۵۰ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۵۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الدَّائِمِ الَّذِي لا يَفْتُرُ مِنْ صَلاَةٍ وَلاَ صِيَامٍ حَتَّى يَرْجِعَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن بھر روزہ رکھے اور رات بھر عبادت کرے، نہ تھکے نماز سے اور نہ روزے سے یہاں تک کہ لوٹے جہاد سے
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ - لاَ يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلاَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ - أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ضامن ہے اس شخص کا جو جہاد کرے اس کی راہ میں، اور نہ نکلے گھر سے مگر جہاد کی نیت سے، اللہ کے کلام کو سچا جان کر؛ اس بات کا کہ داخل کرے گا اللہ اس کو جنت میں یا پھیر لائے گا اس کو اس کے گھر میں جہاں سے نکلا ہے ثواب اور غنیمت کے ساتھ ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٌ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا ذَلِكَ فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ كَانَ ذَلِكَ لَهُ حَسَنَاتٍ فَهِيَ لَهُ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلاَ فِي ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحُمُرِ فَقَالَ ‏"‏ لَمْ يَنْزِلْ عَلَىَّ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ ‏{‏فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ‏}‏‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے ایک شخص کے واسطے اجر ہیں اور ایک شخص کے واسطے درست ہیں اور ایک شخص کے واسطے گناہ ہیں؛ اجر اس کے واسطے ہیں جو باندھے ان کو جہاد کے واسطے پھر لمبی کردے اس کی رسی ، ان کی کسی موضع یا چراگاہ میں تو جس قدر دور تک اس رسی کے سبب سے چرے اس کی واسطے نیکیاں لکھی جائیں گی ، اگر وہ رسی توڑا کر ایک اونچان یا نیچان چڑھیں ان کے ہر قدم اور لید پر نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ کسی نہر پر جا نکلے اور پانی پائے اور مالک کا ارادہ پانی پلانے کا نہ تھا تب بھی اس کے واسطے نیکیاں لکھی جائیں۔ اور درست اس کے واسطے ہیں جو تجارت کے واسطے باندھے اور ان کی زکوة ادا کرے۔ اور گناہ اس کے واسطے ہیں جو فخر اور ریا اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے باندھے۔ اور حضرت سے سوال ہوا گدھوں کے باب میں، آپ نے فرمایا کہ اس مقدمے میں میرے اوپر کچھ نہیں اترا مگر یہ آیت جو اکیلی تمام نیکیوں کو شامل ہے "فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه Ċ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه Ď " 99۔ الزلہ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلاً رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلاً بَعْدَهُ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَتِهِ يُقِيمُ الصَّلاَةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نہ بتاؤں تم کو وہ شخص جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے؛ وہ شخص ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے جہاد کرتا ہے اللہ کی راہ میں، کیا نہ بتاؤں میں تم کو اس کے بعد جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے وہ شخص ہے جو ایک گوشے میں بکریوں کا غلہ لے کر نماز پڑھتا ہے اور اللہ کو پوجتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لاَ نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ‏.‏
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر آسانی اور سختی میں خوشی اور غم میں، اور بیعت کی ہم نے اس بات پر کہ جو مسلماں حکومت کے لائق ہوگا اس سے نہ جھگڑیں گے اور اس امر پر کہ ہم سچ کہیں گے یا سچ پر جمے رہیں گے جہاں ہوں گے، اللہ کے کام میں کسی کے برا کہنے سے نہ ڈریں گے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ كَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَذْكُرُ لَهُ جُمُوعًا مِنَ الرُّومِ وَمَا يَتَخَوَّفُ مِنْهُمْ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ مَهْمَا يَنْزِلْ بِعَبْدٍ مُؤْمِنٍ مِنْ مُنْزَلِ شِدَّةٍ يَجْعَلِ اللَّهُ بَعْدَهُ فَرَجًا وَإِنَّهُ لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ‏}‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابوعبیدہ بن جراح نے حضرت عمر کو روم کے لشکروں کا اور اپنے خوف کا حال لکھا ؛ حضرت عمر نے جواب لکھا کہ بعد حمد ونعت کے معلوم ہو کہ بندہ مومن پر جب کوئی سختی اترتی ہے تو اس کے بعد اللہ پاک خوشی دیتا ہے؛ اور ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں ہو سکتی؛ اور بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ؛ " اے ایمان والو صبر کرو مصیبتوں پر اور صبر کرو کفار کے مقابلہ میں اور قائم رہو جہاد پر اور ڈرو اللہ سے شاید کہ تم نجات پاؤ" ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا قرآن شریف کو دشمن کے ملک میں لے جانے سے؛ کہا مالک نے منع اس واسطے کیا "تاکہ ایسا نہ ہو کہ دشمن قرآن شریف کو لے کر اس کی توہین کرے"۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، - قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ - قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِينَ قَتَلُوا ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ - قَالَ - فَكَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يَقُولُ بَرَّحَتْ بِنَا امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِالصِّيَاحِ فَأَرْفَعُ السَّيْفَ عَلَيْهَا ثُمَّ أَذْكُرُ نَهْىَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكُفُّ وَلَوْلاَ ذَلِكَ اسْتَرَحْنَا مِنْهَا ‏.‏
