صحیح بخاری — حدیث #۷۴۸

حدیث #۷۴۸
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلُ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ‏"‏‏.‏
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے زید بن اسلم سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کی نماز پڑھی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ ( نماز میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کچھ لینے کو آگے بڑھے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ کچھ پیچھے ہٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر میں لے لیتا تو اس وقت تک تم اسے کھاتے رہتے جب تک دنیا موجود ہے۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
صحیح بخاری # ۱۰/۷۴۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۰: اذان
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Prayer #Paradise #Mother

متعلقہ احادیث