آزادی اور ولاء
ابواب پر واپس
۲۵ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۶۴
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مشترک غلا میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس شخص کے پاس انتا مال کہ غلام کی قیمت دے سکے تو اس غلام کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جس قدر اس غلام میں سے آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ مولیٰ اگر اپنے مرنے کے بعد اپنے غالم کا ایک حصہ جیسے ثلث یاربع یا نصف آزاد کر جائے تو بعد مولیٰ کے مرجانے کے اسی قدر حصہ جتنامولیٰ نے آزاد کیا تھا آزاد ہوجائے گا کیونکہ اس حصے کی آزادی بعد مولیٰ کے مرجانے کے لازم ہوئی اور جب تک مولیٰ ازندہ تھا اس کو اختیار تھا جب مر گیا تو موافق اس کی وصیت کے اسی قدر حصہ آزاد ہوگا اور باقی غلام آزاد نہ ہوگا اس واسطے کہ وہ غیر کی ملک ہوگا تو باقی غلام غیر کی طرف سے کیونکر آزاد ہوگا نہ اس نے آزادی شروع کی اور نہ ثابت کی اور نہ اس کے واسطے ولاء ہے بلکہ یہ میت کا فعل ہے اسی نے آزاد کیا اور اسی نے اپنے لئے ولاء ثابت کی تو غیر کے مالک میں کیونکر درست ہوگا البتہ اگر یہ وصیت کر جائے کہ باقی غلام بھی اس کے مال میں سے آزاد کردیا جائے گا اور ثلث مال میں سے وہ غلام آزاد ہوسکتا ہو تو آزاد ہوجائے گا پھر اس کے شریکوں یاوارثوں کو تعرض نہیں پہنچتا کیونکہ ان کا کچھ ضرر نہیں ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی بیماری میں تہائی غلام آزاد کردیا تو وہ ثلث مال میں سے پورا آزاد ہوجائے گا کیونکہ یہ مثل اس شخص کے نہیں ہے جو اپنی تہائی غلام کی آزادی اپنی موت پر معلق کردے اس واسطے کہ اس کی آزادی قطعی نہیں جب تک زندہ ہے رجوع کرسکتا ہے اور جس نے اپنے مرض میں تہائی غلام قطعا آزاد کردیا اگر وہ زندہ رہ گیا تو کل غلام آزاد ہوجائے گا کیونکہ میت کا تہائی مال میں وصیت درست ہے جیسے صحیح سالم کا تصرف کل مالک میں درست ہے۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنا غلام قطعی طور پر آزاد کردیا یہاں تک کہ اس کی شہادت ہوگئی اور اس کی حرمت پوری ہوگئی اور اس کی میراث ثابت ہوگئی اب اس کے مولیٰ کو نہیں پہنچتاکہ اس پر کسی مال یاخدمت کی شرط لگادے یا اس پر کچھ غلامی کا بوجھ ڈالے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنا حصہ غلام میں سے آزاد کردے تو اس کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ کر آزاد کرے اور غلام اس کے اوپر آزاد ہوجائے گا پس جس صورت میں وہ غلام خاص اسی کی ملک ہے تو زیادہ تر اس کی آزادی پوری کرنے کا حقدار ہوگا اور غلامی کا بوجھ اس پر نہ رکھے سکے گا۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۶۵
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلاً، فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَسْهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ ثُلُثَ تِلْكَ الْعَبِيدِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِذَلِكَ الرَّجُلِ مَالٌ غَيْرُهُمْ ‏.‏
حسن بصری اور محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ ڈال کر دو کی آزاد قائم رکھی۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۶۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلاً، فِي إِمَارَةِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ كُلَّهُمْ جَمِيعًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَمَرَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ بِتِلْكَ الرَّقِيقِ فَقُسِمَتْ أَثْلاَثًا ثُمَّ أَسْهَمَ عَلَى أَيِّهِمْ يَخْرُجُ سَهْمُ الْمَيِّتِ فَيَعْتِقُونَ فَوَقَعَ السَّهْمُ عَلَى أَحَدِ الأَثْلاَثِ فَعَتَقَ الثُّلُثُ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهِ السَّهْمُ ‏.‏
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے ابان بن عثمان کی خلافت میں اپنے سب غلاموں کو آزاد کر دیا اور سوا ان غلاموں کے اور کچھ مال اس شخص کے پاس نہ تھا تو ابان بن عثمان نے حکم کیا ان غلاموں کے تین حصے کئے گئے پھر جس حصے پر میت کا حصہ نکلا وہ غلام آزاد ہو گئے اور جب حصوں پر وارثوں کا نام نکلا وہ غلام رہے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۶۷
