سنن ابو داؤد — حدیث #۱۹۷۸۶

حدیث #۱۹۷۸۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعَاهُ بِلاَلٌ إِلَى الصَّلاَةِ فَقَالَ مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ ‏.‏ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمَعَةَ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقُلْتُ يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ فَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلاً مُجْهِرًا قَالَ ‏ "‏ فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ ‏"‏ ‏.‏ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ‏.‏
حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو ( پھر سے ) نماز پڑھائی۱؎۔
راوی
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۴۲/۴۶۶۰
درجہ
Hasan Sahih
زمرہ
باب ۴۲: سنت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Prayer #Mother

متعلقہ احادیث