مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۹۱۵

حدیث #۳۵۹۱۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ كَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ثُمَّ إِنَّهُ فَارَقَهَا فَجَاءَ عُمَرُ قُبَاءً فَوَجَدَ ابْنَهُ عَاصِمًا يَلْعَبُ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الدَّابَّةِ فَأَدْرَكَتْهُ جَدَّةُ الْغُلاَمِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ حَتَّى أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالَ عُمَرُ ابْنِي ‏.‏ وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ ابْنِي ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ ‏.‏ قَالَ فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْكَلاَمَ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَهَذَا الأَمْرُ الَّذِي آخُذُ بِهِ فِي ذَلِكَ ‏.‏
کہا مالک نے ایک شخص جانور یا کپڑا یا اور کوئی اسباب خریدے پھر یہ بیع ناجائز معلوم ہو اور مشتری (خریدنے والا) کو حکم ہو کہ وہ چیز بائع (بچنے والا) کو پھیر دے (حالانکہ اس شئے میں کوئی عیب ہوجائے) تو بائع (بچنے والا) کو اس شئے کی قیمت ملے گی اس دن کی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی نہ کہ اس دن کی جس دن وہ پھیرتا ہے کیونکہ جس دن سے وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی اس دن سے وہ اس کا ضامن ہو گیا تھا اب جو کچھ اس میں نقصان ہوجائے وہ اسی پر ہوگا اور جو کچھ زیادتی ہوجائے وہ بھی اسی کی ہوگی اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مال ایسے وقت میں لیتا ہے جب اس کی قدر اور تلاش ہو پھر اس کو وقت میں پھیر دیتا ہے جب کہ وہ بے قدر ہو کوئی اس کو نہ پوچھے تو آدمی ایک شئے خریدتا ہے دس دینار کو پھر اس کو رکھ چھوڑتا ہے اور پھیرتا ہے ایسے وقت میں جب اس کی قیمت ایک دینار ہو تو یہ نہیں ہوسکتا کہ بے چارے بائع (بچنے والا) کا نو دینار کا نقصان کرے یا جس دن خریدا اسی دن اس کی قیمت ایک دینار تھی پھر پھیرتے وقت اس کی قیمت دس دینار ہوگئی تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو ناحق نو دینار کا نقصان دے اسی واسطے وہ قیمت اس دن کی واجب ہوئی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہو۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۳۷/۱۴۶۰
درجہ
Mauquf Daif
زمرہ
باب ۳۷: وصیت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Marriage

متعلقہ احادیث