۷ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲۶/۱۰۶۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ أُحِبُّ الْعُقُوقَ ‏"‏ ‏.‏ وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الاِسْمَ وَقَالَ ‏"‏ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
بنی ضمرہ کے ایک شخص سے روایت ہے اس نے اپنے باپ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقے کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق کو پسند نہیں کرتا یعنی اس نام کو ناپسند کیا اور فرمایا جس شخص کا بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کرے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲۶/۱۰۶۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ وَزَنَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَعَرَ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَزَيْنَبَ وَأُمِّ كُلْثُومٍ فَتَصَدَّقَتْ بِزِنَةِ ذَلِكَ فِضَّةً ‏.‏
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ نے حضرت حسن حضرت حسین اور زینب اور ام کلثوم کے بال تول کر ان کے برابر چاندی صدقہ کی ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲۶/۱۰۶۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أَنَّهُ قَالَ وَزَنَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَعَرَ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَتَصَدَّقَتْ بِزِنَتِهِ فِضَّةً ‏.‏
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ نے حسن اور حسین کے بال تول کر ان کے برابر چاندی صدقہ کی ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲۶/۱۰۷۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، لَمْ يَكُنْ يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ عَقِيقَةً إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهَا وَكَانَ يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ عَنِ الذُّكُورِ وَالإِنَاثِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جو کوئی ان کے گھر والوں میں سے عقیقے کے بارے کہتا تو وہ دیتے اپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی ایک ایک بکری (عقیقے میں) ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲۶/۱۰۷۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْتَحِبُّ الْعَقِيقَةَ، وَلَوْ بِعُصْفُورٍ ‏.‏
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ عقیقہ بہتر ہے اگرچہ ایک چڑیا ہی ہو ۔ حضرت حسن اور حسین کا عقیقہ ہوا تھا ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲۶/۱۰۷۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ عُقَّ عَنْ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، ابْنَىْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ‏.‏
اس نے مجھے مالک کی سند سے بتایا کہ میں نے سنا ہے کہ میں نے علی ابن ابی طالب کے بیٹوں حسن اور حسین کی طرف سے عقیقہ کیا تھا۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲۶/۱۰۷۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَعُقُّ عَنْ بَنِيهِ الذُّكُورِ، وَالإِنَاثِ، بِشَاةٍ شَاةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ أَنَّ مَنْ عَقَّ فَإِنَّمَا يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ الذُّكُورِ وَالإِنَاثِ وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ وَلَكِنَّهَا يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِهَا وَهِيَ مِنَ الأَمْرِ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا فَمَنْ عَقَّ عَنْ وَلَدِهِ فَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ النُّسُكِ وَالضَّحَايَا لاَ يَجُوزُ فِيهَا عَوْرَاءُ وَلاَ عَجْفَاءُ وَلاَ مَكْسُورَةٌ وَلاَ مَرِيضَةٌ وَلاَ يُبَاعُ مِنْ لَحْمِهَا شَىْءٌ وَلاَ جِلْدُهَا وَيُكْسَرُ عِظَامُهَا وَيَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ لَحْمِهَا وَيَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا وَلاَ يُمَسُّ الصَّبِيُّ بِشَىْءٍ مِنْ دَمِهَا ‏.‏
عروہ بن زبیر اپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو خواہ لڑکی ایک ایک بکری کرتے تھے عقیقے میں ۔