باب ۱۹: سحری و افطار

ابواب پر واپس
۶ حدیث
۰۱
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ
السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ
سحری ایک بابرکت کھانا ہے لہٰذا تم میں سے کوئی ایک گھونٹ پانی پی لے تو اسے نہ چھوڑو کیونکہ سحری کھانے والوں پر اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں۔
۰۲
ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ)
لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ وَأَخَّرُوا السَّحُورَ
سحری میں تاخیر کریں اور افطار میں جلدی کریں۔
۰۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ وَأَخَّرُوا السَّحُورَ
میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ افطار میں جلدی کریں اور سحری میں تاخیر کریں۔
۰۴
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ
السَّحُورُ كُلُّهُ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ
سحری کا کھانا سراسر برکت والا ہے، لہٰذا اس میں کوتاہی نہ کرو، خواہ تم میں سے کوئی ایک گھونٹ پانی ہی پی لے۔
۰۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
تَسَحَّرُوا وَلَوْ بِجَرْعَةِ مَاءٍ
سحری کھاؤ خواہ مٹھی بھر ہی کیوں نہ ہو۔
۰۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ كَسْبٍ حَلَالٍ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ
جس نے روزہ دار کو افطار کرایا اس پر رمضان میں فرشتے درود بھیجتے ہیں اور شب قدر میں جبریل علیہ السلام اس پر درود بھیجتے ہیں۔