عبدالرحمن بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا ان لوگوں کو جہنوں نے قتل کیا ابن ابی حقیق کو عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے ; ابن کعب نے کہا کہ ایک شخص ان میں سے کہتا تھا کہ ابن ابی حقیق کی عورت نے چیخ کر ہمارا حال کھول دیا تھا; تو میں تلوار اس پر اٹھاتا تھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کو یاد کر کے رک جاتا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم اسے بھی قتل کردیتے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لڑائیوں میں ایک عورت کو قتل کئے ہوئے پایا تو ناپسند کیا اس کے قتل کو ، اور منع کیا عورتوں اور بچوں کے قتل سے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - وَكَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْكَ الأَرْبَاعِ - فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاكِبٍ إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَاىَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُءُوسِهِمْ مِنَ الشَّعَرِ فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلاَ صَبِيًّا وَلاَ كَبِيرًا هَرِمًا وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلاَ بَعِيرًا إِلاَّ لِمَأْكُلَةٍ وَلاَ تَحْرِقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تُفَرِّقَنَّهُ وَلاَ تَغْلُلْ وَلاَ تَجْبُنْ ‏.‏
یحیی بن سیعد سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے شام کو لشکر بھیجا تو یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل چلے اور وہ حاکم تھے ایک چوتھائی لشکر کے؛ تو یزید نے ابوبکر سے کہا آپ سوار ہو جائیں نہیں تو میں اترتا ہوں، ابوبکر صدیق نے کہا نہ تم اترو اور نہ میں سوار ہوں گا ، میں ان قدموں کو اللہ کی راہ میں ثواب سمجھتا ہوں پھر کہا یزید سے کہ تم پاؤ گے کچھ لوگ ایسے جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں کو روک رکھا ہے اللہ کے واسطے سو چھوڑ دے ان کو اپنے کام میں اور کچھ لوگ ایسے پاؤ گے جو بیچ میں سے سر منڈاتے ہیں تو مار ان کے سر پر تلوار سے اور میں تجھ کو دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں عورت کو مت مار اور نہ بچوں کو نہ بڈھے پھونس کو اور نہ کاٹنا پھل دار درخت کو اور نہ اجاڑنا کسی بستی کو اور نہ کونچیں کاٹنا کسی بکری اور اونٹ کی مگر کھانے کے واسطے اور مت جلانا کھجور کے درخت کو اور مت ڈبانا اس کو اور غنیمت کے مال میں چوری نہ کرنا اور نامردی نہ کرنا ۔ امام مالک نے روایت نقل کی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عاملوں میں سے ایک عامل کو لکھا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت پہنچی ہے؛ کہ جب فوج روانہ کرتے تھے تو کہتے تھے ان سے جہاد کرو اللہ کا نام لے کر، اللہ کی راہ میں تم لڑتے ہو ان لوگوں سے جہنوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ، نہ چوری کرو نہ اقرار توڑو نہ ناک کان کاٹو نہ مارو بچوں اور عورتوں کو اور کہہ دے یہ امر اپنی فوجوں اور لشکروں سے، اگر اللہ نے چاہا تو تم پر سلامتی ہوگی۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۶۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ مِنْ عُمَّالِهِ أَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمُ ‏ "‏ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ لاَ تَغُلُّوا وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تُمَثِّلُوا وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَقُلْ ذَلِكَ لِجِيُوشِكَ وَسَرَايَاكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَالسَّلاَمُ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
انہوں نے مجھے مالک کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ایک کارکن کو لکھا کہ انہوں نے ہمیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کمپنی بھیجتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے ہیں کہ اللہ کے نام پر لڑو، اللہ کے نام پر لڑو، ان سے لڑو جو اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں، ان سے زیادتی نہ کرو اور نہ خیانت کرو۔ "اور کسی بچے کو مسخ نہ کرو اور نہ ہی قتل کرو، اور یہ کہو کہ اپنی فوجوں اور اپنے بریگیڈز سے، ان شاء اللہ، تم پر سلامتی ہو۔"
۱۲
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى عَامِلِ جَيْشٍ كَانَ بَعَثَهُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالاً مِنْكُمْ يَطْلُبُونَ الْعِلْجَ حَتَّى إِذَا أَسْنَدَ فِي الْجَبَلِ وَامْتَنَعَ قَالَ رَجُلٌ مَطْرَسْ - يَقُولَ لاَ تَخَفْ - فَإِذَا أَدْرَكَهُ قَتَلَهُ وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ أَعْلَمُ مَكَانَ وَاحِدٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِلاَّ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْمُجْتَمَعِ عَلَيْهِ وَلَيْسَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الإِشَارَةِ بِالأَمَانِ أَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْكَلاَمِ فَقَالَ نَعَمْ وَإِنِّي أَرَى أَنْ يُتَقَدَّمَ إِلَى الْجُيُوشِ أَنْ لاَ تَقْتُلُوا أَحَدًا أَشَارُوا إِلَيْهِ بِالأَمَانِ لأَنَّ الإِشَارَةَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ الْكَلاَمِ وَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَهْدِ إِلاَّ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَدُوَّ ‏.‏
