جماعت کے ساتھ نماز
ابواب پر واپس
۳۹ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۸/۲۸۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلاَةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جماعت کی فضیلت رکھتی ہے اکیلی نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۸/۲۸۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جماعت کی افضل ہے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس حصہ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۸/۲۸۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے قصد کیا کہ حکم کروں لکڑیاں توڑ کر جلا نے کا پھر حکم کروں میں نماز اور اذان ہو پھر حکم کروں ایک شخص کو امامت کا اور وہ امامت کرے پھر جاؤں میں پیچھے سے ان لوگوں کے پاس جو نہیں آئے جماعت میں اور جلادوں ان کے گھروں کو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کسی کو ان میں سے معلوم ہو جائے کہ ایک ہڈی عمدہ گوشت کی یا دو کھر بکری کے اچھے ملیں گے تو ضرور آئیں عشاء کی نماز میں ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ أَفْضَلُ الصَّلاَةِ صَلاَتُكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ إِلاَّ صَلاَةَ الْمَكْتُوبَةِ ‏.‏
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن ثابت نے کہا افضل نماز وہ ہے جو گھروں میں پڑھی جائے سوائے فرض نماز کے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ شُهُودُ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ لاَ يَسْتَطِيعُونَهُمَا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ نَحْوَ هَذَا ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور منافقوں کے درمیاں میں یہ فرق ہے کہ وہ صبح اور عشاء کی جماعت میں نہیں آسکتے یا مثل اس کے کچھ کہا ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص جا رہا تھا راہ میں اس نے ایک کانٹا پایا تو اس کو ہٹا دیا پس راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ اس سے تو بخش دیا اس کو اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید پانچ قسم کے لوگ ہیں جو طاعون سے مر جائے یا دستوں کی راہ میں ڈوب جائے یا مکان سے گر کر مر جائے یا اللہ جل جلالہ کی راہ میں شہید ہو جائے ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَدَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا إِلَى السُّوقِ - وَمَسْكَنُ سُلَيْمَانَ بَيْنَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ - فَمَرَّ عَلَى الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا لَمْ أَرَ سُلَيْمَانَ فِي الصُّبْحِ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَاتَ يُصَلِّي فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لأَنْ أَشْهَدَ صَلاَةَ الصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَيْلَةً ‏.‏
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے نہ پایا سلیمان بن ابی حثمہ کو صبح کی نماز میں اور عمر بن خطاب گئے بازار کو اور گھر سلیمان کا بازار اور مسجد کے بیچ میں سو ملی ان کو شفا ماں سلیمان کی تو پوچھا حضرت عمر نے شفا سے کہ میں نے نہیں دیکھا سلیمان کو صبح کی نماز میں تو کہا شفا نے کہ وہ رات کو نماز پڑھتے رہے اس لئے ان کی آنکھیں لگ گئیں تب فرمایا عمر نے البتہ مجھے صبح کی نماز میں حاضر ہونا رات کی عبادت سے بہتر معلوم ہوتا ہے ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى صَلاَةِ الْعِشَاءِ فَرَأَى أَهْلَ الْمَسْجِدِ قَلِيلاً فَاضْطَجَعَ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ النَّاسَ أَنْ يَكْثُرُوا فَأَتَاهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ مَنْ هُوَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَخْبَرَهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ لَيْلَةٍ وَمَنْ شَهِدَ الصُّبْحَ فَكَأَنَّمَا قَامَ لَيْلَةً ‏.‏
عبدالر حمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان آئے مسجد میں نماز عشاء کے لئے تو دیکھا کہ لوگ کم ہیں تو لیٹ رہے مسجد میں اخیر میں انتظار کر تے تھے لوگوں کے جمع ہونے کا پس آئے بن ابی عمرہ اور بیٹھے عثمان کے پاس پس پوچھا عثمان نے کہ کون ہو تم بیان کیا ان سے ابن ابی عمرہ نے نام اپنا پھر پوچھا عثمان نے کہ کتنا قرآن تم کو یاد ہے تو بیان کیا انہوں نے پھر فرمایا حضرت عثمان نے ان سے جو شخص حاضر ہو صبح کی جماعت میں تو گویا اس نے ساری رات عبادت کی ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ، مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُذِّنَ بِالصَّلاَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يُصَلِّ مَعَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ ‏"‏ ‏.‏
محجن بن ابی محجن سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے رسول اللہ کے پاس اتنے میں اذان ہوئی نماز کی تو اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز پڑھ کر آئے تو دیکھا کہ محجن وہیں بیٹھے ہیں تب فرمایا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں تم نے نماز نہیں پڑھی سب لوگوں کے ساتھ کیا تم مسلمان نہیں ہو کہا محجن نے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ میں پڑھ چکا تھا نماز اپنے گھر میں تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تو آئے مسجد میں تو نماز پڑھ لوگوں کے ساتھ اگرچہ تو پڑھ چکا ہو ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أُدْرِكُ الصَّلاَةَ مَعَ الإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَيَّتَهُمَا أَجْعَلُ صَلاَتِي فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ أَوَذَلِكَ إِلَيْكَ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر پاتا ہوں جماعت کو ساتھ امام کے کیا پھر پڑھوں ساتھ امام کے کہا عبداللہ بن عمر نے ہاں کہا اس شخص نے پس دو نمازوں میں کو نسی نماز کو فرض سمجھوں اور کس کو نفل تو جواب دیا عبداللہ بن عمر نے کہ تجھ کو اس سے کیا مطلب یہ تو اللہ جل جلالہ کا اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے جس کو چاہے نفل کر دے ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الإِمَامَ يُصَلِّي أَفَأُصَلِّي مَعَهُ فَقَالَ سَعِيدٌ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ فَأَيُّهُمَا صَلاَتِي فَقَالَ سَعِيدٌ أَوَأَنْتَ تَجْعَلُهُمَا إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا سعید بن مسیب سے میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر آتا ہوں مسجد میں سو پاتا ہوں امام کو نماز پڑھتا ہوا کیا پھر پڑھوں اس کے ساتھ نماز کہا سعید نے ہاں تو کہا اس شخص نے پھر کس نماز کو فرض سمجھوں کہا سعید نے تو فرض اور نفل کر سکتا ہے یہ کام اللہ جل جلالہ کا ہے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَفِيفٍ السَّهْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ فَقَالَ إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الإِمَامَ يُصَلِّي أَفَأُصَلِّي مَعَهُ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ نَعَمْ فَصَلِّ مَعَهُ فَإِنَّ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ سَهْمَ جَمْعٍ أَوْ مِثْلَ سَهْمِ جَمْعٍ ‏.‏
ایک شخص سے جو بن اسد کے قبیلہ سے تھا روایت ہے کہ اس نے پوچھا ابوایوب انصاری سے تو کہا کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں گھر میں پھر آتا ہوں مسجد میں تو پاتا ہوں امام کو نماز پڑھتے ہوئے کیا نماز پڑھ لوں دوبارہ ساتھ امام کے کہا ابوایوب نے ہاں جو ایسا کرے گا اس کو ثواب جماعت کو ملے گا یا مثل جماعت کے یا اس کو لشکر اسلام کے ثواب کا ایک حصہ ملے گا یعنی غازی کا ثواب پائے گا اس کو مزدلفہ میں رہنے کا ثواب ملے گا یا اس کو دوہرا ثواب ملے گا ایک اکیلے نماز پڑھنے کا دوسرا جماعت سے نماز پڑھنے کا ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۸/۲۹۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الإِمَامِ فَلاَ يَعُدْ لَهُمَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ أَرَى بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ الإِمَامِ مَنْ كَانَ قَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ إِلاَّ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ فَإِنَّهُ إِذَا أَعَادَهَا كَانَتْ شَفْعًا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص نماز پڑھ لے مغرب یا صبح کی پھر پائے ان دونوں جماعتوں کو تو دوبارہ نہ پڑھے ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز پڑھائے کوئی تم میں سے تو چاہیے کہ تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں بیمار اور ضعیف اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلے پڑھے تو جتنا چاہے طول کرے ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ قُمْتُ وَرَاءَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي صَلاَةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي فَخَالَفَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ میں کھڑا ہوا نماز میں ساتھ عبداللہ بن عمر کے اور کوئی نہ تھا سوائے میرے تو پیچھے سے پکڑ کے عبداللہ نے مجھے اپنی داہنی طرف برابر کھڑا کیا ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِالْعَقِيقِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَنَهَاهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا نَهَاهُ لأَنَّهُ كَانَ لاَ يُعْرَفُ أَبُوهُ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص امامت کرتا تھا لوگوں کی عقیق میں تو منع کروا بھیجا امامت سے اس کو عمر بن عبدالعزیز نے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے ایک گھوڑے پر پس گر پڑے اس پر سے تو چھل گیا داہنی جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پس نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اور نماز پڑھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے تو فرمایا کہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب امام سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ شَاكٍ فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری سے بیٹھ کر اور لوگوں نے کھڑے ہو کر پڑھنا شروع کیا تب اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہ بیٹھ جاؤ پھر جب فارغ ہوئے نماز سے اور فرمایا امام اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب امام رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب سر اٹھائے تم بھی سر اٹھاؤ اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي مَرَضِهِ فَأَتَى فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَاسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ وَكَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے مرض موت میں سو آئے مسجد میں اور پایا ابوبکر کو نماز پڑھا رہے تھے کھڑے ہو کر تو پیچھے ہٹنا چاہا حضرت ابوبکر نے پس اشارہ کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر رہو اور بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر پہلو میں ابوبکر کے تو ابوبکر حضرت کی نماز کی پیروی کرتے تھے اور لوگ ابوبکر کی پیروی کر تے تھے ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ مَوْلًى، لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - أَوْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ وَهُوَ قَاعِدٌ مِثْلُ نِصْفِ صَلاَتِهِ وَهُوَ قَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے بہ نسبت کھڑے ہو کر پڑھنے کے ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ نَالَنَا وَبَاءٌ مِنْ وَعْكِهَا شَدِيدٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فِي سُبْحَتِهِمْ قُعُودًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ الْقَاعِدِ مِثْلُ نِصْفِ صَلاَةِ الْقَائِمِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر العاص سے روایت ہے کہ کہ جب آئے ہم مدینہ میں تو بخار وبائی بہت سخت ہو گیا ہم کو پس آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس اور وہ نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھ رہے تھے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بیٹھ کر پڑھے گا اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کا آدھا ثواب ملے گا
۲۲
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ‏.‏
حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل بیٹھ کر پڑھتے ہوئے کبھی مگر وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل بیٹھ کر پڑھتے اور سورت کو اس قدر خوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ بڑی سے بڑی ہو جاتی ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۸/۳۰۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى أَسَنَّ فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً ثُمَّ رَكَعَ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے مگر جب سن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ ہو گیا تو بیٹھ کر پڑھنے لگے پھر بھی تیس یا چالیس آیتیں رکوع سے پہلے کھڑے ہو کر پڑھ لیتے پھر رکوع کرتے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ، وَعَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو پڑھا کرتے کلام اللہ کو بیٹھے بیٹھے جب تیس یا چالیس آیتیں باقی رہتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کر تے اور دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ۔ امام مالک کو پہنچا عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب سے کہ وہ نفل نماز پڑھتے بیٹھ کر دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے اور سرین زمین سے لگا کر ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَا يُصَلِّيَانِ النَّافِلَةَ وَهُمَا مُحْتَبِيَانِ ‏.‏
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ عروہ بن زبیر اور سعید بن المسیب چھپے ہوئے نمازیں پڑھ رہے تھے۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ثُمَّ قَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي ‏{‏حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ‏}‏ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَىَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَصَلاَةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابو یونس سے روایت ہے کہ حکم کیا مجھ کو ام المومنین حضرت عائشہ نے کلام کے لکھنے کا اور کہا کہ جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ : 238) تو مجھ کو خبر کر دینا پس جب پہنچا میں اس آیت کو تو خبر دے دی میں نے ان کو، کہا انہوں نے یوں لکھو حافظو علی الصلوت والصلوة الوسطی والصلوة العصر یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور وسطی نماز پر اور عصر کی نماز پر کہا عائشہ سے کہ میں نے سنا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ مُصْحَفًا لِحَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي ‏{‏حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ‏}‏ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَىَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَصَلاَةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ‏.‏
عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ کلام اللہ لکھتا تھا حضرت ام المومنین حفصہ کے واسطے تو کہا انہوں نے جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ : 238) تو مجھے اطلاع کرنا پس جب پہنچا اس آیت پر خبر کی میں نے ان کو تو لکھوایا انہوں نے اس طرح حافظوا علی الصلوات والصلوة الوسطی وصلوة العصر وقومو اللہ قانتین یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور بیچ والی نماز پر اور عصر کی نماز پر اور کھڑے رہو اللہ کے سامنے چپ اور خاموش ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ ابْنِ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ الصَّلاَةُ الْوُسْطَى صَلاَةُ الظُّهْرِ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، داؤد بن حصین کی سند سے، ابن یربو المخزومی کی سند سے، انہوں نے کہا کہ میں نے زید بن ثابت کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے سنا۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَا يَقُولاَنِ الصَّلاَةُ الْوُسْطَى صَلاَةُ الصُّبْحِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَقَوْلُ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
