صحیح مسلم — حدیث #۹۰۵۹

حدیث #۹۰۵۹
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَأَنَا أُرَى، أَنَّ عِنْدَهُ، مِنْهُ عِلْمًا ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لأُمِّهِ وَكَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لاَعَنَ فِي الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَلاَعَنَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سےروایت کی کہ محمود بن ربیع انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان سے بیان کیاکہ حضرت عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے ، ( بیان کیا ) کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میری نظر خراب ہو گئی ہے ، میں اپنی قوم کو نماز پڑھتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کےدرمیان والی وادی میں سیلاب آجاتا ہے ، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انھیں نماز پڑھاؤں تو اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ ( میرگھر ) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو ( مستقل طور پر ) جائے نماز بنالوں ۔ کہا : آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا ۔ ‘ ‘ عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی آپ ﷺ اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ، رسول اللہ ﷺ نے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب فرمائی ، میں نے تشریف آوری کا کہا ، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر ( کے حصے میں ) داخل ہوئے ، پھر پوچھا : ’’تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں ( وہاں ) نماز پڑھوں ؟ ‘ ‘ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، آپ نے دورکعتیں ادا فرمائیں ، پھر سلام پھیر دیا ۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر ( گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھا نے ) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا ۔ ( عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : ( آپ کی آمد کا سن کر ) اردگرد سے محلے کے لوگ آگئے حتی کہ گھر میں خاصی تعدا د میں لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا : مالک بن دخشن کہاں ہے ؟ ان میں سے کسی نے کہا : وہ تو منافق ہے ، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس کے بارے میں ایسا نہ کہو ، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لاالہ الاللہ کہا ہے ؟ ‘ ‘ ( عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : تو لوگوں نے کہا : اللہ اور اس سکے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اس ( الزام لگانے والے ) نےکہا : ہم تو اس کی وجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لے دیکھتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لاالہ الا اللہ کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : میں نے ( بعد میں ) حصین بن محمد انصاری سے ، جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے سرداروں میں سے ہیں ، محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس میں ان ( محمود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کی تصدیق کی ۔
راوی
محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ماخذ
صحیح مسلم # ۵/۱۴۹۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: مساجد اور نماز کی جگہیں
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث