۱۹۳ حدیث
۰۱
سنن نسائی # ۲۶/۳۱۹۶
'Ata'
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ جَنَازَتَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوهَا وَلاَ تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا ‏.‏
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے، تو آپ نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا، اسے ہلانا نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے، اور ایک کے لیے نہیں کرتے تھے ۱؎۔
۰۲
سنن نسائی # ۲۶/۳۱۹۷
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يُصِيبُهُنَّ إِلاَّ سَوْدَةَ فَإِنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں، آپ ان کے پاس ان کی باری کے موافق جایا کرتے تھے سوائے سودہ کے کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف کر دیا تھا۔
۰۳
سنن نسائی # ۲۶/۳۱۹۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ہی رات میں جایا کرتے تھے ۱؎۔
۰۴
سنن نسائی # ۲۶/۳۱۹۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاَّتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَقُولُ أَوَتَهَبُ الْحُرَّةُ نَفْسَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ ‏}‏ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں ان عورتوں سے شرم کرتی تھی ۱؎ جو اپنی جان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں چنانچہ میں کہتی تھی: کیا آزاد عورت اپنی جان ( مفت میں ) ہبہ کر دیتی ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء‏» ”ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے، اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے“ ( الاحزاب: ۵۱ ) اس وقت میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے۔
۰۵
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۰
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَنَا فِي الْقَوْمِ، إِذْ قَالَتِ امْرَأَةٌ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ زَوِّجْنِيهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ ‏.‏
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قوم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہوں، میرے متعلق آپ کی جیسی رائے ہو کریں، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا ( اللہ کے رسول! ) اس عورت سے میرا نکاح کرا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ ( بطور مہر ) کوئی چیز ڈھونڈھ کر لے آؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، تو وہ گیا لیکن کوئی چیز نہ پایا حتیٰ کہ ( معمولی چیز ) لوہے کی انگوٹھی بھی اسے نہ ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا تمہیں قرآن کی سورتوں میں سے کچھ یا دہے؟“ اس نے کہا: ہاں، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح اس عورت سے قرآن کی ان سورتوں کے عوض کرا دی جو اسے یاد تھیں۔
۰۶
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۱
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَهَا حِينَ أَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَبَدَأَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تُعَجِّلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَىَّ لاَ يَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ ‏}‏ فَقُلْتُ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو ( دو بات میں سے ایک کو اپنا لینے کا ) اختیار دیں۔ اس کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سب سے پہلے ) میرے پاس آ کر کی۔ آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں لیکن جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کر لینے کا مشورہ اور حکم ( کبھی بھی ) نہ دیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: ( یعنی یہ آیت پڑھی ) «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعكن» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی، دنیاوی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں، اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں“ ( الاحزاب: ۲۸ ) میں نے کہا: اس سلسلہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ ( مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) کیونکہ میں اللہ کو، اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر ( جنت ) کو چاہتی ہوں ( یہی میرا فیصلہ ہے ) ۱؎۔
۰۷
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ أَوَكَانَ طَلاَقًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا۔ کیا وہ طلاق تھا؟ ۱؎۔
۰۸
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۳
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَكُنْ طَلاَقًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( انتخاب کا ) اختیار دیا، تو ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا تو یہ ( اختیار ) طلاق نہیں تھا۔
۰۹
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۴
'Ata'
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے عورتیں آپ کے لیے حلال تھیں۔
۱۰
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۵
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، - وَهُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ کی وفات نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال نہ کر دیا کہ آپ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح کر لیں ۱؎۔
۱۱
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۶
علقمہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ رضى الله عنه فَقَالَ عُثْمَانُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فِتْيَةٍ - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمْ أَفْهَمْ فِتْيَةً كَمَا أَرَدْتُ - فَقَالَ ‏
"‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لاَ فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏
علقمہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوجوانوں ( کی ایک ٹولی ) کے پاس پہنچے اور ( ان سے ) کہا: ”جو تم میں مالدار ہو ۱؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی رکھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے ۲؎، اور نکاح کر لینے سے شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ۳؎، اور جو مالدار نہ ہو بیوی کے کھانے پینے کا خرچہ نہ اٹھا سکتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ اس کے لیے روزہ شہوت کا توڑ ہے ۴؎، ( اس حدیث میں «فتیۃ» کا لفظ آیا ہے، اس کے متعلق ) ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس کا مفہوم جیسا میں سمجھنا چاہتا تھا سمجھ نہ سکا۔
۱۲
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۷
علقمہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ لاِبْنِ مَسْعُودٍ هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا ‏.‏ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏
علقمہ سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر تمہیں کسی نوجوان عورت سے شادی کی خواہش ہو تو میں تمہاری اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بلایا ( اور ان کی موجودگی میں ) حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیوی کو نان و نفقہ دے سکتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیئے۔ کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے اور جو شخص نان و نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے کیونکہ وہ اس کا توڑ ہے“ ( اس سے نفس کمزور ہوتا ہے ) ۱؎۔
۱۳
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۸
علقمہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( نوجوانوں ) سے فرمایا: ”جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں ”اسود“ راوی کا ذکر نہیں ہے۔
۱۴
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۰۹
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَنْكِحْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لاَ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے کہا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے“۔
۱۵
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۰
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھے اسے شادی کر لینی چاہیئے“، اور ( اس سے آگے ) اوپر گزری ہوئی حدیث بیان کی۔
۱۶
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۱
علقمہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلاَ أُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً فَلَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْكَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ‏"‏ ‏.‏
علقمہ کہتے ہیں کہ میں منی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہو گئی تو وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا میں آپ کی شادی ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرا دوں؟ توقع ہے وہ آپ کو آپ کے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دے گی، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھ سے یہ بات آج کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ہم سے بہت پہلے اس طرح کہہ چکے ہیں: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ ادا کرنے کی طاقت رکھے تو اس کو نکاح کر لینا چاہیئے“۔
۱۷
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۲
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عُثْمَانَ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا ‏.‏
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔
۱۸
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۳
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔
۱۹
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۴
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ أَنَّهُ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَتَادَةُ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ مِنْ أَشْعَثَ وَحَدِيثُ أَشْعَثَ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ۱؎ واللہ أعلم۔
۲۰
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۵
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي الْعَنَتَ وَلاَ أَجِدُ طَوْلاً أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ أَفَأَخْتَصِي فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَالَ ثَلاَثًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لاَقٍ فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ دَعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَوْزَاعِيُّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ قَدْ رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کر لینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم ( بہت پہلے ) خشک ہو چکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہو جاؤ یا نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے ( ابن شہاب ) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کیا ہے۔
۲۱
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۶
سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ قَالَتْ فَلاَ تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ ‏{‏ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً ‏}‏ فَلاَ تَتَبَتَّلْ ‏.‏