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَتَقَ تَبِعَهُ مَالُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَتَقَ تَبِعَهُ مَالُهُ أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا كُوتِبَ تَبِعَهُ مَالُهُ وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْهُ وَذَلِكَ أَنَّ عَقْدَ الْكِتَابَةِ هُوَ عَقْدُ الْوَلاَءِ إِذَا تَمَّ ذَلِكَ وَلَيْسَ مَالُ الْعَبْدِ وَالْمُكَاتَبِ بِمَنْزِلَةِ مَا كَانَ لَهُمَا مِنْ وَلَدٍ إِنَّمَا أَوْلاَدُهُمَا بِمَنْزِلَةِ رِقَابِهِمَا لَيْسُوا بِمَنْزِلَةِ أَمْوَالِهِمَا لأَنَّ السُّنَّةَ الَّتِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهَا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَتَقَ تَبِعَهُ مَالُهُ وَلَمْ يَتْبَعْهُ وَلَدُهُ وَأَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا كُوتِبَ تَبِعَهُ مَالُهُ وَلَمْ يَتْبَعْهُ وَلَدُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ وَالْمُكَاتَبَ إِذَا أَفْلَسَا أُخِذَتْ أَمْوَالُهُمَا وَأُمَّهَاتُ أَوْلاَدِهِمَا وَلَمْ تُؤْخَذْ أَوْلاَدُهُمَا لأَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَمْوَالٍ لَهُمَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا بِيعَ وَاشْتَرَطَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مَالَهُ لَمْ يَدْخُلْ وَلَدُهُ فِي مَالِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَرَحَ أُخِذَ هُوَ وَمَالُهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ وَلَدُهُ ‏.‏
شہاب کہتے تھے کہ سنت جاری ہے اس بات پر جب غلام آزاد ہو جائے اس کا مال اسی کو ملے گا ۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ ہے کہ غلام اور مکاتب جب مفلس ہوجائیں تو ان کے مالک اور ام دلد لے لیں گے مگر اولاد کو نہ لیں گے کیونکہ اولاد غلام کا مالک نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ غلام جب بیچا جائے اور خریدار اس کے مالک لینے کی طرف کرلے تو اولاد اس میں داخل نہ ہو گی۔ کہا مالک نے غلام اگر کسی کو زخمی کرے تو اس دیت میں وہ خود اور مال اس کا گرفت کیا جائے گا مگر اس کی اولاد سے مواخذہ نہ ہوگا۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۶۸
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لاَ يَبِيعُهَا وَلاَ يَهَبُهَا وَلاَ يُوَرِّثُهَا وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو لونڈی اپنے مالک سے جنے تو مالک اس کے بہ بیچے نہ ہبہ کر نہ وہ مالک کے وارثوں کے ملک میں آسکتی ہے بلکہ جب تک مالک زندہ رہے اس سے مزے لے جب مر جائے وہ آزاد ہو جائے گی ۔ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک لونڈی آئی جس کو اس کے مولیٰ نے آگ میں جلایا تھا آپ نے اس کو آزاد کر دیا ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۶۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ أَوْ أَصَابَهَا بِهَا فَأَعْتَقَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لاَ تَجُوزُ عَتَاقَةُ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ وَأَنَّهُ لاَ تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْغُلاَمِ حَتَّى يَحْتَلِمَ أَوْ يَبْلُغَ مَبْلَغَ الْمُحْتَلِمِ وَأَنَّهُ لاَ تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَإِنْ بَلَغَ الْحُلُمَ حَتَّى يَلِيَ مَالَهُ ‏.‏
مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عمر بن الخطاب کی ایک بیٹی تھی جس کے مالک نے اسے آگ لگا دی تھی یا زخمی کر دیا تھا تو اس نے اسے آزاد کر دیا۔ مالک نے کہا: ہمارے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آدمی کو آزاد کرنا جائز نہیں جس پر اس کے مال پر قرض ہو اور کسی آدمی کو آزاد کرنا جائز نہیں۔ لڑکا جب تک وہ خواب دیکھے یا لڑکے کی عمر کو پہنچ جائے اور یہ کہ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مال سے اپنے مالک کو آزاد کر دے، خواہ اگلے دن تک اس لڑکے کو بھیگتا ہوا خواب آیا ہو۔ اس کا پیسہ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۰
