Fasting کے بارے میں احادیث

۱۰۲۶ مستند احادیث ملیں

صحیح بخاری : ۴۱
عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌الْحُمَيْدِيُّ، ‌حَدَّثَنَا ​سُفْيَانُ، ‌حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏.‏
رسول ‌اللہ ‌صلی ​اللہ ‌علیہ وسلم نے فرمایا جب رات اس طرف سے ہو اور دن اس طرف سے غائب ہو جائے اور سورج۔ اس کے بعد روزہ دار افطار کر لے۔"
عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۱۹۵۴ Sahih
صحیح بخاری : ۴۲
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌إِسْحَاقُ ‌الْوَاسِطِيُّ، ​حَدَّثَنَا ​خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ الْقَوْمِ ‏"‏ يَا فُلاَنُ قُمْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَوْ أَمْسَيْتَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏.‏
ہم ‌ایک ‌سفر ​میں ​رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، پھر جب سورج غروب ہو گیا۔ کسی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے فلاں اٹھو اور ہمارے لیے صاویق کو پانی میں ملا دو۔ اس نے جواب دیا کہ اے اللہ! رسول! (کیا تم انتظار کرو گے) شام ہونے تک؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُترو اور سوق کو پانی میں ملا دو۔ ہمارے لیے۔‘‘ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (اگر تم انتظار کرو) یہاں تک کہ شام ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: لے لو نیچے جا کر ہمارے لیے صاویق کو پانی میں ملا دو، آپ نے فرمایا: ابھی دن باقی ہے۔ "نیچے اترو اور ہمارے لیے صاویق کو پانی میں ملا دو۔" وہ نیچے اترا اور ان کے لیے صاویق ملایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پیا پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف سے پڑتی ہے تو روزہ دار افطار کرے۔ تیز۔"
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۵۵ Sahih
صحیح بخاری : ۴۳
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُسَدَّدٌ، ​حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ‌الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَ، فَجَدَحَ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏.‏ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ‏.‏
ہم ‌سے ​مسدد ‌نے ‌بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چنانچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آ گئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۵۶ Sahih
صحیح بخاری : ۴۴
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَحْمَدُ ​بْنُ ​يُونُسَ، ‌حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَصَامَ حَتَّى أَمْسَى، قَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لِي ‏"‏‏.‏ قَالَ لَوِ انْتَظَرْتَ حَتَّى تُمْسِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لِي، إِذَا رَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ​احمد ​بن ‌یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے اور ان سے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ ( اونٹ سے ) اتر کر میرے لیے ستو گھول، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر شام ہونے کا کچھ اور انتظار فرمائیں تو بہتر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اتر کر میرے لیے ستو گھول ( وقت ہو گیا ہے ) جب تم یہ دیکھ لو کہ رات ادھر مشرق سے آ گئی تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا۔
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۵۸ Sahih
صحیح بخاری : ۴۵
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُسَدَّدٌ، ‌قَالَ ‌حَدَّثَنِي ​يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُوَاصِلُوا ‏"‏‏.‏ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌مسدد ‌نے ​بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بلا سحر و افطار ) پے در پے روزے نہ رکھا کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۱۹۶۱ Sahih
صحیح بخاری : ۴۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ​الْيَمَانِ، ‌أَخْبَرَنَا ​شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ، فَقَالَ ‏"‏ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ‏"‏‏.‏ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ، حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا‏.‏
ہم ​سے ​ابوالیمان ‌نے ​بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل ( کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر ) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۱۹۶۵ Sahih
صحیح بخاری : ۴۷
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌بَشَّارٍ، ‌حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ آخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً‏.‏ فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا‏.‏ فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا‏.‏ فَقَالَ كُلْ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ‏.‏ قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ‏.‏ قَالَ فَأَكَلَ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ‏.‏ قَالَ نَمْ‏.‏ فَنَامَ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ‏.‏ فَقَالَ نَمْ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ قُمِ الآنَ‏.‏ فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَدَقَ سَلْمَانُ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ‌محمد ‌بن ‌بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ان سے ابوالعمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی حجیفہ نے اور ان سے ان کے والد (وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں ( ہجرت کے بعد ) بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو ( ان کی عورت ) ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے ( اور روزہ توڑ دیا ) رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہئے، پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۶۸ Sahih
صحیح بخاری : ۴۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ‌عَبْدُ ‌اللَّهِ ‌بْنُ ​يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ‏.‏ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ‏.‏
