روزہ
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ " لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا رمضان کا تو فرمایا نہ روزہ رکھو تم یہاں تک کہ چاند دیکھو رمضان کا اور نہ روزے موقوف کرو یہاں تک کہ چاند دیکھو شوال کا سو اگر چاند چھپ جائے ابر سے پس گن لو دن رمضان کے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " .
انہوں نے مجھ سے مالک رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا ہے، لہٰذا جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، اور جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو“۔ اگر آپ کے لیے ابر آلود ہے تو اس کے لیے تیاری کریں۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ " لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کر کے نہ روزہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور نہ روزے موقوف کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو اگر ابر ہو تو تیس روزے پور کرلو ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عثمان بن عفان کے زمانے میں چاند دکھائی دیا تیسرے پہر کو تو روزہ نہ توڑا حضرت عثمان نے یہاں تک کہ شام ہوگئی اور آفتاب ڈوب گیا ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْهِلاَلَ، رُئِيَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِعَشِيٍّ فَلَمْ يُفْطِرْ عُثْمَانُ حَتَّى أَمْسَى وَغَابَتِ الشَّمْسُ . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي الَّذِي يَرَى هِلاَلَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ أَنَّهُ يَصُومُ لاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُفْطِرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ رَمَضَانَ . قَالَ وَمَنْ رَأَى هِلاَلَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ لاَ يُفْطِرُ لأَنَّ النَّاسَ يَتَّهِمُونَ عَلَى أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُمْ مَنْ لَيْسَ مَأْمُونًا وَيَقُولُ أُولَئِكَ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ قَدْ رَأَيْنَا الْهِلاَلَ وَمَنْ رَأَى هِلاَلَ شَوَّالٍ نَهَارًا فَلاَ يُفْطِرْ وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ هِلاَلُ اللَّيْلَةِ الَّتِي تَأْتِي . قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ إِذَا صَامَ النَّاسُ يَوْمَ الْفِطْرِ - وَهُمْ يَظُنُّونَ أَنَّهُ مِنْ رَمَضَانَ - فَجَاءَهُمْ ثَبَتٌ أَنَّ هِلاَلَ رَمَضَانَ قَدْ رُئِيَ قَبْلَ أَنْ يَصُومُوا بِيَوْمٍ وَأَنَّ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ أَحَدٌ وَثَلاَثُونَ فَإِنَّهُمْ يُفْطِرُونَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَيَّةَ سَاعَةٍ جَاءَهُمُ الْخَبَرُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لاَ يُصَلُّونَ صَلاَةَ الْعِيدِ إِنْ كَانَ ذَلِكَ جَاءَهُمْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عثمان بن عفان کے زمانے میں شام کو ہلال کا چاند نظر آیا تھا تو عثمان نے شام تک افطار نہیں کیا اور سورج غروب ہوگیا۔ یحییٰ نے کہا: میں نے مالک کو رمضان کا چاند اکیلے دیکھنے والے کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ روزہ رکھتا ہے اور اس کے لیے روزہ چھوڑنا مناسب نہیں، یہ جانتے ہوئے بھی وہ رمضان کا دن ہے۔ فرمایا: جس نے اکیلے شوال کا چاند دیکھا اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ لوگ اس پر تہمت لگا رہے ہیں جب تک کہ وہ ان میں سے روزہ افطار کرے۔ کون محفوظ نہیں ہے اور جب ان پر چاند نظر آتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے چاند دیکھا ہے اور جس نے شوال کا چاند دن میں دیکھا تو وہ روزہ نہ افطار کرے اور روزہ پورا کرے۔ اس دن رات کا چاند آنے والا ہے۔ یحییٰ نے کہا کہ میں نے مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر لوگ فطر کے دن روزہ رکھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ رمضان ہے تو اچانک ان کے پاس اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان کے روزے سے ایک دن پہلے رمضان کا چاند نظر آیا تھا اور ان کا دن اتوار ہے۔ وہ اس دن روزہ افطار کر لیتے تھے جس وقت ان کو خبر آتی تھی سوائے اس کے کہ اگر اس کے بعد ان کے پاس پہنچ جاتی تو وہ عید کی نماز نہیں پڑھتے۔ طلوع آفتاب...
۰۵
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ يَصُومُ إِلاَّ مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ .
عبداللہ بن عمر نے کہا روزہ کسی شخص کا درست نہیں ہوتا جب تک کہ نیت نہ کرے قبل صبح صادق کے ۔ حضرت ام المومنین عائشہ اور ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی ایسا ہی فرمایا
۰۶
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ ذَلِكَ .
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا سے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ازواج مطہرات ہیں، اس سے ملتی جلتی بات بیان کی۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ " .
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ لوگ اچھے رہیں گے اپنے دین میں جب تک وہ روزہ جلدی افطار کریں گے ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ " .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ لوگ اچھے رہیں گے جب تک روزہ جلدی کھولیں گے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَ يَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الأَسْوَدِ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَا ثُمَّ يُفْطِرَانِ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ .
حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان نماز پڑھتے تھے مغرب کی رمضان میں جب سیاہی ہوتی تھی پچھان کی طرف پھر بعد نماز کے روزہ کھرلتے تھے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۳۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ . فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ " . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص بولا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے دروازہ پر اور میں سن رہی تھی اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح ہو جاتی ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں روزہ کی نیت سے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں بھی جنبی ہوتا ہوں اور صبح ہو جاتی ہے روزہ کی نیت سے تو میں غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں بولا وہ شخص یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم جیسے تھوڑی ہیں اللہ جل جلالہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے اور پچھلے گناہ سب بخش دیئے تو غصے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں امید رکھتا ہوں کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ جاننے والا پرہیز گاری کی باتوں کو میں ہوں گا ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمَا قَالَتَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ .
حضرت ام المومنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی رہتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے اور صبح ہو جاتی تھی رمضان میں پھر روزہ رکھتے تھے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، يَقُولُ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ - وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ - فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ . فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمَّىِ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَلَتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ . قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ وَاللَّهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ . قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ . قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي فَإِنَّهَا بِالْبَابِ فَلْتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلْتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ . فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ عِلْمَ لِي بِذَاكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ .
ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں اور میرے باپ عبدالرحمن دونوں بیٹھے مروان بن حکم کے پاس اور مروان ان دنوں میں حاکم تھے مدینہ کے تو ان سے ذکر کیا گیا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جو شخص جنبی ہو اور صبح ہو جائے تو اس کا روزہ نہ ہوگا مروان نے کہا قسم دیتا ہوں تم اے عبدالرحمن تم جاؤ ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ کے پاس اور پوچھو ان سے یہ مسئلہ تو گئے عبدالرحمن اور گیا میں ساتھ ان کے یہاں تک کہ پہنچے ہم ام المومنین عائشہ کے پاس تو سلام کیا ان کو عبدالرحمن نے پھر کہا اے ام المومنین ہم بیٹھے تھے مروان بن حکم کے پاس ان سے ذکر ہوا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جس شخص کو صبح ہو جائے اور وہ جنبی ہو تو اس کا روزہ نہ ہوگا فرمایا حضرت عائشہ نے ایسا نہیں ہے جیسا کہا ابوہریرہ نے اے عبدالرحمن کیا تو منہ پھیرتا ہے اس کام سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے کہا عبدالرحمن نے نہیں قسم اللہ کی فرمایا حضرت عائشہ نے میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ ان کو صبح ہو جاتی تھی اور وہ جنبی ہوتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے پھر روزہ رکھتے اس دن کا ۔ کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم یہاں تک کہ پہنچے ام المومنین سلمہ کے پاس اور پوچھا ہم نے ان سے اس مسئلہ کو انہوں نے بھی یہ کہا جو حضرت عائشہ نے کہا کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم اور آئے مروان بن حکم کے پاس ان سے عبدالرحمن نے بیان کیا قول حضرت عائشہ اور ام سلمہ کا تو کہا مروان نے قسم دیتا ہوں میں تم کو اے ابومحمد تم سوار ہو کر جاؤ میرے جانور پر جو دروازہ پر ہے ابوہریرہ کے پاس کیونکہ وہ اپنی زمین میں ہے عقیق میں اور اطلاع کرو ان کو اس مسئلہ سے تو سوار ہوئے عبدالرحمن اور میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا یہاں تک کہ آئے ہم ابوہریرہ کے پاس تو ایک ساعت تک باتیں کیں ان سے عبدالرحمن نے پھر بیان کیا ان سے اس مسئلہ کو تو ابوہریرہ نے کہا مجھے علم نہیں تھا اس مسئلہ کا بلکہ ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا تھا ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمَا قَالَتَا إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ .
ام المومنین عائشہ اور ام المومنین سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے اور صبح ہو جاتی تھی پھر روزہ رکھتے تھے ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَجْدًا شَدِيدًا فَأَرْسَلَ امْرَأَتَهُ تَسْأَلُ لَهُ عَنْ ذَلِكَ فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَرَجَعَتْ فَأَخْبَرَتْ زَوْجَهَا بِذَلِكَ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا وَقَالَ لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُ يُحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ . ثُمَّ رَجَعَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ " . فَأَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَّ أَخْبَرْتِيهَا أَنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ " . فَقَالَتْ قَدْ أَخْبَرْتُهَا فَذَهَبَتْ إِلَى زَوْجِهَا فَأَخْبَرَتْهُ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا وَقَالَ لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ " .
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بوسہ دیا اپنی عورت کو اور وہ روزہ دار تھا رمضان میں سو اس کو بڑا رنج ہوا اور اس نے اپنی عورت کو بھیجا ام المومنین ام سلمہ کے پاس کہ پوچھے ان سے اس مسئلہ کو تو آئی وہ عورت ام سلمہ کے پاس اور بیان کیا ان سے، ام سلمہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے ہیں روزے میں تب وہ اپنے خاوند کے پاس گئی اور اس کو خبر دی پس اور زیادہ رنج ہوا اس کے خاوند کو اور کہا اس نے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سے نہیں ہیں اللہ اپنے رسول کے لئے جو چاہتا ہے حلال کر دیتا ہے پھر آئی اس کی عورت ام سلمہ کے پاس اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں موجود ہیں سو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہوا اس عورت کو تو بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام سلمہ نے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں نہ کہہ دیا اس سے کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں ام سلمہ نے کہا میں نے کہہ دیا لیکن وہ گئی اپنے خاوند کے پاس اور اس کو خبر کی سو اس کو اور زیادہ رنج ہوا اور وہ بولا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سے نہیں ہیں حلال کرتا ہے اللہ جل جلہ لہ جو چاہتا ہے اپنے رسول کے لئے غصہ ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اللہ کی تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے اور تم سب سے زیادہ پہچانتا ہوں اس کی حدوں کو ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ . ثُمَّ ضَحِكَتْ .
حضرت ام المومنین عائشہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دیتے تھے اپنی بعض بیبیوں کو اور وہ رورزہ دار ہوتے تھے پھر ہنستی تھیں ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَاتِكَةَ ابْنَةَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، - امْرَأَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - كَانَتْ تُقَبِّلُ رَأْسَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ صَائِمٌ فَلاَ يَنْهَاهَا .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عاتکہ بیوی حضرت عمر کی بوسہ دیتی تھیں سر کو حضرت عمر کے اور حضرت عمر روزہ دار ہوتے تھے لیکن ان کو منع نہیں کرتے تھے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا هُنَالِكَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْنُوَ مِنْ أَهْلِكَ فَتُقَبِّلَهَا وَتُلاَعِبَهَا فَقَالَ أُقَبِّلُهَا وَأَنَا صَائِمٌ قَالَتْ نَعَمْ .
عائشہ بن طلحة سے روایت ہے کہ وہ ام المومنین عائشہ کے پاس بیٹھی تھیں اتنے میں ان کے خاوند عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق آئے اور وہ روزہ دار تھے تو کہا ان سے حضرت عائشہ نے تم کیوں نہیں جاتے اپنی بی بی کے پاس بوسہ لو ان کا اور کھیلو ان سے تو کہا عبداللہ نے بوسہ لوں میں ان کا اور میں روزہ دار ہوں حضرت عائشہ نے کہا ہاں ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، كَانَا يُرَخِّصَانِ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ .
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابوہریرہ اور سعد بن ابی وقاص روزہ دار کو اجازت دیتے تھے بوسہ کی ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ تَقُولُ وَأَيُّكُمْ أَمْلَكُ لِنَفْسِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
امام مالک کو پہنچا کہ ام المومنین جب بیان کرتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے روزہ میں تو فرماتیں کہ تم میں سے کون زیادہ قادر ہے اپنے نفس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۹
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لَمْ أَرَ الْقُبْلَةَ لِلصَّائِمِ تَدْعُو إِلَى خَيْرٍ .
یحییٰ نے کہا، مالک نے کہا، ہشام بن عروہ نے کہا، عروہ بن الزبیر نے کہا کہ میں نے کبھی کسی روزہ دار کے قبلہ کو خیر کی دعوت دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنِ الْقُبْلَةِ، لِلصَّائِمِ فَأَرْخَصَ فِيهَا لِلشَّيْخِ وَكَرِهَهَا لِلشَّابِّ .
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا روزہ دار کو بوسہ لینا کیسا ہے تو اجازت دی بوڑھے کو اور مکروہ رکھا جوان کے لئے ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَنْهَى عَنِ الْقُبْلَةِ، وَالْمُبَاشَرَةِ، لِلصَّائِمِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر منع کرتے تھے روزہ دار کو بوسہ اور مباشرت سے ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالأَحْدَثِ فَالأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے مکہ کو جس سال مکہ فتح ہوا رمضان میں تو روزہ رکھا یہاں تک کہ پہنچے کدید کو پھر افطار کیا تو لوگوں نے بھی افطار کیا اور صحابہ کا یہ قاعدہ تھا کہ نئے کام کو لیتے تھے پھر لیا اس نئے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں میں
۲۴
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ وَقَالَ " تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ " . وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَرْجِ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ ثُمَّ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ - قَالَ - فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ .
بعض صحابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا لوگوں کو سفر میں جس سال مکہ فتح ہوا ہے روزہ نہ رکھنے کا فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکہ تم قوی رہو دشمن کے مقابلہ میں اور روزہ رکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ابوبکر بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا اس صحابی نے جس نے حدیث بیان کی مجھ سے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرج میں کہ پانی ڈالا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پیاس کی وجہ سے یا گرمی کی وجہ سے پھر کہا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ بعض لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے سبب سے تو جب پہنچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدید میں ایک پیالہ پانی کا منگا یا اور پانی پیا تب لوگوں نے بھی روزہ کھول ڈالا ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ہم نے سفر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں تو نہ عیب کیا روزہ دار نے روزہ کھولنے والے پر اور نہ بے روزہ دار نے روزہ دار پر ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۵
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں روزہ رکھا کرتا ہوں تو کیا روزہ رکھو سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا جی چاہے تو روزہ رکھ چاہے نہ رکھ ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر روزہ نہیں رکھتے تھے سفر میں۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ وَنُسَافِرُ مَعَهُ فَيَصُومُ عُرْوَةُ وَنُفْطِرُ نَحْنُ فَلاَ يَأْمُرُنَا بِالصِّيَامِ .
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عروہ بن زیبر سفر کرتے تھے رمضان میں اور ہم سفر کرتے تھے ساتھ ان کے تو روزہ رکھتے تھے اور ہم نہ رکھتے تھے سو ہم کو حکم نہیں کرتے تھے روزہ رکھنے کا ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ فَعَلِمَ أَنَّهُ دَاخِلٌ الْمَدِينَةَ مِنْ أَوَّلِ يَوْمِهِ دَخَلَ وَهُوَ صَائِمٌ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ مَنْ كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَلِمَ أَنَّهُ دَاخِلٌ عَلَى أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ يَوْمِهِ وَطَلَعَ لَهُ الْفَجْرُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ دَخَلَ وَهُوَ صَائِمٌ . قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي رَمَضَانَ فَطَلَعَ لَهُ الْفَجْرُ وَهُوَ بِأَرْضِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ فَإِنَّهُ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقْدَمُ مِنْ سَفَرِهِ وَهُوَ مُفْطِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُفْطِرَةٌ حِينَ طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا فِي رَمَضَانَ أَنَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يُصِيبَهَا إِنْ شَاءَ .
