۱۷ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، ابوبکر بن نافع کی سند سے، اپنے والد نافع کی سند سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابوسفیان سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے انہوں نے ایک بالوں کا چٹلا اپنے خادم کے ہاتھ سے لیا اور کہتے تھے کہ اے مدینہ والو کہاں ہیں علماء تمہارے؟ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منع کرتے تھے اس سے اور فرماتے تھے کہ تباہ ہوئے بنی اسرائیل جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى شَعَرِ امْرَأَةِ ابْنِهِ أَوْ شَعَرِ أُمِّ امْرَأَتِهِ بَأْسٌ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے رہے ایک مدت تک بعد اس کے مانگ نکالنے لگے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الإِخْصَاءَ وَيَقُولُ فِيهِ تَمَامُ الْخَلْقِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے خصی کرنے کو اور کہتے تھے کہ خصیے رکھنے میں پیدائش کو پورا کرنا ہے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ إِذَا اتَّقَى ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِإِصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ ‏.‏
صفوان بن سلیم کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں یتیم کا پالنے والا خواہ یتیم کا عزیز ہو یا غیر، بہشت میں ایسے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیان جبکہ پرہیزگاری کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگی کی طرف ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۵
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا ‏"‏ فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ لِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَكْرِمْهَا ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا میرے بال کندھوں تک ہیں ان میں کنگھی کروں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کنگھی کر اور بالوں کی عزت کر ابوقتادہ کبھی کبھی ایک دن میں دوبار تیل ڈالتے اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بالوں کی عزت کر۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ أَنِ اخْرُجْ كَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلاَحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص نجس بال سر اور داڑھی کے پریشان تھے آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اشارہ کیا یعنی مسجد سے باہر جا اور بالوں کو درست کر کے آ وہ شخص درست کر کے پھر آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ اچھا نہیں اس صورت سے کہ آئے کوئی تم میں سے پریشان سر جیسے شیطان ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۷
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَ وَكَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَكَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ - قَالَ - فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا - قَالَ - فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ هَذَا أَحْسَنُ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَىَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ فَأَقْسَمَتْ عَلَىَّ لأَصْبُغَنَّ وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ يَصْبُغُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ بِالسَّوَادِ لَمْ أَسْمَعْ فِي ذَلِكَ شَيْئًا مَعْلُومًا وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ وَتَرْكُ الصَّبْغِ كُلِّهِ وَاسِعٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى النَّاسِ فِيهِ ضِيقٌ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَصْبُغْ وَلَوْ صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَرْسَلَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا اور اس کے سر اور داڑھی کے بال سب سفید تھے ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر تو لوگوں نے کہا یہ اچھا ہے وہ بولا میری ماں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا اور بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی خضاب لگایا کرتے تھے ۔ کہا مالک نے سیاہ خضاب میں میں نے کوئی حدیث نہیں سنی اور سوائے سیاہ کے اور کوئی رنگ بہتر ہے اور خضاب نہ کرنا بہت بہتر ہے اگر اللہ چاہے، اور لوگوں پر اس بارے میں کچھ تنگی نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا اگر لگایا ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عبدالرحمن کے پاس یہی کہلا بھیجتیں ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۸
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أُرَوَّعُ فِي مَنَامِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ‏"‏ ‏.‏
خالد بن ولید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ میں ڈرتا ہوں سوتے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کر پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے اس کے غصے اور عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور شیطانوں کے میرے پاس آنے سے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۳۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَى عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ كُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَآهُ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَفَلاَ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَلَى ‏"‏ فَقَالَ جِبْرِيلُ فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللاَّتِي لاَ يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلاَ فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلاَّ طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ ‏.‏
