Forgiveness کے بارے میں احادیث

۴۹۰ مستند احادیث ملیں

سنن نسائی : ۱۶۱
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
أَخْبَرَنَا ​عَمْرُو ​بْنُ ​عَلِيٍّ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ عِنْدَ مَوْتِهِ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَمَغْفِرَتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ‏"‏ ‏.‏
ام ​المؤمنین ​عائشہ ​رضی ‌الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا، ( عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے ) اس پر اللہ کے رسول سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ( اگر ) اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرنا موت کو ناپسند کرنا ہے، تو ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ اس کے مرنے کے وقت کی بات ہے، جب اسے اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے ( جلد ) ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جب اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو ( ڈر کی وجہ سے ) ملنا ناپسند کرتا ہے، اور وہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) سنن نسائی #۱۸۳۸ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۲
ابو سلمہ اور ابن المسیب رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌أَبُو ​دَاوُدَ، ​قَالَ ​حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ ‏ "‏ اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ‌رضی ​الله ​عنہ ​سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ۔
ابو سلمہ اور ابن المسیب رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۱۸۷۹ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۳
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​عَمْرُو ​بْنُ ‌عَلِيٍّ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ ‏.‏ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏{‏ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ‏}‏ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ ‏}‏ فَتَرَكَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِمْ ‏.‏
عبداللہ ​بن ​عمر ‌رضی ‌الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ( اور ) عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا: «‏استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے ( التوبہ: ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو ( التوبہ: ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔
It Was سنن نسائی #۱۹۰۰ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۴
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​مُحَمَّدُ ​بْنُ ​عَبْدِ ‌اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىِّ ابْنِ سَلُولَ دُعِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَبْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَىٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا أُعَدِّدُ عَلَيْهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ ‏"‏ إِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ فَلَوْ عَلِمْتُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَمْكُثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ ‏{‏ وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ ‏}‏ فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏
عمر ​بن ​خطاب ​رضی ‌الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافقوں کا سردار ) مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلائے گئے، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا، تو آپ مسکرائے، اور فرمایا: ”اے عمر! ان باتوں کو جانے دو“۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار ہے ( نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں ) تو میں نے پڑھنا پسند کیا، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا“ ۱؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورۃ برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون» ”جب یہ مر جائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں“، بعد میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی۔
It Was سنن نسائی #۱۹۶۶ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۵
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌قُتَيْبَةُ، ‌قَالَ ​حَدَّثَنَا ‌مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏:‏ زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ وَقَالَ ‏:‏ ‏ "‏ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ‌رضی ‌الله ​عنہ ‌کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، ( تو پھر ) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے“۔
It Was سنن نسائی #۲۰۳۴ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۶
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌مُحَمَّدُ ‌بْنُ ​عَبْدِ ​الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ‏:‏ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَىْ عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ‏:‏ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏ فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى كَانَ آخِرُ شَىْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ ‏}‏ وَنَزَلَتْ ‏{‏ إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ ‏}‏ ‏.‏
مسیب ‌بن ‌حزن ​رضی ​الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں ان کے پاس ( پہلے سے موجود ) تھے، تو آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ «لا إله إلا اللہ» کا کلمہ کہہ دیجئیے، میں اس کے ذریعہ آپ کے لیے اللہ عزوجل کے پاس جھگڑوں گا“، تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں نے ان سے کہا: ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ لو گے؟ پھر وہ دونوں ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو عبدالمطلب نے ان سے کی وہ یہ تھی کہ ( میں ) عبدالمطلب کے دین پر ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے“، تو یہ آیت اتری ۱؎: «‏ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں“ ( التوبہ: ۱۱۳ ) نیز یہ آیت اتری: «إنك لا تهدي من أحببت» ”آپ جسے چاہیں ہدایت کے راستہ پر نہیں لا سکتے“ ( القص: ۵۶ ) ۔