ایک کوفہ کے رہنے والے سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے لشکر کے ایک افسر کو لکھا؛ کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ بعض لوگ تم میں سے کافر عجمی کو بلاتے ہیں جب وہ پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے اور لڑائی سے باز آتا ہے، تو ایک شخص اس سے کہتا ہے مت ڈر، پھر قابو پاکر اس کو مار ڈالاتا ہے؛ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں کسی کو ایسا کرتے جان لوں گا تو اس کی گردن ماروں گا۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَعْطَى شَيْئًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ إِذَا بَلَغْتَ وَادِيَ الْقُرَى فَشَأْنَكَ بِهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب جہاد کے واسطے کوئی چیز دیتے تو فرماتے "جب پہنچ جائے تو وادی قری میں تو وہ چیز تیری ہے" ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ إِذَا أُعْطِيَ الرَّجُلُ الشَّىْءَ فِي الْغَزْوِ فَيَبْلُغُ بِهِ رَأْسَ مَغْزَاتِهِ فَهُوَ لَهُ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ أَوْجَبَ عَلَى نَفْسِهِ الْغَزْوَ فَتَجَهَّزَ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مَنَعَهُ أَبَوَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا فَقَالَ لاَ يُكَابِرْهُمَا وَلَكِنْ يُؤَخِّرُ ذَلِكَ إِلَى عَامٍ آخَرَ فَأَمَّا الْجِهَازُ فَإِنِّي أَرَى أَنْ يَرْفَعَهُ حَتَّى يَخْرُجَ بِهِ فَإِنْ خَشِيَ أَنْ يَفْسُدَ بَاعَهُ وَأَمْسَكَ ثَمَنَهُ حَتَّى يَشْتَرِيَ بِهِ مَا يُصْلِحُهُ لِلْغَزْوِ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يَجِدُ مِثْلَ جِهَازِهِ إِذَا خَرَجَ فَلْيَصْنَعْ بِجِهَازِهِ مَا شَاءَ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے؛ جب کسی شخص کو جہاد کے واسطے کوئی چیز دی جائے اور وہ دار جہاد میں پہنچ جائے تو وہ چیز اس کی ہوگئی ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَ سُهْمَانُهُمُ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر نجد کی طرف روانہ کیا جس میں عبداللہ بن عمر تھے، تو غنیمت میں بہت سے اونٹ حاصل کئے اور ہر ایک کا حصہ بارہ اونٹ یا گیارہ اونٹ تھے، اور ایک اونٹ زیادہ دیا گیا ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ كَانَ النَّاسُ فِي الْغَزْوِ إِذَا اقْتَسَمُوا غَنَائِمَهُمْ يَعْدِلُونَ الْبَعِيرَ بِعَشْرِ شِيَاهٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الأَجِيرِ فِي الْغَزْوِ إِنَّهُ إِنْ كَانَ شَهِدَ الْقِتَالَ وَكَانَ مَعَ النَّاسِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَكَانَ حُرًّا فَلَهُ سَهْمُهُ وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلاَ سَهْمَ لَهُ وَأَرَى أَنْ لاَ يُقْسَمَ إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ الْقِتَالَ مِنَ الأَحْرَارِ ‏.‏
کہا مالک نے جو کفار بند کے کنارہ پر مسلمانوں کی زمین میں ملیں اور وہ یہ کہیں کہ ہم سوادگر تھے، دریا نے ہم کو یہاں پھینک دیا مگر مسلمانوں کو اس امر کی تصدیق نہ ہو، البتہ یہ گمان ہو کہ جہاز ان کا ٹوٹ گیا یا پیاس کے سبب سے اتر پڑے بغیر اجازت مسلمانوں کے، تو امام کو ان کے بارے میں اختیار ہے اور جن لوگوں نے گرفتار کیا ان کو خمس نہیں ملے گا ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدًا، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَبَقَ وَأَنَّ فَرَسًا لَهُ عَارَ فَأَصَابَهُمَا الْمُشْرِكُونَ ثُمَّ غَنِمَهُمَا الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُصِيبَهُمَا الْمَقَاسِمُ ‏.‏
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی روایت سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عبداللہ بن عمر کا ایک غلام رہ گیا ہے اور اس کا ایک گھوڑا آزاد کر دیا گیا ہے، اور مشرکین نے ان پر حملہ کر دیا، پھر مسلمانوں نے ان کا مال غنیمت لے کر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس کر دیا، اور یہ ان پر احکام نازل ہونے سے پہلے تھا۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ - قَالَ - فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ - فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ فَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي - قَالَ - فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ فَقَالَ أَمْرُ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْتُ ثُمَّ قُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لاَ هَاءَ اللَّهِ إِذًا لاَ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعْطَانِيهِ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ ‏.‏
ابی قتادہ بن ربعی سے روایت ہے کہ نکلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ حنین میں، جب لڑے ہم کافروں سے تو مسلمانوں میں گڑبڑ مچی میں نے ایک کافر کو دیکھا کہ اس نے ایک مسلمان کو مغلوب کیا ہوا ہے، تو میں نے پیچھے سے آن کر ایک تلوار اس کی گردن پر ماری، وہ میرے طرف دوڑا اور مجھے آن کر ایسا کردیا گویا موت کو مزہ چکھایا، پھر وہ خود مرگیا اور مجھے چھوڑ دیا، پھر میں حضرت عمر سے ملا ؛ اور میں نے کہا آج لوگوں کو کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کا ایسا ہی حکم ہوا، پھر مسلمان واپس لوٹے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "جو کسی شخص کو مارے تو اس کا سامان اسی کو ملے گا جبکہ اس پر وہ گواہ رکھتا ہو" ابوقتادہ کہتے ہیں؛ جب میں نے یہ سنا تو اٹھ کھڑا ہوا پھر میں نے یہ خیال کیا کہ کون گواہی دے گا میری؟ تو میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو مارے گا ، اس کا سامان اسی کی ملے گا بشرطیکہ وہ گواہ رکھتا ہو تو میں اٹھ کھڑا ہوا پھر میں نے یہ خیال کیا کہ کون گواہی دے گا میری؟ پھر بیٹھا رہا۔ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ میں اٹھ کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا تجھ کو اے ابوقتادہ؟ میں نے سارا قصہ کہہ سنایا؛ اتنے میں ایک شخص بولا سچ کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور سامان اس کافر کا میرے پاس ہے تو وہ سامان مجھے معاف کرا دیجئے ان سے حضرت ابوبکر نے کہا قسم اللہ کی ایسا کبھی نہ ہوگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسا قصد نہ کریں گے کہ ایک شیر اللہ کے شیروں میں سے اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑے اور سامان تجھے مل جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سچ کہتے ہیں وہ سامان ابوقتادہ کو دے دے اس نے مجھے دیدیا میں زرہ بیچ کر ایک باغ خریدا؛ بنی سلمہ کے محلہ میں، اور یہ پہلا مال ہے جو حاصل کیا میں نے اسلام میں۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الأَنْفَالِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْفَرَسُ مِنَ النَّفَلِ وَالسَّلَبُ مِنَ النَّفَلِ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ عَادَ الرَّجُلُ لِمَسْأَلَتِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَلِكَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ الرَّجُلُ الأَنْفَالُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَا هِيَ قَالَ الْقَاسِمُ فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يُحْرِجَهُ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرُونَ مَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ صَبِيغٍ الَّذِي ضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ قَتَلَ قَتِيلاً مِنَ الْعَدُوِّ أَيَكُونُ لَهُ سَلَبُهُ بِغَيْرِ إِذْنِ الإِمَامِ قَالَ لاَ يَكُونُ ذَلِكَ لأَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِ الإِمَامِ وَلاَ يَكُونُ ذَلِكَ مِنَ الإِمَامِ إِلاَّ عَلَى وَجْهِ الاِجْتِهَادِ وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ إِلاَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ؛ "سنا میں نے ایک شخص کو ، عبداللہ بن عباس سے نفل کے معنی پوچھتا تھا " ، ابن عباس نے کہا کہ" گھوڑا اور ہتھیار نفل میں داخل ہیں۔ پھر اس شخص نے یہی پوچھا، پھر ابن عباس نے یہی جواب دیا۔ پھر اس شخص نے کہا میں وہ انفال پوچھتا ہوں جن کا ذکر، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ قاسم کہتے ہیں کہ وہ برابر پوچھے گیا، یہاں تک کہ تنگ ہونے لگے عبداللہ بن عباس، اور کہا انہوں نے تم جانتے ہو اس شخص کی مثال؛ صبیغ کی سی ہے جس کو حضرت عمر بن خطاب نے مارا تھا ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُعْطَوْنَ النَّفَلَ مِنَ الْخُمُسِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ النَّفَلِ هَلْ يَكُونُ فِي أَوَّلِ مَغْنَمٍ قَالَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الاِجْتِهَادِ مِنَ الإِمَامِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا فِي ذَلِكَ أَمْرٌ مَعْرُوفٌ مَوْثُوقٌ إِلاَّ اجْتِهَادُ السُّلْطَانِ وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَّلَ فِي مَغَازِيهِ كُلِّهَا وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ نَفَّلَ فِي بَعْضِهَا يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الاِجْتِهَادِ مِنَ الإِمَامِ فِي أَوَّلِ مَغْنَمٍ وَفِيمَا بَعْدَهُ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا لوگ نفل کو خمس میں سے دیا کرتے تھے۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۷۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَانَ يَقُولُ لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ ذَلِكَ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ يَحْضُرُ بِأَفْرَاسٍ كَثِيرَةٍ فَهَلْ يُقْسَمُ لَهَا كُلِّهَا فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ بِذَلِكَ وَلاَ أَرَى أَنْ يُقْسَمَ إِلاَّ لِفَرَسٍ وَاحِدٍ الَّذِي يُقَاتِلُ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَرَى الْبَرَاذِينَ وَالْهُجُنَ إِلاَّ مِنَ الْخَيْلِ لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً‏}‏ وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ‏}‏ فَأَنَا أَرَى الْبَرَاذِينَ وَالْهُجُنَ مِنَ الْخَيْلِ إِذَا أَجَازَهَا الْوَالِي وَقَدْ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَسُئِلَ عَنِ الْبَرَاذِينَ هَلْ فِيهَا مِنْ صَدَقَةٍ فَقَالَ وَهَلْ فِي الْخَيْلِ مِنْ صَدَقَةٍ
مالک نے روایت کیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا "گھوڑے کے دو حصے ہیں اور مرد کا ایک حصہ ہے" ۔ کہا مالک نے "میں ہمیشہ ایسا ہی سنتا ہوا آیا " ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ صَدَرَ مِنْ حُنَيْنٍ وَهُوَ يُرِيدُ الْجِعِرَّانَةَ سَأَلَهُ النَّاسُ حَتَّى دَنَتْ بِهِ نَاقَتُهُ مِنْ شَجَرَةٍ فَتَشَبَّكَتْ بِرِدَائِهِ حَتَّى نَزَعَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رُدُّوا عَلَىَّ رِدَائِي أَتَخَافُونَ أَنْ لاَ أَقْسِمَ بَيْنَكُمْ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ سَمُرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لاَ تَجِدُونِي بَخِيلاً وَلاَ جَبَانًا وَلاَ كَذَّابًا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ تَنَاوَلَ مِنَ الأَرْضِ وَبَرَةً مِنْ بَعِيرٍ أَوْ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَلاَ مِثْلَ هَذِهِ إِلاَّ الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین سے لوٹے اور ارادہ رکھتے تھے جعرانہ کا؛ مانگنے لگے لوگ آپ سے (مال غنیمت)، اسی