یحیی بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس رات معراج ہوئی ایک دیو نظر آیا گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا آتا تھا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں سکھاؤ جبرائل نے کہا کہو اعوذ بوجہ اللہ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی منہ سے جو بڑا عزت والا ہے اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے اور جو اسمان کی طرف چڑھے اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں اور جو نکلے زمین سے اور رات دن کے فتنوں سے اور شب و روز کی آفتوں سے اور حادثوں سے مگر جو حادثہ بہتر ہے یا رحمن۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۴۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ قَالَ مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ‏.‏ لَمْ تَضُرَّكَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی قبیلہ اسلم کا بولا میں رات کو نہیں سویا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیوں کس وجہ سے؟ وہ بولا مجھے بچھو نے کاٹا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو شام کے وقت یہ کہہ لیتا اعوذبکلمات اللہ التامات من شرماخلق (یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ان چیزوں کے شر سے جن کو پیدا کیا اس نے) تو بچھو تجھے کچھ ضرر نہ دیتا۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۴۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّ كَعْبَ الأَحْبَارِ، قَالَ لَوْلاَ كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ وَمَا هُنَّ فَقَالَ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَىْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لاَ يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلاَ فَاجِرٌ وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ ‏.‏
قعقاع بن حکیم سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا اگر میں چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہودی مجھے گدھا بنا دیتے لوگوں نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں کعب نے کہا یعنی میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے منہ سے جو بڑی عظمت ولا ہے نہیں ہے کوئی چیز عظمت میں اس سے بڑھ کر اور اس اللہ کے پورے کلمات سے جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا اور اس اللہ کے تمام اسمائے حسنی سے جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا اس چیز کے شر سے جس کو اس نے بنایا پیدا کیا اور پھیلایا ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۴۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ لِجَلاَلِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلِّي ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ جل جلالہ ارشاد فرمادے گا دن قیامت کے کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو آپس میں دوستی رکھتے تھے میری بزرگی کے واسطے آج کے دن میں ان کو سائے میں رکھوں گا یہ وہ دن ہے جس دن کہیں سایہ نہیں سوائے میرے سائے کے ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۴۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بد فعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہیں ہوئی
۱۵
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِيلَ قَدْ أَحْبَبْتُ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ ‏.‏ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ ‏.‏ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ ‏.‏ وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَحْسِبُهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فِي الْبُغْضِ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو پکارتا ہے جبرائیل کو اور یہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تو بھی اس کو دوست رکھ تو جبرائیل اس سے محبت رکھتا ہے پھر پکار دیتا ہے جبرائیل آسمان والوں میں یعنی فرشتوں میں کہ بے شک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تم بھی اس کو دوست رکھو تو آسمان والے اس سے محبت رکھتے ہیں پھر اس محبوب بندے کی زمین میں قبولیت اتاری جاتی ہے یعنی زمین کے نیک لوگ اس کو مقبول جانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور جب اللہ کسی بندہ سے ناراض وغصہ ہوتا ہے ۔ (تو بھی اسی طرح کرتا ہے یعنی اس کا الٹ)
۱۶
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۴۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فَتًى شَابٌّ بَرَّاقُ الثَّنَايَا وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَىْءٍ أَسْنَدُوا إِلَيْهِ وَصَدَرُوا عَنْ قَوْلِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي - قَالَ - فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى قَضَى صَلاَتَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ لِلَّهِ ‏.‏ فَقَالَ آللَّهِ فَقُلْتُ آللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ آللَّهِ فَقُلْتُ آللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ آللَّهِ فَقُلْتُ آللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَبَذَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ‏"‏ ‏.‏
ابو ادریس خولانی سے روایت ہے کہ میں دمشق کی مسجد میں گیا وہاں مں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو سفید دندان تھا اس کے ساتھ والے لوگ جب کسی بات میں اختلاف کرتے ہیں تو جو وہ کہتا ہے اسی کی سند پکڑتے ہیں اور اس کے قول پر تھم جاتے ہیں میں نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے لوگوں نے کہا معاذ بن جبل ہیں جب دوسرا روز ہوا تو میں بہت سویرے گیا دیکھا تو وہ مجھ سے آگے آئے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں میں ٹھہرا رہا جب نماز پڑھ چکے تو میں ان کے سامنے آیا اور سلام کیا پھر میں نے کہا میں تم کو اللہ جل جلالہ کے واسطے چاہتا ہوں اور محبت کرتا ہوں انہوں نے کہا اللہ کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں اللہ کے واسطے انہوں نے پھر کہا اللہ کے واسطے؟ میں کہا ہاں اللہ کے واسطے پھر انہوں نے میری چادر کا کونا پکڑ کے مجھے گھسیٹا اور کہا خوش ہوجا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ جل جلالہ فرماتے ہے واجب ہوئی محبت میری ان لوگوں سے جو میرے واسطے دوستی اور محبت رکھتے ہیں اور میرے واسطے مل کر بیٹھتے ہیں اور میرے واسطے اپنی جان اور مال صرف کرتے ہیں اور میرے واسطے ایک دوسرے کی ملاقات کو جاتے ہیں ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں میانہ روی اور نرمی اور اچھی سج دھج ایک جز ہے نبوت کے پچیس جزوں میں سے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۵۱/۱۷۴۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ الْقَصْدُ وَالْتُّؤَدَةُ وَحُسْنُ السَّمْتِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ‏.‏
انہوں نے مالک کی سند سے کہا کہ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر ملی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ نیت، صبر اور حسن سلوک نبوت کے پانچ اور بیس حصے ہیں۔