صحیح بخاری — حدیث #۵۸۶۱
حدیث #۵۸۶۱
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي، وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ حَتَّى كَثُرُوا فَأَقْبَلَ فَقَالَ
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ ".
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چٹائی کا گھیرا بنا لیتے تھے اور ان گھیرے میں نماز پڑھتے تھے اور اسی چٹائی کو دن میں بچھاتے تھے اور اس پر بیٹھتے تھے پھر لوگ ( رات کی نماز کے وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرنے لگے جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! عمل اتنے ہی کیا کرو جتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( اجر دینے سے ) نہیں تھکتا مگر تم ( عمل سے ) تھک جاتے ہو اور اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے، خواہ وہ کم ہی ہو۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
صحیح بخاری # ۷۷/۵۸۶۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۷۷: لباس