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: میں مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہنے کے سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا: ایسا ہرگز نہ کرنا، کیا تم نے نہیں سنا ہے؟ اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ”ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا“ ( الرعد: ۳۸ ) تو ( اے سعد! ) تم «تبتل» ( اور رہبانیت ) اختیار نہ کرو۔
۲۲
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ آكُلُ اللَّحْمَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ فَلاَ أُفْطِرُ ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏
"‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا: میں نکاح ( شادی بیاہ ) نہیں کروں گا، بعض نے کہا: میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہا: میں بستر پر نہ سوؤں گا، بعض نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ( لوگوں کے سامنے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ( مجھے دیکھو ) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ ( سن لو ) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے ( میرے طریقے پر نہ چلے ) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
۲۳
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ ثَلاَثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمُ الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ( طرح کے لوگ ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے: ( ایک ) وہ مکاتب ۱؎ جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو۔ ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو“۔
۲۴
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۱۹
جابر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ تَزَوَّجْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ ثَيِّبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نکاح کیا، اور ( اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”جابر! کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ نے کہا: ”کنواری سے ( شادی کی ہے ) یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے“، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“۔
۲۵
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۰
جابر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ يَا جَابِرُ هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَيِّمًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی؟“۔
۲۶
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۱
عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رضى الله عنهما فَاطِمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّهَا صَغِيرَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ فَزَوَّجَهَا مِنْهُ ‏.‏
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ) فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے لیے پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چھوٹی ہے“، پھر علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے ان کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۱؎۔
۲۷
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۲
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، طَلَّقَ وَهُوَ غُلاَمٌ شَابٌّ فِي إِمَارَةِ مَرْوَانَ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ قَيْسٍ الْبَتَّةَ فَأَرْسَلَتْ إِلِيْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ تَأْمُرُهَا بِالاِنْتِقَالِ مِنْ بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَمِعَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنَةِ سَعِيدٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى مَسْكَنِهَا وَسَأَلَهَا مَا حَمَلَهَا عَلَى الاِنْتِقَالِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَعْتَدَّ فِي مَسْكَنِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُخْبِرُهُ أَنَّ خَالَتَهَا أَمَرَتْهَا بِذَلِكَ فَزَعَمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ فَلَمَّا أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ هِيَ بَقِيَّةُ طَلاَقِهَا وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَتِهَا فَأَرْسَلَتْ - زَعَمَتْ - إِلَى الْحَارِثِ وَعَيَّاشٍ تَسْأَلُهُمَا الَّذِي أَمَرَ لَهَا بِهِ زَوْجُهَا فَقَالاَ وَاللَّهِ مَا لَهَا عِنْدَنَا نَفَقَةٌ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ حَامِلاً وَمَا لَهَا أَنْ تَكُونَ فِي مَسْكَنِنَا إِلاَّ بِإِذْنِنَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَصَدَّقَهُمَا ‏.‏ قَالَتْ فَاطِمَةُ فَأَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏
"‏ انْتَقِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى الَّذِي سَمَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَاطِمَةُ فَاعْتَدَدْتُ عِنْدَهُ وَكَانَ رَجُلاً قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَكُنْتُ أَضَعُ ثِيَابِي عِنْدَهُ حَتَّى أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا مَرْوَانُ وَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَحَدٍ قَبْلَكِ وَسَآخُذُ بِالْقَضِيَّةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ مروان کے دور حکومت میں ایک نوجوان شخص عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی ( جن کی ماں بنت قیس ہیں ) کو طلاق بتہ دے دی ۱؎، تو اس کی خالہ فاطمہ بنت قیس نے اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہو جاؤ، یہ بات مروان نے سنی ( کہ سعید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو کے گھر سے چلی گئی ہے ) ۔ تو اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم اپنے اس گھر کو واپس چلی جاؤ ( جہاں سے نکل کر آئی ہو ) اور اس سے وجہ بھی پوچھی کہ تم اپنے گھر میں عدت کے ایام پورا کئے بغیر وہاں سے نکل کیسے آئی؟ تو اس نے انہیں ( یعنی مروان کو ) کہلا بھیجا کہ میں اپنی خالہ کے کہنے سے نکل آئی تھی۔ تو ( اس کی خالہ ) فاطمہ بنت قیس نے ( اپنا پیش آمدہ واقعہ ) بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص کے نکاح میں تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا، تو وہ بھی ان کے ساتھ گئے اور ( وہاں سے ) انہوں نے ان کو ( تین طلاقوں میں سے ) باقی بچی ہوئی طلاق دے کر کہلا بھیجا کہ حارث بن ہشام اور عیاش بن ربیعہ سے اپنا نفقہ لے لیں۔ کہتی ہیں: تو انہوں نے حارث اور عیاش سے پچھوا بھیجا کہ ان کے لیے ان کے شوہر نے ان دونوں کو کیا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے کہا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے پاس کوئی نفقہ ( خرچ ) نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے گھر میں ہماری اجازت کے بغیر ان کا رہنا درست ہے۔ ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں وضع حمل تک نفقہ و سکنی ملے گا ) وہ ( یعنی فاطمہ بنت قیس ) کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان سب باتوں کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں سچ کہتے ہیں“، فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! پھر میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ جو ایک نابینا شخص ہیں اور جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک ) میں کیا ہے“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے ان کے یہاں جا کر عدت پوری کی۔ وہ ایسے آدمی تھے جن کی آنکھیں چلی گئی تھیں، میں ان کے یہاں اپنے کپڑے اتار دیتی تھی، پھر ( وہ وقت آیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کرا دی ۲؎، ان کی اس بات کو مروان نے قبول نہیں کیا اور کہا: میں نے تم سے پہلے ایسی بات کسی سے نہیں سنی ہے۔ میں تو وہی فیصلہ نافذ رکھوں گا جس پر لوگوں کو عمل کرتا ہوا پایا ہے۔ ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
۲۸
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۳
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَهُوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلاً فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ فَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ ‏{‏ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ‏}‏ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا، اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دی۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے لیا تھا، اور زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ متبنی کرنے والے کو اس لڑکے کا باپ کہا کرتے تھے اور وہ لڑکا اس کی میراث پاتا تھا اور یہ دستور اس وقت تک چلتا رہا جب تک اللہ پاک نے یہ آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم‏» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے، پھر اگر تمہیں ان کے حقیقی باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“ ( الاحزاب: ۵ ) نازل نہ کی، پس جس کا باپ معلوم نہ ہو وہ دینی بھائی اور دوست ہے، ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
۲۹
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ قَالَ يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - وَأَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلًى لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ سَالِمًا ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ ابْنَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَتْ هِنْدُ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ‏{‏ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ‏}‏ رُدَّ كُلُّ أَحَدٍ يَنْتَمِي مِنْ أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُعْلَمُ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوَالِيهِ ‏.‏
امہات المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان لوگوں میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا لے پالک بنا لیا تھا۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا تھا۔ ابوحذیفہ بن عتبہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا تھا اور یہ ہند بنت ولید بن عتبہ شروع شروع کی مہاجرہ عورتوں میں سے تھیں، وہ قریش کی بیوہ عورتوں میں اس وقت سب سے افضل و برتر عورت تھیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے زید بن حارثہ ( غلام ) کے تعلق سے آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے“ نازل فرمائی تو ہر ایک لے پالک اپنے اصل باپ کے نام سے پکارا جانے لگا، اور جن کے باپ نہ جانے جاتے انہیں ان کے آقاؤں کی طرف منسوب کر کے پکارتے۔
۳۰
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۵
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ الْمَالُ ‏"‏ ‏.‏
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا داروں کا حسب ۱؎ جس کی طرف وہ دوڑتے ( اور لپکتے ) ہیں مال ہے“۔
۳۱
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۶
