صحیح مسلم — حدیث #۷۵۸۴
حدیث #۷۵۸۴
(حدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني:) حدثنا أبو عامر، أي العقادي:) حدثنا رباح عن قيس بن سعد، الذي حدث عن مجاهد. قال مجاهد: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس وبدأ يروي الحديث قائلاً: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم... فلم يستمع ابن عباس لروايته، ولم ينظر إليه. فقال بشير: يا ابن عباس! لماذا لا أراك تستمع إلى حديثي؟ قال: إني أقرأ عليك حديثًا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأنت لا تستمع؟ أجاب ابن عباس رضي الله عنه: "كان هناك زمنٌ إذا سمعنا فيه أحداً يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم...، كانت أعيننا تتجه إليه فوراً، وآذاننا تصغي إليه. أما إذا بدأ الناس يتلونون بألوان شتى، فلم نعد نقبل منهم شيئاً إلا ما نعرفه".
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ حضرت ابن عباسؓ ( نے یہ رویہ رکھا کہ ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے ۔ وہ کہنے لگا : اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) ہے ، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری ( بیان کردہ ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے : رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے ، پھر جب لوگوں نے ( بلا تمیز ) ہر مشکل اور آسان پر سواری ( شروع ) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس ( حدیث ) کے جسے ہم جانتے تھے ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱/۲۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱: ایمان
موضوعات:
#Mother