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَىَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيْنَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ فِي السَّمَاءِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ أَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعْتِقْهَا ‏"‏ ‏.‏
عمر بن حکم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی جب میں وہاں گیا دیکھا تو ایک بکری گم ہے پوچھا میں نے ایک بکری کہاں ہے بولی اس کو بھیڑیا کھا گیا ہے مجھے غصہ آیا آخر میں آدمی تھا میں نے ایک طماچہ اس کے منہ پر جڑا میرے ذمے ایک بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا اسی کو آزاد کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے فرمایا اللہ جل جلالہ کہاں ہے وہ بولی آسمان پر ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہو بولی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا اس کو آزاد کر دے ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَىَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ كُنْتَ تَرَاهَا مُؤْمِنَةً أُعْتِقُهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَشْهَدِينَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعْتِقْهَا ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کالی لونڈی لے کر آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اوپر ایک مسلمان بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اس کو آزاد کر دوں اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے تو میں اسی کو آزاد کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ کے وہ بولی ہاں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں وہ بولی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کر کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھیں گے بولی ہاں تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو آزاد کر دے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال ہوا کہ جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہو گیا ہو ولد الزنا کو آزاد کر سکتا ہے جواب دیا ہاں کر سکتا ہے ۔ فضالہ بن عبیدانصاری سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہو گیا وہ ولدا لزنا کو آزاد کر سکتا ہے جواب دیا ہاں کر سکتا ہے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الرَّجُلِ، تَكُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يُعْتِقُ فِيهَا ابْنَ زِنًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ ‏.‏
مجھ سے مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے مقبری سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس ایک غلام ہو، کیا وہ زنا کے بیٹے کو آزاد کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، یہی کافی ہے۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ تَكُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا قَالَ نَعَمْ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ ‏.‏
مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ انہیں فضلہ بن عبید الانصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں خبر دی گئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ کا غلام کون ہے؟ کیا اس کے لیے زنا میں پیدا ہونے والے بچے کو آزاد کرنا جائز ہے؟ اس نے کہا: ہاں، یہ اس کے لیے کافی ہے۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۴