جابر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ‏"‏ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَاكَ إِذًا إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ ۱؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے ( جوانی کے ) کھیل کھلاتی“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے ( کنواری نکاح کر کے لانے میں ) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ ( اور دوری کا باعث ) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔
۳۲
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۷
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ إِلاَّ أَنَّهَا لاَ تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَنَهَاهُ فَقَالَ ‏
"‏ تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ۱؎، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے اسے ( اس سے شادی کرنے سے ) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ۲؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں ( دیگر اقوام پر ) غالب آنا چاہتا ہوں ۳؎“۔
۳۳
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۸
عمرو ابن شعیب
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، - وَكَانَ رَجُلاً شَدِيدًا - وَكَانَ يَحْمِلُ الأُسَارَى مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏.‏ قَالَ فَدَعَوْتُ رَجُلاً لأَحْمِلَهُ وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ خَرَجَتْ فَرَأَتْ سَوَادِي فِي ظِلِّ الْحَائِطِ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا مَرْثَدٌ مَرْحَبًا وَأَهْلاً يَا مَرْثَدُ انْطَلِقِ اللَّيْلَةَ فَبِتْ عِنْدَنَا فِي الرَّحْلِ ‏.‏ قُلْتُ يَا عَنَاقُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ الزِّنَا ‏.‏ قَالَتْ يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الدُّلْدُلُ هَذَا الَّذِي يَحْمِلُ أُسَرَاءَكُمْ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏.‏ فَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ فَطَلَبَنِي ثَمَانِيَةٌ فَجَاءُوا حَتَّى قَامُوا عَلَى رَأْسِي فَبَالُوا فَطَارَ بَوْلُهُمْ عَلَىَّ وَأَعْمَاهُمُ اللَّهُ عَنِّي فَجِئْتُ إِلَى صَاحِبِي فَحَمَلْتُهُ فَلَمَّا انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى الأَرَاكِ فَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحُ عَنَاقَ فَسَكَتَ عَنِّي فَنَزَلَتِ ‏{‏ الزَّانِيَةُ لاَ يَنْكِحُهَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ‏}‏ فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَىَّ وَقَالَ ‏"‏ لاَ تَنْكِحْهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ ایک سخت اور زور آور آدمی تھے، قیدیوں کو مکہ سے مدینہ منتقل کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو بلایا کہ اسے سواری پر ساتھ لیتا جاؤں، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، وہ ( گھر سے باہر ) نکلی، دیوار کی پرچھائیوں میں میرے وجود کو ( یعنی مجھے ) دیکھا، بولی کون ہے؟ مرثد! خوش آمدید اپنوں میں آ گئے، مرثد! آج رات چلو ہمارے ڈیرے پر ہمارے پاس رات کو سوؤ، میں نے کہا: عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے، اس نے کہا: خیمہ والو! یہ دلدل ہے ۱؎ یہ وہ ( پرندہ ) ہے جو تمہارے قیدیوں کو مکہ سے مدینہ اٹھا لے جائے گا ( یہ سن کر ) میں خندمہ ( پہاڑ ) کی طرف بڑھا ( مجھے پکڑنے کے لیے ) میری طلب و تلاش میں آٹھ آدمی نکلے اور میرے سر پر آ کھڑے ہوئے، انہوں نے وہاں پیشاب کیا جس کے چھینٹے مجھ پر پڑے ( اتنے قریب ہونے کے باوجود وہ مجھے دیکھ نہ سکے کیونکہ ) میرے حق میں اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا۔ میں ( وہاں سے بچ کر ) اپنے ( قیدی ) ساتھی کے پاس آیا اور اسے سواری پر چڑھا کر چل پڑا۔ پھر جب میں اراک پہنچا تو میں نے اس کی بیڑی کھول دی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ تو آپ خاموش رہے پھر آیت: «الزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» ”زنا کار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور نکاح نہیں کرتی“۔ ( النور: ۳ ) نازل ہوئی، پھر ( اس کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مذکورہ آیت پڑھی پھر فرمایا: ”اس سے شادی نہ کرو“ ۲؎۔
۳۴
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۲۹
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - عَبْدُ الْكَرِيمِ يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهَارُونُ لَمْ يَرْفَعْهُ - قَالاَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي امْرَأَةً هِيَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ وَهِيَ لاَ تَمْنَعُ يَدَ لاَمِسٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ طَلِّقْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ أَصْبِرُ عَنْهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اسْتَمْتِعْ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ أَثْبَتُ مِنْهُ وَقَدْ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ وَهَارُونُ ثِقَةٌ وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے جو مجھے سبھی لوگوں سے زیادہ محبوب ہے مگر خرابی یہ ہے کہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہ پاؤں گا۔ تو آپ نے کہا: پھر تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ( اور وہ جو دوسروں کو تیرا مال لے لینے دیتی ہے، اسے نظر انداز کر دے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث ( صحیح ) ثابت نہیں ہے، عبدالکریم ( راوی ) زیادہ قوی نہیں ہے اور ہارون بن رئاب ( راوی ) عبدالکریم سے زیادہ قوی راوی ہیں۔ انہوں نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے ہارون ثقہ راوی ہیں اور ان کی حدیث عبدالکریم کی حدیث کے مقابل میں زیادہ صحیح اور درست لگتی ہے۔
۳۵
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ تُنْكَحُ النِّسَاءُ لأَرْبَعَةٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے شادی چار چیزیں دیکھ کر کی جاتی ہے: اس کا مال دیکھ کر، اس کی خاندانی وجاہت ( حسب ) دیکھ کر، اس کی خوبصورتی دیکھ کر اور اس کا دین دیکھ کر، تو تم دیندار عورت کو پانے کی کوشش کرو ۱؎، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔
۳۶
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ قَالَ ‏
"‏ الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلاَ تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو ( خوش اسلوبی سے ) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎“۔
۳۷
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۲
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ، آخَرَ أَنْبَأَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا ساری کی ساری پونجی ہے ( برتنے کی چیز ہے ) ۱؎ لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین ( قیمتی ) چیز نیک و صالح عورت ہے“۔
۳۸
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَتَزَوَّجُ مِنْ نِسَاءِ الأَنْصَارِ قَالَ ‏
"‏ إِنَّ فِيهِمْ لَغَيْرَةً شَدِيدَةً ‏"‏ ‏.‏
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں ( یعنی مہاجرین ) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انصار کی عورتوں سے شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: ”ان میں غیرت بہت ہے“۔
۳۹
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے دیکھ لو“ ۱؎۔
۴۰
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۵
مغیرہ بن شعبہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ خَطَبْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا ‏"‏ ‏.‏
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دیکھ لو، کیونکہ دیکھ لینا دونوں میں محبت کے اضافہ کا باعث ہے“ ۱؎۔
۴۱
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۶
عروہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَائِهِ كَانَتْ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( عید کے مہینے ) شوال میں شادی کی، اور میری رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی۔ ( عروہ کہتے ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ مسلمان بیویوں کے پاس ( عید کے مہینے ) شوال میں جایا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے مجھ سے زیادہ آپ سے نزدیک اور فائدہ اٹھانے والی کوئی دوسری بیوی کون تھیں ۱؎۔
۴۲
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۷
عامر بن شورابیل الشعبی رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ - قَالَتْ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَوْلاَهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ انْطَلِقِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ‏"‏ ‏.‏ وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَفْعَلِي فَإِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ كَثِيرَةُ الضِّيفَانِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
عامر بن شراحیل شعبی کا بیان ہے کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے ( جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں ) سنا ہے انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ آ کر شادی کا پیام دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اپنے غلام اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کے لیے پیغام دیا، اور میں نے سن رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو کوئی مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے اسامہ سے بھی محبت رکھنی چاہیئے“۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( اس سلسلے میں ) گفتگو کی تو میں نے کہا: میں اپنا معاملہ آپ کو سونپتی ہوں، آپ جس سے چاہیں میری شادی کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ام شریک کے پاس چلی جاؤ“۔ ( کہتی ہیں: ) وہ انصار کی ایک مالدار اور فی سبیل اللہ بہت خرچ کرنے والی عورت تھیں ان کے پاس مہمان بکثرت آتے تھے۔ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی پھر آپ نے کہا: نہیں، ایسا مت کرو، کیونکہ ام شریک بہت مہمان نواز عورت ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ تم وہاں رہو، پھر کبھی تمہاری اوڑھنی تمہارے ( سر ) سے ڈھلک جائے یا تمہاری پنڈلیوں سے کپڑا ہٹ جائے تو تجھے لوگ کسی ایسی حالت میں عریاں دیکھ لیں جو تمہارے لیے ناگواری کا باعث ہو بلکہ ( تمہارے لیے مناسب یہ ہے کہ ) تم اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ، وہ فہر ( قبیلے ) کی نسل سے ہیں، چنانچہ میں ان کے یہاں چلی گئی۔ یہ حدیث مختصر ہے۔
۴۳
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۸
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے“ ۱؎۔
۴۴
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۳۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دھوکہ دینے کیلئے ) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ۱؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ۲؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن ( سوکن ) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے“ ۳؎۔
۴۵
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۴۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے“۔
۴۶
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۴۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھائی کہیں نکاح کا پیغام دے چکا ہے، تو کوئی دوسرا مسلمان بھائی اس جگہ جب تک کہ نکاح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے ( نیا ) پیغام نہ دے“ ۱؎۔
