۱۵ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلاَنٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلاَءِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ ‏.‏ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا ‏.‏
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نکلے اور کہا میں نے فلانے کے منہ سے شراب کی بو پائی وہ کہتا ہے میں طلا (انگور کے شیرے کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہو جائے مثلا دو ثلث جل جائے ایک ثلث رہ جائے) پی اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں نشہ ہے تو اس کو حد ماروں گا حضرت عمر نے اس کو پوری حد لگائی ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، اسْتَشَارَ فِي الْخَمْرِ يَشْرَبُهَا الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ وَإِذَا سَكِرَ هَذَى وَإِذَا هَذَى افْتَرَى ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ فَجَلَدَ عُمَرُ فِي الْخَمْرِ ثَمَانِينَ ‏.‏
ثور بن زید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے صحابہ سے مشورہ لیا خمر کی حد میں (کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی حد معین نہیں کی تھی) حضرت علی نے فرمایا میرے نزدیک اسی کوڑے لگانے مناسب ہیں کیونکہ آدمی جب شراب پیے گا مست ہو جائے گا اور جب مست ہو جائے گا واہیات بکے گا اور جب واہیات بکے گا تو کسی کو گالی بھی دے گا ایسا ہی کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کوڑے مقرر کئے خمر میں۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۳۹
وَحَدَّثَنِي عَنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ حَدِّ الْعَبْدِ، فِي الْخَمْرِ فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَلَيْهِ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدْ جَلَدُوا عَبِيدَهُمْ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ ‏.‏
ابن شہاب سے پوچھا گیا غلام اگر شراب پیے تو اس کی کیا حد ہے انہوں نے کہا مجھے یہ پہنچا کہ غلام پر آزاد کی نصف حد ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلاموں کو آزاد کے نصف حد لگائی ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ مَا مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ اللَّهُ يُحِبُّ أَنْ يُعْفَى عَنْهُ مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا مُسْكِرًا فَسَكِرَ أَوْ لَمْ يَسْكَرْ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَدُّ ‏.‏
سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ کوئی گناہ نہیں مگر اللہ چاہتا ہے کہ معاف کر دیا جائے سوائے حد کے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو کوئی ایسی شراب پئے جس میں نشہ ہو تو اس کو حد پڑے گی خواہ اس کو نشہ ہوا ہو یا نہ ہواہو۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ فَانْصَرَفَ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ فَسَأَلْتُ مَاذَا قَالَ فَقِيلَ لِي نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوے میں خطبہ پڑھا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا سننے کے واسطے لیکن میرے پہنچنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو گئے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا لوگوں نے کہا منع کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ بھگونے سے توبنے اور مرتبان میں ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا میوہ تر کرنے سے توبنے اور مرتبان میں۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۳
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا ‏.‏
عطا بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ گدر کھجور اور پکی کھجور ملا کر بھگوئی جائیں یا کھجور اور انگور ملا کر بھگوئے جائیں ۔ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور اور انگور کے ملا کر نیبذ پینے سے اور گدر اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ پینے سے۔ کہا مالک نے اس امر پر اتفاق کیا ہے ہمارے شہر کے علماء نے کہ یہ مکروہ ہے کیونکہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُشْرَبَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَالزَّهْوُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا ‏.‏
اس نے مجھ سے مالک کی سند سے، ثقہ کی سند سے، ان کے ساتھ، بقیر بن عبداللہ بن اشجع کی سند سے، عبدالرحمٰن بن الحباب الانصاری کی سند سے، ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، تمام لوگوں کے لیے دعاؤں اور تازہ ترین کھجوریں پینے والے ہوں۔ اور تازہ تاریخیں۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۵
