ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی بکر سے، انہوں نے ابن شہاب سے، وہ سالم بن عبداللہ سے، اپنے والد سے، حفصہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جس نے یہ کہا: جس نے نماز پڑھی اور اس کا روزہ مکمل نہ ہو، اس نے کہا: طلوع فجر سے پہلے روزہ نہیں رکھتا اسے. ابو عیسیٰ نے کہا: حفصہ کی حدیث ایک ایسی حدیث ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ اس سلسلہ کے علاوہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مرو
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُوَاصِلُوا ". قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ. قَالَ " لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بلا سحر و افطار ) پے در پے روزے نہ رکھا کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلای
ابو بشر نے حمید بن عبد الرحمان حمیری سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے " محرم " کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے ۔
ایک دن جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ایک آدمی ہمارے پاس آیا جس کا لباس بہت سفید تھا اور بہت کالے بال تھے۔ اس پر سفر کا کوئی نشان نظر نہیں آرہا تھا اور ہم میں سے کسی نے اسے پہچانا بھی نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے، اپنے گھٹنوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹیک لگائے، اور اپنے ہاتھ آپ کی رانوں پر رکھتے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "محمد، مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ۔" اس نے جواب دیا اسلام کا مطلب یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صل
انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید کے بارے میں عثمان بن غیث سے پڑھا۔ مجھ سے عبداللہ بن بریدہ نے یحییٰ بن یمار اور حمید بن عبد کی سند سے بیان کیا۔ رحمن الحمیری کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر سے ملے اور ہم نے تقدیر کا ذکر کیا اور اس کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں، انہوں نے کہا: جب تم ان کے پاس لوٹو تو کہو: ابن عمر تم سے معصوم ہیں اور تم ان سے تین مرتبہ معصوم ہو۔ پھر انہوں نے کہا کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ وہ دونوں اکٹھے بیٹھے تھے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے