لباس
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ . قَالَ جَابِرٌ فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ . قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُمْتُ إِلَى غِرَارَةٍ لَنَا فَالْتَمَسْتُ فِيهَا شَيْئًا فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّاءٍ فَكَسَرْتُهُ ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا " . قَالَ فَقُلْتُ خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ . قَالَ جَابِرٌ وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ يَذْهَبُ يَرْعَى ظَهْرَنَا - قَالَ - فَجَهَّزْتُهُ ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلَقَا - قَالَ - فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ فَقَالَ " أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ " . فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا . قَالَ " فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا " . قَالَ فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا لَهُ " . قَالَ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے غزوہ بن انمار میں تو ہم ایک درخت کے تلے اترے ہوئے تھے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دکھائی دئے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سائے میں آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر اتر میں اپنی زنبیل کو دیکھنے گیا اس میں ڈھونڈنے لگا تو ایک ککڑی ملی میں اس کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لے گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کہاں سے آئی جابر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے ہم اس کو لے کر نکلے تھے پھر جابر کہتے ہیں ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جس کا سامان سفر ہم نے کر دیا تھا وہ ہمارے جانور چراتا تھا جب وہ پیٹھ موڑ کر جانور چرانے جانے لگا تو وہ چادریں اوڑھے ہوئے تھا جو پھٹ کر چندی چندی ہوگئی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا اور کپڑے اس کے پاس نہیں ہیں جابر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں گٹھری میں بندھے ہیں میں نے اس کو پہننے کے لئے دئیے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ وہ کپڑے پہن لے میں نے اس کو بلایا اس نے وہ کپڑے گٹھری سے نکال کر پہن لئے جب پھر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا تھا اللہ اس کی گردن مارے اب کیا اچھا معلوم نہیں ہوتا اس کو اس شخص نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اللہ کی راہ میں میری گردن ماری جائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی راہ میں پھر وہ شخص شہید ہوا اللہ کی راہ میں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عالم کو اچھے کپڑے پہنے ہوئے دیکھوں ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ أَنْظُرَ، إِلَى الْقَارِئِ أَبْيَضَ الثِّيَابِ .
انہوں نے مجھے مالک کی سند سے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں سفید کپڑے پہنے ہوئے آدمی کو دیکھنا پسند کرتا ہوں۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَوْسِعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ .
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ جب اللہ تم کو وسعت دے تو اپنے اوپر بھی وسعت کرو اپنے کپڑے بنالو۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَلْبَسُ الثَّوْبَ الْمَصْبُوغَ بِالْمِشْقِ وَالْمَصْبُوغَ بِالزَّعْفَرَانِ .
انہوں نے مجھ سے مالک اور نافع کی سند سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر سوت سے رنگے ہوئے اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۵
قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ وَأَنَا أَكْرَهُ، أَنْ يَلْبَسَ الْغِلْمَانُ، شَيْئًا مِنَ الذَّهَبِ لأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ فَأَنَا أَكْرَهُهُ لِلرِّجَالِ الْكَبِيرِ مِنْهُمْ وَالصَّغِيرِ . قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي الْمَلاَحِفِ الْمُعَصْفَرَةِ فِي الْبُيُوتِ لِلرِّجَالِ وَفِي الأَفْنِيَةِ قَالَ لاَ أَعْلَمُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا حَرَامًا وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ اللِّبَاسِ أَحَبُّ إِلَىَّ .
کہا مالک نے مردوں کو کسم سے رنگی ہوئی چادریں اوڑھنا گھر یا اس کے گرداگرد میں حرام نہیں سمجھتا لیکن نہ پہننا میرے نزدیک بہتر اور اس سوائے اس کے اور لباس پہننا اچھا ہے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَسَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ مِطْرَفَ خَزٍّ كَانَتْ عَائِشَةُ تَلْبَسُهُ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عبداللہ بن زبیر کو ایک کپڑا پہناتا جس میں اون اور ریشم تھا اور حضرت عائشہ بھی اس کو پہنا کرتی تھیَ
۰۷
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا قَالَتْ دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِيقٌ فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَكَسَتْهَا خِمَارًا كَثِيفًا .
