۱۵ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ رَمَيْتُ طَائِرَيْنِ بِحَجَرٍ وَأَنَا بِالْجُرْفِ، فَأَصَبْتُهُمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَمَاتَ فَطَرَحَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَمَّا الآخَرُ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُذَكِّيهِ بِقَدُومٍ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيَهُ فَطَرَحَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَيْضًا ‏.‏
نافع نے کہا میں نے دو چڑیاں ماریں پتھر سے جرف میں ایک مر گئی اس کو پھینک دیا عبداللہ بن عمر نے اور دوسری کو دوڑے ذبح کرنے کو بسولے سے وہ مر گئی ذبح سے پہلے، اس کو بھی پھینک دیا عبداللہ بن عمر نے قاسم بن محمد؛ اس جانور کو کھانا مکروہ جانتے تھے جو لاٹھی یا گولی سے مارا جائے سعید بن مسیب مکروہ جانتے تھے ہلے ہوئے جانور کا مارنا اس طرح جیسے شکار کو مارتے ہیں تیر وغیرہ سے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، كَانَ يَكْرَهُ مَا قَتَلَ الْمِعْرَاضُ وَالْبُنْدُقَةُ ‏.‏
اس نے مالک کی سند سے مجھ سے کہا کہ اس نے سنا ہے کہ القاسم بن محمد المرد اور البندقع کے قتل کو ناپسند کرتے تھے۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۴
وروي عن مالك أن سعيد بن المسيب كان يكره أن يرى الدابة تقتل مثل صيد الصيد بسهم أو نحوه. قال مالك: لا أرى بأساً بالحيوان الذي يقتله المعراض فيحفر في جسده فيموت ويؤكل، لقول الله تبارك وتعالى: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا!» "ليبلوكم الله في صيد ما أخذت أيديكم ورماحكم" القرآن الخامس، 94. فكل ما استطاع الرجل أن يصيبه بيده أو برمحه أو بأي سلاح فيغرق في بدن الصيد ويموته فهو صيد حلال كما أثبت الله.
مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعید بن المسیب کو یہ ناپسند تھا کہ وہ کسی جانور کو تیر سے یا اس طرح کے جانور کو مارا جائے۔ مالک نے کہا: میں اس جانور میں کوئی حرج نہیں دیکھتا جسے کسی ضدی جانور نے مارا اور اس کی لاش کھود لی، پھر وہ مر جاتا ہے اور کھا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اے ایمان والو! "تاکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ اور نیزوں نے پکڑا ہے اس کی تلاش میں خدا تمہاری آزمائش کرے۔" Quran V, 94. انسان جس چیز کو بھی اپنے ہاتھ سے یا نیزے سے یا کسی ہتھیار سے مار سکتا ہے وہ شکار کے جسم میں ڈوب جاتا ہے۔ اور اگر وہ مر جائے تو یہ ایک حلال کھیل ہے جیسا کہ خدا نے ثابت کیا ہے۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۵
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ كُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ إِنْ قَتَلَ وَإِنْ لَمْ يَقْتُلْ ‏.‏
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی سند سے، نافع کی سند سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ وہ نشان زدہ کتے کے بارے میں کہا کرتے تھے، یہ جو بھی پکڑ لے، اگر وہ مارے تو تم ٹھیک ہو۔ اور اگر اسے قتل نہ کیا جائے...
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَمَّنْ سَمِعَ نَافِعًا، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَإِنْ أَكَلَ وَإِنْ لَمْ يَأْكُلْ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، کسی نے نافع سے سنا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا، خواہ وہ کھائے، خواہ نہ کھائے۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۷
وقال عبد الله بن عمر: إن الكلب لو أكل بعض الصيد صح طعامه. سئل سعد بن أبي وقاص سؤال: إذا أكل الكلب المتعلم الفريسة بعد قتلها؟ قال سعد ما دام الجلد باقيا ولو نباتا واحدا. قال مالك: وسمعت أهل العلم يقولون: إن الصقور والنسور والصقور وأشباهها من الحيوانات إذا تعلمت وعقلت، كالكلاب المدربة تعقل، فحيواناتها المقتولة تصح أيضا، بشرط إطلاقها بالبسملة. وقال صاحبه: إذا أفلتت الفريسة من مخالب الصقر أو من فم الكلب وماتت فلا يصح أكلها. قال مالك: وما استطاع الرجل أن يذبحه، فلا يذبحه، وليبق في مخالب الصقر، أو في فم الكلب، حتى يقتله الصقر أو الكلب، ثم طعامه. غير صحيح
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں اگرچہ وہ کتا اس شکار میں سے کچھ کھالے تب بھی اس کا کھانا درست ہے ۔ سعد بن ابی وقاص سے سوال ہوا کہ سیکھتا ہوا کتا اگر شکار کو مار کر کھالے تو؟ سعد نے کہا کہ تو کھالے جس قدر بچ رہے اگرچہ ایک ہی بوٹی ہو ۔ کہا مالک نے میں نے سنا اہل علم سے کہتے تھے کہ باز اور عقاب اور صقر اور جو جانور ان کے مشابہ ہیں اگر ان کو تعلیم دی جائے اور وہ سمجھدار ہو جائیں جیسے سکھائے ہوئے کتے سمجھدار ہوتے ہیں تو ان کا مارا ہوا جانور بھی درست ہے بشرطیکہ بسم اللہ کہہ کر چھوڑے جائیں ۔۔ کہا مالک نے اگر باز کے پنچے سے یا کتے کے منہ سے شکار چھوٹ کر مر جائے تو اس کا کھانا درست نہیں ۔ کہا مالک نے نے جس جانور کے ذبح کرنے پر آدمی قادر ہو جائے مگر اس کو ذبح نہ کرے اور باز کے پنجے یا کتے کے منہ میں رہنے دے یہاں تک کہ باز یا کتا اس کو مار ڈالے تو اس کا کھانا درست نہیں ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۸