اثنا میں آپ کا اونٹ کانٹوں کے درخت کی طرف چلا گیا، اور کانٹے آپ کی چادر میں اٹک کر چادر آپ کی پشت مبارک سے اتر گئی، تب آپ نے فرمایا؛ "کہ میری چادر مجھ کو دے دو کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں نہ بانٹوں گا وہ چیز تم کو جو اللہ نے تم کو دی" "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر اللہ تم کو جتنے تہامہ کے درخت ہیں اتنے اونٹ دے تو میں بانٹ دوں گا تم کو؛ پھر نہ پاؤ گے مجھ کو بخیل نہ بودا نہ جھوٹا، پھر جب اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑ ہوئے لوگوں میں، اور کہا کہ؛ اگر کسی نے تاگا اور سوئی لے لی ہو وہ بھی لاؤ کیونکہ غنیمت کے مال میں سے چرانا شرم ہے دین میں اور آگ ہے اور عیب ہے قیامت کے روز، پھر زمین سے اونٹ یا بکری کے بالوں کا ایک گچھا اٹھایا، اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، جو مال اللہ پاک نے تم کو دیا؛ اس میں سے میرا اتنا بھی نہیں ہے، مگر پانچواں حصہ اور پانچواں حصہ بھی تمہارے ہی واسطے ہے ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُمْ ذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِينَ دِرْهَمَيْنِ ‏.‏
زید بن خالد جہنی نے کہا ایک شخص مر گیا حنین کی لڑائی میں تو بیان کیا گیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز پڑھ لو اپنے ساتھی پر، لوگوں کے چہرے زرد ہو گئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے مال غنیمت میں چوری کی تھی، زید نے کہا ہم نے اس شخص کا اسباب کھولا تو چند منکے یہودیوں کے پائے جو دو درہم کے مال کے برابر تھے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى النَّاسَ فِي قَبَائِلِهِمْ يَدْعُو لَهُمْ وَأَنَّهُ تَرَكَ قَبِيلَةً مِنَ الْقَبَائِلِ - قَالَ - وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ وَجَدُوا فِي بَرْدَعَةِ رَجُلٍ مِنْهُمْ عِقْدَ جَزْعٍ غُلُولاً فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ عَلَيْهِمْ كَمَا يُكَبِّرُ عَلَى الْمَيِّتِ ‏.‏
عبداللہ بن مغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے لوگوں کی جماعتوں پر تو دعا کی سب جماعتوں کے واسطے مگر ایک جماعت کے واسطے دعا نہ کی کیونکہ اس جماعت میں ایک شخص تھا جس کے بچھونے کے نیچے سے ایک کنٹھا چوری کا نکلا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جماعت پر آئے تو آپ نے تکبیر کہی جیسے جنازے پر کہتے ہیں ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، سَالِمٍ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ وَرِقًا إِلاَّ الأَمْوَالَ الثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ - قَالَ - فَأَهْدَى رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى وَادِي الْقُرَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ ذَلِكَ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ نکلے ہم ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے, خبیر کے سال تو غنیمت میں سونا اور چاندی حاصل نہیں کیا بلکہ کپڑے اور اسباب ملے اور رفاعہ بن زید نے ایک غلام کالا ہدیہ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کا نام مدعم تھا, تو چلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القری کی طرف تو جب پہنچے ہم وادی القری میں تو مدعم اتنے میں ایک تیر بے نشان کے آلگا اور وہ مرگیا، لوگوں نے کہا مبارک ہو جنت کی اس کے واسطے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز ایسا نہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ جو کمبل اس نے حنین کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے قبل تقسیم لیا تھا، آگ ہو کر اس پر جل رہا ہے۔ جب لوگوں نے یہ سنا ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تسمہ یا دو تسمے آگ کے تھے ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ مَا ظَهَرَ الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلاَّ أُلْقِيَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبُ وَلاَ فَشَا الزِّنَا فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلاَّ كَثُرَ فِيهِمُ الْمَوْتُ وَلاَ نَقَصَ قَوْمٌ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلاَّ قُطِعَ عَنْهُمُ الرِّزْقُ وَلاَ حَكَمَ قَوْمٌ بِغَيْرِ الْحَقِّ إِلاَّ فَشَا فِيهِمُ الدَّمُ وَلاَ خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَهْدِ إِلاَّ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَدُوَّ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جو قوم غنیمت کے مال میں چوری کرتی ہے ان کے دل بودے ہو جاتے ہیں، اور جس قوم میں زنا زیادہ ہو جاتا ہے ان میں موت بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے، اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے ان کی روزی بند ہو جاتی ہے، اور جو قوم ناحق فیصلہ کرتی ہے ان میں خون زیادہ ہو جاتا ہے، اور جو قوم عہد توڑتی ہے ان پر دشمن غالب ہو جاتا ہے ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثَلاَثًا أَشْهَدُ بِاللَّهِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے چاہی یہ بات کہ اللہ کی راہ میں لڑوں پھر قتل کیا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ ابوہریرہ کہتے تھے؛ اس بات کی میں تین بار گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُقَاتِلُ فَيُسْتَشْهَدُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ ہنسے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دو شخصوں پر کہ ایک دوسرے کا قاتل ہوگا اور دونوں جنت میں جائیں گے ایک شخص نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور مارا گیا بعد اس کے مارنے والے پر اللہ نے رحم کیا اور وہ مسلمان ہوا اور جہاد کیا اور شہید ہوا ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ - إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے نہیں زخمی ہوگا کوئی شخص اللہ کی راہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو زخمی ہوتا ہے اس کے راستے میں ، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہوگا جس کا رنگ بھی خون جیسا ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَتْلِي بِيَدِ رَجُلٍ صَلَّى لَكَ سَجْدَةً وَاحِدَةً يُحَاجُّنِي بِهَا عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے تھے اے پروردگار!