سنن ابو داؤد — حدیث #۱۶۵۰۱
حدیث #۱۶۵۰۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ . قَالَ فَقَالَ
" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ " . قَالَ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ . قَالَ قُلْتُ مَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ .
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس مہینے میں کسی وقت بھی رات کو نماز کے لیے نہیں اٹھایا جب تک کہ سات راتیں باقی نہ رہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے لیے اٹھایا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی۔ جب چھٹی باقی رہ گئی تو اس نے ہمیں نماز کے لیے نہیں اٹھایا۔ جب پانچویں رات باقی آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز میں کھڑا کیا یہاں تک کہ رات کا نصف گزر گیا۔
تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول، کاش آپ نے آج کی پوری رات میں ہماری نماز پڑھائی ہوتی۔
آپ نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس نے پوری رات عبادت میں گزاری ہے۔ چوتھی رات باقی رہ گئی اس نے ہمیں اٹھنے پر مجبور نہیں کیا۔ جب تیسری بقیہ رات آئی تو آپ نے اپنے اہل و عیال، بیویوں اور لوگوں کو جمع کیا اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم فلاح (کامیابی) سے محروم ہو جائیں۔
میں نے کہا: فلاح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: سحری سے پہلے کھانا۔ پھر اس نے ہمیں باقی مہینے میں نماز کے لیے نہیں اٹھایا۔
راوی
ابوذر رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۶/۱۳۷۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۶: رمضان کی نفل نماز