Hajj کے بارے میں احادیث
۱۶۲۸ مستند احادیث ملیں
صحیح بخاری : ۱۰۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ. وَعَنْ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات پڑھی تھیں۔ ایوب نے ایک شخص کے واسطہ سے بروایت انس رضی اللہ عنہ کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں رات گزاری۔ صبح ہوئی تو فجر کی نماز پڑھی اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے، پھر جب مقام بیداء پہنچے تو عمرہ اور حج دونوں کا نام لے کر لبیک پکارا۔
صحیح بخاری : ۱۰۲
عمرہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يَحِلُّ. قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ ذَبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ. قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ. فَقَالَ أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کر دی ہے۔ ( ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے ) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں «فكلوا منها» کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔
صحیح بخاری : ۱۰۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِهِ. فَقَالَ
" لاَ حَرَجَ، لاَ حَرَجَ ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، انہیں منصور بن ذاذان نے خبر دی، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی قباحت نہیں، کوئی قباحت نہیں۔ ( ترجمہ اور باب میں موافقت ظاہر ہے ) ۔
صحیح بخاری : ۱۰۴
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ. فَقَالَ " أَحَجَجْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ". ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ، فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ، حَتَّى خِلاَفَةِ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَذَكَرْتُهُ لَهُ. فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے۔ ( جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا۔ چنانچہ ( مکہ پہنچ کر ) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہئے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔
صحیح بخاری : ۱۰۵
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا۔
صحیح بخاری : ۱۰۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْنَا يَوْمَ النَّحْرِ، فَحَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا حَائِضٌ. قَالَ " حَابِسَتُنَا هِيَ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ. قَالَ " اخْرُجُوا ". وَيُذْكَرُ عَنِ الْقَاسِمِ وَعُرْوَةَ وَالأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَفَاضَتْ صَفِيَّةُ يَوْمَ النَّحْرِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے، تو میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ حائضہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس نے تو ہمیں روک دیا پھر جب لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلے چلو۔ قاسم، عروہ اور اسود سے بواسطہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا تھا۔
صحیح بخاری : ۱۰۷
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ " لاَ حَرَجَ ". فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ " اذْبَحْ، وَلاَ حَرَجَ ". وَقَالَ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ. فَقَالَ " لاَ حَرَجَ ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں ، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
صحیح بخاری : ۱۰۸
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ " اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ". فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ". فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عیسیٰ بن طلحہ نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر ( اپنی سواری ) پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل معلوم کئے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ کو معلوم نہ تھا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قربانی کر لو کوئی حرج نہیں، دوسرا شخص آیا اور بولا: یا رسول اللہ! مجھے خیال نہ رہا اور رمی جمار سے پہلے ہی میں نے قربانی کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے آگے پیچھے کرنے کے متعلق سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
صحیح بخاری : ۱۰۹
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى " أَتَدْرُونَ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ " فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " بَلَدٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " شَهْرٌ حَرَامٌ ـ قَالَ ـ فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ". وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ بِهَذَا، وَقَالَ " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ "، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ". وَوَدَّعَ النَّاسَ. فَقَالُوا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر ( ناحق ) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔ ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو! یہ ( «يوم النحر» ) حج اکبر کا دن ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ! گواہ رہنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا۔ ( آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا ) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔
صحیح بخاری : ۱۱۰
عبدالرحمٰن بن یزید رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ فَرَآهُ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا انہوں نے دیکھا جمرہ عقبہ کی سات کنکریوں کے ساتھ رمی کے وقت آپ نے بیت اللہ کو تو اپنی بائیں طرف اور منی کو دائیں طرف کر لیا پھر فرمایا کہ یہی ان کا بھی مقام تھا جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔
صحیح بخاری : ۱۱۱
الاعمش رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ. قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، حَتَّى إِذَا حَاذَى بِالشَّجَرَةِ اعْتَرَضَهَا، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ قَامَ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد مصری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حجاج سے سنا، وہ منبر پر سورتوں کا یوں نام لے رہا تھا وہ سورۃ جس میں بقرہ ( گائے ) کا ذکر آیا ہے، وہ سورۃ جس میں آل عمران کا ذکر آیا ہے، وہ سورۃ جس میں نساء ( عورتوں ) کا ذکر آیا ہے، اعمش نے کہا میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو وہ ان کے ساتھ تھے، اس وقت وہ وادی کے نشیب میں اتر گئے اور جب درخت کے ( جو اس وقت وہاں پر تھا ) برابر نیچے اس کے سامنے ہو کر سات کنکریوں سے رمی کی ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے جاتے تھے۔ پھر فرمایا قسم ہے اس کی کہ جس ذات کے سوا کوئی معبود نہیں یہیں وہ ذات بھی کھڑی ہوئی تھی جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی۔