میرا قاتل ایسے شخص کو نہ بنانا جس نے تجھے ایک سجدہ بھی کیا ہو تاکہ اس سجدہ کی وجہ سے قیامت کے دن تیرے سامنے مجھ سے جھگڑے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۸۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلاً غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ إِلاَّ الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ ‏"‏ ‏.‏
ابوقتادہ انصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں قتل کیا جاؤں اللہ کی راہ میں جس حال میں کہ میں صبر کرنے والا ہوں مخلص ہوں منہ سامنے رکھنے والا ہوں نہ پیٹھ موڑنے والا ہوں، کیا بخش دے گا اللہ گناہ میرے؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں، جب وہ شخص واپس لوٹا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا یا بلانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا کہا تو نے؟ اس نے اپنی بات کو دہرادیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر قرض، ایسا ہی کہا مجھ سے جبرائیل نے ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِشُهَدَاءِ أُحُدٍ ‏"‏ هَؤُلاَءِ أَشْهَدُ عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَلَسْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِإِخْوَانِهِمْ أَسْلَمْنَا كَمَا أَسْلَمُوا وَجَاهَدْنَا كَمَا جَاهَدُوا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَلَى وَلَكِنْ لاَ أَدْرِي مَا تُحْدِثُونَ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ أَئِنَّا لَكَائِنُونَ بَعْدَكَ
ابو النصر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے شہیدوں کے لئے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کا میں گواہ ہوں حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں مسلمان ہوئے ہم جیسے وہ مسلمان ہوئے اور جہاد کیا ہم نے جیسے انہوں نے جہاد کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مگر مجھے معلوم نہیں کہ بعد میرے کیا کرو گے تو ابوبکر رونے لگے اور فرمایا کہ ہم زندہ رہیں گے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِئْسَ مَا قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ بُقْعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور قبر کھد رہی تھی، مدینہ میں ایک شخص قبر کو دیکھ کر بولا کیا بری جگہ ہے مسلمان کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بری بات کہی تو نے، وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ مطلب نہ تھا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا اس سے بہتر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں مگر ساری زمین میں کوئی مقام ایسا نہیں کہ میں اپنی قبر وہاں پسند کرتا ہوں مدینہ سے تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَوَفَاةً بِبَلَدِ رَسُولِكَ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے اے پروردگار میں چاہتا ہوں کہ شہید ہوں تیری راہ میں اور مروں تیرے رسول کے شہر میں
۳۵
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ كَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاهُ وَدِينُهُ حَسَبُهُ وَمُرُوءَتُهُ خُلُقُهُ وَالْجُرْأَةُ وَالْجُبْنُ غَرَائِزُ يَضَعُهَا اللَّهُ حَيْثُ شَاءَ فَالْجَبَانُ يَفِرُّ عَنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَالْجَرِيءُ يُقَاتِلُ عَمَّا لاَ يَؤُوبُ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ وَالْقَتْلُ حَتْفٌ مِنَ الْحُتُوفِ وَالشَّهِيدُ مَنِ احْتَسَبَ نَفْسَهُ عَلَى اللَّهِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے؛ عزت مومن کے تقوی میں ہے اور دین اس کی شرافت ہے اور مروت اس کا خلق ہے اور بہادری اور نامردی دونوں خلقی صفتیں ہیں جس شخص میں اللہ چاہتا ہے ان صفتوں کو رکھتا ہے تو نامرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بہادر اس شخص سے لڑتا ہے جس کو جانتا ہے کہ گھر تک نہ جانے دے گا اور قتل ایک موت ہے موتوں میں سے اور شہید وہ ہے جو اپنی جان خوشی سے اللہ کے سپرد کر دے ۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۴
