صحیح مسلم — حدیث #۷۵۶۴
حدیث #۷۵۶۴
اعلموا! وفقكم الله. من استطاع التمييز بين الأحاديث الصحيحة والضعيفة، وعرف الرواة الموثوقين والمتهمين (أي الذين اتُهموا بالكذب وغيره)، وجب عليه ألا يروي إلا الحديث الصحيح الأصل، الذي لم يُفصح عن خطئه، وأن يتجنب روايات المتهمين أو المتشددين من أهل البدع. ودليل ذلك قول الله تعالى: "يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بالخبر فتحققوا منه أن تضلوا قوماً بجهالة فتندموا غداً على ما كنتم تعملون". وقال الله تعالى: "واستشهدوا على رجلين أو رجل وامرأتين من اختياركم" (أي الذين عُرفوا بالصدق والخير)، وقال: "دعا الله تعالى إلى شهداء صالحين". يتضح من هذه الآيات أن قول المعتدي غير موثوق، وكذلك يتضح من الحديث الشريف أنه لا يجوز رواية حديث باطل (يحتمل أن يكون باطلاً)، كما هو واضح من القرآن، وهذا الحديث هو نفسه الحديث المشهور المروي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من روى عني حديثًا وظن أنه باطل فهو كاذب». روى الإمام مسلم رحمه الله بسنده عن سيدنا سمرة بن جندب رضي الله عنه وسيدنا مغيرة بن شعبة رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (أي نفس الحديث المذكور أعلاه: من روى عني حديثًا وظن أنه باطل فهو كاذب).
جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (معتبر) اور متہم (جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر“۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔“ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱/۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱: ایمان