۹۶ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ: وَذلِكَ فِيمَا نُرَى - وَاللهُ أَعْلَمُ - أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ، أَوِ الْوَلِيدَةَ. أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ. ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ، أَوْ تَكَارَى مِنْهُ: أُعْطِيكَ دِينَاراً، أَوْ دِرْهَماً، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ، أَوْ أَقَلَّ. عَلَى أَنِّي إِنْ أَخَذْتُ السِّلْعَةَ، أَوْ رَكِبْتُ مَا تَكَارَيْتُ مِنْكَ، فَالَّذِي أَعْطَيْتُكَ هُوَ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ. أَوْ مِنْ كِرَاءِ الدَّابَّةِ، وَإِنْ تَرَكْتُ ابْتِيَاعَ السِّلْعَةِ، أَوْ كِرَاءَ الدَّابَّةِ، فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ بَاطِلٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. قَالَ مَالِكٌ: وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا، أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِأَنْ يَبْتَاعَ الْعَبْدَ التَّاجِرَ الْفَصِيحَ، بِالْأَعْبُدِ مِنَ الْحَبَشَةِ، أَوْ مِنْ جِنْسٍ مِنَ الْأَجْنَاسِ، لَيْسُوا مِثْلَهُ فِي الْفَصَاحَةِ، وَلاَ فِي التِّجَارَةِ، وَالنَّفَاذِ، وَالْمَعْرِفَةِ. لاَ بَأْسَ بِهذَا، أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ الْعَبْدَ بِالْعَبْدَيْنِ، أَوْ بِالْأَعْبُدِ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ. إِذَا اخْتَلَفَ، فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ .فَإِنْ أَشْبَهَ بَعْضُ ذلِكَ بَعْضاً، حَتَّى يَتَقَارَبَ، فَلاَ تَأْخُذَنْ مِنْهُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ، إِلَى أَجَلٍ. وَإِنِ اخْتَلَفَتْ أَجْنَاسُهُمْ. قَالَ مَالِكٌ: وَلاَ بَأْسَ بِأَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْ ذلِكَ، قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ. إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ. قَالَ مَالِكٌ: لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُسْتَثْنَى جَنِينٌ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، إِذَا بِيعَتْ. لِأَنَّ ذلِكَ غَرَرٌ. لاَ يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ (1) أُنْثَى أو حَسَنٌ (2) أَوْ قَبِيحٌ، أَوْ نَاقِصٌ، أَوْ تَامٌّ، أَوْ حَيٌّ أَوْ مَيِّتٌ؟. وَذلِكَ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا. قَالَ مَالِكٌ، فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْعَبْدَ، أَوِ الْوَلِيدَةَ، بِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ. ثُمَّ يَنْدَمُ الْبَائِعُ. فَيَسْأَلُ الْمُبْتَاعَ أَنْ يُقِيلَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ نَقْداً. أَوْ إِلَى أَجَلٍ. وَيَمْحُو عَنْهُ الْمِائَةَ دِينَارٍ الَّتِي لَهُ. قَالَ مَالِكٌ: لاَ بَأْسَ بِذلِكَ. وَإِنْ نَدِمَ الْمُبْتَاعُ، فَسَأَلَ الْبَائِعَ أَنْ يُقِيلَهُ فِي الْجَارِيَةِ، أَوِ الْعَبْدِ، وَيَزِيدَهُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْداً، أَوْ إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنَ الْأَجَلِ الَّذِي اشْتَرَى إِلَيْهِ الْعَبْدَ، أَوِ الْوَلِيدَةَ. فَإِنَّ ذلِكَ لاَ يَنْبَغِي. وَإِنَّمَا كَرِهَ ذلِكَ؛ لِأَنَّ الْبَائِعَ كَأَنَّهُ بَاعَ مِنْهُ مِائَةَ دِينَارٍ لَهُ، إِلَى سَنَةٍ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، بِجَارِيَةٍ، وَبِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْداً. أَوْ إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنَ السَّنَةِ. فَدَخَلَ فِي ذلِكَ بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَى أَجَلٍ. قَالَ مَالِكٌ، فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مِنَ الرَّجُلِ الْجَارِيَةَ بِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ يَشْتَرِيهَا بِأَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ الثَّمَنِ الَّذِي بَاعَهَا بِهِ إِلَى أَبْعَدَ مِنْ ذلِكَ الْأَجَلِ، الَّذِي بَاعَهَا إِلَيْهِ: إِنَّ ذلِكَ لاَ يَصْلُحُ. وَتَفْسِيرُ مَا كَرِهَ مِنْ ذلِكَ، أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ إِلَى أَجَلٍ. ثُمَّ يَبْتَاعُهَا إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنْهُ. يَبِيعُهَا بِثَلاَثِينَ دِينَاراً إِلَى شَهْرٍ، ثُمَّ يَبْتَاعُهَا بِسِتِّينَ دِينَاراً، إِلَى سَنَةٍ، أَوْ إِلَى نِصْفِ سَنَةٍ. فَصَارَ، إِنْ رَجَعَتْ إِلَيْهِ سِلْعَتُهُ بِعَيْنِهَا، وَأَعْطَاهُ صَاحِبُهُ ثَلاَثِينَ دِينَاراً، إِلَى شَهْرٍ؛ بِسِتِّينَ دِينَاراً، إِلَى سَنَةٍ، أَوْ إِلَى نِصْفِ سَنَةٍ. فَهذَا لاَ يَنْبَغِي
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا عربان کی بیع سے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بائع (بچنے والا) سے یا جانور والے سے کہہ دے کہ میں تجھے ایک دینار یا کم زیادہ دیتا ہوں اس شرط پر کہ اگر میں اس غلام یا لونڈی کو خرید لوں گا تو وہ دینار اس کی قیمت میں سے سمجھنا یا جانور پر سواری کروں گا تو کرایہ میں سے خیال کرنا ورنہ میں اگر غلام یا لونڈی تجھے پھیر دوں یا جانور پر سوار نہ ہوں تو دینار مفت تیرا مال ہو جائے گا اس کو واپس نہ لوں گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو غلام تجارت کا فن خوب جانتا ہو زبان اچھی بولتا ہو اس کا بدلنا حبشی جاہل غلام سے درست ہے اسی طرح اور اسباب کا جو دوسرے اسباب کی مثل نہ ہو بلکہ اس سے زیادہ کھرا ہو اور ایک غلام کا دو غلاموں کے عوض میں یا کئی غلاموں کے بدلے میں درست ہے جب وہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے کھلا کھلا فرق رکھتی ہوں اور جو ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو دو چیزوں کا ایک کے بدلے میں لینا درست نہیں ۔ کہا مالک نے سوا کھانے کی چیزوں کے اور اسباب کا بیچنا قبضہ سے پہلے درست ہے مگر اور کسی کے ہاتھ نہ اسی بائع (بچنے والا) کے ہاتھ بشرطیکہ قیمت دے چکا ہو۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص حاملہ لونڈی کو بیچے مگر اس کے حمل کو نہ بیچے تو درست نہیں کس واسطے کیا معلوم ہے کہ وہ حمل مرد ہے یا عورت خوبصورت ہے یا بدصورت پورا ہے یا لنڈور زندہ ہے یا مردہ تو کس طور سے اس کی قیمت لونڈی کی قیمت میں سے وضع کرے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص ایک لونڈی یا غلام سو دینار کو خریدے اور قیمت ادا کرنے کی ایک میعاد مقرر کرے (مثلا ایک مہینے کے وعدے پر) پھر بائع (بچنے والا) شرمندہ ہو کر خریدار سے کہے کہ اس بیع کو فسخ کر ڈال اور دس دینار مجھ سے نقد یا اس قدر میعاد میں لے لے تو درست ہے اور اگر مشتری (خریدنے والا) شرمندہ ہو کر بائع (بچنے والا) سے کہے کہ بیع فسح کر ڈال اور دس دینار مجھ سے نقد لے لے یا اس میعاد کے بعد جو ٹھہری تھی تو درست نہیں کیونکہ یہ ایسا ہوا گویا بائع (بچنے والا) نے اپنے میعاد سے سو دینار کو ایک لونڈی اور دس دینار نقد یا میعادی پر بیع کیا تو سونے کی بیع سونے سے ہوئی میعاد پر اور یہ درست نہیں ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت عمر نے فرمایا جو شخص غلام کو بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ مال بائع (بچنے والا) کو ملے گا مگر جب خریدار شرط کر لے کہ وہ مال میں لوں گا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ خریدار اگر شرط کر لے گا اس مال کے لینے کی تو وہ مال اسی کو ملے گا نقد ہو یا کسی پر قرض ہو یا اسباب ہو معلوم ہو یا نہ معلوم ہو اگرچہ وہ مال اس زر ثمن سے زیادہ ہو۔ جس کے عوض میں وہ غلام بکا ہے کیونکہ غلام کے مال میں مولیٰ پر زکوة نہیں ہے وہ غلام ہی کا سمجھا جائے گا اور اس غلام کی اگر کوئی لونڈی ہوگی تو مولیٰ کو اس سے وطی کرنا درست ہو جائے گا اور اگر یہ غلام آزاد ہو جاتا یا مکاتب تو اس کا مال اسی کو ملتا اگر مفلس ہو جاتا تو قرض خواہوں کو مل جاتا اس کے مولیٰ سے مؤ اخذہ نہ ہوتا۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، وَهِشَامَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، كَانَا يَذْكُرَانِ فِي خُطْبَتِهِمَا عُهْدَةَ الرَّقِيقِ فِي الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ مِنْ حِينِ يُشْتَرَى الْعَبْدُ أَوِ الْوَلِيدَةُ وَعُهْدَةَ السَّنَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَا أَصَابَ الْعَبْدُ أَوِ الْوَلِيدَةُ فِي الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ مِنْ حِينِ يُشْتَرَيَانِ حَتَّى تَنْقَضِيَ الأَيَّامُ الثَّلاَثَةُ فَهُوَ مِنَ الْبَائِعِ وَإِنَّ عُهْدَةَ السَّنَةِ مِنَ الْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَقَدْ بَرِئَ الْبَائِعُ مِنَ الْعُهْدَةِ كُلِّهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا أَوْ وَلِيدَةً مِنْ أَهْلِ الْمِيرَاثِ أَوْ غَيْرِهِمْ بِالْبَرَاءَةِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ وَلاَ عُهْدَةَ عَلَيْهِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ فَإِنْ كَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ الْبَرَاءَةُ وَكَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ مَرْدُودًا وَلاَ عُهْدَةَ عِنْدَنَا إِلاَّ فِي الرَّقِيقِ ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ابان بن عثمان اور ہشام بن اسماعیل دونوں نے خطبے میں بیان کیا کہ غلام اور لونڈی کے عیب کی جواب دہی بائع (بچنے والا) پر تین روز تک ہے خریدنے کے وقت سے اور ایک جواب دہی سال بھر تک ہے ۔ کہا مالک نے غلام اور لونڈی کو جو عارضہ لاحق ہو تین دن کے اندر وہ بائع (بچنے والا) کی طرف سے سمجھا جائے گا اور مشتری (خریدنے والا) کو اس کے پھیر دینے کا اختیار ہوگا اور اگر جنون یا جذام یا برص نکلے تو ایک برس کے اندر پھیر دینے کا اختیار ہوگا بعد ایک سال کے پھر بائع (بچنے والا) سب باتوں سے بری ہو جائے اس کو کسی عیب کی جواب دہی لازم نہ ہوگی اگر کسی نے وارثوں میں سے یا اور لوگوں میں سے ایک غلام یا لونڈی کو پیچا اس شرط سے کہ بائع (بچنے والا) عیب کی جواب دہی سے بری ہے تو پھر بائع (بچنے والا) پر جواب دہی لازم نہ ہوگی البتہ اگر جان بوجھ کر اس نے کوئی عیب چھپایا ہوگا تو جواب دہی اس پر لازم ہوگی اور مشتری (خریدنے والا) کو پھیر دینے کا اختیار ہوگا ۔ یہ جواب دہی خاص غلام یا لونڈی میں ہے اور چیزوں میں نہیں ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، بَاعَ غُلاَمًا لَهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَبَاعَهُ بِالْبَرَاءَةِ فَقَالَ الَّذِي ابْتَاعَهُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِالْغُلاَمِ دَاءٌ لَمْ تُسَمِّهِ لِي ‏.‏ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ بَاعَنِي عَبْدًا وَبِهِ دَاءٌ لَمْ يُسَمِّهِ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بِعْتُهُ بِالْبَرَاءَةِ ‏.‏ فَقَضَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنْ يَحْلِفَ لَهُ لَقَدْ بَاعَهُ الْعَبْدَ وَمَا بِهِ دَاءٌ يَعْلَمُهُ فَأَبَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَحْلِفَ وَارْتَجَعَ الْعَبْدَ فَصَحَّ عِنْدَهُ فَبَاعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ مَنِ ابْتَاعَ وَلِيدَةً فَحَمَلَتْ أَوْ عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَكُلَّ أَمْرٍ دَخَلَهُ الْفَوْتُ حَتَّى لاَ يُسْتَطَاعَ رَدُّهُ فَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ إِنَّهُ قَدْ كَانَ بِهِ عَيْبٌ عِنْدَ الَّذِي بَاعَهُ أَوْ عُلِمَ ذَلِكَ بِاعْتِرَافٍ مِنَ الْبَائِعِ أَوْ غَيْرِهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ أَوِ الْوَلِيدَةَ يُقَوَّمُ وَبِهِ الْعَيْبُ الَّذِي كَانَ بِهِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ فَيُرَدُّ مِنَ الثَّمَنِ قَدْرُ مَا بَيْنَ قِيمَتِهِ صَحِيحًا وَقِيمَتِهِ وَبِهِ ذَلِكَ الْعَيْبُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْعَبْدَ ثُمَّ يَظْهَرُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ يَرُدُّهُ مِنْهُ وَقَدْ حَدَثَ بِهِ عِنْدَ الْمُشْتَرِي عَيْبٌ آخَرُ إِنَّهُ إِذَا كَانَ الْعَيْبُ الَّذِي حَدَثَ بِهِ مُفْسِدًا مِثْلُ الْقَطْعِ أَوِ الْعَوَرِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْعُيُوبِ الْمُفْسِدَةِ فَإِنَّ الَّذِي اشْتَرَى الْعَبْدَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ بِقَدْرِ الْعَيْبِ الَّذِي كَانَ بِالْعَبْدِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ وُضِعَ عَنْهُ وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَغْرَمَ قَدْرَ مَا أَصَابَ الْعَبْدَ مِنَ الْعَيْبِ عِنْدَهُ ثُمَّ يَرُدُّ الْعَبْدَ فَذَلِكَ لَهُ وَإِنْ مَاتَ الْعَبْدُ عِنْدَ الَّذِي اشْتَرَاهُ أُقِيمَ الْعَبْدُ وَبِهِ الْعَيْبُ الَّذِي كَانَ بِهِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ فَيُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُهُ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ الْعَبْدِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ بِغَيْرِ عَيْبٍ مِائَةَ دِينَارٍ وَقِيمَتُهُ يَوْمَ اشْتَرَاهُ وَبِهِ الْعَيْبُ ثَمَانُونَ دِينَارًا وُضِعَ عَنِ الْمُشْتَرِي مَا بَيْنَ الْقِيمَتَيْنِ وَإِنَّمَا تَكُونُ الْقِيمَةُ يَوْمَ اشْتُرِيَ الْعَبْدُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ رَدَّ وَلِيدَةً مِنْ عَيْبٍ وَجَدَهُ بِهَا وَكَانَ قَدْ أَصَابَهَا أَنَّهَا إِنْ كَانَتْ بِكْرًا فَعَلَيْهِ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي إِصَابَتِهِ إِيَّاهَا شَىْءٌ لأَنَّهُ كَانَ ضَامِنًا لَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ بَاعَ عَبْدًا أَوْ وَلِيدَةً أَوْ حَيَوَانًا بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَهْلِ الْمِيرَاثِ أَوْ غَيْرِهِمْ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ فِيمَا بَاعَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَلِمَ فِي ذَلِكَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ فَإِنْ كَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ تَبْرِئَتُهُ وَكَانَ مَا بَاعَ مَرْدُودًا عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْجَارِيَةِ تُبَاعُ بِالْجَارِيَتَيْنِ ثُمَّ يُوجَدُ بِإِحْدَى الْجَارِيَتَيْنِ عَيْبٌ تُرَدُّ مِنْهُ قَالَ تُقَامُ الْجَارِيَةُ الَّتِي كَانَتْ قِيمَةَ الْجَارِيَتَيْنِ فَيُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُهَا ثُمَّ تُقَامُ الْجَارِيَتَانِ بِغَيْرِ الْعَيْبِ الَّذِي وُجِدَ بِإِحْدَاهُمَا تُقَامَانِ صَحِيحَتَيْنِ سَالِمَتَيْنِ ثُمَّ يُقْسَمُ ثَمَنُ الْجَارِيَةِ الَّتِي بِيعَتْ بِالْجَارِيَتَيْنِ عَلَيْهِمَا بِقَدْرِ ثَمَنِهِمَا حَتَّى يَقَعَ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حِصَّتُهَا مِنْ ذَلِكَ عَلَى الْمُرْتَفِعَةِ بِقَدْرِ ارْتِفَاعِهَا وَعَلَى الأُخْرَى بِقَدْرِهَا ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى الَّتِي بِهَا الْعَيْبُ فَيُرَدُّ بِقَدْرِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا مِنْ تِلْكَ الْحِصَّةِ إِنْ كَانَتْ كَثِيرَةً أَوْ قَلِيلَةً وَإِنَّمَا تَكُونُ قِيمَةُ الْجَارِيَتَيْنِ عَلَيْهِ يَوْمَ قَبْضِهِمَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْعَبْدَ فَيُؤَاجِرُهُ بِالإِجَارَةِ الْعَظِيمَةِ أَوِ الْغَلَّةِ الْقَلِيلَةِ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا يُرَدُّ مِنْهُ إِنَّهُ يَرُدُّهُ بِذَلِكَ الْعَيْبِ وَتَكُونُ لَهُ إِجَارَتُهُ وَغَلَّتُهُ وَهَذَا الأَمْرُ الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ الْجَمَاعَةُ بِبَلَدِنَا وَذَلِكَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً ابْتَاعَ عَبْدًا فَبَنَى لَهُ دَارًا قِيمَةُ بِنَائِهَا ثَمَنُ الْعَبْدِ أَضْعَافًا ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا يُرَدُّ مِنْهُ رَدَّهُ وَلاَ يُحْسَبُ لِلْعَبْدِ عَلَيْهِ إِجَارَةٌ فِيمَا عَمِلَ لَهُ فَكَذَلِكَ تَكُونُ لَهُ إِجَارَتُهُ إِذَا آجَرَهُ مِنْ غَيْرِهِ لأَنَّهُ ضَامِنٌ لَهُ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنِ ابْتَاعَ رَقِيقًا فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ فَوَجَدَ فِي ذَلِكَ الرَّقِيقِ عَبْدًا مَسْرُوقًا أَوْ وَجَدَ بِعَبْدٍ مِنْهُمْ عَيْبًا أَنَّهُ يُنْظَرُ فِيمَا وُجِدَ مَسْرُوقًا أَوْ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَإِنْ كَانَ هُوَ وَجْهَ ذَلِكَ الرَّقِيقِ أَوْ أَكْثَرَهُ ثَمَنًا أَوْ مِنْ أَجْلِهِ اشْتَرَى وَهُوَ الَّذِي فِيهِ الْفَضْلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ كَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ مَرْدُودًا كُلُّهُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي وُجِدَ مَسْرُوقًا أَوْ وُجِدَ بِهِ الْعَيْبُ مِنْ ذَلِكَ الرَّقِيقِ فِي الشَّىْءِ الْيَسِيرِ مِنْهُ لَيْسَ هُوَ وَجْهَ ذَلِكَ الرَّقِيقِ وَلاَ مِنْ أَجْلِهِ اشْتُرِيَ وَلاَ فِيهِ الْفَضْلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ رُدَّ ذَلِكَ الَّذِي وُجِدَ بِهِ الْعَيْبُ أَوْ وُجِدَ مَسْرُوقًا بِعَيْنِهِ بِقَدْرِ قِيمَتِهِ مِنَ الثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَى بِهِ أُولَئِكَ الرَّقِيقَ ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ایک غلام بیچا آٹھ سو درہم کو اور مشتری (خریدنے والا) سے شرط کرلی کہ عیب کی جواب دہی سے میں بری ہوا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) نے کہا غلام کو ایک بیماری ہے تم نے مجھ سے اس کا بیان نہیں کیا تھا پھر دونوں میں جھگڑا ہوا اور گئے عثمان بن عفان کے پاس مشتری (خریدنے والا) بولا کہ انہوں نے ایک غلام میرے ہاتھ بیچا اور اس کو ایک بیماری تھی انہوں نے بیان نہیں کیا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں نے شرط کرلی تھی عیب کی جواب دہی میں نہ کروں گا حضرت عثمان نے حکم کیا کہ عبداللہ بن عمر حلف کریں میں نے یہ غلام بیچا اور میرے علم میں اس کو کوئی بیماری نہ تھی عبداللہ نے قسم کھالے سے انکار کیا تو وہ غلام پھر آیا عبداللہ پاس اور اس بیماری سے اچھا ہو گیا پھر عبداللہ نے اس کو ایک ہزار پانچ سو درہم کا بیچا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ مسئلہ اتفاقی ہے کہ جو شخص خریدے ایک لونڈی کو پھر وہ حاملہ ہو جائے خریدار سے یا غلام خرید لے پھر اس کو آزاد کر دے یا کوئی اور امر ایسا کرے جس کے سبب سے اس غلام یا لونڈی کا پھیرنا نہ ہو سکے بعد اس کے گواہ گواہی دیں کہ اس غلام یا لونڈی میں بائع (بچنے والا) کے پاس سے کوئی عیب تھا یا بائع (بچنے والا) خود اقرار کر لے کہ میرے پاس یہ عیب تھا یا اور کسی صورت سے معلوم ہو جائے کہ عیب بائع (بچنے والا) کے پاس ہی تھا تو اس غلام اور لونڈی کی خرید کے روز کے عیب سمیت قیمت لگا کر بے عیب کی بھی قیمت لگا دیں دونوں قیمتوں میں جس قدر فرق ہو اس قدرت مشتری (خریدنے والا) بائع (بچنے