Fasting کے بارے میں احادیث
۱۰۲۶ مستند احادیث ملیں
صحیح مسلم : ۱۸۱
Sahih
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ .
زہیر بن حرب ، عثمان بن ابی شیبہ ، جریر ، حضرت اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
صحیح مسلم : ۱۸۲
ابو الاسود رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ،
ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّئَلِيِّ، قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ
بْنُ الْحُصَيْنِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَىْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ
مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقُلْتُ بَلْ
شَىْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ قَالَ فَقَالَ أَفَلاَ يَكُونُ ظُلْمًا قَالَ فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا
شَدِيدًا وَقُلْتُ كُلُّ شَىْءٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ فَلاَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ . فَقَالَ لِي
يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُكَ إِلاَّ لأَحْزُرَ عَقْلَكَ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَىْءٌ
قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ
الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ " لاَ بَلْ شَىْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ
عَزَّ وَجَلَّ { وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا * فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} " .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع ، یحییٰ بن سعید ، سفیان ، محمد بن حاتم ، زبید یامی ، عمارۃ بن عمیر ، حضرت قیس بن سکن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھارہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابو محمد! قریب ہوجاؤ اور کھاؤ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ہم بھی اس د ن ر وزہ رکھتے تھے لیکن چھوڑ دیا ۔
صحیح مسلم : ۱۸۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ
الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ
بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
محمد بن حاتم ، اسحاق بن منصور ، اسرائیل ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، اشعث بن قیس ، علی ابن مسعود ، حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن مسعود کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھاناکھارہے تھے توانہوں نے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمان! آج تو عاشورہ ہے؟تو ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتاتھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا ۔
صحیح مسلم : ۱۸۴
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ .
ابو بکر ابن ابی شیبہ ، عبیداللہ بن موسیٰ ، شیبان ، اشعث بن ابی شعشاء ، جعفر بن ابی ثور ، حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے دن ر وزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کردیئے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اسکا اہتمام فرماتے ۔
صحیح مسلم : ۱۸۵
Sahih
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ - يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا - خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ " .
۔ حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، حضرت حمید بن عبدالرحمان ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے لئے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کر تا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطارکرلے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کرلے ۔
صحیح مسلم : ۱۸۶
Abdullah B. Amr B. Al-As
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ كِلاَهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ،
اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ،
أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
يَقُولُ " إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ
يَشَاءُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا
عَلَى طَاعَتِكَ " .
ابن ابی عمر ، سفیان بن عینیہ ، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ میں روزے سے ہوں کہ جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھ لے وہ رکھ لے اور مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یونس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا ۔
صحیح مسلم : ۱۸۷
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ، .
ابن بشار ، ابو بکر بن نافع ، محمد بن جعفر ، شعبہ ، ابی بشراس سندکے ساتھ حضرت ابی بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی ۔
صحیح مسلم : ۱۸۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ
رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ
وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلاَ تَعْجِزْ وَإِنْ أَصَابَكَ شَىْءٌ فَلاَ تَقُلْ
لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا . وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
" .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع بن جراح ، حاجب ابن عمر ، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم ( کے قریب ) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورے کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چانددیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں
صحیح مسلم : ۱۸۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ،
اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم { هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ
فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ
تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُولُو
الأَلْبَابِ} قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ
مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ " .
محمد بن حاتم ، یحییٰ بن سعید ، معاویہ بن عمرو ، حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے ۔
صحیح مسلم : ۱۹۰
Sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لاَحِقٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ، بْنُ ذَكْوَانَ عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ " مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " . فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الإِفْطَارِ .
ابو بکر بن نافع ، بشر بن مفضل بن لاحق ، خالد بن ذکوان ، حضرت ربیع بنت معوذبن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصارکی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے اردگرد تھی یہ پیغام بھجوادیا کہ جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پور کرلے اور جس نے صبح کو افطار کرلیا ہوتو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کرلےاس کے بعد ہم ر وزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتاتو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں ۔
صحیح مسلم : ۱۹۱
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ،
جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ " . قَالَهَا ثَلاَثًا .
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو معشر ، عطار ، حضرت خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آکر بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہوجاتا ۔
صحیح مسلم : ۱۹۲
Sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ .
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ، محمد بن یحییٰ ابن حبان ، اعرج ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ایک قربانی کے دن اور دوسرا فطر کے دن ۔
صحیح مسلم : ۱۹۳
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
عمرو ناقد ، سفیان بن عینیہ ، عبدالحمید ابن جبیر ، حضرت محمد بن عباد بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اس حال میں کہ وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟تو انہوں نے فرمایا ہاں! قسم ہے اس گھر کے رب کی ۔
صحیح مسلم : ۱۹۴
Sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلاَ تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ " .
ابو کریب ، حسین یعنی جعفی ، زائدہ ، ہشام ، ابن سیرین ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کےساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کروسوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو ۔
صحیح مسلم : ۱۹۵
Sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ .
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ( سفیان ) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی ، انھوں نے ابن بریدہ سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ ۔ ۔ اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی اورانھوں نے کہا : " ایک ماہ کے روزے ۔
صحیح مسلم : ۱۹۶
Sahih
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ .
عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان ( ثوری ) سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کی مانند ) حدیث بیان کی اورانھوں نے کہا : " دو ماہ کےروزے ۔
صحیح مسلم : ۱۹۷
ابو السعید خدری رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ،
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ
مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ . قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا
إِلاَّ ذَاكَ . قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ
مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ " مَا أَجْلَسَكُمْ " . قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلإِسْلاَمِ
وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا . قَالَ " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ " . قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ . قَالَ
" أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي
بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ " .
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ان کی حدیث کے مانند ( بیان کیا ) اور انھوں نے بھی کہا : " ایک ماہ کے ر وزے ۔
صحیح مسلم : ۱۹۸
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ رِوَايَةً وَقَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ".
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہوتو وہ کہہ دے : میں روزے سے ہوں ۔
صحیح مسلم : ۱۹۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا
ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ
- كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ،
بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ "
.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( نبی کریم سے ) روایت کی ، کہا : " جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہوتو وہ فحش گوئی نہ کرے ، نہ جہالت والا کوئی کام کرے ، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا ( کرنا ) چاہے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔
صحیح مسلم : ۲۰۰
Sahih
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخِلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ، اللہ عزوجل نے فرمایا : ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں سوائے روزے کے ، وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاد دوں گا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!روزہ د ار کے منہ کی بو ا للہ کےنزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