باب ۱۶: نماز
ابواب پر واپسأَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ قَالُوا كَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا
بدترین قسم کا چور وہ ہے جو نماز سے چوری کرتا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کوئی شخص اپنی نماز کیسے چرا سکتا ہے؟ فرمایا: رکوع و سجود کو پورا نہ کرنے سے۔
الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّينِ
نماز دین کا ستون ہے۔
لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى صَلَاةِ رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ
اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا جو رکوع و سجود کے درمیان اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتا۔
مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو شخص اپنی نماز کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی پابندی کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے نور، حجت اور نجات کا باعث ہوں گے۔