۴۷
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۴۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر کوئی دوسرا پیغام نکاح نہ دے“۔
۴۸
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۴۳
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے تھے
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ الرَّجُلِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ۱؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک ( پہلا ) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ۲؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔
۴۹
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۴۴
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّهُمَا سَأَلاَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ عَنْ أَمْرِهَا، فَقَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا فَكَانَ يَرْزُقُنِي طَعَامًا فِيهِ شَىْءٌ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ لِي النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لأَطْلُبَنَّهَا وَلاَ أَقْبَلُ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ الْوَكِيلُ لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ ‏.‏ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ فَاعْتَدِّي عِنْدَ فُلاَنَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَ يَأْتِيهَا أَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ آذَنْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَنْ خَطَبَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ مُعَاوِيَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ مِنْ قُرَيْشٍ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَإِنَّهُ غُلاَمٌ مِنْ غِلْمَانِ قُرَيْشٍ لاَ شَىْءَ لَهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَإِنَّهُ صَاحِبُ شَرٍّ لاَ خَيْرَ فِيهِ وَلَكِنِ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَكَرِهْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهَا ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَنَكَحَتْهُ ‏.‏
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے ان کے معاملہ کے متعلق پوچھا ( کہ کیسے کیا ہوا؟ ) تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور کھانے کے لیے مجھے جو خوراک دینے لگے اس میں کچھ خرابی تھی ( اچھا نہ تھا ) تو میں نے کہا: اگر نفقہ اور سکنی میرا حق ہے تو اسے لے کر رہوں گی لیکن میں یہ ( ردی سدی گھٹیا کھانے کی چیز ) نہ لوں گی، ( میرے شوہر کے ) وکیل نے کہا: نفقہ و سکنی کا تمہارا حق نہیں بنتا۔ ( یہ سن کر ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس ( بات چیت ) کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( وہ سچ کہتا ہے ) تیرے لیے نفقہ و سکنی ( کا حق ) نہیں ہے ۱؎، تم فلاں عورت کے پاس جا کر اپنی عدت پوری کر لو“ ۲؎ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ان کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آتے جاتے رہتے تھے۔ ( پھر کچھ سوچ کر کہ وہاں رہنے سے بےپردگی اور شرمندگی نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں رہ کر اپنی عدت پوری کر لو کیونکہ وہ نابینا ہیں ۳؎، پھر جب ( عدت پوری ہو جائے اور ) تو دوسروں کے لیے حلال ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو“، چنانچہ جب میں حلال ہو گئی ( اور کسی بھی شخص سے شادی کرنے کے قابل ہو گئی ) تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس نے شادی کا پیغام دیا ہے؟“ میں نے کہا: معاویہ نے، اور ایک دوسرے قریشی شخص نے ۴؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا معاویہ تو وہ قریشی لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، رہا دوسرا شخص تو وہ صاحب شر اور لاخیرا ہے ( اس سے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے ) ۵؎، ایسا کرو تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“ فاطمہ کہتی ہیں: ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو لیکن وہ مجھے جچے نہیں ) میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن جب آپ نے مجھے اسامہ بن زید سے تین بار شادی کر لینے کے لیے کہا تو میں نے ( آپ کی بات رکھ لی اور ) ان سے شادی کر لی۔
۵۰
سنن نسائی # ۲۶/۳۲۴۵
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَىْءٍ ‏.‏ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ وَلَكِنِ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ ‏.‏
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ ( شہر سے باہر سفر پر تھے ) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا ( یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے ) ۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے“ اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ( ان کے گھر نہیں بلکہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکو گی، پھر جب تم ( عدت پوری کر کے ) حلال ہو جاؤ تو مجھے خبر دو، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو آپ کو اطلاع دی کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم دونوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے اپنی لاٹھی اتار کر نہیں رکھتے ۱؎“ اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن آپ نے دوبارہ پھر کہا کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں ہمیں بڑی برکت دی اور میں ان کے ذریعہ قابل رشک بن گئی۔