَا أَشْبَهَ هَذَا مِنَ الْبِلاَدِ فَعَلَيْهِ الْعُشْرُ وَلاَ صَدَقَةَ عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ وَلاَ الْمَجُوسِ فِي شَىْءٍ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلاَ مِنْ مَوَاشِيهِمْ وَلاَ ثِمَارِهِمْ وَلاَ زُرُوعِهِمْ مَضَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ وَيُقَرُّونَ عَلَى دِينِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ وَإِنِ اخْتَلَفُوا فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ مِرَارًا فِي بِلاَدِ الْمُسْلِمِينَ فَعَلَيْهِمْ كُلَّمَا اخْتَلَفُوا الْعُشْرُ لأَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ مِمَّا صَالَحُوا عَلَيْهِ وَلاَ مِمَّا شُرِطَ لَهُمْ وَهَذَا الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا ‏.‏
اس نے مالک کی سند سے مجھے بتایا کہ اس نے سنا ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے اپنے نوکروں کو لکھا تھا کہ اسلام قبول کرنے والوں پر ٹیکس عائد کریں۔ ٹیکس جب وہ اسلام قبول کرتے ہیں۔ مالک نے کہا کہ سنت گزری ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں پر اور ان کے بچوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے اور یہ ٹیکس نہیں لیا جاتا ہے۔ سوائے ان مردوں کے جن کو خواب پورا ہوا ہے، اور نہ اہل ذم میں، نہ مجوسیوں میں سے ان کے کھجور کے درختوں میں، نہ انگور کے باغوں میں، یا ان کی فصلوں میں، یا ان کے مویشیوں میں۔ صدقہ، کیونکہ صدقہ مسلمانوں پر مسلط کیا گیا تھا تاکہ وہ ان کو پاک کر سکیں اور ان کے مسکینوں کا جواب دیں، اور ان پر جزیہ عائد کیا گیا۔ ان پر جزیہ عائد کیا گیا اور وہ اس شرط پر ادا کرنے پر آمادہ ہوئے کہ وہ اپنے ملک کو تسلیم کریں اور ان کے دشمن ان کے لیے لڑیں۔ لہٰذا ان میں سے جو کوئی اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسری جگہ ہجرت کر سکتا ہے، تو اس پر لازم ہے کہ ان میں سے جو بھی ہجرت کرے، اس کا دسواں حصہ ادا کرے، مصر کے لوگوں سے شام کی طرف، اور اہل شام سے عراق اور وہاں سے۔ اہل عراق مدینہ یا یمن یا اس سے ملتا جلتا کوئی ملک۔ اس پر دسواں حصہ واجب ہے، اور اہل کتاب یا مجوسیوں کو کوئی صدقہ نہیں دیا جاتا۔ نہ ان کے مال میں، نہ ان کے مویشیوں میں، نہ ان کے پھلوں میں، نہ ان کی فصلوں میں، یہ سنت گزر چکی ہے، اور وہ اپنے دین پر قائم ہیں اور جیسا کہ وہ تھے، یہاں تک کہ اگر وہ مسلم ممالک میں ایک سال میں بار بار اختلاف کرتے ہیں، تو انہیں ہر بار اختلاف کرنے پر دسواں حصہ ادا کرنا ہوگا، کیونکہ یہ وہ نہیں ہے جس پر وہ متفق تھے۔ نہ ہی ان کے لیے کیا شرط رکھی گئی تھی، اور میں نے اپنے ملک کے باشعور لوگوں کو یہی کہا تھا۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالزَّيْتِ نِصْفَ الْعُشْرِ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكْثُرَ الْحَمْلُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَيَأْخُذُ مِنَ الْقُطْنِيَّةِ الْعُشْرَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نبط کے کافروں سے گیہوں اور تیل کا بیسواں حصہ لیتے تھے تاکہ مدینہ میں اس کی آمدنی زیادہ ہو اور قطنیہ سے دسواں حصہ لیتے تھے ۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا عَامِلاً مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَى سُوقِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَكُنَّا نَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ ‏.‏
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ میں عامل تھا عبداللہ بن عتبہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازار میں تو ہم لیتے تھے نبط کے کفار سے دسواں حصہ ۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَلَى أَىِّ وَجْهٍ كَانَ يَأْخُذُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ كَانَ ذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَلْزَمَهُمْ ذَلِكَ عُمَرُ ‏.‏