ہم ‌سے ‌عبداللہ ‌بن ​یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبری دی، انہیں ابوالنضر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم ( آپس میں ) کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) صحیح بخاری #۱۹۶۹ Sahih
صحیح بخاری : ۴۹
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُوسَى ‌بْنُ ​إِسْمَاعِيلَ، ​حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يَصُومُ‏.‏
ہم ‌سے ‌موسیٰ ​بن ​اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا، اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری #۱۹۷۱ Sahih
صحیح بخاری : ۵۰
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنِي ‌عَبْدُ ​الْعَزِيزِ ‌بْنُ ‌عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ، حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يَصُومَ مِنْهُ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكَانَ لاَ تَشَاءُ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ، وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ‏.‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسًا فِي الصَّوْمِ‏.‏
ہم ‌سے ​عبدالعزیز ‌بن ‌عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں بے روزہ کے رہتے تو ہمیں خیال ہوتا کہ اس مہینہ میں آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اسی طرح کسی مہینہ میں نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم خیال کرتے کہ اب اس مہینہ کا ایک دن بھی بے روزے کے نہیں گزرے گا۔ جو جب بھی چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھ سکتا تھا اور جب بھی چاہتا سوتا ہوا بھی دیکھ سکتا تھا۔ سلیمان نے حمید طویل سے یوں بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روزہ کے متعلق پوچھا تھا۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۱۹۷۲ Sahih
صحیح بخاری : ۵۱
حمید رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنِي ‌مُحَمَّدٌ، ​أَخْبَرَنَا ‌أَبُو ​خَالِدٍ الأَحْمَرُ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا رضى الله عنه عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ وَلاَ مُفْطِرًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ مَسِسْتُ خَزَّةً وَلاَ حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلاَ شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلاَ عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم ‌سے ​محمد ‌بن ​سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوخالد احمر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے ( نماز پڑھتے ) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم و نازک ریشم کے کپڑوں کو بھی نہیں دیکھا۔ اور نہ مشک و عنبر کو آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔
حمید رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۷۳ Sahih
صحیح بخاری : ۵۲
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌إِسْحَاقُ، ​أَخْبَرَنَا ​هَارُونُ ‌بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي ‏"‏ إِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ ‏"‏ نِصْفُ الدَّهْرِ ‏"‏‏.‏
ہم ‌سے ​اسحاق ​نے ‌بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہارون بن اسماعیل نے خبر دی، کہا کہ ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، یعنی تمہارے ملاقاتیوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ اس پر میں نے پوچھا اور داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن بے روزہ رہنا صوم داؤدی ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۷۴ Sahih
صحیح بخاری : ۵۳
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌ابْنُ ​مُقَاتِلٍ، ​أَخْبَرَنَا ​عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَىَّ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَلاَ تَزِدْ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ قَالَ ‏"‏ نِصْفَ الدَّهْرِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ بَعْدَ مَا كَبِرَ يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم ‌سے ​ابن ​مقاتل ​نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی صحیح ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا، کہ ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ۔ نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ، میں نے پوچھا اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ رہا کرتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو کہا کرتے تھے کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لیتا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۷۵ Sahih
صحیح بخاری : ۵۴
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​أَبُو ‌الْيَمَانِ، ‌أَخْبَرَنَا ‌شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَقُولُ وَاللَّهِ لأَصُومَنَّ النَّهَارَ، وَلأَقُومَنَّ اللَّيْلَ، مَا عِشْتُ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ وَهْوَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌ابوالیمان ‌نے ‌بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میری یہ بات پہنچا گئی کہ ”اللہ کی قسم! زندگی بھر میں دن میں تو روزے رکھوں گا۔ اور ساری رات عبادت کروں گا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ۔ عبادت بھی کر لیکن سوؤ بھی اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر۔ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے، اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، میں نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ کے رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا۔ اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۷۶ Sahih
صحیح بخاری : ۵۵
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​عَمْرُو ‌بْنُ ‌عَلِيٍّ، ​أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَطَاءً، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي وَلاَ تَنَامُ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنِّي لأَقْوَى لِذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَكَيْفَ قَالَ ‏"‏ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏‏.‏ قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَاءٌ لاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ‏.‏
