عدالتی فیصلے
ابواب پر واپس
۵۶ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۳۹۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَىْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلاَ يَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی بشر ہوں اور تم میرے پاس لڑتے جھگڑتے آتے ہو شائد تم میں سے کوئی باتیں بنا کر اپنے دعوے کو ثابت کرلے پھر میں اس کے موافق فیصلہ کروں اس کے کہنے پر تو جس شخص کو میں اس کے بھائی حقل دلا دوں وہ نہ لے کیونکہ میں ایک انگارہ آگ کا اس کو دلاتا ہوں ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، اخْتَصَمَ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ وَيَهُودِيٌّ فَرَأَى عُمَرُ أَنَّ الْحَقَّ لِلْيَهُودِيِّ فَقَضَى لَهُ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ ‏.‏ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ إِنَّا نَجِدُ أَنَّهُ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِي بِالْحَقِّ إِلاَّ كَانَ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكٌ وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَكٌ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ لِلْحَقِّ مَادَامَ مَعَ الْحَقِّ فَإِذَا تَرَكَ الْحَقَّ عَرَجَا وَتَرَكَاهُ ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک یہودی اور ایک مسلمان لڑتے ہوئے آئے حضرت عمر کو یہودی کی طرف حق معلوم ہوا انہوں ہے اس کے موافق فیصلہ کیا پھر یہودی بولا قسم اللہ کی تم نے سچا فیصلہ کیا حضرت عمر نے اس کو درے سے مار اور کہا تجھے کیونکرمعلوم ہوا یہودی نے کہا ہماری کتابوں میں لکھا ہے جو حاکم سچا فیصلہ کرتا ہے اس کے داہنے ایک فرشتہ ہوتا ہے اور بائیں ایک فرشتہ دونوں اس کو مضبوط کرتے ہیں اور سیدھی راہ بتلاتے ہیں جب تک کہ وہ حاکم حق پر جمار ہتا ہے جب حق چھوڑ دیتا ہے وہ فرشتے بھی اس کو چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ‏"‏ ‏.‏
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہ خبر دوں میں تم کو سب سے بہتر گواہ کی جو گواہی دیتا ہے قبل اس کے کہ پوچھا جائے اس سے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ لَقَدْ جِئْتُكَ لأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلاَ ذَنَبٌ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ مَا هُوَ قَالَ شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَوَقَدْ كَانَ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لاَ يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الإِسْلاَمِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ ‏.‏
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص عراق کا رہنے والا حضرت عمرب کے پاس آیا اور بولا میں تمہارے پاس اس کام کو آیا ہوں جس کا سر پیر کچھ نہیں حضرت عمر نے کہا کیا ہے اس نے کہا جھوٹی گواہیاں ہمارے ملک میں بہت پھیل گئی ہیں حضرت عمر نے کہا سچ اس نے کہا ہاں تب حضرت عمر نے کہا اب کوئی شخص مسلمان قید نہ کیا جائے گا بغیر معتبر گواہوں کے ۔ حضرت عمر نے کہا نہیں درست ہے گواہی دشمن کی اور متہم کی ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلاَ ظَنِينٍ ‏.‏
مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عمر بن الخطاب نے کہا کہ مخالف یا مشتبہ شخص کی گواہی جائز نہیں ہے۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۴
قَالَ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَغَيْرِهِ، أَنَّهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ، جُلِدَ الْحَدَّ أَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ فَقَالُوا نَعَمْ إِذَا ظَهَرَتْ مِنْهُ التَّوْبَةُ ‏.‏
یحییٰ نے مالک کی سند سے کہا کہ انہیں سلیمان بن یسار اور دوسرے لوگوں سے خبر ملی ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جسے کوڑے مارے گئے تھے اور اس کی گواہی جائز نہیں تھی۔ انہوں نے کہا ہاں اگر اس سے توبہ ظاہر ہو جائے۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يُسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا وَذَلِكَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلاَ تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ * إِلاَّ الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ‏}‏‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَالأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الَّذِي يُجْلَدُ الْحَدَّ ثُمَّ تَابَ وَأَصْلَحَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ وَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۶
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ‏.‏
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ایک قسم اور ایک گواہ پر ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۷
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى الْكُوفَةِ أَنِ اقْضِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ‏.‏
مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے کہ عمر بن عبد العزیز نے عبد الحامد بن عبدالرحمٰن بن زید ابن الخطاب کو خط لکھا اور وہ کوفہ کا ایک انچارج گواہ کے ساتھ قسم کھا کر فیصلہ کرے گا۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلاَ هَلْ يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فَقَالاَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَحْلِفُ صَاحِبُ الْحَقِّ مَعَ شَاهِدِهِ وَيَسْتَحِقُّ حَقَّهُ فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ أُحْلِفَ الْمَطْلُوبُ فَإِنْ حَلَفَ سَقَطَ عَنْهُ ذَلِكَ الْحَقُّ وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ ثَبَتَ عَلَيْهِ الْحَقُّ لِصَاحِبِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي الأَمْوَالِ خَاصَّةً وَلاَ يَقَعُ ذَلِكَ فِي شَىْءٍ مِنَ الْحُدُودِ وَلاَ فِي نِكَاحٍ وَلاَ فِي طَلاَقٍ وَلاَ فِي عَتَاقَةٍ وَلاَ فِي سَرِقَةٍ وَلاَ فِي فِرْيَةٍ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَإِنَّ الْعَتَاقَةَ مِنَ الأَمْوَالِ ‏.‏ فَقَدْ أَخْطَأَ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ لَحَلَفَ الْعَبْدُ مَعَ شَاهِدِهِ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ أَنَّ سَيِّدَهُ أَعْتَقَهُ وَأَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى مَالٍ مِنَ الأَمْوَالِ ادَّعَاهُ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ وَاسْتَحَقَّ حَقَّهُ كَمَا يَحْلِفُ الْحُرُّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى عَتَاقَتِهِ اسْتُحْلِفَ سَيِّدُهُ مَا أَعْتَقَهُ وَبَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَيْضًا فِي الطَّلاَقِ إِذَا جَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِشَاهِدٍ أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا أُحْلِفَ زَوْجُهَا مَا طَلَّقَهَا فَإِذَا حَلَفَ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَسُنَّةُ الطَّلاَقِ وَالْعَتَاقَةِ فِي الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ وَاحِدَةٌ إِنَّمَا يَكُونُ الْيَمِينُ عَلَى زَوْجِ الْمَرْأَةِ وَعَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ وَإِنَّمَا الْعَتَاقَةُ حَدٌّ مِنَ الْحُدُودِ لاَ تَجُوزُ فِيهَا شَهَادَةُ النِّسَاءِ لأَنَّهُ إِذَا عَتَقَ الْعَبْدُ ثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ وَوَقَعَتْ لَهُ الْحُدُودُ وَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَإِنْ زَنَى وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ وَإِنْ قَتَلَ الْعَبْدَ قُتِلَ بِهِ وَثَبَتَ لَهُ الْمِيرَاثُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ يُوَارِثُهُ فَإِنِ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ عَبْدَهُ وَجَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ سَيِّدَ الْعَبْدِ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ فَشَهِدَ لَهُ عَلَى حَقِّهِ ذَلِكَ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُثْبِتُ الْحَقَّ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ حَتَّى تُرَدَّ بِهِ عَتَاقَتُهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ مَالٌ غَيْرُ الْعَبْدِ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ فِي الْعَتَاقَةِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ عَلَى مَا قَالَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَعْتِقُ عَبْدَهُ ثُمَّ يَأْتِي طَالِبُ الْحَقِّ عَلَى سَيِّدِهِ بِشَاهِدٍ وَاحِدٍ فَيَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِهِ ثُمَّ يَسْتَحِقُّ حَقَّهُ وَتُرَدُّ بِذَلِكَ عَتَاقَةُ الْعَبْدِ أَوْ يَأْتِي الرَّجُلُ قَدْ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَيِّدِ الْعَبْدِ مُخَالَطَةٌ وَمُلاَبَسَةٌ فَيَزْعُمُ أَنَّ لَهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ مَالاً فَيُقَالُ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ احْلِفْ مَا عَلَيْكَ مَا ادَّعَى فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ فَيَكُونُ ذَلِكَ يَرُدُّ عَتَاقَةَ الْعَبْدِ إِذَا ثَبَتَ الْمَالُ عَلَى سَيِّدِهِ ‏.‏ قَالَ وَكَذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَنْكِحُ الأَمَةَ فَتَكُونُ امْرَأَتَهُ فَيَأْتِي سَيِّدُ الأَمَةِ إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي تَزَوَّجَهَا فَيَقُولُ ابْتَعْتَ مِنِّي جَارِيَتِي فُلاَنَةَ أَنْتَ وَفُلاَنٌ بِكَذَا وَكَذَا دِينَارًا ‏.‏ فَيُنْكِرُ ذَلِكَ زَوْجُ الأَمَةِ فَيَأْتِي سَيِّدُ الأَمَةِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَيَشْهَدُونَ عَلَى مَا قَالَ فَيَثْبُتُ بَيْعُهُ وَيَحِقُّ حَقُّهُ وَتَحْرُمُ الأَمَةُ عَلَى زَوْجِهَا وَيَكُونُ ذَلِكَ فِرَاقًا بَيْنَهُمَا وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لاَ تَجُوزُ فِي الطَّلاَقِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَفْتَرِي عَلَى الرَّجُلِ الْحُرِّ فَيَقَعُ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَيَأْتِي رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَيَشْهَدُونَ أَنَّ الَّذِي افْتُرِيَ عَلَيْهِ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ فَيَضَعُ ذَلِكَ الْحَدَّ عَنِ الْمُفْتَرِي بَعْدَ أَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لاَ تَجُوزُ فِي الْفِرْيَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَيْضًا مِمَّا يَفْتَرِقُ فِيهِ الْقَضَاءُ وَمَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ أَنَّ الْمَرْأَتَيْنِ يَشْهَدَانِ عَلَى اسْتِهْلاَلِ الصَّبِيِّ فَيَجِبُ بِذَلِكَ مِيرَاثُهُ حَتَّى يَرِثَ وَيَكُونُ مَالُهُ لِمَنْ يَرِثُهُ إِنْ مَاتَ الصَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ شَهِدَتَا رَجُلٌ وَلاَ يَمِينٌ وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ فِي الأَمْوَالِ الْعِظَامِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالرِّبَاعِ وَالْحَوَائِطِ وَالرَّقِيقِ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَمْوَالِ وَلَوْ شَهِدَتِ امْرَأَتَانِ عَلَى دِرْهَمٍ وَاحِدٍ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ لَمْ تَقْطَعْ شَهَادَتُهُمَا شَيْئًا وَلَمْ تَجُزْ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا شَاهِدٌ أَوْ يَمِينٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ لاَ تَكُونُ الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ ‏.‏ وَيَحْتَجُّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَوْلُهُ الْحَقُّ ‏{‏وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ‏}‏ يَقُولُ فَإِنْ لَمْ يَأْتِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَلاَ شَىْءَ لَهُ وَلاَ يُحَلَّفُ مَعَ شَاهِدِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَمِنَ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْقَوْلَ أَنْ يُقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً ادَّعَى عَلَى رَجُلٍ مَالاً أَلَيْسَ يَحْلِفُ الْمَطْلُوبُ مَا ذَلِكَ الْحَقُّ عَلَيْهِ فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ وَإِنْ نَكَلَ عَنِ الْيَمِينِ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ إِنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ ‏.‏ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى صَاحِبِهِ فَهَذَا مَا لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلاَ بِبَلَدٍ مِنَ الْبُلْدَانِ فَبِأَىِّ شَىْءٍ أَخَذَ هَذَا أَوْ فِي أَىِّ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَجَدَهُ فَإِنْ أَقَرَّ بِهَذَا فَلْيُقْرِرْ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنَّهُ لَيَكْفِي مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ وَلَكِنِ الْمَرْءُ قَدْ يُحِبُّ أَنْ يَعْرِفَ وَجْهَ الصَّوَابِ وَمَوْقِعَ الْحُجَّةِ فَفِي هَذَا بَيَانُ مَا أَشْكَلَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ‏.‏
کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور وہ لوگوں کا قرضدار ہو جس کا ایک گواہ ہو اور اس کا بھی قرض ایک پر آتا ہو اس کا بھی ایک گواہ ہو اور اس کے وارث قسم کھانے سے انکار کریں تو قرض خواہ قسم کا کر اپنا قرضہ وصول کریں اگر کچھ بچ رہے گا تو وہ وارثوں کو نہ ملے گا کیونکہ انہوں نے قسم نہ کھا کر اپناحق آپ چھوڑ دیا مگر جب وارث یہ کہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ قرض میں سے کچھ بچ رہے گا اسی واسطے ہم نے قسم نہیں کھائی اور حاکم کو معلوم ہوجائے کہ وارثوں نے اسی واسطے قسم نہ کھائی تھی تو اس صورت میں وارث قسم کھا کر جو کچھ مال بچ رہا ہے اس کو کے سکتے ہیں ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۰۹
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ، أَنَّهُ كَانَ يَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ فَإِذَا جَاءَهُ الرَّجُلُ يَدَّعِي عَلَى الرَّجُلِ حَقًّا نَظَرَ فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ مُلاَبَسَةٌ أَحْلَفَ الَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَىْءٌ مِنْ ذَلِكَ لَمْ يُحَلِّفْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ مَنِ ادَّعَى عَلَى رَجُلٍ بِدَعْوَى نُظِرَ فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ مُلاَبَسَةٌ أُحْلِفَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ ذَلِكَ الْحَقُّ عَنْهُ وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ وَرَدَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعِي فَحَلَفَ طَالِبُ الْحَقِّ أَخَذَ حَقَّهُ ‏.‏
یحییٰ نے کہا، مالک نے جمیل بن عبدالرحمٰن، موذن کی سند سے کہا کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے پاس اس وقت حاضر ہوتے تھے جب وہ لوگوں کا فیصلہ کرتے تھے۔ پس اگر کوئی شخص دوسرے آدمی کے خلاف حق مانگتا ہوا اس کے پاس آئے تو وہ دیکھے گا اور اگر ان کے درمیان کوئی رابطہ یا ابہام ہو گیا ہو تو جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے وہ قسم کھائے گا، اگرچہ کوئی نہ ہو۔ اگر اس میں سے کوئی ہے تو وہ اسے قسم نہیں دلائے گا۔ ملک نے کہا، اور ہمارے خیال میں اس معاملے کی بنیاد پر، جو شخص کسی شخص کے خلاف مقدمہ کا دعویٰ کرے گا اس کی جانچ کی جائے گی۔ اگر ان کے درمیان رابطہ ہو یا الجھن ہو تو مدعا علیہ قسم کھاتا ہے اور اگر وہ قسم اٹھاتا ہے تو اس کا یہ حق باطل ہے اور اگر وہ قسم اٹھانے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس قسم کو واپس کرتا ہے۔ مدعی نے قسم کھائی کہ اس نے اپنا حق مان لیا ہے۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۰
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَ يَقْضِي بِشَهَادَةِ الصِّبْيَانِ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ شَهَادَةَ الصِّبْيَانِ تَجُوزُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَلاَ تَجُوزُ عَلَى غَيْرِهِمْ وَإِنَّمَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَحْدَهَا لاَ تَجُوزُ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا أَوْ يُخَبَّبُوا أَوْ يُعَلَّمُوا فَإِنِ افْتَرَقُوا فَلاَ شَهَادَةَ لَهُمْ إِلاَّ أَنْ يَكُونُوا قَدْ أَشْهَدُوا الْعُدُولَ عَلَى شَهَادَتِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقُوا ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر لڑکوں کی گواہی پر حکم کرتے تھے ان کے آپس کی مار پیٹ کے ۔ کہا مالک نے لڑکے لڑ کر ایک دوسرے کو زخمی کریں تو ان کی گواہی درست ہے لیکن لڑکوں کی گواہی اور مقدمات میں درست نہیں ہے یہ بھی جب درست ہے کہ لڑ لڑا کر جدا نہ ہوگئے ہوں مکر نہ کیا ہو اگر جدا جدا چلے گئے ہوں تو پھر ان کی گواہی درست نہیں ہے مگر جب عادل لوگوں کو اپنی شہادت پر شاہد کر گئے ہوں ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۱
قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي آثِمًا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائے اس نے اپنا ٹھکانہ نبالیا جہنم میں
۱۴
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏
مالک نے مجھ سے علاء بن عبدالرحمٰن کی سند سے، معبد بن کعب السلمی کی سند سے، اپنے بھائی عبداللہ بن کعب بن مالک کی سند سے۔ الانصاری، ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق سلب کرے، اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔ اور اس کے لیے جہنم کو لازم کر دیا گیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چہ چھوٹی سی بات ہو۔ اس نے کہا، "چاہے یہ دنیا کا ایک طویل حصہ ہو۔" چاہے وہ عرق کی چھڑی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے تین بار کہا۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۳
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، يَقُولُ اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ وَابْنُ مُطِيعٍ فِي دَارٍ كَانَتْ بَيْنَهُمَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَضَى مَرْوَانُ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِالْيَمِينِ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏.‏ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي ‏.‏ قَالَ فَقَالَ مَرْوَانُ لاَ وَاللَّهِ إِلاَّ عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ ‏.‏ وَيَأْبَى أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْمِنْبَرِ - قَالَ - فَجَعَلَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَرَى أَنْ يُحَلَّفَ أَحَدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى أَقَلَّ مِنْ رُبُعِ دِينَارٍ وَذَلِكَ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ ‏.‏
ابی غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ زید بن ثابت اور عبداللہ بن مطیع نے جھگڑا کیا ایک گھر میں جو دنوں میں مشترک تھا تو لے گئے مقدمہ مروان بن حکم کے پاس وہ ان دنوں میں حاکم تھا مدینہ کا مروانے فیصلہ کیا اس بات پر کہ زید بن ثابت قسم کھائیں منبر شریف پر زید نے کہا میں اپنی جگہ پر قسم کھاؤں گا مروان نے کہا نہیں وہیں قسم کھاؤ جہاں لوگوں نے قضیے چکتے ہیں تو زید بن ثابت قسم کھاتے تھے میں سچاہوں لیکن منبر پر قسم کھانے سے انکار کرتے تھے اور مروان کو تعجب ہوتا تھا۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۴
قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَغْلَقُ الرَّهْنُ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ نے کہا: ہم سے مالک نے ابن شہاب کی سند سے اور سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہن بند نہیں کیا جائے گا۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۵
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، قَضَى فِي امْرَأَةٍ أُصِيبَتْ مُسْتَكْرَهَةً بِصَدَاقِهَا عَلَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بِهَا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَغْتَصِبُ الْمَرْأَةَ بِكْرًا كَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا إِنَّهَا إِنْ كَانَتْ حُرَّةً فَعَلَيْهِ صَدَاقُ مِثْلِهَا وَإِنْ كَانَتْ أَمَةً فَعَلَيْهِ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا وَالْعُقُوبَةُ فِي ذَلِكَ عَلَى الْمُغْتَصِبِ وَلاَ عُقُوبَةَ عَلَى الْمُغْتَصَبَةِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ وَإِنْ كَانَ الْمُغْتَصِبُ عَبْدًا فَذَلِكَ عَلَى سَيِّدِهِ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ أَنْ يُسَلِّمَهُ ‏.‏