الحديث 37. قال مالك رضي الله عنه: وقد بلغه عن أهل العلم أنهم كانوا يقولون: لا ينبغي تغسيل شهداء في سبيل الله ولا تشييع على أحد منهم. بل يجب أن يدفنوا في الثوب الذي استشهدوا فيه. فقال المالك (رضي الله عنه): هذا ترتيب الشهداء الذين ماتوا في أرض المعركة. وبعد إخراجهم أحياء من أرض المعركة وعودتهم إلى بيوتهم ويموتون بعد فترة أو بعض الوقت بمشيئة الله، يتم غسلهم وقراءة جنازتهم. عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) وقد تم ذلك أيضًا في هذا الوقت.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر غسل دئے گئے اور کفن پہنائے گئے اور نماز جنازہ ان پر پڑھی گئی حالانکہ وہ شہید تھے ۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَحْمِلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفِ بَعِيرٍ يَحْمِلُ الرَّجُلَ إِلَى الشَّامِ عَلَى بَعِيرٍ وَيَحْمِلُ الرَّجُلَيْنِ إِلَى الْعِرَاقِ عَلَى بَعِيرٍ فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ احْمِلْنِي وَسُحَيْمًا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَشَدْتُكَ اللَّهَ أَسُحَيْمٌ زِقٌّ قَالَ لَهُ نَعَمْ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک برس میں چالیس ہزار اونٹ بھیجتے تھے شام کے جانے والوں کو فی آدمی ایک ایک اونٹ دیتے اور عراق کے جانے والوں کو دو آدمیوں میں ایک اونٹ دیتے تھے ایک شخص عراق کا رہنے والا آیا اور حضرت عمر سے بولا کہ مجھ کو اور سحیم کو ایک اونٹ دیجئے حضرت عمر نے فرمایا میں تجھ کو دیتا ہوں اللہ کی قسم سے تیری مراد کد ہے وہ بولا ہاں ۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي فِي رَأْسِهِ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد قبا کو جاتے تو ام حرام بنت ملحان کے گھر میں آپ تشریف لے جاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتیں اور وہ اس زمانے میں عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک روز آپ ان کے گھر میں گئے انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ کے سر کے بال دیکھنے لگیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنستے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ میرے امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سوار ہو رہے تھے بڑے دریا میں جیسے بادشاہ تخت پر سوار ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے کہ اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر رکھ کے سو گئے پھر جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنستے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ میری امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کو جاتے تھے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پہلے لوگوں میں سے ہو چکی ام حرام معاویہ کے ساتھ دریا میں سوار ہوئیں جب دریا سے نکلیں تو جانور پر سے گر کر مر گئیں ۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكِنِّي لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَلاَ يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ فَيَخْرُجُونَ وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي فَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کا جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا مگر نہ پاس اس قدر سواریاں ہیں کہ سب لوگوں کو ان پر سوار کروں نہ ان کے پاس اتنی سواریاں ہیں کہ وہ سب سوار ہو کر نکلیں اگر میں اکیلا جاؤں تو ان کو میرا چھوڑنا شاق ہوتا ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں
۴۰
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَطُوفُ بَيْنَ الْقَتْلَى فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لآتِيَهُ بِخَبَرِكَ ‏.‏ قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ طُعِنْتُ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ طَعْنَةً وَأَنِّي قَدْ أُنْفِذَتْ مَقَاتِلِي وَأَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّهُ لاَ عُذْرَ لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ إِنْ قُتِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَاحِدٌ مِنْهُمْ حَىٌّ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ جنگ احد کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون خبر لا کر دیتا ہے مجھ کو سعد بن ربیع انصاری کی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دوں گا وہ جا کر لاشوں میں ڈھونڈھنے لگا سعد نے کہا کہ کیا کام ہے؟ اس شخص نے کہا مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری خبر لینے کو بھیجا ہے کہا کہ تم جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور میرا سلام عرض کرو اور کہو کہ مجھے بارہ زخم برچھوں کے لگے ہیں اور میرے زخم کاری ہیں اپنی قوم سے کہ اللہ جل جلالہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر قبول نہ ہوگا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے اور تم میں سے ایک بھی زندہ رہا ۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۲۱/۹۹۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَغَّبَ فِي الْجِهَادِ وَذَكَرَ الْجَنَّةَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَأْكُلُ تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ فَقَالَ إِنِّي لَحَرِيصُ عَلَى الدُّنْيَا إِنْ جَلَسْتُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْهُنَّ ‏.‏ فَرَمَى مَا فِي يَدِهِ فَحَمَلَ بِسَيْفِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رغبیت دلائی جہاد میں اور بیان کیا جنت کا حال اتنے میں ایک شخص انصاری کھجوریں ہاتھ میں لئے ہوئے کھا رہا تھا وہ بولا مجھے بڑی حرص ہے دنیا کی اگر میں بیٹھا رہوں اس انتظار میں کہ کھجوریں کھالوں پھر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھا کر لڑائی شروع کی اور شہید ہوا۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَغَزْوٌ تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ وَيُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيكُ وَيُطَاعُ فِيهِ ذُو الأَمْرِ وَيُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِكَ الْغَزْوُ خَيْرٌ كُلُّهُ وَغَزْوٌ لاَ تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ وَلاَ يُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيكُ وَلاَ يُطَاعُ فِيهِ ذُو الأَمْرِ وَلاَ يُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِكَ الْغَزْوُ لاَ يَرْجِعُ صَاحِبُهُ كَفَافًا ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نے کہا جہاد دو قسم کے ہیں ایک وہ جس میں عمدہ سے عمدہ مال صرف کیا جاتا ہے اور رفیق کے ساتھ محبت کی جاتی ہے اور افسر کی اطاعت کی جاتی ہے اور فسار سے پرہیز رہتا ہے یہ جہاد سب کا سب ثواب ہے اور ایک وہ جہاد ہے جس میں اچھا مال صرف نہیں کیا جاتا اور رفیق سے محبت نہیں ہوتی اور افسر کی نافرمانی ہوتی ہے اور فسار سے پرہیز نہیں ہوتا یہ جہاد ایسا ہے اس میں جو کوئی جائے ثواب تو کیا خالی لوٹ کر آنا مشکل ہے ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری اور برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک ۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھوڑ دوڑ کے لئے خفیا سے ثینہ الوداع تک اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حدی ثینہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقرر کی عبداللہ بن عمر بھی گھوڑ دوڑ میں شریک تھے ۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبَقَ وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَىْءٌ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے گھوڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے اور جب پیچھے رہ کچھ نہ دے ۔
۴۶
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رُئِيَ وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسِهِ بِرِدَائِهِ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي عُوتِبْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْخَيْلِ ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے دیکھا کہ اپنے گھوڑے کا منہ چادر سے صاف کر رہے ہیں لوگوں نے اس کا سبب پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات مجھ پر عتاب ہوا گھوڑے کی خبر نہ لینے پر ۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ أَتَاهَا لَيْلاً وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَخَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلے خیبر کو پہنچے وہاں رات کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر رات کو پہنچتے تو جنگ شروع نہ کرتے یہاں تک کہ صبح ہو تو خیبر کے یہودی اپنی کدالیں اور زنبلیں لے کر نکلے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے قسم ہے اللہ کی محمد ہیں اور پورا لشکر ان کے ساتھ ہے تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر خراب ہو خیبر انا اذانزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرین ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک جوڑا صرف کرے اللہ کی راہ میں تو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر پکارا جائے گا اے بندے اللہ کے! یہ خیر ہے تو جو شخص نمازی ہوگا وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص جہادی ہوگا وہ شخص جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص صدقہ دینے والا ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص روزے بہت رکھے گا اور باب الریان سے بلایا جائے گا حضرت ابوبکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص کسی ایک دروازے سے بلایا جائے اس کو کچھ حزن نہ ہوگا مگر کوئی ایسا بھی جو سب دروازوں سے بلایا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہوگے ۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ السَّلَمِيَّيْنِ كَانَا قَدْ حَفَرَ السَّيْلُ قَبْرَهُمَا وَكَانَ قَبْرُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّيْلَ وَكَانَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَهُمَا مِمَّنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فَحُفِرَ عَنْهُمَا لِيُغَيَّرَا مِنْ مَكَانِهِمَا فَوُجِدَا لَمْ يَتَغَيَّرَا كَأَنَّهُمَا مَاتَا بِالأَمْسِ وَكَانَ أَحَدُهُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جُرْحِهِ فَدُفِنَ وَهُوَ كَذَلِكَ فَأُمِيطَتْ يَدُهُ عَنْ جُرْحِهِ ثُمَّ أُرْسِلَتْ فَرَجَعَتْ كَمَا كَانَتْ وَكَانَ بَيْنَ أُحُدٍ وَبَيْنَ يَوْمَ حُفِرَ عَنْهُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ أَنْ يُدْفَنَ الرَّجُلاَنِ وَالثَّلاَثَةُ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ وَيُجْعَلَ الأَكْبَرُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ‏.‏
عبدالرحمن بن ابی صعصہ سے روایت ہے کہ عمرو بن الجموع اور عبدالرحمن بن عمرو انصار سلمی جو شہید ہوئے تھے جنگ احد میں ان کی قبر کو پانی کے بہاؤ نے اکھیڑ دیا تھا اور قبر ان کی بہاؤ کے نزدیک تھی اور دونوں ایک ہی قبر میں تھے تو قبر کھودی گئی تو لاشیں ویسی ہی تہیں جیسے وہ شہید ہوئے تھے گویا کل مرے ہیں ان میں سے ایک شخص کو جب زخم لگا تھا تو اس نے ہاتھ اپنے زخم پر رکھ لیا تھا جب ان کو دفن کرنے لگے تو ہاتھ وہاں سے ہٹایا مگر ہاتھ پر وہیں آلگا جب ان کی لاشیں کھو دیں تو جنگ احد کو چھیالیس برس گزر چکے تھے ۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۲۱/۱۰۰۸
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأْىٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي فَجَاءَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَحَفَنَ لَهُ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ ‏.‏
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے پاس روپیہ آیا بحرین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرائی کہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دینے کا وعدہ کیا ہو وہ ہمارے پاس آئے جابر بن عبداللہ حضرت ابوبکر نے ان کو تین لپ بھر کر دیئے ۔