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۲۰۳۵ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۷
It Was
Hasan
أَخْبَرَنَا ‌إِسْحَاقُ ​بْنُ ‌مَنْصُورٍ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ ‏:‏ سَمِعْتُ رَجُلاً، يَسْتَغْفِرُ لأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقُلْتُ ‏:‏ أَتَسْتَغْفِرُ لَهُمَا وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقَالَ أَوَلَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ ‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَنَزَلَتْ ‏{‏ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ ‏}‏ ‏.‏
علی ‌رضی ​الله ‌عنہ ‌کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو میں نے کہا: کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے؟ حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو اس نے کہا: کیا ابراہیم ( علیہ السلام ) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو ( یہ آیت ) اتری: «وما كان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه» ”ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا ایک وعدہ کی وجہ سے تھا“ ( التوبہ: ۱۱۴ ) ۔
It Was سنن نسائی #۲۰۳۶ Hasan
سنن نسائی : ۱۶۸
محمد بن قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌يُوسُفُ ​بْنُ ‌سَعِيدٍ، ​قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تُحَدِّثُ قَالَتْ ‏:‏ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا ‏:‏ بَلَى ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي، وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَطَالَ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ، فَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ نَعَمْ، فَلَهَزَنِي فِي صَدْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَىَّ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي، فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْبَقِيعَ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ قُولِي السَّلاَمُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ ‏"‏ ‏.‏
محمد ‌بن ​قیس ‌بن ​مخرمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھیں: کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ضرور بتائیے، تو وہ کہنے لگیں، جب وہ رات آئی جس میں وہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ ( عشاء ) سے پلٹے، اپنے جوتے اپنے پائتانے رکھے، اور اپنے تہبند کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا، آپ صرف اتنی ہی مقدار ٹھہرے جس میں آپ نے محسوس کیا کہ میں سو گئی ہوں، پھر آہستہ سے آپ نے جوتا پہنا اور آہستہ ہی سے اپنی چادر لی، پھر دھیرے سے دروازہ کھولا، اور دھیرے سے نکلے، میں نے بھی اپنا کرتا، اپنے سر میں ڈالا اور اپنی اوڑھنی اوڑھی، اور اپنی تہبند پہنی، اور آپ کے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، اور اپنے ہاتھوں کو تین بار اٹھایا، اور بڑی دیر تک اٹھائے رکھا، پھر آپ پلٹے تو میں بھی پلٹ پڑی، آپ تیز چلنے لگے تو میں بھی تیز چلنے لگی، پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، پھر آپ اور تیز دوڑے تو میں بھی اور تیز دوڑی، اور میں آپ سے پہلے آ گئی، اور گھر میں داخل ہو گئی، اور ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی اندر داخل ہو گئے، آپ نے پوچھا: ”عائشہ! تجھے کیا ہو گیا، یہ سانس اور پیٹ کیوں پھول رہے ہیں؟“ میں نے کہا: کچھ تو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”تو مجھے بتا دے ورنہ وہ ذات جو باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والی ہے مجھے ضرور بتا دے گی“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر میں نے اصل بات بتا دی تو آپ نے فرمایا: ”وہ سایہ جو میں اپنے آگے دیکھ رہا تھا تو ہی تھی“، میں نے عرض کیا: جی ہاں، میں ہی تھی، آپ نے میرے سینہ پر ایک مکا مارا جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تو یہ سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے“، میں نے کہا: جو بھی لوگ چھپائیں اللہ تعالیٰ تو اس سے واقف ہی ہے، ( وہ آپ کو بتا دے گا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے جس وقت تو نے دیکھا، مگر وہ میرے پاس اندر نہیں آئے کیونکہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی، انہوں نے مجھے آواز دی اور انہوں نے تجھ سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا، اور میں نے بھی اسے تجھ سے چھپایا، پھر میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے، اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں تجھے جگاؤں، اور میں ڈرا کہ تو اکیلی پریشان نہ ہو، خیر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں مقبرہ بقیع آؤں، اور وہاں کے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کروں“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں ( جب بقیع میں جاؤں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين يرحم اللہ المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ”سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلے ( دونوں ) پر رحم فرمائے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ( ہی ) والے ہیں“۔
محمد بن قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۲۰۳۷ Sahih
سنن نسائی : ۱۶۹
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ‌قَالَ ‌حَدَّثَنَا ​سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏:‏ لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ اسْتَغْفِرُوا لَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ‌الله ‌عنہ ​کہتے ہیں کہ جب نجاشی ( شاہ حبشہ ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو“۔