مالک نے ابن شہاب کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ عبد الملک بن مروان نے ایک زخمی عورت کے بارے میں فیصلہ سنایا اور اس کے ساتھ اس کی دوستی کی مذمت کی۔ اس کے ساتھ۔ یحییٰ نے کہا: میں نے مالک کو کہتے سنا: ہمارے ہاں معاملہ یہ ہے کہ مرد عورت کی عصمت دری کرتا ہے، خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ، اگرچہ وہ آزاد ہو۔ تو اس پر لازم ہے کہ اس کی طرح مہر ادا کرے اور اگر وہ لونڈی ہو تو اس کی قیمت سے کم قیمت ادا کرے اور اس صورت میں سزا غاصب پر ہے اور غصب کرنے والی عورت پر کوئی سزا نہیں ہے۔ ان سب میں، خواہ غاصب غلام ہی کیوں نہ ہو، یہ اس کے آقا کی ذمہ داری ہے، الا یہ کہ وہ اسے حوالے کرنے کو تیار ہو۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا نُرَى - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - ‏"‏ مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ ‏"‏ ‏.‏ أَنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الإِسْلاَمِ إِلَى غَيْرِهِ مِثْلُ الزَّنَادِقَةِ وَأَشْبَاهِهِمْ فَإِنَّ أُولَئِكَ إِذَا ظُهِرَ عَلَيْهِمْ قُتِلُوا وَلَمْ يُسْتَتَابُوا لأَنَّهُ لاَ تُعْرَفُ تَوْبَتُهُمْ وَأَنَّهُمْ كَانُوا يُسِرُّونَ الْكُفْرَ وَيُعْلِنُونَ الإِسْلاَمَ فَلاَ أَرَى أَنْ يُسْتَتَابَ هَؤُلاَءِ وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهُمْ قَوْلُهُمْ وَأَمَّا مَنْ خَرَجَ مِنَ الإِسْلاَمِ إِلَى غَيْرِهِ وَأَظْهَرَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلاَّ قُتِلَ وَذَلِكَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا كَانُوا عَلَى ذَلِكَ رَأَيْتُ أَنْ يُدْعَوْا إِلَى الإِسْلاَمِ وَيُسْتَتَابُوا فَإِنْ تَابُوا قُبِلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ وَإِنْ لَمْ يَتُوبُوا قُتِلُوا وَلَمْ يُعْنَ بِذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْيَهُودِيَّةِ إِلَى النَّصْرَانِيَّةِ وَلاَ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ وَلاَ مَنْ يُغَيِّرُ دِينَهُ مِنْ أَهْلِ الأَدْيَانِ كُلِّهَا إِلاَّ الإِسْلاَمَ فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الإِسْلاَمِ إِلَى غَيْرِهِ وَأَظْهَرَ ذَلِكَ فَذَلِكَ الَّذِي عُنِيَ بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص اپنا دین بدل ڈالے تو اس کی گردن مارو۔ کہا مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اس کی گردن مارو ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں جو مسلمان اسلام سے باہر ہوجائیں جیسے زنادقہ یا ان کی مانند تو جب مسلمان ان پر غلبہ پائیں تو ان کو قتل کردیں یہ بھی ضروری نہیں کہ پہلے ان سے توبہ کرنے کو کہیں کیونکہ ان کی توبہ کا اعتبار نہیں ہوسکتا وہ کفر کو اپنے دل میں رکھتے ہیں اور ظاہر میں اپنے تئیں مسلمان کہتے ہیں لیکن اگر مسلمان شخص (کسی شبہ کی وجہ سے) علانیہ دین اسلام سے پھر جائے تو اس سے توبہ کرائیں (اور جو شبہ ہوا ہو اس کو دور کردیں) اگر توبہ کرے تو بہتر۔ ورنہ قتل کیا جائے اور جو کافر ایک کفر کے دین کو چھوڑ کر دوسرا کفر کا دین اختیار کرے مثلا پہلے یہودی تھا پھر نصرانی ہوجائے تو اس کو قتل نہ کریں گے بلکہ جو دین اسلام کو چھوڑ کر اور کوئی دین اختیار کرے گا اسی کے لئے یہ سزاہے۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ فَسَأَلَهُ عَنِ النَّاسِ، فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ، قَالَ لَهُ عُمَرُ هَلْ كَانَ فِيكُمْ مِنْ مُغَرِّبَةِ خَبَرٍ فَقَالَ نَعَمْ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ ‏.‏ قَالَ فَمَا فَعَلْتُمْ بِهِ قَالَ قَرَّبْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَفَلاَ حَبَسْتُمُوهُ ثَلاَثًا وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا وَاسْتَتَبْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ وَيُرَاجِعُ أَمْرَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي ‏.‏
محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص آیا ابوموسیٰ اشعری کے پاس سے حضرت عمر نے اس سے وہاں کے لوگوں کا حال پوچھا اس نے بیان کیا پھر حضرت عمر نے کہا تم کو کوئی نادر چیز معلوم ہے وہ شخص بولا ہاں ایک شخص کافر ہو گیا تھا بعد اسلام کے حضرت عمر نے پوچھا تم نے اس سے کیا کیا وہ شخص بولا ہم نے اسے پکڑا اور اس کی گردن ماردی حضرت عمر نے کہا تم نے اس کو تین دن تک قید کیا ہوتا اور ہر روز روٹی دی ہوتی پھر توبہ کروائی ہوتی شائدوہ توبہ کرتا اور پھر اللہ کے حکم مان لیتا پھر حضرت عمر نے فرمایا یا اللہ میں اس وقت وہاں موجود نہ تھا مں نے حکم کیا نہ میں خوش ہوا جب کہ مجھے معلوم ہوا۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلاً أَأُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں کیا میں اس کو مہلت دوں یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۱۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ - يُقَالُ لَهُ ابْنُ خَيْبَرِيٍّ - وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ أَوْ قَتَلَهُمَا مَعًا فَأَشْكَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْقَضَاءُ فِيهِ فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ يَسْأَلُ لَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ ذَلِكَ فَسَأَلَ أَبُو مُوسَى عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ هَذَا الشَّىْءَ مَا هُوَ بِأَرْضِي عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى كَتَبَ إِلَىَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَبُو حَسَنٍ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے شام والوں میں سے اپنی عورت کے ساتھ ایک مرد کو پایا تو مار ڈالا اس مرد کو یا مرد عورت دونوں کو معاویہ بن ابی سفیان ان کو اس فیصلہ دشوار ہوا انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ تم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسئلہ کو پوچھو ابوموسیٰ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا حضرت علی نے کہا یہ واقعہ میرے ملک میں نہیں ہوا میں تم کو قسم دیتا ہوں تم سچ بیان کرو کہاں یہ امر ہوا ابوموسیٰ نے کہا مجھے معاویہ بن سفیان نے لکھا ہے کہ میں تم سے اس مسئلہ کو پوچھوں حضرت علی نے کہا میں ابوا لحسن ہوں اگر چار گواہ نہ لائے تو قتل پر راضی ہو جائے ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۰
