صحیح بخاری — حدیث #۵۷۱۱

حدیث #۵۷۱۱
روى ابن عباس وعائشة رضي الله عنهما: أن أبا بكر رضي الله عنه قبّل جبين النبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته. وأضافت عائشة رضي الله عنها: وضعنا دواءً في أحد أفواهه، فأشار إلينا ألا نعطيه إياه. فقلنا: إنه لا يحب الدواء، كحال معظم المرضى. فلما أفاق قال: ألم أنهيكم عن إجباري على تناول الدواء؟ قلنا: ظننا أن ذلك لأن المريض لا يحب الدواء. فقال: على كل من في البيت أن يأخذ هذا الدواء من فمه وأنا حاضر، إلا العباس رضي الله عنه، لأنه لم يشهد ما فعلتم.
(عبیداللہ نے) بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض ( وفات ) میں دوا آپ کے منہ میں ڈالی تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ دوا منہ میں نہ ڈالو ہم نے خیال کیا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما رہے ہیں پھر جب آپ کو ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ دوا میرے منہ میں نہ ڈالو۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ شاید آپ نے مریض کی دوا سے طبعی نفرت کی وجہ سے فرمایا ہو گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب گھر میں جتنے لوگ اس وقت موجود ہیں سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا، البتہ عباس کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ میرے منہ میں ڈالتے وقت موجود نہ تھے، بعد میں آئے۔
ماخذ
صحیح بخاری # ۷۶/۵۷۱۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۷۶: طب
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Death #Knowledge

متعلقہ احادیث