والا) سے پھیر لے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک غلام خریدا پھر اس میں ایسا عیب پایا جس کی وجہ سے وہ غلام بائع (بچنے والا) کو بھیر سکتا ہے مگر مشتری (خریدنے والا) کے پاس جب وہ غلام آیا اس میں دوسرا عیب ہو گیا مثلا اس کا کوئی عضو کٹ گیا یا کانا ہو گیا تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے چاہے اس غلام کو رکھ لے اور بائع (بچنے والا) سے عیب کا نقصان لے لے چاہے غلام کو واپس کر دے اور عیب کا تاوان دے اگر وہ غلام مشتری (خریدنے والا) کے پاس مر گیا تو عیب سمیت قیمت لگا دیں گے خرید کے روز کی مثلا جس دن خریدا تھا اس روز عیب سمیت اس غلام کی قیمت اسی دینار تھی اور بے عیب سو دینار تو مشتری (خریدنے والا) بیس دینار بائع (بچنے والا) سے مجرا لے گا مگر قیمت اس کی لفائی جائے گی جس دن خریدا تھا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر ایک شخص نے لونڈی خریدی پھر عیب کی وجہ سے اسے واپس کر دیا مگر اس سے جماع کر چکا تھا تو اگر وہ لونڈی باکرہ تھی تو جس قدر اس کی قیمت میں نقصان ہو گیا مشتری (خریدنے والا) کو دینا ہوگا اور اگر ثییبہ تھی تو مشتری (خریدنے والا) کو کچھ دینا نہ ہو گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص غلام یا لونڈی یا اور کوئی جانور بیچے یہ شرط لگا کر کہ اگر کوئی عیب نکلے گا تو میں بری ہوں یا بائع (بچنے والا) عیب کی جواب دہی سے بری ہو جائے گا مگر جب جان بوجھ کر کوئی عیب اس میں ہو اور وہ اس کو چھپائے اگر ایسا کرے گا تو یہ شرط مفید نہ ہوگی اور وہ چیز بائع (بچنے والا) کو واپس کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر ایک لونڈی کو دو لونڈیوں کے بدلے میں بیچا پھر ان دو لونڈیوں میں سے ایک لونڈی میں کچھ عیب نکل جس کی وجہ سے وہ پھر سکتی ہے تو پہلے اس لونڈی کی قیمت لگائی جائے گی جس کے بدلے میں یہ دونوں لونڈیاں آئی ہیں پھر ان دونوں لونڈیوں کی بے عیب سمجھ کر قیمت لگا دیں گے پھر اس لونڈی کے زر ثمن کو ان دونوں لونڈیوں کی قیمت پر تقسیم کریں گے ہر ایک کا حصہ جدا ہوگا بے عیب لونڈی کا اس کے موافق اور عیب دار کا اس کے موافق پھر عیب دار لونڈی اس حصہ ثمن کے بدلے میں واپس کی جائے گی قلیل ہو یا کثیر مگر قیمت دو لونڈیوں کی اسی روز کی نگائی جائے گی جس دن وہ لونڈیاں مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہیں ۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے ایک غلام خریدا اور اس سے مزدوری کرائی اور مزدوری کے دام حاصل کئے قلیل ہوں یا کثیر بعد اس کے اس غلام میں عیب نکلا جس کی وجہ سے وہ غلام پھیر سکتا ہے تو وہ اس غلام کو پھیر دے اور مزدوری کے پیسے رکھ لے اس کا واپس کرنا ضروری نہیں ہمارے نزدیک جماعت علماء کا یہی مذہب ہے اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے ایک غلام خریدا اور اس کے ہاتھ سے ایک گھر بنوایا جس کی بنوائی اس کی قیمت سے دوچند سہ چند ہے پھر عیب کی وجہ سے اسے واپس کر دیا تو غلام واپس ہو جائے گا اور بائع (بچنے والا) کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ مشتری (خریدنے والا) سے گھر بنوانے کی مزدوری لے اسی طرح سے غلام کی کمائی بھی مشتری (خریدنے والا) کی رہے گی۔ کہا ملک نے اگر ایک شخص نے کئی غلام ایک ہی دفعہ (یعنی ایک ہی عقد میں) خریدے اب ان میں سے ایک غلام چوری کا نکلا یا اس میں کچھ عیب نکلا تو اگر وہی غلام سب غلاموں میں عمدہ اور ممتاز ہوگا اور اسی کی وجہ سے باقی غلام خریدے گئے ہوں تو ساری بیع فسخ ہو جائے گی اور سب غلام پھر واپس دیئے جائیں گے ۔ اگر ایسا نہ ہو تو صرف اس غلام کو پھیر دے گا اور زر ثمن میں سے بقدر اس کی قیمت کے حصہ لگا کر بائع (بچنے والا) سے واپس لے گا۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ابْتَاعَ جَارِيَةً مِنِ امْرَأَتِهِ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّكَ إِنْ بِعْتَهَا فَهِيَ لِي بِالثَّمَنِ الَّذِي تَبِيعُهَا بِهِ فَسَأَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لاَ تَقْرَبْهَا وَفِيهَا شَرْطٌ لأَحَدٍ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود نے ایک لونڈی خریدی اپنی بی بی زینب ثقفیہ سے ان کی بی بی نے اس شرط سے بیچی کہ جب تم اس لونڈی کو بیچنا عبداللہ بن مسعود اس امر کو حضرت عمر سے بیان کیا انہوں نے کہا تو اس لونڈی سے صحبت مت کر جس میں کسی کی شرط لگی ہو ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً إِلاَّ وَلِيدَةً إِنْ شَاءَ بَاعَهَا وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِيمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً عَلَى شَرْطِ أَنْ لاَ يَبِيعَهَا أَوْ لاَ يَهَبَهَا أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الشُّرُوطِ فَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِلْمُشْتَرِي أَنْ يَطَأَهَا وَذَلِكَ أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا وَلاَ يَهَبَهَا فَإِذَا كَانَ لاَ يَمْلِكُ ذَلِكَ مِنْهَا فَلَمْ يَمْلِكْهَا مِلْكًا تَامًّا لأَنَّهُ قَدِ اسْتُثْنِيَ عَلَيْهِ فِيهَا مَا مَلَكَهُ بِيَدِ غَيْرِهِ فَإِذَا دَخَلَ هَذَا الشَّرْطُ لَمْ يَصْلُحْ وَكَانَ بَيْعًا مَكْرُوهًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے آدمی کو اس لونڈی سے وطی کرنا درست ہے جس پر سب طرح کا اختیار ہو اگر چاہے اس کو بیچ ڈالے چاہے ہبہ کر دے چاہے رکھ چھوڑے جو چاہے سو کر سکے ۔ کہا مالک نے جو شخص کسی لونڈی کو اس شرط پر خریدے کہ اس کو بیچوں گا نہیں یا ہبہ نہ کروں گا یا اس کی مثل اور کوئی شرط لگا دی تو اس لونڈی سے وطی کرنا درست نہیں کیونکہ جب اس کو اس لونڈی کے بیچنے یا ہبہ کرنے کا اختیار نہیں ہے تو اس کی ملک پوری نہیں ہوئی اور جو لوازم تھے اس کی ملک کے وہ غیر کے اختیار میں رہے اور اس طرح کی بیع مکروہ ہے۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ، أَهْدَى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ جَارِيَةً وَلَهَا زَوْجٌ ابْتَاعَهَا بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ لاَ أَقْرَبُهَا حَتَّى يُفَارِقَهَا زَوْجُهَا ‏.‏ فَأَرْضَى ابْنُ عَامِرٍ زَوْجَهَا فَفَارَقَهَا ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عثمان بن عفان کو ایک لونڈی ہدیہ دی مگر اس کا ایک خاوند تھا اور عبداللہ نے اس لونڈی کو بصرے میں خریدا تھا تو عثمان نے کہا میں اس لونڈی سے وطی نہ کروں گا جب تک اس کا خاوند اس کو چھوڑ نہ دے عبداللہ نے اس خاوند کو راضی کر دیا تو اس نے چھوڑ دیا ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، ابْتَاعَ وَلِيدَةً فَوَجَدَهَا ذَاتَ زَوْجٍ فَرَدَّهَا ‏.‏
ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے ایک لونڈی خریدی بعد اس کے معلوم ہوا وہ خاوند رکھتی ہے تو اس کو واپس کر دیا ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھجور کا درخت تابیر کیا ہو بیچ تو اس کے پھل بائع (بچنے والا) کے ہوں گے مگر جس صورت میں مشتری (خریدنے والا) شرط کر لے کہ بھل میرے ہیں ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۲۹۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ‏.‏
ابن عمر سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ ان کی پختگی اور بہتری کا یقین ہو جائے منع کیا بائع (بچنے والا) کو اور مشتری (خریدنے والا) کو۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تُزْهِي فَقَالَ ‏"‏ حِينَ تَحْمَرُّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ خوش رنگ ہو جائیں لوگوں نے کہا اس سے کیا مراد ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ یا زرد ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اگر اللہ ان پھلوں کو پکنے نہ دے تو کس چیز کے بدلے میں تم میں سے کوئی اپنی بھائی کا مال لے گا ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَبَيْعُ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا مِنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھلوں کی بیع سے یہاں تک کہ آفت کا خوف جاتا رہے ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ كَانَ لاَ يَبِيعُ ثِمَارَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا ‏.‏
زید بن ثابت اپنے پھلوں کو اس وقت بیچتے جب ثریا کے تارے نکل آتے ۔ کہا مالک نے خربوزہ اور ککڑی اور گا جر کا بیچنا درست ہے جب ان کو بہتری کا حال معلوم ہو جائے پھر جو کچھ اگیں وہ فصل کے تمام ہونے تک مشتری (خریدنے والا) کے ہوں گے اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہر جگہ کے دستور اور رواج کے موافق حکم ہوگا اگر قبل اس وقت کے کسی آفت کے سبب نقصان ہو تہائی مال تک تو مشتری (خریدنے والا) کو وہ نقصان مجرادیا جائے گا تہائی سے کم اگر نقصان ہو تو مجرانہ دیا جائے گا۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا ‏.‏
زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی عریہ والے اپنا میوہ بیچنے کی اٹکل سے ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ‏.‏ يَشُكُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی عریوں کے بیچنے کی اٹکل سے بشرطیکہ پانچ وسق سے کم ہوں یا پانچ وسق کے اندر ہوں ۔ کہا مالک نے عریہ کا اندازہ درختوں پر کر لیا جائے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا یہ تولیہ یا اقالہ یا شرکت کے مثل ہے اگر یہ اور بیعوں کے مثل ہوتا تو کھانے کی چیزوں کا تولیہ یا اقالہ یا شرکت قبل قبضے کے نا درست ہے یہ بھی درست نہ ہوتا۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ، ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ لَهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَفْعَلَ فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَأَلَّى أَنْ لاَ يَفْعَلَ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَهُ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے باغ کے پھل خریدے اور اس کی درستی میں مصروف ہوا مگر ایسی آفت آئی جس سے نقصان معلوم ہوا تو باغ کے مالک سے کہا یا تو پھلوں کی قیمت کچھ کم کر دو یا اس بیع کو فسخ کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریداری کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریدار کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آن کر یہ سب قصہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا قسم کھالی اس نے کہ میں یہ بہتری کا کام نہ کروں گا جب مالک باغ کو یہ خبر پہنچی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا خریدار کہے وہ مجھ کو منظور ہے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا مشتری (خریدنے والا) کو نقصان دلانے کا جب کھیت یا میوے کو آفت پہنچے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس آفت سے تہائی مال یا زیادہ نقصان ہوا ہو اگر اس سے کم نقصان ہوگا اس کا شمار نہیں ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَضَى بِوَضْعِ الْجَائِحَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْجَائِحَةُ الَّتِي تُوضَعُ عَنِ الْمُشْتَرِي الثُّلُثُ فَصَاعِدًا وَلاَ يَكُونُ مَا دُونَ ذَلِكَ جَائِحَةً ‏.‏
اس نے مجھے مالک کی سند سے بتایا کہ اس نے سنا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے فیصلہ کیا ہے کہ اس وبا کو ختم کر دیا جائے۔ ملک نے کہا کہ یہ ہمارا معاملہ ہے۔ مالک نے کہا: مشتری پر جو حصہ لگایا گیا ہے وہ ایک تہائی یا اس سے زیادہ ہے اور اس سے کم کوئی حصہ نہیں ہے۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، كَانَ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْهُ ‏.‏
قاسم بن محمد اپنے باغ کے میووں کو بیچتے پھر اس میں سے کچھ مستثنی کر لیتے ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ جَدَّهُ، مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ بَاعَ ثَمَرَ حَائِطٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ الأَفْرَاقُ بِأَرْبَعَةِ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَاسْتَثْنَى مِنْهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ تَمْرًا ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ان کے دادا محمد بن عمرہ بن حزم نے اپنے باغ کا میوہ بیچا چار ہزار درہم کو اس میں سے آٹھ سو درہم کے کھجور مستثنی کر لئے اس باغ کا نام افرق تھا ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۰۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّ أُمَّهُ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ تَبِيعُ ثِمَارَهَا وَتَسْتَثْنِي مِنْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا بَاعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ثُلُثِ الثَّمَرِ لاَ يُجَاوِزُ ذَلِكَ وَمَا كَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَلاَ بَأْسَ بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الرَّجُلُ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ ثَمَرَ نَخْلَةٍ أَوْ نَخَلاَتٍ يَخْتَارُهَا وَيُسَمِّي عَدَدَهَا فَلاَ أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا لأَنَّ رَبَّ الْحَائِطِ إِنَّمَا اسْتَثْنَى شَيْئًا مِنْ ثَمَرِ حَائِطِ نَفْسِهِ وَإِنَّمَا ذَلِكَ شَىْءٌ احْتَبَسَهُ مِنْ حَائِطِهِ وَأَمْسَكَهُ لَمْ يَبِعْهُ وَبَاعَ مِنْ حَائِطِهِ مَا سِوَى ذَلِكَ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن اپنے پھلوں کو بیچتیں اور اس میں سے کچھ نکال لیتیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو آدمی اپنے باغ کا میوہ بچے اس کو اختیار ہے کہ تہائی مال تک مستثنیٰ کرے اس سے زیادہ درست نہیں اور جو سارے باغ میں سے ایک درخت یا درخت کے پھل مستثنی کرلے اور اس کو معین کر دے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے کیونکہ گویا مالک نے سوائے ان درختوں کے باقی کو بیچا اور ان کو نہ بیچا اس امر کا مالک کو اختیار ہے۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَامِلَكَ عَلَى خَيْبَرَ يَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ادْعُوهُ لِي ‏"‏ ‏.‏ فَدُعِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ يَبِيعُونَنِي الْجَنِيبَ بِالْجَمْعِ صَاعًا بِصَاعٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھجور کو کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو ایک شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو عامل خبری پر ایک صاع کھجور لے کر دو صاع دیتا ہے کھجور دے کر ایک صاع لیتا ہے وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع بہتر کھجور اور ایک صاع بری کھجور کے بدلے میں نہیں آتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور کو خرید کر لے ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو عامل مقرر کیا خیبر پر وہ عمدہ کھجور لے کر آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سب کھجوریں خبیر کی ایسی ہی ہوتی ہیں وہ بولا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کھجور میں سے ایک صاع دو صاع کے بدلے میں یا دو صاع تین صاع کے بدلے میں خرید کیا کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرے پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور روپے دے کر خرید لے ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ، بِالسُّلْتِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ قَالَ الْبَيْضَاءُ ‏.‏ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ وَقَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنِ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ‏.‏
زید بن ابوعیاش سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سعد بن ابی وقاص سے کہ جو کے غور اور حجاز میں پیدا ہوتا ہے کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں انہوں نے کہا دونوں میں کونسا اچھا ہے بولے جو تو منع کیا اس سے اور سعد نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ خشک کھجور کو رطب بدلے میں بیچنا کیسا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رطب جب سوکھ جاتا ہے تو وزن اس کا کم ہو جاتا ہے لوگوں نے کہا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلاً ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا مزابنہ اس کو کہتے ہیں کہ درخت پر پھل کھجور یا انگور اندزہ کر کے خشک کھجور یا انگور کے بدلے میں فروخت کی جائیں ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ كِرَاءُ الأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ ‏.‏
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا مزابنہ اور محاقلہ سے مزابنہ کے معنی اوپر بیان ہوئے اور محاقلہ اس کو کہتے ہیں کہ گہیوں کا کھیت بدلے میں خشک گہیوں کے بیچے ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ وَاسْتِكْرَاءُ الأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ اسْتِكْرَاءِ الأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَتَفْسِيرُ الْمُزَابَنَةِ أَنَّ كُلَّ شَىْءٍ مِنَ الْجِزَافِ الَّذِي لاَ يُعْلَمُ كَيْلُهُ وَلاَ وَزْنُهُ وَلاَ عَدَدُهُ ابْتِيعَ بِشَىْءٍ مُسَمًّى مِنَ الْكَيْلِ أَوِ الْوَزْنِ أَوِ الْعَدَدِ وَذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الطَّعَامُ الْمُصَبَّرُ الَّذِي لاَ يُعْلَمُ كَيْلُهُ مِنَ الْحِنْطَةِ أَوِ التَّمْرِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الأَطْعِمَةِ أَوْ يَكُونُ لِلرَّجُلِ السِّلْعَةُ مِنَ الْحِنْطَةِ أَوِ النَّوَى أَوِ الْقَضْبِ أَوِ الْعُصْفُرِ أَوِ الْكُرْسُفِ أَوِ الْكَتَّانِ أَوِ الْقَزِّ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ السِّلَعِ لاَ يُعْلَمُ كَيْلُ شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلاَ وَزْنُهُ وَلاَ عَدَدُهُ فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِرَبِّ تِلْكَ السِّلْعَةِ كِلْ سِلْعَتَكَ هَذِهِ أَوْ مُرْ مَنْ يَكِيلُهَا أَوْ زِنْ مِنْ ذَلِكَ مَا يُوزَنُ أَوْ عُدَّ مِنْ ذَلِكَ مَا كَانَ يُعَدُّ فَمَا نَقَصَ عَنْ كَيْلِ كَذَا وَكَذَا صَاعًا - لِتَسْمِيَةٍ يُسَمِّيهَا - أَوْ وَزْنِ كَذَا وَكَذَا رِطْلاً أَوْ عَدَدِ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَىَّ غُرْمُهُ لَكَ حَتَّى أُوفِيَكَ تِلْكَ التَّسْمِيَةَ فَمَا زَادَ عَلَى تِلْكَ التَّسْمِيَةِ فَهُوَ لِي أَضْمَنُ مَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَكُونَ لِي مَا زَادَ ‏.‏ فَلَيْسَ ذَلِكَ بَيْعًا وَلَكِنَّهُ الْمُخَاطَرَةُ وَالْغَرَرُ وَالْقِمَارُ يَدْخُلُ هَذَا لأَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا بِشَىْءٍ أَخْرَجَهُ وَلَكِنَّهُ ضَمِنَ لَهُ مَا سُمِّيَ مِنْ ذَلِكَ الْكَيْلِ أَوِ الْوَزْنِ أَوِ الْعَدَدِ عَلَى أَنْ يَكُونَ لَهُ مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَإِنْ نَقَصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ عَنْ تِلْكَ التَّسْمِيَةِ أَخَذَ مِنْ مَالِ صَاحِبِهِ مَا نَقَصَ بِغَيْرِ ثَمَنٍ وَلاَ هِبَةٍ طَيِّبَةٍ بِهَا نَفْسُهُ فَهَذَا يُشْبِهُ الْقِمَارَ وَمَا كَانَ مِثْلَ هَذَا مِنَ الأَشْيَاءِ فَذَلِكَ يَدْخُلُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الثَّوْبُ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثَوْبِكَ هَذَا كَذَا وَكَذَا ظِهَارَةَ قَلَنْسُوَةٍ قَدْرُ كُلِّ ظِهَارَةٍ كَذَا وَكَذَا - لِشَىْءٍ يُسَمِّيهِ - فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَىَّ غُرْمُهُ حَتَّى أُوفِيَكَ وَمَا زَادَ فَلِي ‏.