ہم ​سے ‌عمرو ‌بن ​علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوعاصم نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہوں نے عطاء سے سنا، انہیں ابوعباس شاعر نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں۔ اب یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور ( رات بھر ) نماز پڑھتا رہتا ہے؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ، عبادت بھی کر اور سوؤ بھی کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر۔ انہوں نے کہا اور وہ کس طرح؟ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیر جاؤں۔ عطاء نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ( اس حدیث میں ) صوم دہر کا کس طرح ذکر ہوا! ( البتہ انہیں اتنا دیا تھا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو صوم دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں، دو مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ) ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۷۷ Sahih
صحیح بخاری : ۵۶
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​آدَمُ، ‌حَدَّثَنَا ​شُعْبَةُ، ​حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ ـ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ لاَ يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ ـ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ، صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ‌آدم ​نے ​بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوعباس مکی سے سنا، وہ شاعر تھے لیکن روایت حدیث میں ان پر کسی قسم کا اتہام نہیں تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تو متواتر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تو یونہی کرتا رہا تو آنکھیں دھنس جائیں گی، اور تو بےحد کمزور ہو جائے گا یہ کوئی روزہ نہیں کہ کوئی زندگی بھر ( بلاناغہ ہر روز ) روزہ رکھے۔ تین دن کا ( ہر مہینہ میں ) روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے۔ میں نے اس پر کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھا کر۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تو پیٹھ نہیں دکھلایا کرتے تھے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۷۹ Sahih
صحیح بخاری : ۵۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​الْمُثَنَّى، ‌قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ ـ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ـ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، قَالَ ‏"‏ أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ، فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ، وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً، قَالَ ‏"‏ مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ‏.‏ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلاَ دُنْيَا إِلاَّ دَعَا لِي بِهِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالاً وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ ‏"‏‏.‏ فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ مَالاً‏.‏ وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ‏.‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم ​سے ​محمد ​بن ‌مثنی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد نے (جو حارث کے بیٹے ہیں) بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے ( اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے ) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس ( رضی اللہ عنہ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر ( انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کے ساتھ۔
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) صحیح بخاری #۱۹۸۲ Sahih
صحیح بخاری : ۵۸
مطرف از عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ​الصَّلْتُ ​بْنُ ​مُحَمَّدٍ، ​حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ أَنَّهُ سَأَلَهُ ـ أَوْ سَأَلَ رَجُلاً وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ ـ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا فُلاَنٍ أَمَا صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ‏"‏‏.‏ لَمْ يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ثَابِثٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ ‏"‏‏.‏
ہم ​سے ​صلت ​بن ​محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے مطرف نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ( مطرف نے یہ کہا کہ ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا، ان سے مطرف نے، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رمضان کے آخر کے بجائے ) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا ( یہی صحیح ہے ) ۔
مطرف از عمران بن حسین رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۸۳ Sahih
صحیح بخاری : ۵۹
محمد بن عباس رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا ‌أَبُو ‌عَاصِمٍ، ‌عَنِ ‌ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ زَادَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ أَنْ يَنْفَرِدَ بِصَوْمٍ‏.‏
ہم ‌سے ‌ابوعاصم ‌نے ‌بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عبدالحمید بن جبیر نے اور ان سے محمد بن عباد نے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ابوعاصم کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ خالی ( ایک جمعہ ہی کے دن ) روزہ رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
محمد بن عباس رضی اللہ عنہ صحیح بخاری #۱۹۸۴ Sahih
صحیح بخاری : ۶۰
ابو ایوب جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہ سے
Sahih
حَدَّثَنَا ‌مُسَدَّدٌ، ‌حَدَّثَنَا ​يَحْيَى، ‌عَنْ شُعْبَةَ، ح‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهْىَ صَائِمَةٌ فَقَالَ ‏"‏ أَصُمْتِ أَمْسِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَفْطِرِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ سَمِعَ قَتَادَةَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَتْهُ فَأَمَرَهَا فَأَفْطَرَتْ.
ہم ‌سے ‌مسدد ​نے ‌بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوایوب نے اور ان سے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، ( اتفاق سے ) وہ روزہ سے تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔
ابو ایوب جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری #۱۹۸۶ Sahih