عبدالرحمن بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا زید بن ثابت سے کہتے تھے صلوة الوسطی ظہر کی نماز ہے ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی بن ابی طالب اور عبدا اللہ بن عباس سے وہ دونوں صاحب فرماتے تھے کہ صلوة وسطی صبح کی نماز ہے ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ‏.‏
عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اور دونوں کنارے اس کے دونوں کندھوں پر تھے حضرت ام سلمہ کے گھر میں
۳۱
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَائِلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نماز درست ہے ایک کپڑے میں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم میں سے ہر کسی کو دو کپڑے ملتے ہیں ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَلْ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ هَلْ تَفْعَلُ أَنْتَ ذَلِكَ فَقَالَ نَعَمْ إِنِّي لأُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَإِنَّ ثِيَابِي لَعَلَى الْمِشْجَبِ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ پوچھے گئے ابوہریرہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے کہا درست ہے پس کہا گیا ان سے کیا تم بھی ایسا کرتے ہو جواب دیا ہاں میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہوں باوجود اس بات کے کہ میرے کپڑے تپائی پر رکھے ہوتے ہیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری نماز پڑھتے تھے ایک کپڑے میں ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۸/۳۱۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ‏.‏
انہوں نے مالک کی سند سے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ جابر بن عبداللہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۸/۳۲۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، كَانَ يُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی روایت سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کی روایت سے بیان کیا کہ محمد بن عمرو بن حزم ایک قمیص میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۸/۳۲۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبَيْنِ فَلْيُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ فَإِنْ كَانَ الثَّوْبُ قَصِيرًا فَلْيَتَّزِرْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
ربیعہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ محمد بن عمرو بن حزم نماز پڑھتے تھے صرف کرتہ پہن کر ۔ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نہ پائے تو نماز پڑھے ایک کپڑا لپیٹ کر اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اس کی تہ بند کر لے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور سر بندھن میں
۳۶
مؤطا امام مالک # ۸/۳۲۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ ‏.‏
یحییٰ نے مالک کی سند سے مجھے بتایا کہ اس نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا بکتر اور پردے میں نماز پڑھ رہی تھیں۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۸/۳۲۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَتْ تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ إِذَا غَيَّبَ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا ‏.‏
ام حرام سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ عورت کس قدر کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے تو جواب دیا کہ خمار اور کرتہ میں ایسا لمبا ہو کہ اس سے پاؤں ڈھپ جائیں ۔ عبیداللہ خولانی جو لے پالک تھے حضرت میمونہ ام المومنین کے ان سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور خمار یعنی سر بندھن میں اور ازار نہیں پہنے ہوتی تھیں ۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۸/۳۲۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَسْوَدِ الْخَوْلاَنِيِّ، وَكَانَ، فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مَيْمُونَةَ كَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ‏.‏
انہوں نے مجھ سے مالک کی سند سے، ثقہ کی سند سے، ان کے ساتھ، بکیر بن عبداللہ بن اشجع کی سند سے، بسر بن سعید کی سند سے، عبید اللہ بن اسود سے۔ الخولانی، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھی کہ میمونہ بکتر بند اور پردہ کے بغیر نماز پڑھ رہی تھیں۔ ایک لنگوٹی...
۳۹
مؤطا امام مالک # ۸/۳۲۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، اسْتَفْتَتْهُ فَقَالَتْ إِنَّ الْمِنْطَقَ يَشُقُّ عَلَىَّ أَفَأُصَلِّي فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا ‏.‏
عروہ بن زبیر سے ایک عورت نے پوچھا کہ ازار باندھنا دشوار ہوتا ہے مجھ کو کیا نماز پڑھ لوں کرتہ اور سر بندھن میں جواب دیا عروہ نے کہ ہاں جب کرتہ خوب بڑا ہو۔