قربانی کے جانور
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۲۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا فَأَشَارَ بِيَدِهِ وَقَالَ " أَرْبَعًا " . وَكَانَ الْبَرَاءُ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ يَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لاَ تُنْقِي " .
براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا قربانی میں کن جانوروں سے بچنا چاہئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے بتایا کہ چار سے بچنا چاہئے براء بن عازب بھی انگلیوں سے بتایا کرتے اور کہتے کہ میرا ہاتھ چوڑا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے، ایک لنگڑا جو چل نہ سکے اور کانا جس کا کانا پن کھلا ہو اور بیمار جس کی بیماری ظاہر ہوا اور دبلا جس میں گودا نہیں ہے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۲۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَتَّقِي مِنَ الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الَّتِي لَمْ تُسِنَّ وَالَّتِي نَقَصَ مِنْ خَلْقِهَا . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ان قربانیوں سے بچتے جو مسنہ نہ ہوتیں اور جس کا کوئی عضو نہ ہوتا ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ . قَالَ نَافِعٌ فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلاً أَقْرَنَ ثُمَّ أَذْبَحَهُ يَوْمَ الأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ . قَالَ نَافِعٌ فَفَعَلْتُ ثُمَّ حُمِلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذُبِحَ الْكَبْشُ وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ . قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ لَيْسَ حِلاَقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى . وَقَدْ فَعَلَهُ ابْنُ عُمَرَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے قربانی کی ایک بار مدینہ میں تو مجھ کو حکم کیا ایک بکرا سینگ دار خریدنے کا اور اس کے ذبح کرنے کا عیدالاضحی کے روز عیدگاہ میں میں نے ایسا ہی کیا پھر وہ بکرا ذبح کیا ہوا بیجھا گیا عبداللہ بن عمر کے پاس جب انہوں نے اپنا سر منڈایا، ان دنوں میں وہ بیمار تھے عید کی نماز کو بھی نہیں آئے کہا نافع نے عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ سر منڈانا قربانی کرنے والے پر واجب نہیں ہے مگر عبداللہ بن عمر نے یوں ہی سر منڈایا ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ، ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ، رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَضْحَى فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِضَحِيَّةٍ أُخْرَى . قَالَ أَبُو بُرْدَةَ لاَ أَجِدُ إِلاَّ جَذَعًا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلاَّ جَذَعًا فَاذْبَحْ " .
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ ابا بردہ بن نیار نے ذبح کی قربانی اپنی قبل اس بات کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذبح کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قربانی کا ان کو حکم دیا انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو اب کچھ نہیں صرف ایک بکری ہے ایک سال کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کو ذبح کر ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ، ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ، يَوْمَ الأَضْحَى وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِضَحِيَّةٍ أُخْرَى .
عبادہ بن تمیم سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر نے ذبح کی قربانی اپنی دسویں تاریج کی فجر سے پیشتر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قربانی کا حکم دیا ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ " كُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا " .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے منع کیا تھا قربانی کا گوشت رکھ چھوڑنے سے تین دن سے زیادہ پھر فرمایا بعد اس کے کھاؤ اور دو اور توشہ بناؤ اور رکھ چھوڑو۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَتْ صَدَقَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادَّخِرُوا لِثَلاَثٍ وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ " . قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ بِضَحَايَاهُمْ وَيَجْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ " وَمَا ذَلِكَ " . أَوْ كَمَا قَالَ . قَالُوا نَهَيْتَ عَنْ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا " .
عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا قربانیوں کے گوشت کھانے سے بعد تین دن کے عبداللہ بن ابی بکر نے کہا میں نے یہ عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا وہ بولیں سچ کہا عبداللہ بن واقد نے میں نے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہ کچھ لوگ جنگل کے رہنے والے آ
۰۸
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا . فَقَالَ انْظُرُوا أَنْ يَكُونَ هَذَا مِنْ لُحُومِ الأَضْحَى . فَقَالُوا هُوَ مِنْهَا . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا فَقَالُوا إِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَكَ أَمْرٌ . فَخَرَجَ أَبُو سَعِيدٍ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضْحَى بَعْدَ ثَلاَثٍ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الاِنْتِبَاذِ فَانْتَبِذُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلاَ تَقُولُوا هُجْرًا " . يَعْنِي لاَ تَقُولُوا سُوءًا .
