۲۵ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۵۹۸
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اے پروردگار برکت دے مدینہ والوں کی ناپ میں اور برکت دے ان کے صاع میں اور مد میں ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۵۹۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ پہلا میوہ دیکھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو لے کر فرماتے اے پروردگار برکت دے ہمارے پھلوں میں اور برکت دے ہمارے شہر میں اور برکت دے ہمارے صاع میں اور برکت دے ہمارے مد میں، اے پروردگار ابراہیم نے جو تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور تیرے نبی تھے دعا کی تھی مکہ کے واسطے تیرا بندہ ہوں اور نبی ہوں جیسے ابراہیم نے دعا کی تھی مکہ کے لئے اور اتنی اور اس کے ساتھ(اشارہ کرکے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے چھوٹے بچے کو جو موجود ہوتا بلاتے اور وہ میوہ اس کو دے دیتے ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ الأَجْدَعِ، أَنْ يُحَنَّسَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ فَأَتَتْهُ مَوْلاَةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ ‏.‏ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ اقْعُدِي لُكَعُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَصْبِرُ عَلَى لأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلاَّ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
یحنس جو مولیٰ تھا زبیر بن عوام کا نقل کرتا ہے میں بیٹھا تھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اتنے میں ایک لونڈی آئی ان کی اور بولی میں مدینہ سے نکلنا چاہتی ہوں اے ابوعبدالرحمن کیونکہ یہاں سختیاں ہیں اور وہ زمانہ فساد کا تھا مدینہ میں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بیٹھ نالائق میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے مدینہ کی تکلیف اور سختیوں پر جو صبر کرے گا میں اس کا قیامت کے روز گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۱
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي ‏.‏ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي ‏.‏ فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي ‏.‏ فَأَبَى فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر اس کو بخار آنے لگا مدینہ میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیعت تور دیجئے آپ نے انکار کیا پھر آیا اور کہا میری بیعت تور دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا وہ مدینہ سے نکل گیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مدینہ مثل دھونکنی یا کھریا (بھٹی) ہے کہ جو میل نکال دیتی ہے اور خالص کندن رکھ لیتی ہے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ، سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبُ ‏.‏ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ہوا جو بہت سی بستیوں کو کھا جائے گی لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے برے آدمیوں کو نکال باہر کرتا ہے جیسے کھریا لوہے کا میل نکال دیتی ہے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنَ الْمَدِينَةِ رَغْبَةً عَنْهَا إِلاَّ أَبْدَلَهَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ کوئی شخص مدینہ سے نفرت کرکے نہیں نکلتا مگر اللہ جل جلالہ اس سے بہتر دوسرا آدمی مدینہ کو دے دیتا ہے ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَتُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن ابی زہیر سے روایت ہے کہا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے تھے کہ فتح ہوگا یمن وہاں سے لوگ سیر کرتے ہوئے مدینہ کو آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کے ساتھ جائے گا مدینہ سے سے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے اور فتح ہوگا شام وہاں سے کچھ لوگ سیر کرتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کا کہنا مانے گا مدینہ سے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے اور عراق فتح ہوگا وہاں سے کچھ لوگ سیر کرتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر بار کو اور جو ان کا کہنا مانے گا مدینہ سے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ بہتر ہوگا ان کے لئے کاش وہ جانتے ہوتے۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۵
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ حِمَاسٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَتُتْرَكَنَّ الْمَدِينَةُ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَتْ حَتَّى يَدْخُلَ الْكَلْبُ أَوِ الذِّئْبُ فَيُغَذِّي عَلَى بَعْضِ سَوَارِي الْمَسْجِدِ أَوْ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَنْ تَكُونُ الثِّمَارُ ذَلِكَ الزَّمَانَ قَالَ ‏"‏ لِلْعَوَافِي الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے البتہ تم چھوڑ دو گے مدینہ کو اچھے حال میں یہاں تک کہ آئے گا اس میں کتا یا بھیڑیا تو پیشاب کیا کرے گا مسجد کے کھمبوں یا منبر پر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس زمانے میں مدینہ کے پھلوں کو کون کھائے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو جانور بھولے ہوں گے پرندے اور درندے ۔ عمر بن عبدالعزیز جب مدینہ سے نکلے تو مدینہ کی طرف دیکھ کر روئے اور اپنے غلام مزاحم سے کہنے لگے کہ شاید تم اور ہم ان لوگوں میں سے ہوں جن کو مدینہ نے نکال دیا۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَبَكَى ثُمَّ قَالَ يَا مُزَاحِمُ أَتَخْشَى أَنْ نَكُونَ مِمَّنْ نَفَتِ الْمَدِينَةُ
مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ جب عمر بن عبد العزیز مدینہ سے نکلے تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور رونے لگے، پھر کہا: اے ہشاش بشاش تم ڈرتے ہو؟ ان لوگوں میں شامل ہونا جن کو شہر نے انکار کیا۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَأَنَا أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احد کا پہاڑ دکھائی دیا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم بھی اس کو چاہتے ہیں اے میرے رب! ابراہیم نے حرام کیا مکہ کو اور میں حرام کرتا ہوں مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان لڑائی کو ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے اگر میں ہرنوں کو چرتے ہوئے دیکھوں مدینہ میں تو ہرگز نہ چھیڑوں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے دونوں کنارے حرام ہیں ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۰۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ أَفِي حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْنَعُ هَذَا
ابو ایوب انصاری نے لڑکوں کو دیکھا انہوں نے ایک لومڑی کو گھیر رکھا تھا ایک کونے میں تو آپ نے لڑکوں کو ہنکا دیا اور لومڑی کو چھوڑ دیا ۔ کہا مالک نے ابوایوب نے یہ کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ایسا کام ہوتا ہے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ میرے پاس زید بن ثابت آئے اور میں اسواف میں تھا اور میں نے شکار کیا تھا ایک چڑیا کا انہوں نے میرے ہاتھ سے اس کو لے کر چھوڑ دیا ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۰
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالأَسْوَافِ، قَدِ اصْطَدْتُ نُهَسًا فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ ‏.‏
مجھے یحییٰ نے مالک کی سند سے ایک آدمی کی سند سے بیان کیا، جس نے کہا: زید بن ثابت میرے پاس اس وقت داخل ہوئے جب میں شیروں کے ساتھ تھا۔ میں نے ایک بگلا پکڑا تھا اور اس نے میرے ہاتھ سے لے لیا۔ تو اس نے اسے بھیجا...
۱۴
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ - قَالَتْ - فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَتْ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ فَيَقُولُ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے تو ابوبکر اور بلال کو بخار آیا حضرت عائشہ ان کے پاس گئیں اور کہا کہ اے میرے باپ کیا حال ہے اے بلال کیا حال ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ابوبکر کو جب بخار آتا تو وہ ایک شعر پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے ہر آدمی صبح کرتا ہے اپنے گھر میں اور موت اس سے نزدیک ہوتی ہے اس کے جوتی کے تسمے سے ۔ اور بلال کا جب بخار اترتا تو اپنی آواز نکالتے اور پکار کر کہتے کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات پھر مکہ کی وادی میں رہوں گا اور میرے گرد اذخر اور جلیل ہوں گی ( اذخر اور جلیل دونوں گھاس ہیں مکہ کی ) اور کبھی میں پھر اتروں گا مجنہ کے پانی پر ( مجنہ ایک جگہ ہے کئی میل پر مکہ سے وہاں زمانہ جاہلیت میں بازار تھے ) اور کبھی پھر دکھلائی دینگے مجھے شامہ طفیل (دو پہاڑ ہیں مکہ سے تیس میل پر یا دو چشمے ہیں ) حضرت عائشہ نے یہ باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر بیان کیں آپ نے دعا فرمائی اے پروردگار محبت ڈال دے ہمارے دلوں میں مدینہ کی جتنی محبت تھی مکہ کی یا اس سے بھی زیادہ اور صحت اور تندرستی کردے مدینہ میں اور برکت دے اس کے صاع اور مد میں اور دور کردے بخار وہاں کا اور بھیج دے اس بخار کو جحفہ (ایک بستی ہے مکہ سے بیاسی میل دور وہاں یہودی رہتے تھے) میں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ عامر بن فہیرہ کہتے تھے کہ میں نے موت کو مرنے سے آگے دیکھ لیا نامرد کی موت اوپر سے آتی ہے ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۲
قَالَ مَالِكٌ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَقُولُ قَدْ رَأَيْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ ‏.‏
مالک نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور عامر بن فہیرہ کہتے تھے کہ میں نے موت کو چکھنے سے پہلے دیکھا۔ بزدل اوپر سے مرے گا۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلاَ الدَّجَّالُ
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی راہوں پر فرشتے ہیں اس میں نہ طاعون آتا ہے نہ دجال ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ كَانَ مِنْ آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ قَالَ ‏ "‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ لاَ يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ ‏"‏ ‏.‏
عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری کلام یہ فرمایا اللہ جل جلالہ تباہ کرے یہود اور نصاری کو انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنایا آگاہ رہو عرب میں دو دین نہ رہیں۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَفَحَصَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى أَتَاهُ الثَّلْجُ وَالْيَقِينُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ‏"‏ فَأَجْلَى يَهُودَ خَيْبَرَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَقَدْ أَجْلَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَهُودَ نَجْرَانَ وَفَدَكَ فَأَمَّا يَهُودُ خَيْبَرَ فَخَرَجُوا مِنْهَا لَيْسَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرِ وَلاَ مِنَ الأَرْضِ شَىْءٌ وَأَمَّا يَهُودُ فَدَكَ فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ وَنِصْفُ الأَرْضِ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ صَالَحَهُمْ عَلَى نِصْفِ الثَّمَرِ وَنِصْفِ الأَرْضِ فَأَقَامَ لَهُمْ عُمَرُ نِصْفَ الثَّمَرِ وَنِصْفَ الأَرْضِ قِيمَةً مِنْ ذَهَبٍ وَوَرِقٍ وَإِبِلٍ وَحِبَالٍ وَأَقْتَابٍ ثُمَّ أَعْطَاهُمُ الْقِيمَةَ وَأَجْلاَهُمْ مِنْهَا ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جزیرہ عرب میں دو دین نہ رہیں ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا احد کو دیکھ کر کہ یہ پہاڑ ہم کو چاہتا ہے ہم بھی اسے چاہتے ہیں ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، زَارَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشٍ الْمَخْزُومِيَّ فَرَأَى عِنْدَهُ نَبِيذًا وَهُوَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ لَهُ أَسْلَمُ إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ يُحِبُّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ قَدَحًا عَظِيمًا فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَهُ فِي يَدَيْهِ فَقَرَّبَهُ عُمَرُ إِلَى فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ هَذَا لَشَرَابٌ طَيِّبٌ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ رَجُلاً عَنْ يَمِينِهِ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَقُولُ فِي بَيْتِ اللَّهِ وَلاَ فِي حَرَمِهِ شَيْئًا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَقُولُ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَلاَ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ ‏.‏
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عیاش کی ملاقات کو گئے ، ان کے پاس نیبذ پائی اسلم نے کہا کہ اس شربت کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت چاہتے ہیں عبداللہ بن عیاش ایک بڑا سا پیالہ بھر کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا انہوں نے اس کو اٹھا کر پینا چاہا پھر سر اٹھا کر کہا یہ شربت بہت اچھا ہے پھر اس کو پیا اس کے بعد ایک شخص ان کے داہنی طرف بیٹھا تھا اس کو دے دیا جب عبداللہ بن عیاش لوٹ کر چلے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو بلایا اور کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ وہ حرم ہے اللہ کا اور امن کی جگہ ہے اور وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم کا نہیں پوچھتا (بلکہ ان دونوں میں کون سا افضل ہے) پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے، عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ مکہ میں اللہ کا حرم ہے اور امن کی جگہ ہے وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم میں کچھ نہیں کہتا پھر عبداللہ بن عیاش چلے گئے۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ ‏.‏ فَدَعَاهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ وَلاَ نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَإِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ارْتَفِعُوا عَنِّي ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلاَفِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ ‏.