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَنَهَاهُ عَنْ أَكْلِهِ، ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ ‏{‏أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ‏}‏ قَالَ نَافِعٌ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِأَكْلِهِ ‏.‏
عبدالرحمن بن ابی ہریرہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے اس جانور کے بارے جس کو دریا پھینک دے، تو منع کیا عبداللہ نے اس کے کھانے سے، پھر عبداللہ گھر گئے اور کلام اللہ کو منگوایا اور پڑھا اس آیت کو "حلال کیا گیا واسطے تمہارے شکار دریا کا اور طعام دریا کا " نافع نے کہا پھر عبداللہ بن عمر نے مجھ کو بھیجا عبدالرحمن بن ابی اہریرہ کے پاس یہ کہنے کو کہ اس جانور کا کھانا درست ہے ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْحِيتَانِ، يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا فَقَالَ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
سعد جاری مولیٰ عمر بن خطاب نے کہا کہ میں نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے جو مچھلیاں ان کو مچھلیاں مار ڈالیں یا سردی سے مر جائیں انہوں نے کہا ان کا کھانا درست ہے پھر میں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمَا كَانَا لاَ يَرَيَانِ بِمَا لَفَظَ الْبَحْرُ بَأْسًا ‏.‏
ابوہریرہ اور زید بن ثابت اس جانور کا کھانا جس کو دریا پھینک دے درست جانتے تھے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۶۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ الْجَارِ قَدِمُوا فَسَأَلُوا مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَقَالَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَقَالَ اذْهَبُوا إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَاسْأَلُوهُمَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ ائْتُونِي فَأَخْبِرُونِي مَاذَا يَقُولاَنِ فَأَتَوْهُمَا فَسَأَلُوهُمَا فَقَالاَ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ فَأَتَوْا مَرْوَانَ فَأَخْبَرُوهُ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ قَدْ قُلْتُ لَكُمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ بِأَكْلِ الْحِيتَانِ يَصِيدُهَا الْمَجُوسِيُّ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْبَحْرِ ‏ "‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا أُكِلَ ذَلِكَ مَيْتًا فَلاَ يَضُرُّهُ مَنْ صَادَهُ ‏.‏
ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ کچھ لوگ جار کے رہنے والے مروان کے پاس آئے اور پوچھا کہ جس جانور کو دریا پیھنک دے اس کا کیا حکم ہے مروان نے کہا اس کا کھانا درست ہے اور تم جاؤ زید بن ثابت اور ابوہریرہ کے پاس اور پوچھو ان سے پھر مجھ کو آن کر خبر کرو کیا کہتے ہیں، انہوں نے پوچھا ان دونوں سے دونوں نے کہا درست ہے ان لوگوں نے پھر آن کر مروان سے کہا مروان نے کہا میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۶۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو ثعلبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر درندے دانت والے کا کھانا حرام ہے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۶۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
کہا مالک نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو نہ کھائیں کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا " اور پیدا کیا ہم نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو سواری اور آرائش کے واسطے"، اور فرمایا باقی چوپاؤں کے حق میں "پیدا کیا ہم نے ان کو تاکہ تم ان پر سوار ہو اور ان کو کھاؤ" اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے "تاکہ لیں نام اللہ کا ان چوپاؤں پر جو دیا اللہ نے ان کو سو کھاؤ ان میں سے اور کھلاؤ فقیر اور مانگنے والے کو" ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۶۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ كَانَ أَعْطَاهَا مَوْلاَةً لِمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَفَلاَ انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ میمونہ کے غلام کی مردار بکری کے پاس سے گزرے ، یہ بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو دی تھی۔ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کام میں نہ لائے تم کھال اس کی، انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مردار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا مردار کا کھانا حرام ہے ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۶۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دُبِغَ الإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کھال دباغت کی جائے پاک ہو جائے گی ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۶۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ ‏.‏
کہا مالک نے مضطر کو درست ہے کہ مردہ پیٹ بھر کر کھائے اور اس میں سے کچھ توشہ اٹھا رکھے لیکن حلال مل جائے تو اس توشہ کو پھینک دے ۔