It Was سنن نسائی #۲۰۴۱ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۰
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​أَبُو ‌دَاوُدَ، ​قَالَ ‌حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا ‏:‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ ‏:‏ ‏ "‏ اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ ​رضی ‌الله ​عنہ ‌سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو“۔
It Was سنن نسائی #۲۰۴۲ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۱
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ
Sahih Isnaad
أَخْبَرَنَا ‌يَعْقُوبُ ‌بْنُ ​إِبْرَاهِيمَ، ‌قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَجَافَ الْبَابَ - وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - فَمَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ بَابَ الْكَعْبَةِ جَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَخَدَّهُ عَلَيْهِ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ وَالْمَسْأَلَةِ وَالاِسْتَغْفَارِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ ‏ "‏ هَذِهِ الْقِبْلَةُ هَذِهِ الْقِبْلَةُ ‏"‏ ‏.‏
اسامہ ‌بن ‌زید ​رضی ‌الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا، اور مغفرت طلب کی۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر، تہلیل، تسبیح کی، اور اللہ کی ثنا بیان کی، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی، پھر باہر آئے، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پلٹے تو فرمایا: ”یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے“۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۲۹۱۴ Sahih Isnaad
سنن نسائی : ۱۷۲
It Was
Sahih
أَخْبَرَنَا ​قُتَيْبَةُ، ​قَالَ ‌حَدَّثَنَا ​عَبْثَرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاَةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ التَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ ‏ "‏ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَيَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ ‏.‏
عبداللہ ​بن ​مسعود ‌رضی ​الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حاجت و ضرورت میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور «تشہد فی الحاجۃ» یہ ہے کہ ہم ( پہلے ) پڑھیں: «أن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ( اور پھر ) تین آیات پڑھے ( اور ایجاب و قبول کرائے ) ۱؎۔
It Was سنن نسائی #۳۲۷۷ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۳
حماد بن زید رضی اللہ عنہ
Daif
أَخْبَرَنَا ‌عَلِيُّ ‌بْنُ ​نَصْرِ ‌بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَيُّوبَ هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ أَنَّهَا ثَلاَثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ فَقَالَ لاَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ غَفْرًا إِلاَّ مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثٌ ‏"‏ ‏.‏ فَلَقِيتُ كَثِيرًا فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ نَسِيَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏
حماد ‌بن ‌زید ​کہتے ‌ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو «أمرک بیدک» کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ( میں کسی کو بھی نہیں جانتا ) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں“ تو ( اس کا حال یہ ہے کہ ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے ( اس حدیث کے متعلق ) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں ( کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے ) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی ( کہ وہ ایسا کہتے ہیں ) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے ( انہوں نے ایسی بات کہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔
حماد بن زید رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۳۴۱۰ Daif
سنن نسائی : ۱۷۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
أَخْبَرَنَا ​سُلَيْمَانُ ‌بْنُ ​دَاوُدَ، ​قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنِّي قُلْنَا بَلَى ‏.‏ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ إِزَارَهُ عَلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي فَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ وَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ وَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ يَا عَائِشُ رَابِيَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ حَسِبْتُهُ قَالَ حَشْيَا قَالَ ‏"‏ لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ ‏"‏ أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ - قَالَتْ - فَلَهَدَنِي لَهْدَةً فِي صَدْرِي أَوْجَعَتْنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ - قَالَ - فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ وَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ خَالَفَهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَقَالَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ‏.‏
محمد ​بن ‌قیس ​سے ​روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر اپنا تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی، جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، تو آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بند کر دیا۔ میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی اور پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! سانس کیوں پھولی ہے؟ ( سلیمان بن داود نے کہا: میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یوں فرمایا: «حشیا»،‏‏‏‏ یعنی ) تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا، آپ نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے بخوبی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، پھر فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں، انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا ( یعنی دھیرے سے کہا ) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، تو میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تمہیں جگاؤں۔ اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں ( جبرائیل ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں“۔ حجاج بن محمد نے سند اس کے برعکس یوں بیان کی «عن ابن جریج، عن ابن ابی ملیکۃ، عن محمد بن قیس» ۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) سنن نسائی #۳۹۶۳ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۵