مرجانہ سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں ایک باریک سر بند اوڑھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کو پھار ڈالا اور موٹے کپڑے کا سر بند اوڑھا دیا ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلاَتٌ مُمِيلاَتٌ لاَ يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلاَ يَجِدْنَ رِيحَهَا وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑا پہنے ہوئے ہیں لیکن ننگی ہیں خود بھی سیدھی راہ سے ہٹی ہوئی ہیں اور خاوند کو بھی ہٹا دیتی ہیں جنت میں نہ جائیں گی بلکہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی راہ سے آتی ہے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۵۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَنَظَرَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ فَقَالَ " مَاذَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا وَقَعَ مِنَ الْفِتَنِ كَمْ مِنْ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ " .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ رات کو اللہ جل جلالہ نے کتنے ایک خزانے کھولے اور کتنے ایک فتنے واقع ہوئے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو دینا میں تو کپڑے پہنے ہوئی ہیں مگر قیامت کے روز ننگی ہوں گی ہوشیار کردو ان کوٹھریوں والیوں کو ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جو شخص اپنا کپڑ لٹکائے گا تکبر کے طور پر تو قیامت کے روز اللہ جل جلالہ اس کی طرف نظر تک نہ کرے گا ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا تہ بند لٹکائے تکبر کے طور پر ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، كُلُّهُمْ يُخْبِرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ جل جلالہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا کپڑا لٹکائے غرور اور گھمنڈ کے طور پر ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنِ الإِزَارِ، فَقَالَ أَنَا أُخْبِرُكَ بِعِلْمٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
عبدالرحمن بن یعقوب سے روایت ہے کہ کہتے ہیں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ازار کا حال انہوں نے کہا مجھے علم ہے میں بتاتا ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ مومن کی ازار پنڈلیوں تک ہوتی ہے خیر ٹخنوں تک بھی رکھے تو کچھ قباحت نہیں ہے اس سے نیچے جہنم میں جانے کی بات ہے اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نظر نہ کرے گا جو اپنی ازار لٹکائے غرو اور گھمنڈ کے طور پر ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ حِينَ ذُكِرَ الإِزَارُ فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " تُرْخِيهِ شِبْرًا " . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا . قَالَ " فَذِرَاعًا لاَ تَزِيدُ عَلَيْهِ " .
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازار لٹکانے کا ذکر کی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورت کیا کرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک بالشت ازار نیچے رکھے ام سلمہ نے کہا اتنی تو کھل جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک ہاتھ نیچے رکھے اس سے زیادہ نہیں ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمْشِيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعَلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہ چلے تم میں کوئی ایک جوتی پہن کر چاہئے کہ دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ وَلْتَكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جب جوتا پہنے کوئی تم میں سے چاہے کہ داہنے پیر میں اول پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پیر کا اتارے تو داہنا پیر پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں رہے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبِ الأَحْبَارِ، أَنَّ رَجُلاً، نَزَعَ نَعْلَيْهِ فَقَالَ لِمَ خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ لَعَلَّكَ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الآيَةَ {فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ طُوًى} قَالَ ثُمَّ قَالَ كَعْبٌ لِلرَّجُلِ أَتَدْرِي مَا كَانَتْ نَعْلاَ مُوسَى قَالَ مَالِكٌ لاَ أَدْرِي مَا أَجَابَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ كَعْبٌ كَانَتَا مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ .
کعب الاحبار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی جوتی اتاری کعب الاحبار نے کہا تم نے کیوں جوتیاں اتاریں شاید تو نے اس آیت کو دیکھ کر اتاری ہوں گی اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علی نبینا سے جب وہ طور پر جانے لگے فرمایا اتار جوتیاں اپنی مگر تو جانتا ہے موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں کا ہے کی تھیں ۔ کہا مالک نے مجھ معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا کعب نے کہا حضرت موسیٰ کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَعَنْ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ وَعَنْ أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْهِ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ نے دو لباسوں سے اور دو بیعوں سے ایک بیع ملامسہ اور دوسرے بیع منابذہ سے اور ایک کپڑے اوڑھ کر اختباء کرنے سے جب کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہوا اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۶۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " . ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " . فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک کپڑا ریشمی بکتا ہوا دیکھا مسجد کے دروازے پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور جس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وفد کے لوگ آیا کرتے ہیں پہنا کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کپڑے کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے پھر اسی قسم کے چند کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک کپڑا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطارد کے کپڑے کی بابت فرمایا تھا کہ اس کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے تجھے یہ کپڑا پہننے کو تھوڑی دیا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کپڑا اپنے ایک کافر بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۴۸/۱۶۷۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ وَقَدْ رَقَعَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِرُقَعٍ ثَلاَثٍ لَبَّدَ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ .
انس بن مالک نے کہا میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا جب کہ وہ امیر المومنی تھے ان کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کرتے میں تین پیوند لگے تھے ایک کے اوپر ایک ۔