امام مالک سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جب رمضان میں سفر میں ہوتے پھر ان کو معلوم ہوتا کہ آج کے روز شہر میں داخل ہوں گے دوپہر سے اول تو روزہ رکھ کر داخل ہوتے
۳۰
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۵۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا . فَقَالَ لاَ أَجِدُ . فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقِ تَمْرٍ . فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ " كُلْهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ ڈالا رمضان میں تو حکم کیا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بردہ آزاد کرنے کا یا دو مہینہ روزے رکھنے کا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا سو اس نے کہا مجھ سے یہ کوئی کام نہیں ہو سکتا اتنے میں ایک ٹوکرا کھجور کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیا اور کہا کہ اس کو صدقہ کر دے وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں کھل گئیں پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہی کھا لے اس کو ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضْرِبُ نَحْرَهُ وَيَنْتِفُ شَعْرَهُ وَيَقُولُ هَلَكَ الأَبْعَدُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا ذَاكَ " . فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي وَأَنَا صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً " . فَقَالَ لاَ . فَقَالَ " هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَاجْلِسْ " . فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي . فَقَالَ " كُلْهُ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ " . قَالَ مَالِكٌ قَالَ عَطَاءٌ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا سینہ کوٹتا ہوا اور بال نوچتا ہوا اور کہتا تھا ہلاک ہوا وہ شخص جو دور ہے نیکیوں سے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہوا بولا میں نے صحبت کی اپنی بی بی سے رمضان کے روزہ میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک بردہ آزاد کر سکتا ہے بولا نہیں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ یا گائے ہدی کر سکتا ہے بولا نہیں اتنے میں ایک ٹوکرا کھجور کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو لے اور صدقہ کر وہ بولا مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھالے اس کو اور ایک روزہ رکھ لے اس دن کے بدلے میں جس دن تو نے یہ کام کیا ہے ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ - قَالَ - ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ إِذَا صَامَ لَمْ يَحْتَجِمْ حَتَّى يُفْطِرَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ پچھنے لگاتے تھے روزے میں پھر اس کو چھوڑ دیا پھر جب روزہ دار ہوتے پچھنے نہ لگواتے یہاں تک کہ روزہ افطار کر تے ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَا يَحْتَجِمَانِ وَهُمَا صَائِمَانِ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن عمر پچھنے لگواتے تھے روزے میں
۳۴
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لاَ يُفْطِرُ . قَالَ وَمَا رَأَيْتُهُ احْتَجَمَ قَطُّ إِلاَّ وَهُوَ صَائِمٌ . قَالَ مَالِكٌ لاَ تُكْرَهُ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ إِلاَّ خَشْيَةً مِنْ أَنْ يَضْعُفَ وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَمْ تُكْرَهْ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً احْتَجَمَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ سَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ أَرَ عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَمْ آمُرْهُ بِالْقَضَاءِ لِذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي احْتَجَمَ فِيهِ لأَنَّ الْحِجَامَةَ إِنَّمَا تُكْرَهُ لِلصَّائِمِ لِمَوْضِعِ التَّغْرِيرِ بِالصِّيَامِ فَمَنِ احْتَجَمَ وَسَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ حَتَّى يُمْسِيَ فَلاَ أَرَى عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
عروہ بن زبیر پچھنے لگاتے تھے روزے میں پھر افطار نہیں کر تے تھے کہا ہشام نے میں نے کبھی نہیں دیکھا عروہ کو پچھنے لگاتے ہوئے مگر وہ روزہ سے ہوتے تھے ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا عاشورہ کے دن لوگ روزہ رکھتے تھے جاہلیت میں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے زمانہ جاہلیت میں پھر جب آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تو روزہ رکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اور لوگوں کو بھی حکم کیا اس دن روزہ رکھنے کا پھر جب فرض ہوا رمضان تو رمضان ہی کے روزے فرض رہ گئے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا سو جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ " .
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے انہوں نے سنا معاویہ بن ابی سفیان سے کہتے تھے جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے اے اہل مدینہ کہاں ہیں علماء تمہارے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے اس دن کو یہ دن عاشورہ کا ہے اس دن روزہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے اور میں روزہ دار ہوں سو جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہلا بھیجا حارث بن ہشام کو کہ کل عاشورے کا روزہ ہے تو روزہ رکھ اور حکم کر اپنے گھر والوں کو وہ روزہ رکھیں۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرْسَلَ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ غَدًا، يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُمْ وَأْمُرْ أَهْلَكَ أَنْ يَصُومُوا .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھے بتایا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عمر بن خطاب نے حارث بن ہشام کو بھیجا تھا کہ کل یعنی یوم عاشورہ کا روزہ رکھو اور اپنے گھر والوں کو روزہ رکھنے کا حکم دو۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن روزے رکھنے سے ایک یوم الفطر دوسرے یوم الاضحی میں ۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ، يَقُولُونَ لاَ بَأْسَ بِصِيَامِ الدَّهْرِ إِذَا أَفْطَرَ الأَيَّامَ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهَا وَهِيَ أَيَّامُ مِنًى وَيَوْمُ الأَضْحَى وَيَوْمُ الْفِطْرِ فِيمَا بَلَغَنَا . قَالَ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ .
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر وہ ان دنوں میں روزہ افطار کرے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے تو سال بھر کے روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے روزوں کے بارے میں جو کہ منیٰ کے ایام، عید الاضحیٰ اور یوم فطر ہیں، جہاں تک ہم نے سنا ہے۔ اس نے کہا، "یہ سب سے زیادہ پیاری بات ہے جو میں نے اس سلسلے میں سنی ہے۔"
۴۰
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۶۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ فَقَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
عبداللہ بن عمر سے ورایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تہہ کے روزے رکھنے سے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے ہیں فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں کھلایا جاتا ہوں پلایا جاتا ہوں ۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " . قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچو تم تہہ کے روزے رکھنے سے لوگوں نے کہا آپ رکھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے رات کو میرا رب کھلا دیتا ہے اور پلا دیتا ہے ۔ سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے نذر کی ایک مہینہ روزے رکھنے کی اب اس کو نفل روزہ رکھنا درست ہے جواب دیا کہ پہلے نذر کے روزے رکھ لے پھر نفل رکھے ۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۱
الحديث 40. قال يحيى (رضي الله عنه): سمعت مالكا (رضي الله عنه) يقول فيمن فرض عليه صيام شهرين متتابعين في قتل خطأ أو ظهار[1]. وبعد ذلك كان يجد صعوبة في الإفطار، فإن شفي وتمكن من الصيام فأفضل ما سمعت أنه لا يجوز له تأخيره. ويقضي بقية صيامه على ما أتمه من صيام قبله. وكذلك المرأة التي وجب عليها الصيام لقتل غير متعمد، فلا تصوم إذا حاضت في منتصف صومها. لكن إذا نضجت فلا يؤخر الصيام، ويكون بقية الصيام على ما كان قد صامه من قبل. ولا يجوز لمن فرض عليه صيام شهرين متتابعين على حكم الكتاب إلا الوجع والحيض. فلا يجوز لمثل هذا الإنسان أن يفطر بعد بدء الرحلة. كما جاء في القرآن الكريم: "فمن كان منكم مريضاً أو على سفر فليصم يوماً آخر". قال يحيى - رضي الله عنه - قال مالك - رضي الله عنه -: وهذا أحسن ما سمعت لي في هذا الباب.
امام مالک کو پہنچاہے عبداللہ بن عمر سے پوچھتے کیا کوئی روزہ رکھے کسی کی طرف سے یا نماز پڑھے کسی کی طرف سے بولے نہ کوئی روزہ رکھے کسی کی طرف سے اور نہ کوئی نماز پڑھے کسی کی طرف سے ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۲
قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ مِنْ رَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا أَوْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ بَدَنَةٍ فَأَوْصَى بِأَنْ يُوَفَّى ذَلِكَ عَنْهُ مِنْ مَالِهِ فَإِنَّ الصَّدَقَةَ وَالْبَدَنَةَ فِي ثُلُثِهِ وَهُوَ يُبَدَّى عَلَى مَا سِوَاهُ مِنَ الْوَصَايَا إِلاَّ مَا كَانَ مِثْلَهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ مِنَ النُّذُورِ وَغَيْرِهَا كَهَيْئَةِ مَا يَتَطَوَّعُ بِهِ مِمَّا لَيْسَ بِوَاجِبٍ وَإِنَّمَا يُجْعَلُ ذَلِكَ فِي ثُلُثِهِ خَاصَّةً دُونَ رَأْسِ مَالِهِ لأَنَّهُ لَوْ جَازَ لَهُ ذَلِكَ فِي رَأْسِ مَالِهِ لأَخَّرَ الْمُتَوَفَّى مِثْلَ ذَلِكَ مِنَ الأُمُورِ الْوَاجِبَةِ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ وَصَارَ الْمَالُ لِوَرَثَتِهِ سَمَّى مِثْلَ هَذِهِ الأَشْيَاءِ الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَتَقَاضَاهَا مِنْهُ مُتَقَاضٍ فَلَوْ كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا لَهُ أَخَّرَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ مَوْتِهِ سَمَّاهَا وَعَسَى أَنْ يُحِيطَ بِجَمِيعِ مَالِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ .
مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سلیمان بن یسار سے اس طرح کی خبر ملی، مالک نے کہا: جو شخص غلام آزاد کرنے یا روزہ رکھنے یا زکوٰۃ یا زکوٰۃ کی نذر مان کر فوت ہو جائے، تو انہوں نے سفارش کی کہ یہ اس کی طرف سے اس کے مال میں سے ادا کیا جائے، کیونکہ زکوٰۃ اور زکوٰۃ اس کا ایک تہائی حصہ ہیں، اور یہ دوسرے احکام پر منحصر ہے۔ سوائے اس کے جو اس کے مثل ہو، اور وہ اس لیے کہ اس پر نذر اور اس طرح کے دوسرے کام واجب نہیں ہیں جو وہ اپنی مرضی سے کرتا ہے جو واجب نہیں ہے۔ بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ اس کا اطلاق اس کے ایک تہائی پر ہوتا ہے، اس کے سرمائے کو چھوڑ کر، کیونکہ اگر اسے اپنے سرمائے کے ساتھ ایسا کرنے کی اجازت ہوتی تو میت اس طرح کے معاملات میں تاخیر کرتی۔ اس پر کیا واجب ہے، چاہے موت آجائے اور مال اس کے ورثاء کے پاس چلا جائے۔ اس نے ایسی چیزوں کا نام لیا جو اسے اس سے نہیں ملی تھیں۔ اگر اس کے لیے یہ جائز ہوتا کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جب تک کہ اس نے اپنی موت کے وقت ان کا نام نہ رکھا ہو اور یہ امید ہو کہ وہ اپنا سارا مال محفوظ کر لے گا تو ایسا نہیں ہے۔ اس کے لیے۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُسْأَلُ هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، فَيَقُولُ لاَ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلاَ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ.
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا جا رہا تھا کہ کیا کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے گا یا کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے گا؟ فرمایا: کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھتا اور نہ کوئی کسی کے لیے نماز پڑھتا ہے۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ، خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَفْطَرَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ أَمْسَى وَغَابَتِ الشَّمْسُ . فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ . فَقَالَ عُمَرُ الْخَطْبُ يَسِيرٌ وَقَدِ اجْتَهَدْنَا . قَالَ مَالِكٌ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ الْخَطْبُ يَسِيرٌ الْقَضَاءَ فِيمَا نُرَى - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَخِفَّةَ مَؤُونَتِهِ وَيَسَارَتِهِ يَقُولُ نَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ .
خالد بن اسلم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک روزہ افطار کیا رمضان میں اور اس دن ابر تھا ان کو یہ معلوم ہوا کہ شام ہوگئی اور آفتاب ڈوب گیا پس ایک شخص آیا اور بولا یا امیر المومنین آفتاب نکل آیا حضرت عمر نے فرمایا اس کا تدارک سہل ہے ہم نے اپنے ظن پر عمل کیا تھا ۔
۴۶
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ يَصُومُ قَضَاءَ رَمَضَانَ مُتَتَابِعًا مَنْ أَفْطَرَهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ فِي سَفَرٍ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جس شخص کے رمضان کے روزے قضا ہوں بیماری سے یا سفر سے تو ان کی قضا لگاتار رکھے۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ اخْتَلَفَا فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُ . وَقَالَ الآخَرُ لاَ يُفَرِّقُ بَيْنَهُ . لاَ أَدْرِي أَيَّهُمَا قَالَ يُفَرِّقُ بَيْنَهُ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ نے اختلاف کیا رمضان کی قضا میں ایک نے کہا کہ رمضان کے روزوں کی قضا پے درپے رکھنے ضروری نہیں دوسرے نے کہا پے درپے رکھنا ضروری ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ کس نے ان دونوں میں سے پے درپے رکھنے کو کہا اور کس نے یہ کہا کہ پے درپے رکھنا ضروری نہیں ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنِ اسْتَقَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَىْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص قصدا قے کرے روزے میں تو اس پر قضا واجب ہے اور جس کو خود قے آجائے تو اس پر قضا نہیں ہے ۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُسْأَلُ عَنْ قَضَاءِ، رَمَضَانَ فَقَالَ سَعِيدٌ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ لاَ يُفَرَّقَ قَضَاءُ رَمَضَانَ وَأَنْ يُوَاتَرَ . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِيمَنْ فَرَّقَ قَضَاءَ رَمَضَانَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةٌ وَذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَحَبُّ ذَلِكَ إِلَىَّ أَنْ يُتَابِعَهُ . قَالَ مَالِكٌ مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِي رَمَضَانَ سَاهِيًا أَوْ نَاسِيًا أَوْ مَا كَانَ مِنْ صِيَامٍ وَاجِبٍ عَلَيْهِ أَنَّ عَلَيْهِ قَضَاءَ يَوْمٍ مَكَانَهُ .
یحیی بن سعید نے سنا سعید بن مسیب سے پوچھا گیا ان سے رمضان کی قضا کے بارے میں تو کہا سعید نے میرے نزدیک یہ بات اچھی ہے کہ رمضان کی قضا پے درپے رکھے ۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۷۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ مُجَاهِدٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَسَأَلَهُ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ الْكَفَّارَةِ أَمُتَتَابِعَاتٍ أَمْ يَقْطَعُهَا قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لَهُ نَعَمْ يَقْطَعُهَا إِنْ شَاءَ . قَالَ مُجَاهِدٌ لاَ يَقْطَعُهَا فَإِنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ . قَالَ مَالِكٌ وَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَكُونَ مَا سَمَّى اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ يُصَامُ مُتَتَابِعًا . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الْمَرْأَةِ تُصْبِحُ صَائِمَةً فِي رَمَضَانَ فَتَدْفَعُ دَفْعَةً مِنْ دَمٍ عَبِيطٍ فِي غَيْرِ أَوَانِ حَيْضِهَا ثُمَّ تَنْتَظِرُ حَتَّى تُمْسِيَ أَنْ تَرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَلاَ تَرَى شَيْئًا ثُمَّ تُصْبِحُ يَوْمًا آخَرَ فَتَدْفَعُ دَفْعَةً أُخْرَى وَهِيَ دُونَ الأُولَى ثُمَّ يَنْقَطِعُ ذَلِكَ عَنْهَا قَبْلَ حَيْضَتِهَا بِأَيَّامٍ فَسُئِلَ مَالِكٌ كَيْفَ تَصْنَعُ فِي صِيَامِهَا وَصَلاَتِهَا قَالَ مَالِكٌ ذَلِكَ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَإِذَا رَأَتْهُ فَلْتُفْطِرْ وَلْتَقْضِ مَا أَفْطَرَتْ فَإِذَا ذَهَبَ عَنْهَا الدَّمُ فَلْتَغْتَسِلْ وَتَصُومُ . وَسُئِلَ عَمَّنْ أَسْلَمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَلْ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ كُلِّهِ أَوْ يَجِبُ عَلَيْهِ قَضَاءُ الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمَ فِيهِ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءُ مَا مَضَى وَإِنَّمَا يَسْتَأْنِفُ الصِّيَامَ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ وَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَقْضِيَ الْيَوْمَ الَّذِي أَسْلَمَ فِيهِ .
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ میں ساتھ تھا مجاہد کے اور طواف کر رہے تھے خانہ کعبہ کا اتنے میں ایک آدمی آیا اور پوچھا کہ قسم کے کفارے کے روزے پے درپے ہیں یا جدا جدا حمید نے کہا ہاں جدا جدا بھی رکھ سکتا ہے اگر چاہے مجاہد نے کہا نہیں کیونکہ ابی بن کعب کی قرأت میں ہے ثلثة ایام متتابعات یعنی روزے تین دن کے پے درپے ۔