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُنَيْنٍ أَبِي جَمِيلَةَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَخْذِ هَذِهِ النَّسَمَةِ فَقَالَ وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عَرِيفُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَكَذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَهُوَ حُرٌّ وَلَكَ وَلاَؤُهُ وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ ‏.‏
سنین بن ابی جمیلہ نے ایک منبوذ پایا حضرت عمر کے زمانے میں انہوں نے کہا میں اس کو حضرت عمر کے پاس لے آیا حضرت عمر نے پوچھا تو نے اس کو کیوں اٹھایا میں نے کہا یہ پڑے پڑے مر جاتا اس واسطے میں نے اٹھا لیا اتنے میں حضرت عمر کے عریف نے کہا اے امیر المومنین میں اس شخص کو جانتا ہوں نیک آدمی ہے حضرت عمر نے کہا نیک ہے اس نے کہا ہاں حضرت عمر نے کہا جادہ مبنوذ آزاد ہے تجھ کو اس کی ولا ملے گی اور ہم اس کا خرچ دیں گے ۔ کہا مالک نے منبوذ آزاد رہے گا اور ولاء اس کی مسلمانوں کو ملے گی وہی اس کے وارث ہوں گے وہی اس کی طرف سے دیت بھی دیں گے۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۱
قَالَ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ وَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ ‏.‏ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ‏.‏ فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ‏"‏ احْتَجِبِي مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ عتبہ بن ابی وقاص نے مرتے وقت اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرے نطفہ سے ہے تو اس کو اپنے پاس رکھیوں تو جب مکہ فتح ہوا تو سعد نے اس لڑکے کو لے لیا اور کہا میرے بھائی کا بیٹا ہے اس نے وصیت کی تھی اس کے لینے کی عبد زمعہ نے کہا یہ لڑکا میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے دونوں نے جھگڑا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سعد نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیٹا ہے میرے بھائی کا اس نے مجھے وصیت کی تھی اور میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبد زمعہ سے کہ یہ لڑکا تیرا ہے پھر فرمایا لڑکا ماں کے خاوند یا مالک کا ہوتا ہے اور زنا کرنے والے کے لئے پتھر ہیں پھر سودہ بنت زمعہ سے کہا کہ تو اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ وہ لڑکا مشابہ تھا عتبہ بن ابی وقاص کے سو اس لڑکے نے نہ دیکھا سودہ کر یہاں تک کہ انتقال ہوا اس کا ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ امْرَأَةً، هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِينَ حَلَّتْ فَمَكَثَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفَ شَهْرٍ ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَا عُمَرُ نِسْوَةً مِنْ نِسَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ قُدَمَاءَ فَسَأَلَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا حِينَ حَمَلَتْ مِنْهُ فَأُهْرِيقَتْ عَلَيْهِ الدِّمَاءُ فَحَشَّ وَلَدُهَا فِي بَطْنِهَا فَلَمَّا أَصَابَهَا زَوْجُهَا الَّذِي نَكَحَهَا وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَاءُ تَحَرَّكَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا وَكَبِرَ ‏.‏ فَصَدَّقَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنِي عَنْكُمَا إِلاَّ خَيْرٌ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالأَوَّلِ ‏.‏
عبداللہ بن امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند مر گیا تو اس نے چار مہینے دس دن تک عدت کی پھر دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ابھی اس کے پاس ساڑھے چار مہینے رہی تھی کہ ایک لڑکا جنا حاصا پورا تو اس کا خاوند حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے یہ حال بیان کیا حضرت عمر نے اپنی پرانی عورتوں کو جاہلیت کے زمانے میں تھیں بلوایا اور ان سے پوچھا ان میں سے ایک عورت بولی میں تم کو اس عورت کا حالات باتی ہوں یہ حاملہ ہوگئی تھی اپنے پہلے خاوند سے جو مر گیا تو حیض کا خون بچے پر پڑتے پڑتے وہ بچہ سوکھ گیا تھا اس کے پیٹ میں تو جب اس نے دوسرا نکاح کیا مر کی منہ پہنچے سے پھر بچے کو حرکت ہوئی اور بڑا ہو گیا حضرت عمر نے اس کی تصدیق کی اور نکاح توڑ ڈالا تو فرمایا کہ خیر ہوئی تمہاری کوئی بری بات مجھے نہیں پہنچی اور لڑکے کا نسب پہلے خاوند سے ثابت کیا،۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يُلِيطُ أَوْلاَدَ الْجَاهِلِيَّةِ بِمَنِ ادَّعَاهُمْ فِي الإِسْلاَمِ فَأَتَى رَجُلاَنِ كِلاَهُمَا يَدَّعِي وَلَدَ امْرَأَةٍ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَائِفًا فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَقَالَ الْقَائِفُ لَقَدِ اشْتَرَكَا فِيهِ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ دَعَا الْمَرْأَةَ فَقَالَ أَخْبِرِينِي خَبَرَكِ فَقَالَتْ كَانَ هَذَا - لأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ - يَأْتِينِي ‏.‏ وَهِيَ فِي إِبِلٍ لأَهْلِهَا فَلاَ يُفَارِقُهَا حَتَّى يَظُنَّ وَتَظُنَّ أَنَّهُ قَدِ اسْتَمَرَّ بِهَا حَبَلٌ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهَا فَأُهْرِيقَتْ عَلَيْهِ دِمَاءٌ ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا هَذَا - تَعْنِي الآخَرَ - فَلاَ أَدْرِي مِنْ أَيِّهِمَا هُوَ قَالَ فَكَبَّرَ الْقَائِفُ فَقَالَ عُمَرُ لِلْغُلاَمِ وَالِ أَيَّهُمَا شِئْتَ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عمر جاہلیت کے بچوں کو جو ان کا دعوی کرتا اسلام کے زمانے میں اسی سے ملا دیتے ایک بار دو آدمی دعوی کرتے ہوئے آئے ایک لڑکے کا حضرت عمر نے قائف کو بلایا قائف نے دیکھ کر کہا اس لڑکے میں دونوں شریک ہیں حضرت عمر نے قائف کو درے سے مارا پھر اس عورت کو بلایا اور کہا تو اپنا حال مجھ سے کہہ اس نے ایک مرد کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ میرے پاس آتا تھا اور میں اپنے لوگوں کے اونٹوں میں ہوتی تھی تو وہ مجھ سے الگ نہیں ہوتا تھا بلکہ مجھ سے چمٹا رہتا تھا یہاں تک کہ وہ بھی اور بھی بھی گمان کرتے حمل رہ جانے کا پھر جاتا اور مجھے خون آیا کرتا تب دوسرا مرد آتا وہ بھی صحبت کرتا میں نہیں جانتی ان دونوں میں سے یہ کسی کا نطفہ ہے قائف یہ سن کر خوشی کے مارے پھول گیا حضرت عمر نے کہا لڑکے سے تجھے اختیار ہے جس سے چاہے ان دنوں میں سے مولات کر لے ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَوْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَضَى أَحَدُهُمَا فِي امْرَأَةٍ غَرَّتْ رَجُلاً بِنَفْسِهَا وَذَكَرَتْ أَنَّهَا حُرَّةٌ فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلاَدًا فَقَضَى أَنْ يَفْدِيَ وَلَدَهُ بِمِثْلِهِمْ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَالْقِيمَةُ أَعْدَلُ فِي هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے ایک شخص مرجائے اور کئی بیٹے چھوڑ جائے اب ایک بیٹا ان میں سے یہ کہے کہ میرے باپ نے یہ کہا تھا کہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے تو ایک آدمی کے کہنے سے اس کا نسب ثابت نہ ہوگا اور وارثوں کے حصوں میں سے اس کو کچھ نہ ملے گا البتہ جس نے اقرار کیا ہے اس کے حصے میں سے اس کو ملے گا۔ کہا مالک نے اس کی تفسیر یہ ہے ایک شخص مرجائے اور دو بیٹے چھوڑ جائے اور چھ سو دینار ہر ایک بیٹا تین تین سو دینار لے پھر ایک بیٹا یہ کہے کہ میرے باپ نے اقرار کیا تھا اس امر کا کہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے تو وہ اپنے حصے میں سے اس کو سو دینار دے کیونکہ ایک وارث نے اقرار کیا ایک نے اقرار نہ کیا تو اس کو آدھا حصہ ملے گا اگر وہ بھی اقرار کرلیتا تو پورا حصہ یعنی دو سو دینار ملتے اور نسب ثابت ہوجاتا اس کی مثال یہ ہے ایک عورت اپنے باپ یا خاوند کے ذمے پر قرض کا اقرار کرے اور باق وارث انکار کریں تو وہ اپنے حصے کے موافق اس میں سے قرضہ ادا کرے اسی حساب سے۔ کہا مالک نے ایک مرد بھی اس قرض خواہ کے قرضے کا گواہ ہو تو اس کو حلف دے کر ترکے میں سے پورا قرضہ دلادیں گے۔ کیونکہ ایک مرد جب گواہ ہو اور مدعی بھی حلف کرے تو دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے البتہ اگر قرض خواہ حلف نہ کرے تو جو وارث اقرار کرتا ہے اسی کے حصے کے موافق قرضہ وصول کرے۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۵
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلاَئِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُوهُنَّ لاَ تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلاَّ أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوِ اتْرُكُوا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کیا حال ہے لوگوں کو جماع کرتے ہیں اپنی لونڈیوں سے پھر ان سے جدا ہو جاتے ہیں اب سے میرے پاس جو لونڈی آئے گی اور اس کے مولیٰ کو اقرار ہوگا اس سے جماع کرنے کا تو میں اس لڑکے کو مولیٰ سے ملادوں گا تم کو اختیار ہے چاہے عزل کرو یا نہ کرو۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلاَئِدَهُمْ ثُمَّ يَدَعُوهُنَّ يَخْرُجْنَ لاَ تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلاَّ قَدْ أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَأَرْسِلُوهُنَّ بَعْدُ أَوْ أَمْسِكُوهُنَّ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا جَنَتْ جِنَايَةً ضَمِنَ سَيِّدُهَا مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ قِيمَتِهَا وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسَلِّمَهَا وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَحْمِلَ مِنْ جِنَايَتِهَا أَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا ‏.‏
صفیہ بن عبید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کیا حال ہے لوگوں کو جماع کرتے ہیں اپنی لونڈیوں سے پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں وہ نکلی پھرتی ہیں اب میرے پاس جو لونڈی آئے گی اور مولیٰ کا اقرار ہوگا اس سے صحبت کرنے کا تو میں اس کے لڑکے کا نسب مولیٰ سے ثابت کردوں گا اب اس کے بعد چاہے انہیں بھیجا کرو چاہے روکے رکھا کرو کہا مالک نے ام ولد جب جنایت کرے تو مولیٰ اس کا تاوان دے اور ام ولد کو اس جنایت کے عوض میں نہیں دے سکتا مگر قیمت سے زیادہ تاوان نہ دے گا۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے جو شخص ظلم سے وہاں کچھ تصرف کرے اس کو کچھ حق نہیں ہے ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۲۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ وَمُذَيْنِبٍ ‏ "‏ يُمْسَكُ حَتَّى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلُ الأَعْلَى عَلَى الأَسْفَلِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونالوں میں ایک کا نام مہروز تھا اور دوسرے کا نام مذینیب کہ جس کا باغ نالہ کے متصل ہے وہ اپنے باغ میں ٹخنوں ٹخنوں پانی بھر کے پھر دوسرے کے باغ میں پانی چھوڑ دے ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا جائے گا پانی جو بچ رہا ہو تاکہ گھانس بچ جائے ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ ‏"‏ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ منع کیا جائے اس پانی سے کنوئی کے جو بچ رہے ۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ضرر ہے اسلام میں نہ ضرار ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمْنَعُ أَحَدُكُمْ جَارَهُ خَشَبَةً يَغْرِزُهَا فى جِدَارِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کرتے تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کو لکڑی گاڑنے سے اپنی دیوار میں پھر ابوہریرہ کہتے تھے کیا وجہ ہے کہ تم اس حدیث کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے قسم اللہ کی میں اس کو خوب مشہور کروں گا۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ، سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعُرَيْضِ فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَأَبَى مُحَمَّدٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ لِمَ تَمْنَعُنِي وَهُوَ لَكَ مَنْفَعَةٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَلاَ يَضُرُّكَ ‏.‏ فَأَبَى مُحَمَّدٌ فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ لاَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ تَسْقِي بِهِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَهُوَ لاَ يَضُرُّكَ ‏.‏ فَقَالَ مُحَمَّدٌ لاَ وَاللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ ‏.‏ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فَفَعَلَ الضَّحَّاكُ ‏.‏
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے ایک نہر نکالی عرض میں سے محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے ہو کر انہوں نے منع کیا ضحاک نے کہا تم کیوں منع کرتے ہو تمہارا تو اس میں نفع ہے اپنی زمین کو اول اور آخر پانی دیا کرنا اور کچھ ضرر نہی محمد نہ مانا ضحاک نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے محمد بن مسلمہ کا بلا کر کہا تم اجازت دو محمد نے کہا میں نہ دوں گا حضرت عمر نے کہا تم اپنے بھائی مسلمان کو ایسی بات سے منع کرتے ہو جس میں اس کا نفع ہے اور تمہارا بھی نفع ہے تم بھی پانی لیا کرنا اول اور آخر میں اور تمہارا کچھ ضرر نہیں محمد نے کہا قسم اللہ کی میں اجازت نہ دونگا حضرت عمر نے کہا وہ نہر بہائی جائے اگرچہ تمہارے پیٹ پر سے ہو پھر حضرت عمر نے ضحاک کو حکم کیا نہر جاری کرنے گا محمد بن مسلمہ کی زمین سے ہو کر ضحاک نے ایسا ہی کہا۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ فِي حَائِطِ جَدِّهِ رَبِيعٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَأَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنْ يُحَوِّلَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْحَائِطِ هِيَ أَقْرَبُ إِلَى أَرْضِهِ فَمَنَعَهُ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي ذَلِكَ فَقَضَى لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِتَحْوِيلِهِ ‏.‏
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ میرے دادا کے باغ میں سے ہو کر ایک نہر بہتی تھی عبدالرحمن بن عوف کی عبدالرحمن نے یہ چاہا کہ اس کو باغ کی دوسری طرف سے لے جائیں کیونکہ وہ قریب تھا ان کی زمین سے لیکن باغ کے مالک یعنی میرے داد نے اجازت نہ دی عبدالرحمن نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے اجازت دے دی ۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَكَهَا الإِسْلاَمُ وَلَمْ تُقْسَمْ فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِيمَنْ هَلَكَ وَتَرَكَ أَمْوَالاً بِالْعَالِيَةِ وَالسَّافِلَةِ إِنَّ الْبَعْلَ لاَ يُقْسَمُ مَعَ النَّضْحِ إِلاَّ أَنْ يَرْضَى أَهْلُهُ بِذَلِكَ وَإِنَّ الْبَعْلَ يُقْسَمُ مَعَ الْعَيْنِ إِذَا كَانَ يُشْبِهُهَا وَأَنَّ الأَمْوَالَ إِذَا كَانَتْ بِأَرْضٍ وَاحِدَةٍ الَّذِي بَيْنَهُمَا مُتَقَارِبٌ أَنَّهُ يُقَامُ كُلُّ مَالٍ مِنْهَا ثُمَّ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ وَالْمَسَاكِنُ وَالدُّورُ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ ‏.‏
ثور بن زید ویلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہو چکا ہے وہ اسی طور پر رہیگا البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی ۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے بلکہ جدا جداتقسیم کریں گے۔ (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصہ اور چاہی کا بیسواں حصہ پیداوار کا) مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے ۔ (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصہ ہے اسی طرح اگر کسی قسم کے مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔)
۳۹
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةً، لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا ‏.‏
حرام بن سعد محیصہ سے روایت ہے کہ براء بن عازب کا اونٹ ایک باغ میں چلا گیا اور نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا کہ باغ کی حفاظت دن کو باغ والے کے ذمے پر ہے البتہ اگر رات کو کسی کا جانور باغغ میں جا کر نقصان کرے تو ضمان اس کا جانور کے مالک پر ہوگا ۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَقِيقًا، لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ عُمَرُ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ فَقَالَ الْمُزَنِيُّ قَدْ كُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِهِ ثَمَانَمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا فِي تَضْعِيفِ الْقِيمَةِ وَلَكِنْ مَضَى أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَغْرَمُ الرَّجُلُ قِيمَةَ الْبَعِيرِ أَوِ الدَّابَّةِ يَوْمَ يَأْخُذُهَا ‏.‏
یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا جب یہ مقدمہ حضرت عمر کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر بن صلت سے کہا ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال پھر حاطب سے کہا میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا پھر حضرت عمر نے کہا حاطب سے قسم اللہ کی میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گران گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ والے سے پوچھا تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا اس نے کہا میں نے چار سو درہم کو اسے اس نے نہیں بیچا حضرت عمر نے کہا تو آٹھ سو درہم اس کے دے کہا مالک نے ہمارے نزدیک قیمت دوچند لینے میں اس روایت پر عمل نہ ہوگا لیکن در آمد لوگوں کی یہ رہی کہ اس جانور کی جو قمیت چرانے کے دن ہوگی وہ دینی ہوگی۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۳۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَبَاهُ بَشِيرًا أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا كَانَ لِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَارْتَجِعْهُ ‏"‏ ‏.‏
کہا مالک نے ایک شخص نے اپنے ذمے پر جو قرض ہے اس کو اپنے ایک قرض دار پر اتاردیا قرض خواہ کی رضامندی سے اب وہ قرض دار مفلس ہوگیا یا بے جائداد مرگیا تو قرض خواہ پھر اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے البتہ اگر ایک شخص دوسرے کے ذمے پر جو قرض ہے اس کا ضامن ہوگیا پھر جو ضامن ہوا تھا بے جائداد مر گیا یا مفلس ہوگیا تو قرض خواہ قرضدار سے مطالبہ کرسکتا ہے۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ نَحَلَهَا جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ وَاللَّهِ يَا بُنَيَّةُ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَىَّ غِنًى بَعْدِي مِنْكِ وَلاَ أَعَزُّ عَلَىَّ فَقْرًا بَعْدِي مِنْكِ وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَاحْتَزْتِيهِ كَانَ لَكِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ وَإِنَّمَا هُمَا أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ وَاللَّهِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ فَمَنِ الأُخْرَى فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ ‏.‏ أُرَاهَا جَارِيَةً ‏.‏
مجھ سے مالک نے ابن شہاب سے، عروہ بن زبیر سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے، انہوں نے کہا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شہد کی مکھی نے جنگل میں بیس وسق کمائے تھے، اور جب میری بیٹی کی موت آئی تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ان میں سے کوئی ایک بیٹی نہیں ہے۔ اس نے پیار کیا۔" میں آپ کے بعد امیر ہوں اور میں آپ کے بعد غربت کو پسند نہیں کرتا اور میں نے آپ کو بیس بکری دی تھی اور اگر آپ اس کی تجدید کر کے رکھ لیتے تو آج یہ ایک وارث کا مال ہے اور یہ آپ کے بھائی بہنوں کا ہے، لہٰذا اسے خدا کی کتاب کے مطابق تقسیم کرو۔ عائشہ نے کہا، تو میں نے کہا: اے اس نے انکار کر دیا، خدا کی قسم، اگر ایسا ہوتا تو میں اسے چھوڑ دیتی۔ وہ صرف نام ہیں، پھر کچھ اور۔ ابوبکر نے کہا: اس کے پاس ایک لڑکی کا پیٹ ہے جو ابھر رہا ہے۔ میں اسے دیکھتا ہوں۔ ایک لونڈی
۴۳
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلاً ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ مَالِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا ‏.‏ وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ هُوَ لاِبْنِي قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ ‏.‏ مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً فَلَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نُحِلَهَا - حَتَّى يَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِهِ - فَهِيَ بَاطِلٌ ‏.‏