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ حضرت عمر کفار نبط سے دسواں حصہ کیسے لیتے تھے تو ابن شہاب نے کہا کہ ایام جاہلیت میں ان لوگوں سے دسواں حصہ لیا جاتا تھا حضرت عمر نے وہی قائم رکھا ان پر ۔
۴۶
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهُوَ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - وَكَانَ الرَّجُلُ الَّذِي هُوَ عِنْدَهُ قَدْ أَضَاعَهُ - فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏.‏
اسلم بن عددی سے روایت ہے کہ سنا میں نے عمر بن خطاب سے کہتے تھے میں نے ایک شخص کو عمدہ گھوڑا دے دیا اللہ کی راہ میں مگر اس شخص نے اس کو تباہ کیا تو میں نے قصد کیا کہ پھر اس سے خرید لوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ سستا بیچ ڈالے گا سو پوچھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت خرید اس کو اگرچہ وہ ایک درہم کا تجھے دے دے اس لئے کہ صدقہ دے کر پھر اس کو لینے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کر کے پھر اس کو کھا لے ۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَبْتَعْهُ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں پھر قصد کیا اس کے خرید نے کا تو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت خرید اس کو اور نہ پھیر صدقہ کو ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ غِلْمَانِهِ الَّذِينَ، بِوَادِي الْقُرَى وَبِخَيْبَرَ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ أَحْسَنَ، مَا سَمِعْتُ فِيمَا، يَجِبُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنَّ الرَّجُلَ يُؤَدِّي ذَلِكَ عَنْ كُلِّ مَنْ يَضْمَنُ نَفَقَتَهُ وَلاَ بُدَّ لَهُ مِنْ أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهِ وَالرَّجُلُ يُؤَدِّي عَنْ مُكَاتَبِهِ وَمُدَبَّرِهِ وَرَقِيقِهِ كُلِّهِمْ غَائِبِهِمْ وَشَاهِدِهِمْ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْلِمًا وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ لِتِجَارَةٍ أَوْ لِغَيْرِ تِجَارَةٍ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ مُسْلِمًا فَلاَ زَكَاةَ عَلَيْهِ فِيهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ الآبِقِ إِنَّ سَيِّدَهُ إِنْ عَلِمَ مَكَانَهُ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ وَكَانَتْ غَيْبَتُهُ قَرِيبَةً فَهُوَ يَرْجُو حَيَاتَهُ وَرَجْعَتَهُ فَإِنِّي أَرَى أَنْ يُزَكِّيَ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ إِبَاقُهُ قَدْ طَالَ وَيَئِسَ مِنْهُ فَلاَ أَرَى أَنْ يُزَكِّيَ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ تَجِبُ زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَمَا تَجِبُ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر نکالتے اپنے غلاموں کی طرف سے جو وادی قری اور خیبر میں تھے ۔ کہا مالک نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اس شخص کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے جس کا نان ونفقہ اس پر واجب ہے اور اس پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اپنے غلام اور مکاتب اور مدبر اور سب کی طرف سے صدقہ ادا کرے خواہ یہ غلام حاضر ہوں یا غائب شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوں تجارت کے واسطے ہوں یا نہ ہوں اور جو ان میں مسلمان نہ ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر نہ دے ۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر کیا لوگوں پر ایک صاع کھجور کا اور ایک صاع جَو کا ہر آزاد اور ہر غلام پر مرد ہو یا عورت مسلمانوں میں سے ۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ وَذَلِكَ بِصَاعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عیاض بن عبداللہ نے سنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہم نکالتے تھے صدقہ فطر ایک صاع گیہوں سے یا ایک صاع جَو سے یا ایک صاع کھجور سے یا ایک صاع پنیر سے یا ایک صاع انگور خشک سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع سے ۔