صحیح بخاری — حدیث #۴۲۷۶
حدیث #۴۲۷۶
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلاَفٍ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ، يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ـ وَهْوَ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ ـ أَفْطَرَ وَأَفْطَرُوا. قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الآخِرُ فَالآخِرُ.
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ کہا مجھے زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح کے لیے ) مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ ( دس یا بارہ ہزار کا ) لشکر تھا۔ اس وقت آپ کو مدینہ میں تشریف لائے ساڑھے آٹھ سال پورے ہونے والے تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ جو مسلمان تھے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزے سے تھے اور تمام مسلمان بھی ‘ لیکن جب آپ مقام کدید پر پہنچے جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔ زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے آخری عمل پر ہی عمل کیا جائے گا۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
صحیح بخاری # ۶۴/۴۲۷۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۶۴: مغازی