ابو سعید خدری سفر سے آئے ان کے گھر کے لوگوں نے گوشے سامنے رکھے انہوں نے کہا دیکھو کہیں قربانی کا گوشت نہ ہو انہوں نے کہا قربانی ہی کا تو ہے، ابوسعید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا تھا، لوگوں نے کہا بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں دوسرا حکم فرمایا: ابوسعید گھر سے نکلے اس امر کی تحقیق کرنے کو، جب ان کو خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تم کو منع کیا تھا قربانی کا گوشت کھانے سے بعد تین روز کے لیکن اب کھاؤ اور صدقہ دو اور رکھ چھوڑو اور میں نے تم کو منع کیا تھا نبیذ بنانے سے بعض برتنوں میں اب بناؤ جس برتن میں چاہو لیکن جو چیز نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے اور میں نے تم کو منع کیا تھا قبروں کی زیارت سے اب زیارت کرو قبروں کی مگر منہ سے بری بات نہ نکالو ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم نے نحر کیا حدیبیہ کے سال اونٹ ساتھ آدمیوں کے طرف سے اور گائے ذبح کی سات آدمیوں کی طرف سے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدُ فَصَارَتْ مُبَاهَاةً .
عمارہ بن صیاد سے روایت ہے کہ عطاء بن یسار نے خبر دی ان کو، ابوایوب انصاری سے سن کر کہتے تھے کہ ہم قربانی کرتے تھے ایک بکری اپنے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے بعد اس کے فخر سمجھ کر ہر ایک کی طرف سے ایک ایک بکری کرنا شروع کی ۔ کہا مالک نے میں نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک اونٹ یا گائے یا بکری جس کا وہ مالک ہو ذبح کرے اور سب آدمیوں کو ثواب میں شریک کرے لیکن یہ صورت کہ ایک آدمی ایک اونٹ یا گائے یا بکری خرید کرے اور کئی آدمیوں کو قربانی میں شریک کرے یعنی ہر ایک سے حصة رسد قیمت لے اور اس کے موافق گوشت دے مکروہ ہے ہم نے تو یہ سنا ہے کہ قربانی میں شریک نہیں ہو سکتا بلکہ ایک گھر کے لوگوں کی طرف سے ایک قربانی ہو سکتی ہے ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ مَا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلاَّ بَدَنَةً وَاحِدَةً أَوْ بَقَرَةً وَاحِدَةً . قَالَ مَالِكٌ لاَ أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے اور پنے اہل بیت کی طرف سے ایک انوٹ یا ایک گائے سے زیادہ نہیں قربانی کیا
۱۲
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۳۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ الأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الأَضْحَى . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، مِثْلُ ذَلِكَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا قربانی دو دن تک درست ہے بعد عیدالضحی کے ۔ حضرت علی نے بھی ایسا ہی ارشاد فرمایا
۱۳
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۴۰
وعن نافع أن عبد الله بن عمر لم يضح قط على ما تحمل المرأة في بطنها. قال مالك: «الأضحية سنة وليست فريضة، ولست لمن يقدر على هذه السنة فيتركها». الموطأ بسم الله الرحمن الرحيم الكتاب 24 كتاب الذبائح الفصل الأول ذكر اسم الله على ما يذبح
نافع کی روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کبھی اس چیز کی قربانی نہیں کی جو عورت اپنے پیٹ میں لے کر جاتی تھی۔ مالک رحمہ اللہ نے کہا: قربانی سنت ہے فرض نہیں، اور میں کسی ایسے شخص کے لیے نہیں ہوں جو اس سنت پر قادر ہو اور اسے چھوڑ دے۔ الموطا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کتاب 24 قربانی کی کتاب باب اول ذبح کی جانے والی چیز پر خدا کے نام کا ذکر
۱۴
مؤطا امام مالک # ۲۳/۱۰۴۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ . قَالَ مَالِكٌ الضَّحِيَّةُ سُنَّةٌ وَلَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ وَلاَ أُحِبُّ لأَحَدٍ مِمَّنْ قَوِيَ عَلَى ثَمَنِهَا أَنْ يَتْرُكَهَا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر پیٹ کے بچے کی طرف سے قربانی نہیں کرتے تھے ۔