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ ‏ "‏ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا بتع ( شہد کی شراب) کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْغُبَيْرَاءِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ خَيْرَ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ وَنَهَى عَنْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ مَا الْغُبَيْرَاءُ فَقَالَ هِيَ الأُسْكَرْكَةُ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوا جوار کی شراب کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہتر نہیں ہے اور منع کیا اس سے ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پئے گا پھر اس سے توبہ نہ کرے گا تو آخرت میں شراب سے محروم رہے گا ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ، ‏.‏ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ فَسَارَّهُ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِمَ سَارَرْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَفَتَحَ الرَّجُلُ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا ‏.‏
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے ایک مشک شراب کی تحفہ لایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا ہے وہ بولا مجھے خبر نہیں، ایک شخص نے چپکے سے اس کے کان میں کچھ کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تو نے کیا کہا؟ وہ بولا میں نے بیچ ڈالنے کو کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اس کا پینا حرام کیا اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا یہ سن کر اس شخص نے مشک کا منہ کھول دیا سب شراب بہہ گئی ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۴۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ - قَالَ - فَجَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ فَاكْسِرْهَا ‏.‏ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں ابوعیبد بن جراح اور ابی بن کعب کو شراب پلایا کرتا تھا کھجور اور خشک کھجور کی اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا شراب حرام ہوگئی، ابوطلحہ نے کہا اے انس اٹھو گھڑے پھوڑ دو میں اٹھا اور موسل سے مار کر سب گھڑوں کو پھوڑ دیا ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، حِينَ قَدِمَ الشَّامَ شَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَاءَ الأَرْضِ وَثِقَلَهَا وَقَالُوا لاَ يُصْلِحُنَا إِلاَّ هَذَا الشَّرَابُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ اشْرَبُوا هَذَا الْعَسَلَ ‏.‏ قَالُوا لاَ يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لاَ يُسْكِرُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَطَبَخُوهُ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ وَبَقِيَ الثُّلُثُ فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ فَأَدْخَلَ فِيهِ عُمَرُ إِصْبَعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ فَقَالَ هَذَا الطِّلاَءُ هَذَا مِثْلُ طِلاَءِ الإِبِلِ ‏.‏ فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ أَنْ يَشْرَبُوهُ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَحْلَلْتَهَا وَاللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي لاَ أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ وَلاَ أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب شام کی طرف آئے تو لوگوں نے وبا اور آب و ہوا کے بھاری ہونے کا بیان کیا اور کہا بغیر اس شراب کے ہمارا مزاج اچھا نہیں رہتا آپ نے کہاشہد پیو انہوں نے کہا شہد موافق نہیں ایک شخص بولا ہم اسی کو اس طرح تیار کریں جس میں نشہ نہ ہو آپ نے کہا ہاں، انہوں نے اس کو پکایا اتنا کہ ایک تہائی رہ گیا دو تہائی جل گیا اس کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے انہوں نے انگلی ڈالی جب وہ چَپ چَپ کرنے لگا آپ نے فرمایا یہ طلا تو اونٹ کے طلا کے مشابہ ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے پینے کی اجازت دی عبادہ بن صامت نے کہا آپ نے حلال کر دیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نہیں قسم اللہ کی یا اللہ میں نے کبھی اس چیز کو حلال نہیں کیا جس کو تو نے حرام کیا اور نہ حرام کیا جس کو تو نے حلال کیا ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۴۲/۱۵۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رِجَالاً، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَبْتَاعُ مِنْ ثَمَرِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ فَنَعْصِرُهُ خَمْرًا فَنَبِيعُهَا ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ وَمَلاَئِكَتَهُ وَمَنْ سَمِعَ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَنِّي لاَ آمُرُكُمْ أَنْ تَبِيعُوهَا وَلاَ تَبْتَاعُوهَا وَلاَ تَعْصِرُوهَا وَلاَ تَشْرَبُوهَا وَلاَ تَسْقُوهَا فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے عراق کے لوگوں نے کہا ہم کھجور اور انگور کے پھل خریدتے ہیں پھر اس کی شراب بنا کر بیچتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور فرشتوں کو اور جو سنتے ہیں جن اور آدمی کہ میں اجازت نہیں دیتا تم کو بیچنے کی نہ خریدنے کی نہ نچوڑنے کی نہ پینے کی نہ پلانے کی کیونکہ شراب پلید ہے شیطان کا کام ہے۔