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا ​يُوسُفُ ​بْنُ ‌سَعِيدِ ‌بْنِ مُسْلَّمٍ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تُحَدِّثُ قَالَتْ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا بَلَى ‏.‏ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُهُ أَمَامِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ - قَالَتْ - فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ - قَالَ - فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُ مِنْكِ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ رَوَاهُ عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَلَى غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ ‏.‏
محمد ​بن ​قیس ‌بن ‌مخرمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تھے، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بھیڑ دیا، میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی، پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی اور میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! پیٹ کیسا پھولا ہے، تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟ بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ تعالیٰ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ انہوں نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جان ہی لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( اور ) کہا: جبرائیل میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں۔ انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا ( یعنی دھیرے سے کہا ) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں ( جبرائیل ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں۔ عاصم نے یہ حدیث دوسرے الفاظ کے ساتھ عبداللہ بن عامر سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
عائشہ (رضی اللہ عنہا) سنن نسائی #۳۹۶۴ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۶
It Was
Daif
أَخْبَرَنَا ‌سُوَيْدُ ‌بْنُ ​نَصْرٍ، ‌قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ زُرَارَةَ بْنِ كُرَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ - قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ فَأَتَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ فَقَالَ بِيَدِهِ ‏"‏ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَتَائِرُ وَالْفَرَائِعُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ وَمَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَتُهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏.‏
ہمیں ‌سوید ‌بن ​نصر ‌نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم کو عبداللہ یعنی ابن المبارک نے یحییٰ کی سند سے خبر دی، وہ ابن زرارہ بن کریم بن الحارث بن عمرو باہلی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے دادا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجۃ الوداع جب آپ اونٹ پر سوار تھے تو میں ان کے دو حصوں میں سے ایک سے آپ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے والد اور میری والدہ کے لیے میرے لیے استغفار کریں۔ اس نے کہا کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔ پھر میں دوسری طرف سے اس کے پاس آیا، اس امید پر کہ وہ مجھے ان پر الگ کر دے گا۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے لیے استغفار کریں۔ اس نے کہا۔ اس کے ہاتھ سے، "خدا تمہیں معاف کرے۔" پھر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ آزاد کردہ غلام اور اولاد۔ فرمایا جو چاہے آزاد زندگی پا سکے اور جو چاہے نہ ملے۔ اور جو چاہے تقسیم کرے اور جو چاہے قربانی کی بھیڑوں میں تقسیم نہ کرے۔ اور اس نے ایک کے علاوہ اپنی انگلیوں کو بھینچ لیا۔
It Was سنن نسائی #۴۲۲۶ Daif
سنن نسائی : ۱۷۷
یحییٰ بن زرارہ السہمی رضی اللہ عنہ
Daif
أَخْبَرَنِي ‌هَارُونُ ‌بْنُ ​عَبْدِ ​اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، ح وَأَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمِّي اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ ثُمَّ اسْتَدَرْتُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
مجھ ‌سے ‌ہارون ​بن ​عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن زرارہ السہمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، وہ اپنے دادا الحارث بن عمرو سے، ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ہشام بن عبد الملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے یحییٰ بن زررہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے اپنے دادا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ میں نے عرض کیا کہ میرے والد آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! اور میری ماں میرے لیے معافی مانگو۔ اس نے کہا کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔ اور وہ اپنے اونٹ پر سوار تھا۔ پھر میں دوسری طرف سے مڑا اور چل دیا۔ حدیث...
یحییٰ بن زرارہ السہمی رضی اللہ عنہ سنن نسائی #۴۲۲۷ Daif
سنن نسائی : ۱۷۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