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنِ الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ، هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ فَقَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لاَ يَشْتَرِيهَا الَّذِي يُعْتِقُهَا فِيمَا وَجَبَ عَلَيْهِ بِشَرْطٍ عَلَى أَنْ يُعْتِقَهَا لأَنَّهُ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَلَيْسَتْ بِرَقَبَةٍ تَامَّةٍ لأَنَّهُ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا لِلَّذِي يَشْتَرِطُ مِنْ عِتْقِهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّقَبَةَ فِي التَّطَوُّعِ وَيَشْتَرِطَ أَنْ يُعْتِقَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ أَنْ يُعْتَقَ فِيهَا نَصْرَانِيٌّ وَلاَ يَهُودِيٌّ وَلاَ يُعْتَقُ فِيهَا مُكَاتَبٌ وَلاَ مُدَبَّرٌ وَلاَ أُمُّ وَلَدٍ وَلاَ مُعْتَقٌ إِلَى سِنِينَ وَلاَ أَعْمَى وَلاَ بَأْسَ أَنْ يُعْتَقَ النَّصْرَانِيُّ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ تَطَوُّعًا لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً‏}‏ فَالْمَنُّ الْعَتَاقَةُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الرِّقَابُ الْوَاجِبَةُ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لاَ يُعْتَقُ فِيهَا إِلاَّ رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ فِي إِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ فِي الْكَفَّارَاتِ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُطْعَمَ فِيهَا إِلاَّ الْمُسْلِمُونَ وَلاَ يُطْعَمُ فِيهَا أَحَدٌ عَلَى غَيْرِ دِينِ الإِسْلاَمِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ جس بردہ کا آزاد کرنا واجبہو وہ شرط لگا کر خرید کیا جائے کہا نہیں ۔ کہا مالک نے جو شخص غلام کو آزاد کرنے کے لئے اور اس پر آزاد کرنا واجب ہو تو اس شرط سے نہ خریدے کہ میں آزاد کردوں گا اس واسطے کہ اگر اس شرط سے خریدے گا تو بائع (بچنے والا) رعایت کرکے اس کی قیمت کم کردے گا اس صورت میں وہ پورارقبہ نہ ہوگا۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۵
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أُمَّهُ، أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ فَهَلَكَتْ وَقَدْ كَانَتْ هَمَّتْ بِأَنْ تُعْتِقَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا پھر صبح تک دیر کی رات کو مر گئیں اور ان کا قصد بردہ آزاد کرنے کا تھا عبدالرحمن نے کہا میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر میں اپنی ماں کی طرف سے آزاد کر دوں تو ان کو کچھ فائدہ ہوگا قاسم نے کہا سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں مر گئی اگر میں اس کی طرف سے آزاد کر دں کیا اس کو فائدہ ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہان ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رِقَابًا كَثِيرَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
یحییٰ بن سعید نے کہا عبدالرحمن بن ابوبکرسوتے سوتے مر گئے حضرت عائشہ نے ان کی طرف سے بہت سے بردے آزاد کئے ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۷
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الرِّقَابِ أَيُّهَا أَفْضَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَغْلاَهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کون سا بررہ آزاد کرنا افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی قیمت بھاری ہو اور اس کے مالکون کر بہت مرغوب ہو۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَعْتَقَ وَلَدَ زِنًا وَأُمَّهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے ولد الزنا کو اور اس کی ماں کو آزاد کیا ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۷۹
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوْقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَنْكِ عَدَدْتُهَا وَيَكُونَ لِي وَلاَؤُكِ فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا عَلَيْهَا فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَالَتْ لِعَائِشَةَ إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا عَلَىَّ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لَهُمْ ‏.