‏ أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثِيَابِكَ هَذِي كَذَا وَكَذَا قَمِيصًا ذَرْعُ كُلِّ قَمِيصٍ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَىَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَلِي ‏.‏ أَوْ أَنْ يَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْجُلُودُ مِنْ جُلُودِ الْبَقَرِ أَوِ الإِبِلِ أُقَطِّعُ جُلُودَكَ هَذِهِ نِعَالاً عَلَى إِمَامٍ يُرِيهِ إِيَّاهُ ‏.‏ فَمَا نَقَصَ مِنْ مِائَةِ زَوْجٍ فَعَلَىَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي بِمَا ضَمِنْتُ لَكَ ‏.‏ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ عِنْدَهُ حَبُّ الْبَانِ اعْصُرْ حَبَّكَ هَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ كَذَا وَكَذَا رِطْلاً فَعَلَىَّ أَنْ أُعْطِيَكَهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي ‏.‏ فَهَذَا كُلُّهُ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنَ الأَشْيَاءِ أَوْ ضَارَعَهُ مِنَ الْمُزَابَنَةِ الَّتِي لاَ تَصْلُحُ وَلاَ تَجُوزُ ‏.‏ وَكَذَلِكَ - أَيْضًا - إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْخَبَطُ أَوِ النَّوَى أَوِ الْكُرْسُفُ أَوِ الْكَتَّانُ أَوِ الْقَضْبُ أَوِ الْعُصْفُرُ أَبْتَاعُ مِنْكَ هَذَا الْخَبَطَ بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ خَبَطٍ يُخْبَطُ مِثْلَ خَبَطِهِ أَوْ هَذَا النَّوَى بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ نَوًى مِثْلِهِ وَفِي الْعُصْفُرِ وَالْكُرْسُفِ وَالْكَتَّانِ وَالْقَضْبِ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏ فَهَذَا كُلُّهُ يَرْجِعُ إِلَى مَا وَصَفْنَا مِنَ الْمُزَابَنَةِ ‏.‏
انہوں نے مجھے ملک کے بارے میں، ابن شہاب کے بارے میں، ابن المسیح کی خوشی کے بارے میں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تامر اور تامر کے ذریعہ پھلوں کی خریداری اور گندم کے ذریعہ فصلوں کی خریداری اور گندم کے ذریعہ زمین کی خریداری سے منع فرمایا ۔ ایک شہابیے کے بیٹے نے کہا: چنانچہ میں نے سعید بن المسیب سے سونے اور کاغذ کے عوض زمین لیز پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور المغزنہ کی تفسیر یہ ہے کہ ردی کا ہر وہ ٹکڑا جس کی پیمائش، وزن یا تعداد معلوم نہ ہو کسی چیز کے عوض بیچی جاتی ہے۔ جس کا نام ناپ، وزن یا نمبر سے رکھا گیا ہے، اور یہ وہ وقت ہے جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہتا ہے، ’’اس کے پاس بغیر میٹھا کھانا ہوگا جس کی گندم کی پیمائش معلوم نہیں‘‘۔ یا کھجور یا اس سے ملتی جلتی چیزیں، یا اگر کسی آدمی کے پاس گندم، یا گٹھلی، یا چھڑی، یا زعفران، اجوائن، سن، ریشم، یا اس جیسی کوئی چیز۔ ان میں سے کسی کا پیمانہ، نہ اس کا وزن، نہ اس کی تعداد معلوم ہے۔ پھر وہ آدمی اس مال کے مالک سے کہے گا کہ یہ اپنی چیز کھاؤ، یا کسی کو ناپنے کے لیے بھیج دو، یا اس چیز کا وزن کرو جو تولا جاتا ہے، یا اس کا شمار کرو جو پہلے شمار کیا جاتا تھا۔ تو فلاں صاع کے پیمانہ سے کم کیا ہے - اس کا نام رکھنے کے لیے - یا فلاں کا وزن یا فلاں کی تعداد، اس سے کم کیا ہے، مجھے اس وقت تک تمہیں جرمانہ ادا کرنا ہوگا جب تک میں اس نام کو ادا نہ کر دوں، اس لیے جو اس نام سے زیادہ ہے وہ میرا ہے، اور میں ضمانت دیتا ہوں کہ جو اس سے کم ہو گا وہ میرا ہوگا۔ مزید کیا... یہ فروخت نہیں ہے، لیکن یہ خطرہ، فریب اور جوا ہے۔ اس میں شامل ہے کیونکہ اس نے اس سے کوئی چیز نہیں خریدی جس سے اس نے نکالا تھا، لیکن اس نے اس کی ضمانت دی تھی۔ اس پیمانہ، وزن، یا عدد کو کیا کہتے ہیں، بشرطیکہ اس میں کوئی چیز اس سے زیادہ ہو، اور اگر وہ شے اس سے کم ہو۔ نام: اس نے اپنے مالک کے مال سے وہ چیز لے لی جو اس کے پاس تھی بغیر کسی قیمت کے یا اپنے لیے اچھا تحفہ۔ یہ جوئے کے مشابہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ یہ چیزوں میں سے ایک ہے، تاکہ کوئی اس میں داخل ہو جائے۔ مالک نے کہا اور اس سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی آدمی دوسرے آدمی سے کہے کہ اس کا لباس تمہارے لیے تمہارے لباس سے زیادہ محفوظ ہے۔ یہ فلاں اور فلاں ہے۔ ہر فلاں اور فلاں غلاف کی قیمت - جس چیز کا وہ نام رکھتا ہے - اور اس میں سے جو کچھ بھی کم ہے، وہ اس وقت تک اپنا قرض ادا کرے گا جب تک کہ میں تمہیں واپس نہ کر دوں، اور جو کچھ زیادہ ہے وہ میرا ہے۔ یا کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی سے کہے، "میں تمہیں تمہارے کپڑوں، یہ اور فلاں قمیض سے زیادہ ضمانت دیتا ہوں، اور ہر قمیض کا بازو فلاں ہے۔" تو اس میں جو کمی ہے وہ مجھ پر ہے۔ اس کا جرمانہ اور جو کچھ اس نے اس میں شامل کیا ہے وہ میری وجہ سے ہے ۔ یا آدمِی آدمِی سے کہے کہ وہ کھالیں گائے یا اُونٹ کی کھالوں میں سے ہیں ۔ مَیں نے تیری کھالیں کاٹ ڈالیں ۔ یہ جوتے ہیں تاکہ آدمِی اُسے دِکھائے ۔ تو جو اس نے سو بیویوں سے کم کیا ہے، اسے اپنا جرمانہ ادا کرنا ہوگا، اور جو اس نے بڑھایا ہے وہ میرے لئے ہے جس کی میں نے آپ کی ضمانت دی ہے ۔اور اسی طرح، وہ شخص اس آدمی سے کہتا ہے، "اُسے پابندی سے محبت ہے ۔ اپنی محبت کو نچوڑ ۔" اس میں اس کی کمی ہے، اور یہ ایک پاؤنڈ ہے، لہذا مجھے اسے آپ کو دینا ہوگا، اور جو کچھ اس نے بڑھایا ہے وہ میرے لئے ہے ۔تو یہ سب کچھ اور جو میں چیزوں سے مشابہت رکھتا ہوں یا اس کے ساتھ ان گٹروں کا اشتراک کرتا ہوں جو نہ تو موزوں ہیں اور نہ ہی جائز ہیں ۔ اور اسی طرح، جب اس شخص نے کہا، ایک ایسے آدمی کے لیے جس کے لیے نیوکلئس، یا کورسیٹ، یا کتان، یا چھڑی، یا اسفنکٹر، یا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، جیسے اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر، ایسا اسفنکٹر یہ سب کچھ اس بات پر واپس جاتا ہے جو ہم نے گٹروں سے بیان کیا ہے ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّعْدَيْنِ أَنْ يَبِيعَا آنِيَةً مِنَ الْمَغَانِمِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَبَاعَا كُلَّ ثَلاَثَةٍ بِأَرْبَعَةٍ عَيْنًا أَوْ كُلَّ أَرْبَعَةٍ بِثَلاَثَةٍ عَيْنًا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّا
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سعد کو کہ جتنے برتن سونے اور چاندی کے مال غنیمت میں آئے ہیں
۲۸
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دینار کو ایک دینار کے بدلے میں بیچو اور ایک درہم کو ایک درہم کے بدلے میں نہ زیادہ کے بدلے میں ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت بیچو سونے کے بدلے میں سونا مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر اور مت بیچو چاندی کے بدلے میں چاندی کے مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر نہ بیچو کچھ اس میں سے نقد وعدہ پر ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۱۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ ثُمَّ أَبِيعُ الشَّىْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي ‏.‏ فَنَهَاهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّةٍ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ ‏.‏
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک سنار آیا اور بولا اے ابوعبدالرحمن میں سونے کا زیور بناتا ہوں پھر اس کے وزن سے زیادہ دینار لے کر اس کو بیچتا ہوں اور یہ زیادتی اپنی محنت کے عوض میں لیتا ہوں عبداللہ بن عمر منع کرتے رہے یہاں تک کہ عبداللہ بن عمر مسجد کے دروازے پر آئے یا اپنے جانور پر سوار ہونے کو آئے اس وقت عبداللہ بن عمر نے کہا دینار کو بدلے میں دینار کے اور درہم کو بدلے میں درہم کے بیچ اور زیادتی نہ لے یہی وصیت ہے ۔ حضرت عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت بیچو ایک دینار کو دو دینار کے بدلے میں نہ ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَدِّهِ، مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلاَ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے بیان کیا کہ مجھے اپنے دادا مالک بن ابی عامر سے معلوم ہوا کہ عثمان بن عفان نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”نہیں“۔ ’’تم ایک دینار دو دینار میں یا ایک درہم دو درہم میں بیچو گے۔‘‘
۳۲