کہا مالک نے جو شخص ثواب کے واسطے کسی کو کوئی شئے دے اس کا عوض نہ چاہتا ہو اور لوگوں کو اس پر گواہ کر دے تو وہ نافذ ہوجائے گا مگر جب دینے والا مرجائے معطی لہ کے قبضے سے پہلے ۔ اگر دینے والا یہ چاہے کہ بعد دینے کے اس کو رکھ چھوڑے تو یہ نہیں ہو سکتا معطی کہ جب چاہے تو جبراً اس سے لے سکتا ہے۔ کہا مالک نے ایک شخص نے ایک شئے لللہ دی پھر معطی لہ قبل قبضے کے مر گیا تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہوں گے اگر دینے والا قبل معطی لہ کے قبضے کے مر گیا تو اب اس کو کچھ نہ ملے گا کیونکہ قبضہ نہ ہونے کے سبب سے وہ ہبہ لغو ہوگیا اگر دینے والا اس کو روک رکھے اور ہبہ پر گواہ نہ ہوں گو یہ نہیں ہوسکتا جب معطی لہ لینے کو کھڑا ہوجائے تو لے سکتا ہے۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۲
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِصِلَةِ رَحِمٍ أَوْ عَلَى وَجْهِ صَدَقَةٍ فَإِنَّهُ لاَ يَرْجِعُ فِيهَا وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهَا الثَّوَابَ فَهُوَ عَلَى هِبَتِهِ يَرْجِعُ فِيهَا إِذَا لَمْ يُرْضَ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْهِبَةَ إِذَا تَغَيَّرَتْ عِنْدَ الْمَوْهُوبِ لَهُ لِلثَّوَابِ بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ فَإِنَّ عَلَى الْمَوْهُوبِ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهَا قِيمَتَهَا يَوْمَ قَبَضَهَا ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے باپ اگر اپنے بیٹے کو کچھ صدقہ کے طور پر دے تو بیٹا اس کو اپنے قبضے میں کرلے یا بیٹاصغیر سن ہو خودباپ کی گود میں ہو اور وہ صدقہ پر گواہ کر دے تو اب باپ کو اس میں رجوع کرنا درست نہیں کیونکہ کسی صدقہ میں رجوع درست نہیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکن اجماعی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو کوئی چیز محبت کی وجہ سے دے نہ کہ صدقہ کے طور پر تو وہ اس میں رجوع کرسکتا ہے جب تک کہ بیٹا اس جائداد کے اعتماد پر معاملہ نہ کرنے لگے اور لوگ اس کو اس جائداد کے بھروسے پر قرض نہ دیں لیکن جب ایسا ہوجائے تو پھر رجوع نہیں کرسکتا۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۳
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ ‏.‏
جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو عمریٰ دے اس کے واسطے اور اس کے وارثوں کے واسطے تو پھر وہ عمرہ اس کا ہو جاتا ہے دینے ولاے کو پھر نہیں مل سکتا ۔
۴۶
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولاً الدِّمَشْقِيَّ، يَسْأَلُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعُمْرَى، وَمَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَا أَدْرَكْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَهُمْ عَلَى شُرُوطِهِمْ فِي أَمْوَالِهِمْ وَفِيمَا أُعْطُوا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْعُمْرَى تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْمَرَهَا إِذَا لَمْ يَقُلْ هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ ‏.‏
عبدالرحمن بن قاسم نے سنا مکحول سے پوچھتے ہوئے قاسم سے عمریٰ کے متعلق کیا قول ہے لوگوں کا اس میں قاسم نے کہا میں نے تو لوگوں کو اپنی شرطین پوری کرتے وہئے پایا اپنے مالوں میں اور جو کچھ وہ دیا رکتے تھے اس کو بھی پورا کرتے تھے ۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، ‏.‏ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَرِثَ مِنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ دَارَهَا قَالَ وَكَانَتْ حَفْصَةُ قَدْ أَسْكَنَتْ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ بِنْتُ زَيْدٍ قَبَضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْكَنَ وَرَأَى أَنَّهُ لَهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر وارث ہوئے ام المومنین حفصہ کے وہ اپنا گھر زید بن خطاب کی بیٹی کو زندگی پھر رہنے کر دے گئی تھیں جب وہ مر گئیں تو عبداللہ بن عمر نے اس گھر کو لے لیا اپنا سمجھ کر ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۶
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ‏"‏ ‏.‏
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان رکھ طرف اس کا لقطہ ہو خواہ چمڑے میں ہو یا کپڑے میں ہو پاور پہچان رکھ بندھن اس کا پھر ایک برس تک لوگوں سے اس کا حال کہا کر اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کے دے دے نہیں تو لے لے پھر اس نے کہا گر کوئی بکری بہکی بھٹکی مل جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکری تیرے کام میں آئے گی یا تیرے بھائی کے نہیں تو بھیڑیا کھا جائے گا پھر اس شخص نے کہا اگر اونٹ بھولا ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ سے تجھے کیا کام وہ تو اپنے ساتھ اپنا پانی رکھتا ہے اور موزے رکھتا ہے جہاں اس کو پانی مل جاتا ہے پی لیتا ہے جو درخت ملتا ہے کھالیتا ہے یہاں تک کہ مالک اس کا اس کو پا لیاتا ہے
۴۹
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، نَزَلَ مَنْزِلَ قَوْمٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا فَذَكَرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَاذْكُرْهَا لِكُلِّ مَنْ يَأْتِي مِنَ الشَّأْمِ سَنَةً فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَشَأْنَكَ بِهَا ‏.‏
معاویہ بن عبد اللہ بن بدر الجہنی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے ان کے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے شام کے راستہ میں ایک منزل میں جہاں لوگ اتر چکے تھے ایک تھیلی پائی جس میں اسی دینار تھے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا آپ نے کہا مسجدوں کے دروازوں پر لوگوں سے کہا کر اور جو شخص شام سے آئے اس سے بیان کیا کر ایک برس تک جب ایک برس گزر جائے پھر تجھ کو اختیار ہے ۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، وَجَدَ لُقَطَةً فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً فَمَاذَا تَرَى فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَرِّفْهَا ‏.‏ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ‏.‏ قَالَ زِدْ ‏.‏ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَهَا وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے غلام اگر لفظ پائے اور اس کو خرچ کر ڈالے میعاد گزرنے سے پہلے یعنی ایک برس سے پہلے تو وہ اس کے ذمہ رہے گا اب جب اس کا مالک آئے تو غلام کامولیٰ لقطے کی قیمت ادا کرے یا غلام کو حوالے کر دے اگر غلام نے میعاد گزرنے کے بعد اس کو صرف کیا تو وہ اس کے ذمے قرض رہے گا جب آزاد ہو اس سے لے لے فی الحال کچھ نہیں لے سکتا نہ مولیٰ کو اس کا دینالازم ہے۔