‏ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ مِنْهُمُ اثْنَانِ فَقَالُوا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلاَ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَإِ فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا مُخْصِبَةٌ وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصِبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - وَكَانَ غَائِبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ - فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف نکلے جب سرغ(ایک بستی ہے) میں پہنچے تو لشکر کے بڑے بڑے افسران سے ملے جیسے ابوعیبدہ بن جراح اور ان کے ساتھی انہوں نے کہا شام میں آج کل وباء ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ بلاؤ بڑے بڑے مہاجرین کو جنہوں نے پہلے ہجرت کی ہے تو بلایا ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور بیان کیا ان سے کہ شام میں وباء ہو رہی ہے انہوں نے اختلاف کیا بعضوں نے کہا آپ کام کے واسطے نکلے ہیں لوٹنا مناسب نہیں ہے بعضوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ اور لوگ بھی ہیں اور صحابہ ہیں مناسب نہیں کہ آپ ان کو اس وبا میں لے جائیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جاؤ اور کہا بلاؤ انصار کو ابن عباس کہتے ہیں میں نے انصار کو بلایا اور وہ آئے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرین کی مثل بیان کی اور اسی طرح اختلاف کیا آپ نے کہا جاؤ۔ پھر کہا قریش کے بوڑھے بوڑھے لوگوں کو جہنوں نے ہجرت کی فتح مکہ کے بعد بلاؤ، میں نے ان کو بلایا ان میں سے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کیا بلکہ سب نے کہا ہمارے نزدیک مناسب یہ ہے کہ آپ لوٹ جائیں اور لوگوں کو اس وباء میں نہ لے جائیے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں میں منادی کرادی کہ صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر چلے اور اس وقت ابوعیبدہ نے کہا کہ اللہ جل جلالہ کی تقدیر سے بھاگے جاتے ہو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کاش یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی ہاں ہم بھاگتے ہیں اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سر سبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اگر تو اپنے اونٹوں کو سر سبز اور شاداب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو تو نے خشک اور خراب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اتنے میں عبدالرحمن بن عوف آئے اور وہ کہیں کام کو گئے ہوئے تھے انہوں نے کہا میں اس مسئلے کا عالم ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی سر زمین میں وباء ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی سر زمین میں وبا پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں کہا ابن عباس نے کہ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ جل جلالہ کی حمد بیان کی اور لوٹ کھڑے ہوئے ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۱۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَعَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَا سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارٌ مِنْهُ ‏.‏
سعد بن ابی وقاص نے اسامہ بن زید سے پوچھا تم نے کیا سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے جو بھیجا گیا تھا بنی اسرائیل کے گروہ پر یا یہ کہا کہ ان پر جو تم سے پہلے تھے تو جب سنو تم کسی زمین میں طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں طاعون پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں ابوالنصر نے کہا نہ نکلو بھاگنے کے قصد سے ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۲۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ ‏.‏
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب شام کی طرف نکلے جب سرع میں پہنچے ان کو خبر ملی شام میں وبا پڑی ہے تو عبدالرحمن بن عوف نے ان سے کہا رسول اللہ نے فرمایا کہ جب کسی زمین میں سنو کہ وبا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وبا پڑے اس زمین میں جس میں تم ہو تو اس سے نکل نہ بھاگو یہ سن کر حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے عبدالرحمن بن عوف کی حدیث سن کر امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک گھر رکبہ میں (ایک مقام ہے درمیان میں عمرہ اور ذات عرق کے) پسند ہے مجھ کو شام میں دس گھروں سے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۲۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّمَا رَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغَ عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏.‏
اس نے مجھ سے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سالم بن عبداللہ کی سند سے کہا کہ عمر بن الخطاب لوگوں کو صرف اس لیے واپس لائے کہ وہ ایک حدیث بھول گئے تھے۔ عبدالرحمن بن عوف، .
۲۵
مؤطا امام مالک # ۴۵/۱۶۲۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لَبَيْتٌ بِرُكْبَةَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ بِالشَّامِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ يُرِيدُ لِطُولِ الأَعْمَارِ وَالْبَقَاءِ وَلِشِدَّةِ الْوَبَإِ بِالشَّامِ ‏.‏
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خبر ملی ہے کہ رکبہ والی ایک آیت مجھے شام کی دس آیات سے زیادہ محبوب ہے۔ انہوں نے کہا: ملک اسے لمبی زندگی اور بقا اور لیونٹ میں وبا کی شدت کے لیے چاہتے ہیں۔