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا أَرَى بِمِثْلِ هَذَا بَأْسًا ‏.‏ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ أَنَا أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ لاَ أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا ‏.‏ ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنْ لاَ تَبِيعَ ذَلِكَ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے ایک برتن پانی پینے کا سونے یا چاندی کا اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے بدلے میں بیچا تو ابوالدردا نے ان سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع کرتے تھے مگر برابر برابر بیچنا درست رکھتے تھے معاویہ نے کہا میرے نزدیک کچھ قباحت نہیں ہے ابوالدردا نے کہا بھلا کان میرے عذر قبول کرے گا اگر میں معاویہ کو اس بدلہ دوں میں تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور وہ مجھ سے اپنی رائے بیان کرتے ہیں اب میں تمہارے ملک میں نہ رہوں گا پھر ابودردا مدینہ میں حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے یہ قصہ بیان کیا حضرت عمر نے معاویہ کو لکھا کہ ایسی بیع نہ کریں مگر برابر تول کر۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالآخَرُ نَاجِزٌ وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلاَ تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص کوئی میوہ تر یا خشک خریدے اس کو نہ بیچے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلے اور میوے کو میوے سے بدلیں اگر بیچے تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور جو میوہ لیا ایسا ہے کہ سوکھا کر کھایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے اس کو اگر میوے کے بدلے میں بیچے اور ایک جنس ہو تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور برابر بیچے کمی بیشی اس میں درست نہیں البتہ اگر جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد بیچنا چاہیے اس میں میعاد لگانا درست نہیں اور جو میوہ سوکھایا نہیں جاتا بلکہ تر کھایا جاتا ہے ۔ جیسے خربوزہ ککڑی ، ترنج ، کیلا، گا جر، انار وغیرہ اس کو ایک دوسرے کے بدلے میں اگرچہ جنس ایک ہو کمی بیشی کے ساتھ بھی درست ہے جب اس میں میعاد نہ ہو نقدا نقد ہو۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ‏.‏ وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلاَ تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا بیچو سونے کو سونے کے مگر برابر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو دوسرا وعدہ پر بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے تو اتنی بھی اجازت مت دے میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا ۔ حضرت عمر نے کہا ایک دینار بدلے میں ایک دینار کے چاہے ایک درہم بدلے میں ایک درہم کے اور ایک صاع بدلے میں ایک صاع کے اور نہ بیچو نقد بدلے میں وعدے کے ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ وَلاَ يُبَاعُ كَالِئٌ بِنَاجِزٍ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے قاسم بن محمد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ عمر بن الخطاب نے کہا: دینار دینار کے لیے ہے اور درہم درہم کے لیے ہے۔ ایک صاع کے بدلے ایک صاع، اور پوری رقم پوری رقم میں فروخت نہیں کی جا سکتی۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ لاَ رِبًا إِلاَّ فِي ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ بِمَا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے نہیں ربا ہے مگر سونے میں یا چاندی میں یا جو چیز ناپ تول کر بکتی ہے کھانے پینے کی ۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَطْعُ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ مِنَ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا إِذَا كَانَ تِبْرًا أَوْ حَلْيًا قَدْ صِيغَ فَأَمَّا الدَّرَاهِمُ الْمَعْدُودَةُ وَالدَّنَانِيرُ الْمَعْدُودَةُ فَلاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَشْتَرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا حَتَّى يُعْلَمَ وَيُعَدَّ فَإِنِ اشْتُرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا فَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ الْغَرَرُ حِينَ يُتْرَكُ عَدُّهُ وَيُشْتَرَى جِزَافًا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَّا مَا كَانَ يُوزَنُ مِنَ التِّبْرِ وَالْحَلْىِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُبَاعَ ذَلِكَ جِزَافًا وَإِنَّمَا ابْتِيَاعُ ذَلِكَ جِزَافًا كَهَيْئَةِ الْحِنْطَةِ وَالتَّمْرِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ الأَطْعِمَةِ الَّتِي تُبَاعُ جِزَافًا وَمِثْلُهَا يُكَالُ فَلَيْسَ بِابْتِيَاعِ ذَلِكَ جِزَافًا بَأْسٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنِ اشْتَرَى مُصْحَفًا أَوْ سَيْفًا أَوْ خَاتَمًا وَفِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَإِنَّ مَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ وَفِيهِ الذَّهَبُ بِدَنَانِيرَ فَإِنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الذَّهَبِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلاَ يَكُونُ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَمَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ بِالْوَرِقِ مِمَّا فِيهِ الْوَرِقُ نُظِرَ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الْوَرِقِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ عِنْدَنَا ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے روپیہ اشرفی کا کانٹا گویا ملک میں فساد کرنا ہے ۔ کہا امام مالک رحمة اللہ علیہ نے اگر سونے کو چاندی کے بدلے میں یا چاندی کو سونے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب وہ ڈلی ہوں یا زیور ہوں لیکن روپے اشرفی کا خریدنا بغیر گنے ہوئے جائز نہیں بلکہ اس میں دھوکا ہے اور مسلمانوں کے دستور کے خلاف ہے لیکن سونے چاندی کا ڈلا یا زیور جو تل کے بکتا ہے اس کو اٹکل سے خریدنا جیسے گیہوں یا کھجور وغیرہ کو خریدتے ہیں برا نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کلام مجید یا تلوار یا انگوٹھی جس میں سونا یا چاندی لگا ہو روپے اشرفی کے بدلے میں خرید کرے تو دیکھیں گے اگر ان چیزوں میں سونا لگا ہوا ہے اور اشرفیوں کے بدلے میں اس کو خرید کیا اور اس چیز کی قیمت دو ثلث سے کم نہیں ہے اور جس قدر سونا اس میں لگا ہوا ہے اس کی قیمت ایک ثلث سے زیادہ نہیں ہے تو درست ہے جب نقدا نقد ہو اسی طرح اگر چاندی لگی ہوئی ہے اور روپیوں کے بدلے میں خرید کیا تب بھی یہی حکم ہے۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ قَالَ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ حَتَّى يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ ‏.‏ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لاَ تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ - ثُمَّ قَالَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏
مالک بن اوس نے کہا مجھے حاجت ہوئی سو دینار کے درہم لینے کی تو مجھے بلایا طلحہ بن عبیداللہ نے پھر ہم دونوں راضی ہوئے صرف کے اوپر اور انہوں نے دینار مجھ سے لے لئے اور ہاتھ سے لٹ پلٹ کرنے لگے اور کہا صبر کرو یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ آ جائے حضرت عمر نے یہ سن کر کہا نہیں قسم اللہ کی مت چھوڑنا طلحہ کو بغیر روپے لئے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کا بیچنا چاندی کے بدلے میں ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور گہیوں بدلے گیہوں کے بیچنا ربا ہے مگر نقدا نقد اور کھجور بدلے کھجور کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور جو بدلے جو کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور نمک بدلے نمک کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے روپے اشرفیوں کے بدلے میں لئے پھر اس میں ایک روپیہ کھوٹا نکلا اب اس کو پھیرنا چاہے تو سب اشرفیاں اپنی پھیر لے اور سب روپے اس کے واپس دے دے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا بدلے میں چاندی کے ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور حضرت عمر نے فرمایا اگر تجھ سے اپنے گھر جانے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دے اگر ایک روپیہ اس کو پھیر دے گا اور اس سے جدا ہو جائے گا تو مثل دین کے یا میعاد کے ہو جائے گا اسی واسطے یہ مکروہ ہے خود اس بیع کو توڑ ڈالنا چاہیے کہ ایک طرف نقد ہو دوسرے طرف وعدہ خواہ ایک جنس یا کئی جنس ہوں ۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّهُ رَأَى سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُرَاطِلُ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ فَيُفْرِغُ ذَهَبَهُ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَيُفْرِغُ صَاحِبُهُ الَّذِي يُرَاطِلُهُ ذَهَبَهُ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ الأُخْرَى فَإِذَا اعْتَدَلَ لِسَانُ الْمِيزَانِ أَخَذَ وَأَعْطَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ مُرَاطَلَةً أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ أَحَدَ عَشَرَ دِينَارًا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ يَدًا بِيَدٍ إِذَا كَانَ وَزْنُ الذَّهَبَيْنِ سَوَاءً عَيْنًا بِعَيْنٍ وَإِنْ تَفَاضَلَ الْعَدَدُ وَالدَّرَاهِمُ أَيْضًا فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الدَّنَانِيرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنْ رَاطَلَ ذَهَبًا بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقًا بِوَرِقٍ فَكَانَ بَيْنَ الذَّهَبَيْنِ فَضْلُ مِثْقَالٍ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ قِيمَتَهُ مِنَ الْوَرِقِ أَوْ مِنْ غَيْرِهَا فَلاَ يَأْخُذُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ قَبِيحٌ وَذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا لأَنَّهُ إِذَا جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ حَتَّى كَأَنَّهُ اشْتَرَاهُ عَلَى حِدَتِهِ جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ مِرَارًا لأَنْ يُجِيزَ ذَلِكَ الْبَيْعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَاحِبِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَوْ أَنَّهُ بَاعَهُ ذَلِكَ الْمِثْقَالَ مُفْرَدًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ لَمْ يَأْخُذْهُ بِعُشْرِ الثَّمَنِ الَّذِي أَخَذَهُ بِهِ لأَنْ يُجَوِّزَ لَهُ الْبَيْعَ فَذَلِكَ الذَّرِيعَةُ إِلَى إِحْلاَلِ الْحَرَامِ وَالأَمْرُ الْمَنْهِيُّ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُرَاطِلُ الرَّجُلَ وَيُعْطِيهِ الذَّهَبَ الْعُتُقَ الْجِيَادَ وَيَجْعَلُ مَعَهَا تِبْرًا ذَهَبًا غَيْرَ جَيِّدَةٍ وَيَأْخُذُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَهَبًا كُوفِيَّةً مُقَطَّعَةً وَتِلْكَ الْكُوفِيَّةُ مَكْرُوهَةٌ عِنْدَ النَّاسِ فَيَتَبَايَعَانِ ذَلِكَ مِثْلاً بِمِثْلٍ إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ صَاحِبَ الذَّهَبِ الْجِيَادِ أَخَذَ فَضْلَ عُيُونِ ذَهَبِهِ فِي التِّبْرِ الَّذِي طَرَحَ مَعَ ذَهَبِهِ وَلَوْلاَ فَضْلُ ذَهَبِهِ عَلَى ذَهَبِ صَاحِبِهِ لَمْ يُرَاطِلْهُ صَاحِبُهُ بِتِبْرِهِ ذَلِكَ إِلَى ذَهَبِهِ الْكُوفِيَّةِ فَامْتَنَعَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ ثَلاَثَةَ أَصْوُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ بِصَاعَيْنِ وَمُدٍّ مِنْ تَمْرٍ كَبِيسٍ فَقِيلَ لَهُ هَذَا لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ فَجَعَلَ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ بَيْعَهُ فَذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُ الْعَجْوَةِ لِيُعْطِيَهُ صَاعًا مِنَ الْعَجْوَةِ بِصَاعٍ مِنْ حَشَفٍ وَلَكِنَّهُ إِنَّمَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لِفَضْلِ الْكَبِيسِ أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بِعْنِي ثَلاَثَةَ أَصْوُعٍ مِنَ الْبَيْضَاءِ بِصَاعَيْنِ وَنِصْفٍ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ فَيَقُولُ هَذَا لاَ يَصْلُحُ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏.‏ فَيَجْعَلُ صَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ وَصَاعًا مِنْ شَعِيرٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ الْبَيْعَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعْطِيَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ بَيْضَاءَ لَوْ كَانَ ذَلِكَ الصَّاعُ مُفْرَدًا وَإِنَّمَا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ لِفَضْلِ الشَّامِيَّةِ عَلَى الْبَيْضَاءِ فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ وَهُوَ مِثْلُ مَا وَصَفْنَا مِنَ التِّبْرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَكُلُّ شَىْءٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ كُلِّهِ الَّذِي لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُبَاعَ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَلاَ يَنْبَغِي أَنْ يُجْعَلَ مَعَ الصِّنْفِ الْجَيِّدِ مِنَ الْمَرْغُوبِ فِيهِ الشَّىْءُ الرَّدِيءُ الْمَسْخُوطُ لِيُجَازَ الْبَيْعُ وَلِيُسْتَحَلَّ بِذَلِكَ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الأَمْرِ الَّذِي لاَ يَصْلُحُ إِذَا جُعِلَ ذَلِكَ مَعَ الصِّنْفِ الْمَرْغُوبِ فِيهِ وَإِنَّمَا يُرِيدُ صَاحِبُ ذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ بِذَلِكَ فَضْلَ جَوْدَةِ مَا يَبِيعُ فَيُعْطِيَ الشَّىْءَ الَّذِي لَوْ أَعْطَاهُ وَحْدَهُ لَمْ يَقْبَلْهُ صَاحِبُهُ وَلَمْ يَهْمُمْ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا يَقْبَلُهُ مِنْ أَجْلِ الَّذِي يَأْخُذُ مَعَهُ لِفَضْلِ سِلْعَةِ صَاحِبِهِ عَلَى سِلْعَتِهِ فَلاَ يَنْبَغِي لِشَىْءٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ أَنْ يَدْخُلَهُ شَىْءٌ مِنْ هَذِهِ الصِّفَةِ فَإِنْ أَرَادَ صَاحِبُ الطَّعَامِ الرَّدِيءِ أَنْ يَبِيعَهُ بِغَيْرِهِ فَلْيَبِعْهُ عَلَى حِدَتِهِ وَلاَ يَجْعَلْ مَعَ ذَلِكَ شَيْئًا فَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ ‏.‏
یزید بن عبداللہ بن قسیط نے کہا سعید بن مسیب کو دیکھا جب سونے کو سونے کے بدلے میں بیچتے تو اپنے سونے کو ایک پلہ میں رکھتے اور دوسرا شخص اپنے سونے کو دوسرے پلے میں رکھتا جب ترازو کا کاٹنا برابر ہو جاتا تو دوسرے کا سونا لے لیتا اور اپنا سونا دے دیتے۔ کہا مالک نے جو شخص سونے کو سونے کے بدلے میں تول کر بیچے تو کچھ قباحت نہیں اگرچہ ایک پلڑے میں گیارہ دینار چڑھیں اور دوسری طرف دس دینار جب نقدا نقد ہوں اور وزن برابر ہو اگرچہ شمار میں کم زیادہ ہوں ایسا ہی دراہم کا حکم ہے۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۲۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏
مجھ سے یحییٰ نے مالک کی سند سے، نافع کی سند سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کھانا خریدے وہ اسے فروخت نہ کرے۔ جب تک وہ اسے پورا نہیں کرتا۔"
۴۱
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ‏"‏ ‏.‏
اور اس نے مجھے ملک کے بارے میں بتایا، اللہ کے بندے کے بارے میں، اللہ کے بندے کے بارے میں، اللہ کے بندے کے بارے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "جو شخص کھانا خریدتا ہے، وہ اسے اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک کہ وہ اسے حاصل نہ کرے ۔"
۴۲
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اناج خریدتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے وہ ہم کو حکم کرتا تھا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لے جائیں جہاں خریدا ہے قبل اس کے کہ ہم اس کو بیع کریں ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، ‏.‏ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ فَبَاعَ حَكِيمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ لاَ تَبِعْ طَعَامًا ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ ‏.‏
اس نے مجھے مالک کی سند سے نافع کی روایت سے بیان کیا کہ حکیم بن حزام نے وہ کھانا خریدا جو عمر بن خطاب نے لوگوں کے لیے دیا تھا، تو حکیم نے اس سے پہلے کہ وہ اسے جمع کر لیں، بیچ دیا، اور یہ بات عمر بن الخطاب تک پہنچی، تو اس نے اسے واپس کر دیا اور کہا: جب تک تم کھانا جمع نہ کر لو، اسے فروخت نہ کرو۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ‏.‏ أَنَّ صُكُوكًا، خَرَجَتْ لِلنَّاسِ فِي زَمَانِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ مِنْ طَعَامِ الْجَارِ فَتَبَايَعَ النَّاسُ تِلْكَ الصُّكُوكَ بَيْنَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَدَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالاَ أَتُحِلُّ بَيْعَ الرِّبَا يَا مَرْوَانُ ‏.‏ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَمَا ذَاكَ فَقَالاَ هَذِهِ الصُّكُوكُ تَبَايَعَهَا النَّاسُ ثُمَّ بَاعُوهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَبَعَثَ مَرْوَانُ الْحَرَسَ يَتْبَعُونَهَا يَنْزِعُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ وَيَرُدُّونَهَا إِلَى أَهْلِهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ حکیم بن حزام نے غلہ خریدا جو حضرت عمر نے لوگوں کو دلوایا تھا پھر حکیم بن حزام نے اس غلہ کو بیچ ڈالا قبضہ سے پہلے جب حضرت عمر کو اس کی خبر پہنچی آپ نے وہ غلہ حکیم بن حزام کو پھر وا دیا اور کہا جس غلہ کو تو خریدے پھر اس کو مت بیچ جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم کے عہد حکومت میں لوگوں کو سندیں ملیں جار کے غلہ کی لوگوں نے ان سندوں کو بیچا ایک دوسرے کے ہاتھ قبل اس بات کے کہ غلہ اپنے قبضة میں لائیں تو زید بن ثابت اور ایک اور صحابہ مروان کے پاس گئے اور کہا کیا تو ربا کو درست جانتا ہے اے مروان مروان نے کہا معاذاللہ کیا کہتے ہو انہوں نے کہا کہ یہ سندیں جن لوگوں نے خریدا پھر خرید کر دوبارہ بیچا قبلہ غلہ لینے کے مروان نے چوکیدار کو بھیجا کہ وہ سندیں لوگوں سے چھین کر سند والوں کے حوالے کر دیں ۔ امام مالک کو پہنچا ایک شخص نے اناج خریدنا چاہا ایک شخص سے وعدے پر تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو بازار میں لے گیا اور اس کو بورے دکھا کر کہنے لگا کون سے غلہ میں تمہاری واسطے خرید کروں مشتری (خریدنے والا) نے کہا کیا تو میرے ہاتھ اس چیز کا بیچتا ہے جو خود تیرے پاس نہیں ہے پھر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا عبداللہ بن عمر نے مشتری (خریدنے والا) سے کہا مت خریدو اس چیز کو جو بائع (بچنے والا) کے پاس نہیں ہے اور بائع (بچنے والا) سے کہا مت بیچ اس چیز کو جو تیرے پاس نہیں ہے ۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ طَعَامًا مِنْ رَجُلٍ إِلَى أَجَلٍ فَذَهَبَ بِهِ الرَّجُلُ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ الطَّعَامَ إِلَى السُّوقِ فَجَعَلَ يُرِيهِ الصُّبَرَ وَيَقُولُ لَهُ مِنْ أَيِّهَا تُحِبُّ أَنْ أَبْتَاعَ لَكَ فَقَالَ الْمُبْتَاعُ أَتَبِيعُنِي مَا لَيْسَ عِنْدَكَ فَأَتَيَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِلْمُبْتَاعِ لاَ تَبْتَعْ مِنْهُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ‏.‏ وَقَالَ لِلْبَائِعِ لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ‏.‏
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ ایک آدمی ایک آدمی سے ایک خاص مدت کے لیے کھانا خریدنا چاہتا ہے تو جو آدمی اسے بیچنا چاہتا تھا وہ لے گیا۔ وہ کھانا بازار لے گیا، تو اس نے صبر کا مظاہرہ کیا اور اس سے کہا کہ تم مجھے تمہارے لیے کون سا خریدنا پسند کرو گے، اور جس نے اسے خریدا اس نے کہا: کیا تم مجھے وہ چیز بیچو گے جو تمہارے پاس نہیں ہے؟ چنانچہ وہ عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خریدار سے کہا کہ اس سے وہ چیز نہ خریدو جو اس کے پاس نہیں ہے۔ اور بیچنے والے سے کہا۔ جو آپ کے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو...
