صدقہ
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۱
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ - وَلاَ يَقْبَلُ اللَّهُ إِلاَّ طَيِّبًا - كَانَ إِنَّمَا يَضَعُهَا فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ يُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ " .
سعد بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جو شخص حلال مال سے صدقہ دے اور اللہ جل جلالہ نہیں قبول کرتا مگر مال حلال کو تو وہ اس صدقے کو اللہ جل جلالہ کی ہتھلی میں رکھتا ہے اور پروردگار اس کو پرورش کرتا ہے جیسے کوئی تم میں سے پالتا ہے اپنے بھپیرے (اونٹ کے بچے کو) کو اور وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَىَّ بَيْرُحَاءَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ " . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ .
(انس بن مالک کہتے تھے کہ ابوطلحہ سب انصاریوں سے زیادہ مالدار تھے مدینے میں یعنی کھجور کے درخت سب سے زیادہ ان کے پاس تھے اور سب مالوں میں ان کو ایک باغ بہت پسند تھا جس کو بیر حاء کہتے تھے اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں جایا کرتے تھے اور وہاں کا صاف پانی پیا کرتے تھے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ" 3۔ ال عمران : 92) یعنی تم نیکی کو نہ پہنچو گے جب تک کہ تم خرچ نہ کرو گے اس مال میں سے جس کو تم چاہتے ہو تو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ نے ارشاد فرمایا ہے لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون اور مجھے اپنے سب مالوں میں بیر حاء پسند ہے وہ صدقہ ہے اللہ کی راہ میں اللہ سے اس کی بہتری اور جزاء چاہتا ہوں اور وہ بیر حاء ذخیرہ ہے اللہ کے پاس آپ نے فرمایا واہ واہ یہ مال تو بڑا اجر لانے والا ہے یا بڑے نفع والا ہے اور میں سن چکا ہوں جو تم نے اس مال کے بارے میں کہا ہے میرے نزدیک تم اس مال کو اپنے عزیزوں میں بانٹ دو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بانٹ دوں پھر ابوطلحہ نے اس کو تقسیم کردیا اپنے عزیزں اور چچا کے بیٹوں میں۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَعْطُوا السَّائِلَ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ " .
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دو وسائل کو اگرچہ آئے وہ گھوڑے پر ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الأَشْهَلِيِّ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تُهْدِيَ لِجَارَتِهَا وَلَوْ كُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا " .
مالک نے مجھ سے زید بن اسلم کی سند سے، عمرو بن معاذ اشلی الانصاری سے، اپنی دادی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ایمان والیو، تم میں سے کسی کو حقیر نہ سمجھو اگر وہ اپنی پڑوسن کو تحفہ میں دے، چاہے اس کی ٹانگ ہی کیوں نہ جل جائے۔"
۰۵
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مِسْكِينًا سَأَلَهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ وَلَيْسَ فِي بَيْتِهَا إِلاَّ رَغِيفٌ فَقَالَتْ لِمَوْلاَةٍ لَهَا أَعْطِيهِ إِيَّاهُ . فَقَالَتْ لَيْسَ لَكِ مَا تُفْطِرِينَ عَلَيْهِ . فَقَالَتْ أَعْطِيهِ إِيَّاهُ قَالَتْ فَفَعَلْتُ - قَالَتْ - فَلَمَّا أَمْسَيْنَا أَهْدَى لَنَا أَهْلُ بَيْتٍ - أَوْ إِنْسَانٌ - مَا كَانَ يُهْدِي لَنَا شَاةً وَكَفَنَهَا فَدَعَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ كُلِي مِنْ هَذَا هَذَا خَيْرٌ مِنْ قُرْصِكِ .
مالک ، زید بن اسلم، عمرو بن معاذ اشہلی انصاری سے روایت ہے کہ ان کی دادی فرماتی تھیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اے مسلمان عورتو ! نہ حقیر کرے کوئی تم میں سے کسی ہمسائی اپنی کو اگرچہ وہ ایک کھر بھیجے بکری کا جلا ہوا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک فقیر آیا مانگتا ہوا اور آپ روزہ دار تھیں اور گھر میں کچھ نہ تھا سوائے ایک روٹی کے، آپ نے اپنی لونڈی سے کہا یہ روٹی فقیر کو دیدے وہ بولی آپ کے افطار کے لئے کچھ نہیں ہے آپ نے کہا دیدے لونڈی نے وہ روٹی فقیر کہ حوالے کردی شام کو ایک گھر سے حصہ آیا بکری کا گوشت پکا ہوا حضرت عائشہ نے لونڈی کو بلا کر کہا کھا یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔ امام مالک نے کہا کہ ایک مسکین نے سوال کیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے سامنے انگور رکھے تھے انہوں نے ایک آدمی سے کہا ایک دانا انگور کا اٹھا کر اس کو دے وہ شخص تعجب سے دیکھنے لگا حضرت عائشہ نے کہا ایک دانہ کئی ذروں کے برابر ہے اور ایک ذرے کا ثواب بھی ضائع نہ ہوگا ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ مِسْكِينًا، اسْتَطْعَمَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا عِنَبٌ فَقَالَتْ لإِنْسَانٍ خُذْ حَبَّةً فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَعْجَبُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَتَعْجَبُ كَمْ تَرَى فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ
اس نے مجھے مالک کے حکم پر بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خبر ملی کہ ایک مسکین نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کھانا مانگا تو ان کے ہاتھ میں انگور تھے، انہوں نے ایک شخص سے کہا: ایک دانہ لے کر اسے دے دو، تو وہ اسے دیکھ کر حیران ہو گیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم اس بات پر حیران ہو کہ ایک ایٹم کا وزن کتنا ہے؟
۰۷
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، . أَنَّ نَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ثُمَّ قَالَ " مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ " .
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیا پھر انہوں نے سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دیا یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا تمام ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جہاں تک مال ہوگا میں تم سے دریغ نہ کروں گا لیکن جو سوال سے بچے گا تو اللہ بھی اس کو بچائے گا اور جو قناعت کر کے اپنی تونگری ظاہر کرے گا تو اللہ اس کو غنی کر دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اس کو صبر کی توفیق دے گا اور کوئی نعمت جو لوگوں کو دی گئی ہے صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ نہیں ہے
۰۸
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ - " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور آپ اس وقت منبر پر ذکر کرتے صدقے کا اور سوال سے بچنے کا اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے اور اوپر والا خرچ کرنیوالا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۴۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعَطَاءٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِمَ رَدَدْتَهُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لأَحَدِنَا أَنْ لاَ يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا ذَلِكَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُكَهُ اللَّهُ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلاَ يَأْتِينِي شَىْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلاَّ أَخَذْتُهُ .
عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کے پاس کچھ مال بھیجا حضرت عمر نے اس کو پھیر دیا پوچھا تم نے کیوں پھیر دیا حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے حضرت عمر نے کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لونگا ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلاً أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ " .
اس نے مجھ سے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی روایت سے، ابوہریرہ کی روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کسی کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں جمع کرے، اس سے بہتر ہے کہ وہ اس آدمی کے پاس جائے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور اس کے پاس جو کچھ دیا ہے اس کے لیے مانگے۔ اسے یا اس نے اسے روکا۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي، بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ . وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ . فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلاً يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ " . فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَىَّ أَنْ لاَ أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " . قَالَ الأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ . قَالَ مَالِكٌ وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا . قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک تم میں سے اپنی رسی میں لکڑی کا گٹھا باندھ کر اپنی پٹھے پر لادے تو وہ بہتر ہے اس سے کہ وہ اسے شخص کے پاس آئے جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور اس سے مانگے وہ دے یا نہ دے ۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ جو بنی اسد میں سے تھا کہ میں اور میرے گھر کے لوگ بقیع الغرقد میں اترے میری بی بی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور کھانے کے لئے آپ سے کچھ مانگے اور اپنی محتاجی بیان کر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ پاس گیا اور دیکھا کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں تجھ کو دوں وہ شخص غصے میں پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا قسم اپنی عمر کی تم اسی کو دیتے ہو جس کو چاہتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو وہ غصے ہوتا ہے اس بات پر کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں اس کو دوں جو شخص تم میں سے سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں یا اتنا مال ہو تو اس نے پلٹ کر سوال کیا میں نے کہا ایک اونٹ ہم کو بہتر ہے چالیس درہم سے پھر میں لوٹ آیا اور میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سوال نہیں کیا بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو اور خشک انگور آئے آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے غنی کر دیا ہم کو ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۵۲
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلاَّ عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ . قَالَ مَالِكٌ لاَ أَدْرِي أَيُرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَمْ لاَ .
علاء بن عبدالرحمن کہتا ہے کہ صدقہ دینے سے مال میں کمی و نقصان نہیں ہوا اور جو بندہ معاف کرتا رہتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے اور جو تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ اور بلند کر دیتا ہے۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۵۳
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ " .
امام مالک کو پنہچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ درست نہیں ہے صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو کیونکہ یہ میل ہے لوگوں کا ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۵۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلاً مِنَ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ - وَكَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ - ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لاَ يَصْلُحُ لِي وَلاَ لَهُ فَإِنْ مَنَعْتُهُ كَرِهْتُ الْمَنْعَ وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لاَ يَصْلُحُ لِي وَلاَ لَهُ " . فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ أَسْأَلُكَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا .
ابو بکر بن محمد ، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرخ ہو جاتیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۵۸/۱۸۵۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَرْقَمِ ادْلُلْنِي عَلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَطَايَا أَسْتَحْمِلُ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ نَعَمْ جَمَلاً مِنَ الصَّدَقَةِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَرْقَمِ أَتُحِبُّ أَنَّ رَجُلاً بَادِنًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ غَسَلَ لَكَ مَا تَحْتَ إِزَارِهِ وَرُفْغَيْهِ ثُمَّ أَعْطَاكَهُ فَشَرِبْتَهُ قَالَ فَغَضِبْتُ وَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَتَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَرْقَمِ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ أَوْسَاخُ النَّاسِ يَغْسِلُونَهَا عَنْهُمْ .
اسلم عدوی سے عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ مجھے ایک اونٹ بتادے سواری کا میں اس کو حضرت عمر سے کہہ کر اپنی سواری کے لئے لے لوں گا میں نے کہا اچھا ایک اونٹ ہے صدقے کا عبداللہ بن ارقم نے کہا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا شخص گرمی کے دنوں میں اپنی شرمگاہ اور چڈ سے دھو کر تمہیں وہ پانی دے اور تو اس کو پی لے، اسلم کہتے ہیں کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا کہ اللہ تمہیں بخشے تم مجھ سے ایسی بات کہتے ہو عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ صدقہ بھی لوگوں کا میل ہے اور ان کا دھون ہے