أَخْبَرَنَا ‌حُمَيْدُ ​بْنُ ‌مَسْعَدَةَ، ‌وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ ذَكَرَ أَنَسٌ أَنَّ عَمَّتَهُ، كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَقَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلاَنَةَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلاَنَةَ ‏.‏ قَالَ وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ سَأَلُوا أَهْلَهَا الْعَفْوَ وَالأَرْشَ فَلَمَّا حَلَفَ أَخُوهَا - وَهُوَ عَمُّ أَنَسٍ وَهُوَ الشَّهِيدُ يَوْمَ أُحُدٍ - رَضِيَ الْقَوْمُ بِالْعَفْوِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ‏"‏ ‏.‏
ہم ‌سے ​حمید ‌بن ‌مسعدہ اور اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے بشر نے بیان کیا، حمید کی سند سے، انہوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کی پھوپھی نے ایک لونڈی کو توڑا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی کارروائی کا حکم دیا۔ اس کے بھائی انس بن نضر نے کہا: کیا فلاں کی لونڈی ٹوٹ جائے گی؟ نہیں اس کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فلاں کی پیشانی نہیں ٹوٹنی چاہیے۔ اس نے کہا، اور اس سے پہلے، انہوں نے اس کے اہل خانہ سے معافی اور معاوضہ طلب کیا تھا۔ جب اس کے بھائی - جو انس کے چچا تھے - نے احد کے دن قسم کھائی کہ وہ شہید ہیں تو لوگ معافی سے مطمئن ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کے بندوں میں سے وہ لوگ ہیں جو اللہ کی قسم کھاتے ہیں۔ "
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سنن نسائی #۴۷۵۶ Sahih
سنن نسائی : ۱۷۹
It Was
Daif
أَخْبَرَنِي ​مُحَمَّدُ ‌بْنُ ‌عَلِيِّ ‌بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا نَقْعُدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا قَامَ قُمْنَا فَقَامَ يَوْمًا وَقُمْنَا مَعَهُ حَتَّى لَمَّا بَلَغَ وَسَطَ الْمَسْجِدِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ مِنْ وَرَائِهِ - وَكَانَ رِدَاؤُهُ خَشِنًا - فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَىَّ هَذَيْنِ فَإِنَّكَ لاَ تَحْمِلُ مِنْ مَالِكَ وَلاَ مِنْ مَالِ أَبِيكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لاَ أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِمَّا جَبَذْتَ بِرَقَبَتِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُقِيدُكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُقِيدُكَ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الأَعْرَابِيِّ أَقْبَلْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ عَزَمْتُ عَلَى مَنْ سَمِعَ كَلاَمِي أَنْ لاَ يَبْرَحَ مَقَامَهُ حَتَّى آذَنَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ ‏"‏ يَا فُلاَنُ احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا وَعَلَى بَعِيرٍ تَمْرًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْصَرِفُوا ‏"‏ ‏.‏
مجھ ​سے ‌محمد ‌بن ‌علی بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے القنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن ہلال نے بیان کیا، اپنے والد سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ جب وہ کھڑا ہوا تو ہم ایک دن کے لیے کھڑے رہے اور ہم اس کے ساتھ کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد کے وسط میں پہنچ گئے۔ ایک آدمی نے اسے پکڑ لیا اور اپنی چادر اپنے پیچھے کھینچ لی - اور اس کی چادر کھردری تھی - تو اس نے اپنی گردن سرخ کر لی اور کہا اے محمد یہ دو اونٹ میرے لیے لے چلو۔ تم اپنے مال سے یا اپنے باپ کے مال سے نہیں اٹھا سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، جب تک تم مجھ پر پابندی نہیں لگاؤ ​​گے میں تمہارے لیے نہیں اٹھاؤں گا۔ اس وجہ سے جو تم نے میرے گلے میں باندھ رکھا ہے۔" اعرابی نے کہا: نہیں، خدا کی قسم میں تمہیں نہیں باندھوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین بار، ہر ایک نے کہا ’’نہیں‘‘۔ خدا کی قسم میں تم پر پابندی نہیں لگاؤں گا۔ جب ہم نے سنا کہ بدویوں نے کیا کہا تو ہم جلدی سے اس کے پاس پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور فرمایا کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ جو کوئی میری بات سنے گا وہ اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں جائے گا جب تک اسے اجازت نہ دی جائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں سے ایک آدمی سے فرمایا: ”اس کے لیے اونٹ پر جَو اور کھجور اونٹ پر لے جاؤ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلے جاؤ۔
It Was سنن نسائی #۴۷۷۶ Daif
سنن نسائی : ۱۸۰
It Was
Sahih
قَالَ ​الْحَارِثُ ​بْنُ ‌مِسْكِينٍ ​قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ‏}‏ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ وَاتِّبَاعٌ بِمَعْرُوفٍ يَقُولُ يَتَّبِعُ هَذَا بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ بِإِحْسَانٍ وَيُؤَدِّي هَذَا بِإِحْسَانٍ ‏{‏ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ‏}‏ مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إِنَّمَا هُوَ الْقِصَاصُ لَيْسَ الدِّيَةَ ‏.‏
حارث ​بن ​مسکین ‌نے ​کہا: یہ ان کے سامنے پڑھی گئی جب میں سن رہا تھا، سفیان کی روایت سے، عمرو کی روایت سے، مجاہد کی روایت سے، ابن عباس کی روایت سے۔ انہوں نے کہا کہ بنی اسرائیل کے درمیان بدلہ لینے کی ضرورت تھی لیکن خون کی رقم ان میں نہیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: "تم پر مقتول کا بدلہ فرض کیا گیا ہے، آزاد اور غلام کا بدلہ لینا"۔ لونڈی کے لیے اور عورت کے لیے } یہاں تک کہ اس کا فرمان ہے {پس جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ نیکی کرے اور اس کا بدلہ نیکی کے ساتھ ادا کرے۔ } معافی اس وقت ہوتی ہے جب وہ جان بوجھ کر خون کی رقم کو قبول کرتا ہے اور احسان کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، "وہ اس کی پیروی احسان کے ساتھ کرتا ہے، اور وہ اسے احسان کے ساتھ انجام دیتا ہے،" اور وہ یہ احسان کے ساتھ کرتا ہے۔ { یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے جو تم سے پہلے لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ یہ صرف انتقامی کارروائی ہے، خون کا پیسہ نہیں۔
It Was سنن نسائی #۴۷۸۱ Sahih