‏ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاَءَ فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ کے پاس بریرہ آئی اور کہا کہ مجھ کو میرے لوگوں نے مکاتب کیا ہے نو اوقیہ پر ہر سال میں ایک اوقیہ تو میری مدد کرو حضرت عائشہ نے کہا اگر تیرے لوگوں کو منظور ہو تو میں ایک دفعہ میں سب سے دیتی ہوں مگر تیری ولا میں لوں گی بریرہ اپنے لوگوں کے پاس گئی ان سے بیان کیا انہوں نے ولا دینے سے انکار کیا پھر بریرہ لوٹ کر آئی حضرت عائشہ کے پاس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور کہا میں نے اپنے لوگوں سے بیان کیا وہ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ولا ہم لیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر پوچھا کیا حال ہے حضرت عائشہ نے سارا قصہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بریرہ کو لے لو اور ولا کی شرط انہیں لوگوں کے واسطے کر دو کیونکہ ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے حضرت عائشہ نے ایسا ہی کیا بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں گئے اور کھڑے ہو کر اللہ جل جلالہ کی تعریف کی پھر فرمایا کیا حال ہے لوگوں کا ایسی شرطین لگاتے ہیں جو اللہ کی کربا میں نہیں ہیں جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے گو سو بار لگائی جائے اللہ کا حکم سچا اور اس کی شرط مضبوط ہے ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلاَءَهَا لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَمْنَعَنَّكِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنا چاہا اس کے لوگوں نے کہا ہم اس شرط سے پیچتے ہیں کہ ولا ہم کو ملے حضرت عائشہ نے یہ امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیر کچھ حرج نہیں ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَقَالُوا لاَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ بریرہ آئی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مدد مانگنے کو حضرت عائشہ نے کہا اگر تیرے لوگوں کو منظور ہو کہ میں یک مشت ان کو تیری قیمت ادا کردوں اور تجھ کو آزاد کر دوں تو میں راضی ہوں بریرہ نے یہ اپنے لوگوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ہم نہیں بیچیں گے مگر اس شرط سے کہ ولا ہم کو ملے ۔ عمرہ نے کہا کہ پھر حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو خرید کر آزاد کر دے کیونکہ ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کر دے گا۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اولاد کی بیع یا ہبہ سے ۔ کہا مالک نے جو غلام اپنے تئیں مولیٰ سے مول لے لے اس شرط سے کہ میری ولاء جس کو میں چاہوں گا اس کو ملے گی تو یہ جائز نہیں کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے اور اگر مولیٰ نے غلام کو اجازت دے دی کہ جس سے جی چاہے موالات کا عقد کرلے تو بھی جائز نہ ہوگا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اس کو ملے گی جو ازاد کرے اور منع کیا آپ نے ولاء کی بیع اور ہبہ سے پس اگر مولیٰ کو یہ امر جائز ہو کہ غلام سے ولاکی شرط کرلے یا اجازت دے جس کو وہ چاہے ولاء ملے اس صورت میں ولاء کا ہبہ ہوجائے گا۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۳
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏.‏ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، اشْتَرَى عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَلِذَلِكَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهُ الزُّبَيْرُ قَالَ هُمْ مَوَالِيَّ ‏.‏ وَقَالَ مَوَالِي أُمِّهِمْ بَلْ هُمْ مَوَالِينَا ‏.‏ فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَى عُثْمَانُ لِلزُّبَيْرِ بِوَلاَئِهِمْ ‏.‏
مالک نے مجھ سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کی روایت سے بیان کیا کہ زبیر بن العوام نے ایک غلام خرید کر آزاد کیا اور اس غلام کے آزاد عورت سے بیٹے تھے۔ جب زبیر نے اسے آزاد کیا تو اس نے کہا کہ یہ میرے حلیف ہیں۔ اس نے کہا، "وہ میرے حلیف ہیں۔" بلکہ وہ ہمارے اتحادی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے عثمان سے اختلاف کیا۔ ابن عفان، چنانچہ عثمان نے زبیر سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، سُئِلَ عَنْ عَبْدٍ لَهُ، وَلَدٌ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ لِمَنْ وَلاَؤُهُمْ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنْ مَاتَ أَبُوهُمْ وَهُوَ عَبْدٌ لَمْ يُعْتَقْ فَوَلاَؤُهُمْ لِمَوَالِي أُمِّهِمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَثَلُ ذَلِكَ وَلَدُ الْمُلاَعَنَةِ مِنَ الْمَوَالِي يُنْسَبُ إِلَى مَوَالِي أُمِّهِ فَيَكُونُونَ هُمْ مَوَالِيَهُ إِنْ مَاتَ وَرِثُوهُ وَإِنْ جَرَّ جَرِيرَةً عَقَلُوا عَنْهُ فَإِنِ اعْتَرَفَ بِهِ أَبُوهُ أُلْحِقَ بِهِ وَصَارَ وَلاَؤُهُ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ وَكَانَ مِيرَاثُهُ لَهُمْ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ وَيُجْلَدُ أَبُوهُ الْحَدَّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ الْمُلاَعِنَةُ مِنَ الْعَرَبِ إِذَا اعْتَرَفَ زَوْجُهَا الَّذِي لاَعَنَهَا بِوَلَدِهَا صَارَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ إِلاَّ أَنَّ بَقِيَّةَ مِيرَاثِهِ بَعْدَ مِيرَاثِ أُمِّهِ وَإِخْوَتِهِ لأُمِّهِ لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يُلْحَقْ بِأَبِيهِ وَإِنَّمَا وَرَّثَ وَلَدُ الْمُلاَعَنَةِ الْمُوَالاَةَ مَوَالِيَ أُمِّهِ قَبْلَ أَنْ يَعْتَرِفَ بِهِ أَبُوهُ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَسَبٌ وَلاَ عَصَبَةٌ فَلَمَّا ثَبَتَ نَسَبُهُ صَارَ إِلَى عَصَبَتِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي وَلَدِ الْعَبْدِ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ وَأَبُو الْعَبْدِ حُرٌّ أَنَّ الْجَدَّ أَبَا الْعَبْدِ يَجُرُّ وَلاَءَ وَلَدِ ابْنِهِ الأَحْرَارِ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ يَرِثُهُمْ مَا دَامَ أَبُوهُمْ عَبْدًا فَإِنْ عَتَقَ أَبُوهُمْ رَجَعَ الْوَلاَءُ إِلَى مَوَالِيهِ وَإِنْ مَاتَ وَهُوَ عَبْدٌ كَانَ الْمِيرَاثُ وَالْوَلاَءُ لِلْجَدِّ وَإِنِ الْعَبْدُ كَانَ لَهُ ابْنَانِ حُرَّانِ فَمَاتَ أَحَدُهُمَا وَأَبُوهُ عَبْدٌ جَرَّ الْجَدُّ أَبُو الأَبِ الْوَلاَءَ وَالْمِيرَاثَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الأَمَةِ تُعْتَقُ وَهِيَ حَامِلٌ وَزَوْجُهَا مَمْلُوكٌ ثُمَّ يَعْتِقُ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَوْ بَعْدَ مَا تَضَعُ إِنَّ وَلاَءَ مَا كَانَ فِي بَطْنِهَا لِلَّذِي أَعْتَقَ أُمَّهُ لأَنَّ ذَلِكَ الْوَلَدَ قَدْ كَانَ أَصَابَهُ الرِّقُّ قَبْلَ أَنْ تُعْتَقَ أُمُّهُ وَلَيْسَ هُوَ بِمَنْزِلَةِ الَّذِي تَحْمِلُ بِهِ أُمُّهُ بَعْدَ الْعَتَاقَةِ لأَنَّ الَّذِي تَحْمِلُ بِهِ أُمُّهُ بَعْدَ الْعَتَاقَةِ إِذَا أُعْتِقَ أَبُوهُ جَرَّ وَلاَءَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ يَسْتَأْذِنُ سَيِّدَهُ أَنْ يُعْتِقَ عَبْدًا لَهُ فَيَأْذَنَ لَهُ سَيِّدُهُ إِنَّ وَلاَءَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ زبیر بن عوان نے ایک غلام خریدا کر آزاد کیا اس غلام کی اولاد ایک آزاد عورت سے تھی جب زبیر نے غلام کو آزاد کر دیا تو زبیر نے کہا اس کی اولاد میری مولیٰ ہیں اور ان کی ماں کے لوگوں نے کہا ہمارے مولیٰ ہیں دونوں نے جھگڑا کیا حضرت عثمان کے پاس آئے آپ نے حکم کیا کہ ان کی ولا زبیر کو ملے گی ۔ سعید بن مسیب سے سوال ہوا اگر ایک غلام کا لڑکا آزاد عورت سے ہو تو اس لڑکے کی ولا کس کو ملے گی سعید نے کہا اگر اس لڑکے کا باپ غلامی کی حالت میں مر جائے تو ولا اس کی ماں کے موالی کو ملے گی ۔ کہا مالک نے مثال اس کی یہ ہے ملا عنہ عورت کا لڑکا اپنی ماں کے موالی کی طرف منسوت ہوگا اگر وہ مرجائے گا وہی اس کے وارث ہوں گے اگر جنایت کرے گا وہی دیت دیں گے پھر اس عورت کا خاوند اقرار کرلے کہ یہ میرا لڑکا ہے تو اس کی ولاء باپ کے موالی کو ملے گی وہی وارث ہوں گے وہی دیت دیں گے مگر اس کے باپ پر حد قذف پڑے گی مالک نے اسی طرح کہا اگر عورت ملاعنہ عربی ہو اور خاوند اس کے لڑکے کا اقرار کرلے کا اقرار کرلے کہ میرا لڑکا ہے تو وہ لڑکا اپنے باپ سے ملا دیا جائے گا۔ جب تک خاوند اقرار نہ کرے تو اس لڑکے کا ترکہ اس کی ماں اور اخیافی بھائی کو حصہ دے کر جو بچ رہے گا ۔ مسلمانوں کا حق ہوگا اور ملاعنہ کے لڑکے کی میراث اس کی ماں کے موالی کو اس واسطے ملتی ہے کہ جب تک اس کے خاوند نے اقرار نہیں کیا نہ اس لڑکے کا نسب ہے نہ اس کا کوئی عصبہ ہے جب خاوند نے اقرار کرلیانسب ثابت ہوگیا اپنے عصبہ سے مل جائے گا۔ کہا مالک نے جس غلام کی اولاد آزاد عورت سے ہو اور غلام کا باپ آزاد ہو و (ف) اپنے پوتے یے ولاء کا مالک ہوگا جب تک باپ غلام رہے گا جب باپ آزاد ہو جائے گا تو اس کے موالی کو ملے گی اگر باپ غلامی کی حالت میں مرجائے گا تو میراث اور ولاء دادا کو ملے گی اگر اس غلام کے دو آزاد لڑکوں میں سے ایک لڑکا مرجائے اور باپ ان کا غلام ہو تو ولاء اور میراث اس کے دادا کو ملے گی۔ کہا مالک نے حاملہ لونڈی اگر ازاد ہوجائے اور خاوند اس کا غلام ہو پھر خاوند بھی آزاد ہوجائے وضع حمل سے پہلے یا بعد تو ولاء اس بچہ کی اس کی ماں کے مولیٰ کو ملے گی کیونکہ یہ بچہ قبل آزادی کے اس کا غلام ہوگیا البتہ جو حمل اس عورت کو بعد آزادی کے ٹھہرے گا اس کی ولاء اس کے باپ کو ملے گی جب وہ آزاد کردیا جائے گا کہا مالک نے جو غلام اپنے مولیٰ کے اذن سے اپنے غلام کو آزاد کرے تو اس کی ولاء مولیٰ کو ملے گی غلام کو نہ ملے گی اگرچہ آزاد ہوجائے۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۵
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَاصِيَ بْنَ هِشَامٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ لَهُ ثَلاَثَةً اثْنَانِ لأُمٍّ وَرَجُلٌ لِعَلَّةٍ فَهَلَكَ أَحَدُ اللَّذَيْنِ لأُمٍّ وَتَرَكَ مَالاً وَمَوَالِيَ فَوَرِثَهُ أَخُوهُ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَالَهُ وَوَلاَءَهُ مَوَالِيهِ ثُمَّ هَلَكَ الَّذِي وَرِثَ الْمَالَ وَوَلاَءَ الْمَوَالِي وَتَرَكَ ابْنَهُ وَأَخَاهُ لأَبِيهِ فَقَالَ ابْنُهُ قَدْ أَحْرَزْتُ مَا كَانَ أَبِي أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلاَءِ الْمَوَالِي وَقَالَ أَخُوهُ لَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّمَا أَحْرَزْتَ الْمَالَ وَأَمَّا وَلاَءُ الْمَوَالِي فَلاَ أَرَأَيْتَ لَوْ هَلَكَ أَخِي الْيَوْمَ أَلَسْتُ أَرِثُهُ أَنَا فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَى لأَخِيهِ بِوَلاَءِ الْمَوَالِي ‏.‏
عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عاصی بن ہشام مر گئے اور تین بیٹے چھوڑ گئے دو اس میں سے سگے بھائی تھے اور ایک سوتیلا تو سکے بھائیوں میں سے ایک بھائی مر گیا اور ماں اور غلام آزاد کئے ہوئے چھوڑ گیا اس کا وارث سگا بھائی ہوا ماں اور غلاموں کی سب ولا اس نے لی پھر وہ بھائی بھی مر گیا اور ایک بیٹا اور سوتیلا بھائی چھوڑ گیا بیٹے نے کہا میں اپنے باپ کے مال اور ولا کا مالک ہوں بھائی نے کہا بے شک مال کا تو مالک ہے مگر ولا کا مالک نہیں فرض کر کہ اگر پہلا بھائی میرا آج مرتا تو میں اس کا وارث ہوتا تو پھر دونوں نے جھگڑا کیا حضرت عثمان کے پاس آئے آپ نے ولا بھائی کو دلائی
۲۳
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ فَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ كُلَيْبٍ فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ وَتَرَكَتْ مَالاً وَمَوَالِيَ فَوَرِثَهَا ابْنُهَا وَزَوْجُهَا ثُمَّ مَاتَ ابْنُهَا فَقَالَ وَرَثَتُهُ لَنَا وَلاَءُ الْمَوَالِي قَدْ كَانَ ابْنُهَا أَحْرَزَهُ فَقَالَ الْجُهَنِيُّونَ لَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّمَا هُمْ مَوَالِي صَاحِبَتِنَا فَإِذَا مَاتَ وَلَدُهَا فَلَنَا وَلاَؤُهُمْ وَنَحْنُ نَرِثُهُمْ فَقَضَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُهَنِيِّينَ بِوَلاَءِ الْمَوَالِي ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم کے والد ابن بن عثمان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں کچھ لوگ جہنیہ کے اور کچ لوگ بنی الحارث بن خزرج کے لڑتے جھگڑتے آئے مقدمہ یہ تھا کہ ایک جہنیہ کے نکاح میں تھی ایک شخص بنی الحارث بن خزرج میں سے جس کا نام ابرہیم بن کلیب تھا وہ عورت مر گئی اور مال اور غلام آزاد کئے ہوئے چھوڑ گئی اس کا خاوند اور بیٹا وارث ہوا پھر اس کا بیٹا مر گیا اب بیٹے کو وارثوں نے کہا ولا ہم کے ملے گی کیونکہ عورت کا بیٹا اس ولا پر قابض ہو گیا تھا اور جہنیہ کے لوگ یہ کہتے تھے کہ ولا کے مستحق ہم ہیں اس لئے وہ غلام ہمارے کنبے کی عورت کے غلام ہیں جب اس عورت کا لڑکا مر گیا ولا ہم کے ملے گی ابان بن عثما نے جہنیہ کے لوگوں کو ولا دیلائی ۔ عید بن مسیب نے کہا جو شخص مر جائے اور تین بیٹے چھوڑ جائے اور آزاد کئے ہوئے غلام چھوڑ جائے پھر تینوں بیٹوں میں سے دو بیٹے مر جائیں اور اولاد اپنی چھوڑ جائیں تو ولا کا واث تیسر ابھائی ہو گیا جب وہ مرجائے تو اس کی اولاد اور ان دونوں بھائیوں کی اولاد ول کے استحقاق میں برابر ہوگی ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ لَهُ ثَلاَثَةً وَتَرَكَ مَوَالِيَ أَعْتَقَهُمْ هُوَ عَتَاقَةً ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَيْنِ مِنْ بَنِيهِ هَلَكَا وَتَرَكَا أَوْلاَدًا ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَرِثُ الْمَوَالِيَ الْبَاقِي مِنَ الثَّلاَثَةِ فَإِذَا هَلَكَ هُوَ فَوَلَدُهُ وَوَلَدُ إِخْوَتِهِ فِي وَلاَءِ الْمَوَالِي شَرَعٌ سَوَاءٌ ‏.‏
مالک نے مجھ سے کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ سعید بن المسیب نے ایک شخص کے بارے میں کہا جو مر گیا، اپنے پیچھے تین بیٹے چھوڑ گیا اور اپنے پیچھے ایسے غلام چھوڑ گیا جنہیں اس نے آزاد کیا تھا۔ پھر اس کے بیٹوں میں سے دو آدمی مر گئے اور اپنے پیچھے اولاد چھوڑ گئے۔ سعید بن المسیب نے کہا: تینوں میں سے باقی غلام وارث ہوں گے۔ اگر وہ مر جاتا ہے تو وہ اور اس کے بچے اور اس کے بھائیوں کے بچے بھی اسی قانون کے تابع ہیں جو کہ آقا کے وفادار ہیں۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۳۸/۱۴۸۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ السَّائِبَةِ، قَالَ يُوَالِي مَنْ شَاءَ فَإِنْ مَاتَ وَلَمْ يُوَالِ أَحَدًا فَمِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي السَّائِبَةِ أَنَّهُ لاَ يُوَالِي أَحَدًا وَأَنَّ مِيرَاثَهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلَهُ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ يُسْلِمُ عَبْدُ أَحَدِهِمَا فَيُعْتِقُهُ قَبْلَ أَنْ يُبَاعَ عَلَيْهِ إِنَّ وَلاَءَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ لِلْمُسْلِمِينَ وَإِنْ أَسْلَمَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ الْوَلاَءُ أَبَدًا ‏.‏ قَالَ وَلَكِنْ إِذَا أَعْتَقَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ عَبْدًا عَلَى دِينِهِمَا ثُمَّ أَسْلَمَ الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ الَّذِي أَعْتَقَهُ ثُمَّ أَسْلَمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ الْوَلاَءُ لأَنَّهُ قَدْ كَانَ ثَبَتَ لَهُ الْوَلاَءُ يَوْمَ أَعْتَقَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ كَانَ لِلْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ وَلَدٌ مُسْلِمٌ وَرِثَ مَوَالِيَ أَبِيهِ الْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا أَسْلَمَ الْمَوْلَى الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ وَإِنْ كَانَ الْمُعْتَقُ حِينَ أُعْتِقَ مُسْلِمًا لَمْ يَكُنْ لِوَلَدِ النَّصْرَانِيِّ أَوِ الْيَهُودِيِّ الْمُسْلِمَيْنِ مِنْ وَلاَءِ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ شَىْءٌ لأَنَّهُ لَيْسَ لِلْيَهُودِيِّ وَلاَ لِلنَّصْرَانِيِّ وَلاَءٌ فَوَلاَءُ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا سائبہ کا حکم انہوں نے کہا سائبہ جس شخص سے چاہے عقد موالات کرے اگر مر جائے اور کسی سے موالات نہ کرے تو اس کی میراث مسلمانوں کو ملے گی اگر وہ جنایر کرے گا تو دیب بھی وہی دیں گے ۔ کہا مالک نے میرے نزدیک یہ ہے کہ سائبہ کسی سے عقد موالات نہ کرے اور میراث اس کی مسلمانوں کے ملے گی اور دیت بھی رہی دیں گے ۔ کہا مالک نے اگر یہودی یا نصرانی کا لڑکا مسلمان ہو تو وہ اپنے باپ کے آزاد کئے ہوئے غلام کی ولاء پائے گا جب وہ غلام مسلمان ہو گیا ہو مگر باپ اس کا مسلمان نہ ہوا ہو جس نے آزاد کیا ہے اور اگر وہ غلام آزادی کے وقت بھی مسلمان تھا تو یہودی یا نصانی کے مسلمان لڑکے کو ولاء نہ ہوگی بلکہ وہ مسلمانوں کا حق ہوگی۔