۴۶
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنَ الأَرْزَاقِ الَّتِي تُعْطَى النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَىَّ إِلَى أَجَلٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْكَ الأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ أَنَّهُ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بُرًّا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا أَوْ ذُرَةً أَوْ دُخْنًا أَوْ شَيْئًا مِنَ الْحُبُوبِ الْقِطْنِيَّةِ أَوْ شَيْئًا مِمَّا يُشْبِهُ الْقِطْنِيَّةَ مِمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ أَوْ شَيْئًا مِنَ الأُدْمِ كُلِّهَا الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالْخَلِّ وَالْجُبْنِ وَالشَّبْرَقِ وَاللَّبَنِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الأُدْمِ فَإِنَّ الْمُبْتَاعَ لاَ يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَيَسْتَوْفِيَهُ ‏.‏
جمیل بن عبدالرحمن نے سعید بن مسیب سے کہا میں ان غلوں کو جو سرکار کی طرف سے لوگوں کو مقرر ہیں جار میں خرید کرتا ہوں پھر میں چاہتا ہوں کہ غلہ کو میعاد لگا کر لوگوں کے ہاتھ بیچوں سعید نے کہا تو چاہتا ہے ان لوگوں کو اسی غلہ میں سے ادا کرے جو تو نے خریدا ہے جمیل نے کہا ہاں سعید بن مسیب نے اس سے منع کیا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص اناج خرید کرے جیسے گیہوں جو جوار باجرہ ڈالیں وغیرہ جن میں زکوة واجب ہوتی ہے یا روٹی کے ساتھ کھانے کی چیزیں جیسے زیتون کا تیل یا گھی یا شہد یا سرکہ یا پنیر یا دودھ یا تل کا تیل اور جو اس کے مشابہ ہیں تو ان میں سے کوئی چیز نہ بیچے جب تک ان پر قبضہ نہ کر لے۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَنْهَيَانِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ، حِنْطَةً بِذَهَبٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار منع کرتے تھے اس بات سے کوئی شخص گیہوں کو سونے کے بدلے میں یبچے معیاد لگا کر پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور لے لے ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، ‏.‏ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ الرَّجُلِ، يَبِيعُ الطَّعَامَ مِنَ الرَّجُلِ بِذَهَبٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِي بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمِثْلِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا نَهَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنْ لاَ يَبِيعَ الرَّجُلُ حِنْطَةً بِذَهَبٍ ثُمَّ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ مِنْ بَيْعِهِ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ الْحِنْطَةَ فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ الَّتِي بَاعَ بِهَا الْحِنْطَةَ إِلَى أَجَلٍ تَمْرًا مِنْ غَيْرِ بَائِعِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ وَيُحِيلَ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ التَّمْرَ عَلَى غَرِيمِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ بِالذَّهَبِ الَّتِي لَهُ عَلَيْهِ فِي ثَمَنِ التَّمْرِ فَلاَ بَأْسَ بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَقَدْ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَلَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا ‏
کثیر بن فرقد نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے پوچھا کوئی شخص اناج کو سونے کے بدلے میں میعاد لگا کر بیچے پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور خرید لے انہوں نے کہا یہ مکروہ ہے اور منع کیا اس سے ۔ ابن شہاب سے بھی ایسا ہی مروی ہے ۔ کہا مالک نے سعید بن المسیب اور سلیمان بن یسار ابوبکر بن محمد اور ابن شہاب نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی آدمی گیہوں کو سونے کے بدلے میں بیچے پھر اس سونے کے بدلے کھجور خرید لے اسی شخص نے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے قبل اس بات کے کہ سونے پر قبضہ کرے اگر اس سونے کے بدلے میں کسی اور شخص سے کھجور خریدے سوائے اس شخص کے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے ہیں اور کھجور کی قیمت کا حوالے کر دے اس شخص پر جس کے ہاتھوں گیہوں بیچے ہیں تو درست ہے۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنَ الأَرْزَاقِ الَّتِي تُعْطَى النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَىَّ إِلَى أَجَلٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْكَ الأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ أَنَّهُ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بُرًّا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا أَوْ ذُرَةً أَوْ دُخْنًا أَوْ شَيْئًا مِنَ الْحُبُوبِ الْقِطْنِيَّةِ أَوْ شَيْئًا مِمَّا يُشْبِهُ الْقِطْنِيَّةَ مِمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ أَوْ شَيْئًا مِنَ الأُدْمِ كُلِّهَا الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالْخَلِّ وَالْجُبْنِ وَالشَّبْرَقِ وَاللَّبَنِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الأُدْمِ فَإِنَّ الْمُبْتَاعَ لاَ يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَيَسْتَوْفِيَهُ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے اور یحییٰ بن سعید کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے جمیل بن عبدالرحمٰن موذن کو سعید بن المسیب سے کہتے سنا کہ میں آدمی ہوں۔ میں اپنے پڑوسی کے ذریعہ لوگوں کو ملنے والے رزق میں سے خریدوں گا جیسا کہ خدا چاہے گا اور پھر میں ایک مدت تک ضامن کھانے کو بیچنا چاہتا ہوں۔ تو اس نے اس سے کہا۔ سعید۔ کیا آپ ان کو اس رزق کا بدلہ دینا چاہتے ہیں جو آپ نے خریدا ہے؟ اس نے کہا ’’ہاں‘‘۔ تو اس نے منع کر دیا۔ ملک نے کہا، "معاملہ پر اتفاق ہو گیا تھا۔" ہمارے ہاں اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی گندم، جو، گیہوں، مکئی، جوار یا کوئی بھی اناج خریدتا ہے۔ روئی یا روئی سے مشابہ چیز جس پر زکوٰۃ واجب ہے یا خام مال سے بنی کوئی چیز بشمول تیل، گھی، شہد اور سرکہ۔ جہاں تک پنیر، پنیر، دودھ اور انسانوں سے ملتی جلتی کوئی چیز ہے، خریدار اس میں سے کسی چیز کو اس وقت تک فروخت نہیں کرتا جب تک کہ وہ اس پر قبضہ نہ کر لے۔ اور وہ اسے پورا کرتا ہے۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۳۱/۱۳۳۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لاَ بَأْسَ بِأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوفِ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى مَا لَمْ يَكُنْ فِي زَرْعٍ لَمْ يَبْدُ صَلاَحُهُ أَوْ تَمْرٍ لَمْ يَبْدُ صَلاَحُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ سَلَّفَ فِي طَعَامٍ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَحَلَّ الأَجَلُ فَلَمْ يَجِدِ الْمُبْتَاعُ عِنْدَ الْبَائِعِ وَفَاءً مِمَّا ابْتَاعَ مِنْهُ فَأَقَالَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ إِلاَّ وَرِقَهُ أَوْ ذَهَبَهُ أَوِ الثَّمَنَ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ بِعَيْنِهِ وَإِنَّهُ لاَ يَشْتَرِي مِنْهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ شَيْئًا حَتَّى يَقْبِضَهُ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا أَخَذَ غَيْرَ الثَّمَنِ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ أَوْ صَرَفَهُ فِي سِلْعَةٍ غَيْرِ الطَّعَامِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهُوَ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَإِنْ نَدِمَ الْمُشْتَرِي فَقَالَ لِلْبَائِعِ أَقِلْنِي وَأُنْظِرُكَ بِالثَّمَنِ الَّذِي دَفَعْتُ إِلَيْكَ ‏.‏ فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمَّا حَلَّ الطَّعَامُ لِلْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ أَخَّرَ عَنْهُ حَقَّهُ عَلَى أَنْ يُقِيلَهُ فَكَانَ ذَلِكَ بَيْعَ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ الْمُشْتَرِيَ حِينَ حَلَّ الأَجَلُ وَكَرِهَ الطَّعَامَ أَخَذَ بِهِ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِالإِقَالَةِ وَإِنَّمَا الإِقَالَةُ مَا لَمْ يَزْدَدْ فِيهِ الْبَائِعُ وَلاَ الْمُشْتَرِي فَإِذَا وَقَعَتْ فِيهِ الزِّيَادَةُ بِنَسِيئَةٍ إِلَى أَجَلٍ أَوْ بِشَىْءٍ يَزْدَادُهُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَوْ بِشَىْءٍ يَنْتَفِعُ بِهِ أَحَدُهُمَا فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالإِقَالَةِ وَإِنَّمَا تَصِيرُ الإِقَالَةُ إِذَا فَعَلاَ ذَلِكَ بَيْعًا وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِي الإِقَالَةِ وَالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ مَا لَمْ يَدْخُلْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنْ سَلَّفَ فِي حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ مَحْمُولَةً بَعْدَ مَحِلِّ الأَجَلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ مَنْ سَلَّفَ فِي صِنْفٍ مِنَ الأَصْنَافِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ خَيْرًا مِمَّا سَلَّفَ فِيهِ أَوْ أَدْنَى بَعْدَ مَحِلِّ الأَجَلِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي حِنْطَةٍ مَحْمُولَةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ شَعِيرًا أَوْ شَامِيَّةً وَإِنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ عَجْوَةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ صَيْحَانِيًّا أَوْ جَمْعًا وَإِنْ سَلَّفَ فِي زَبِيبٍ أَحْمَرَ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْوَدَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ بَعْدَ مَحِلِّ الأَجَلِ إِذَا كَانَتْ مَكِيلَةُ ذَلِكَ سَوَاءً بِمِثْلِ كَيْلِ مَا سَلَّفَ فِيهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے کہا کچھ قباحت نہیں اگر ایک مرد دوسرے مرد سے سلف کرے اناج میں جب اس کا وصف بیان کر دے نرخ مقرر کر کے میعاد معین پر جب وہ سلم کسی ایسے کھیت میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو یا ایسی کھجور میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو شخص سلف کرے اناج میں نرخ مقرر کر کے مدت معین پر تو جب مدت گزرے اور خریدار بائع (بچنے والا) کے پاس وہ اناج نہ پائے اور سلف کو مسخ کرے تو خریدار کو چاہیے اپنی چاندی یا سونا دیا ہو یا قیمت دی ہوئی بعینہ پھیر لے یہ نہ کرے کہ اس کے بدلے میں دوسری چیز بائع (بچنے والا) سے خرید لے جب تک اپنے ثمن پر قبضہ نہ کر لے کیونکہ اگر خریدار نے جو قیمت دی ہے اس کے سوا کچھ لے آیا اس کے بدلے میں دوسرا اسباب خرید لے تو اس نے اناج کو قبل قبضہ کے بیچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) سے کہا سلف کو فسخ کر ڈال اور ثمن واپس کرنے کے لئے میں تجھ کو مہلت دیتا ہوں تو یہ جائز نہیں اور اہل علم اس کو منع کرتے ہیں کیونکہ جب میعاد گزر گئی اور اناج بائع (بچنے والا) کے ذمہ واجب ہو اب مشتری (خریدنے والا) نے اپنے حق وصول کرنے میں دیر کی اس شرط سے کہ بائع (بچنے والا) سلم کو فسخ کر ڈالے تو گویا مشتری (خریدنے والا) نے اپنے اناج کو ایک مدت پر بیچا قبل قبضے کے۔ کہا مالک نے اس کی مثال یہ ہے کہ جب مدت پوری ہوئی اور خریدار نے اناج لینا پسند نہ کیا تو اس اناج کے بدلے میں کچھ روپے ٹھہرا لئے ایک مدت پر تو یہ اقالہ نہیں ہے اقالہ وہ ہے جس میں کمی بیشی بائع (بچنے والا) یا مشتری (خریدنے والا) کی طرف سے نہ ہو اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا کوئی میعاد بڑھ جائے گی یا کچھ فائدہ مقرر ہوگا بائع (بچنے والا) کا یا مشتری (خریدنے والا) کا تو وہ اقالہ بیع سمجھا جائے گا اور اقالہ اور شرکت اور تولیہ جب تک درست ہیں کہ کمی بیشی یا میعاد نہ ہو اگر یہ چیزیں ہوں گی تو وہ نئی بیع سمجھیں گے ۔ جن وجوہ سے بیع درست ہوتی ہے یہ بھی درست ہوں گی اور جن وجوہ سے بیع نادرست ہوتی ہے یہ بھی نادرست ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص سلف میں عمدہ گیہوں ٹھہرائے پھر میعاد گزرنے کے بعد اس سے بہتر یا بری لے لے تو کچھ قباحت نہیں بشرطیکہ وزن وہی ہو جو ٹھہرا ہو یہی حکم انگور اور کھجور میں ہے۔