صحیح بخاری : ۱۱۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يَحِلَّ وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ، فَطَافَ مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ، وَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْىُ، فَحَاضَتْ هِيَ، فَنَسَكْنَا مَنَاسِكَنَا مِنْ حَجِّنَا، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ لَيْلَةُ النَّفْرِ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ أَصْحَابِكَ يَرْجِعُ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ غَيْرِي. قَالَ " مَا كُنْتِ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا ". قُلْتُ لاَ. قَالَ " فَاخْرُجِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، وَمَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ". فَخَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَقْرَى حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَمَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ بَلَى. قَالَ " فَلاَ بَأْسَ. انْفِرِي ". فَلَقِيتُهُ مُصْعِدًا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ، وَهُوَ مُنْهَبِطٌ. وَقَالَ مُسَدَّدٌ قُلْتُ لاَ. تَابَعَهُ جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ فِي قَوْلِهِ لاَ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام نہیں کھولا کیونکہ آپ کے ساتھ قربانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے اور دیگر اصحاب نے بھی طواف کیا اور جن کے ساتھ قربانی نہیں تھیں انہوں نے ( اس طواف و سعی کے بعد ) احرام کھول دیا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی تھیں، سب نے اپنے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے تھے، پھر جب لیلۃ حصبہ یعنی روانگی کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ساتھی حج اور عمرہ دونوں کر کے جا رہے ہیں صرف میں عمرہ سے محروم ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اچھا جب ہم آئے تھے تو تم ( حیض کی وجہ سے ) بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی تھیں؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ ( اور عمرہ کر ) ہم تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے، چنانچہ میں اپنے بھائی ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ تنعیم گئی اور وہاں سے احرام باندھا۔ اسی طرح صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا بھی حائضہ ہو گئی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ازراہ محبت ) فرمایا «عقرى حلقى»، تو، تو ہمیں روک لے گی، کیا تو نے قربانی کے دن طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ وہ بولیں کہ کیا تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کوئی حرج نہیں، چلی چلو۔ میں جب آپ تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقہ پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں چڑھ رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتر رہے تھے۔ مسدد کی روایت میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر ) ہاں کے بجائے نہیں ہے، اس کی متابعت جریر نے منصور کے واسطہ سے ”نہیں“ کے ذکر میں کی ہے۔
صحیح بخاری : ۱۱۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَىْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ محصب میں اترنا حج کی کوئی عبادت نہیں ہے، یہ تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ تھی۔
صحیح بخاری : ۱۱۴
نافع بن عمر رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَبِيتُ بِذِي طُوًى بَيْنَ الثَّنِيَّتَيْنِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الَّتِي بِأَعْلَى مَكَّةَ، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا لَمْ يُنِخْ نَاقَتَهُ إِلاَّ عِنْدَ باب الْمَسْجِدِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيَأْتِي الرُّكْنَ الأَسْوَدَ فَيَبْدَأُ بِهِ، ثُمَّ يَطُوفُ سَبْعًا ثَلاَثًا سَعْيًا، وَأَرْبَعًا مَشْيًا، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَيَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ إِذَا صَدَرَ عَنِ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنِيخُ بِهَا.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ جاتے وقت ذی طویٰ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان رات گزارتے تھے اور پھر اس پہاڑی سے ہو کر گزرتے جو مکہ کے اوپر کی طرف ہے اور جب مکہ میں حج یا عمرہ کا احرام باندھنے آتے تو اپنی اونٹنی مسجد کے دروازہ پر لا کر بٹھاتے پھر حجر اسود کے پاس آتے اور یہیں سے طواف شروع کرتے، طواف سات چکروں میں ختم ہوتا جس کے شروع میں رمل کرتے اور چار میں معمول کے مطابق چلتے، طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے پھر ڈیرہ پر واپس ہونے سے پہلے صفا اور مروہ کی دوڑ کرتے۔ جب حج یا عمرہ کر کے مدینہ واپس ہوتے تو ذو الحلیفہ کے میدان میں سواری بٹھاتے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ( مکہ سے مدینہ واپس ہوتے ہوئے ) اپنی سواری بٹھایا کرتے تھے۔
صحیح بخاری : ۱۱۵
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ ذُو الْمَجَازِ وَعُكَاظٌ مَتْجَرَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَلِكَ حَتَّى نَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ} فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ.
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ذوالمجاز اور عکاظ عہد جاہلیت کے بازار تھے جب اسلام آیا تو گویا لوگوں نے ( جاہلیت کے ان بازاروں میں ) خرید و فروخت کو برا خیال کیا اس پر ( سورۃ البقرہ کی ) یہ آیت نازل ہوئی ”تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل کی تلاش کرو، یہ حج کے زمانہ کے لیے تھا۔
صحیح بخاری : ۱۱۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ". قِيلَ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَذْكُرُ إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حَلْقَى عَقْرَى، مَا أُرَاهَا إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ ". ثُمَّ قَالَ " كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنِّي لَمْ أَكُنْ حَلَلْتُ. قَالَ " فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ ". فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا، فَلَقِينَاهُ مُدَّلِجًا. فَقَالَ " مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ".
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو نفر (حج سے روانگی) کی رات حیض آیا تو انہوں نے کہا: میں دیکھتی ہوں کہ میں تمہیں روکوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اقراء حلقہ کیا اس نے نحر کے دن طواف کیا تھا؟ کسی نے اثبات میں جواب دیا۔ اس نے کہا پھر چلے جاؤ۔ (مختلف راویوں نے ذکر کیا ہے کہ) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) صرف حج کے ارادے سے روانہ ہوئے، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام باندھنے کا حکم دیا، جب نفر کی رات ہوئی تو صفیہ بنت حیا رضی اللہ عنہا کو حیض آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! میرا خیال ہے کہ وہ آپ کو روک لے گی، اور کہا: کیا آپ نے یوم نحر (ذبح) کا طواف کیا تھا؟، اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر چلی جاؤ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے (عمرہ) نہیں کیا، آپ نے فرمایا: تم تنعم سے عمرہ کرو، میرا بھائی میرے ساتھ گیا اور ہم رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں فلاں جگہ ٹھہرو۔
صحیح بخاری : ۱۱۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ". قِيلَ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَذْكُرُ إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حَلْقَى عَقْرَى، مَا أُرَاهَا إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ ". ثُمَّ قَالَ " كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنِّي لَمْ أَكُنْ حَلَلْتُ. قَالَ " فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ ". فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا، فَلَقِينَاهُ مُدَّلِجًا. فَقَالَ " مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ".
صفیہ کو نفر کی رات (حج سے روانگی) حیض آیا تو اس نے کہا کہ میں دیکھتی ہوں کہ میں تمہیں روکوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اقراء حلقہ کیا اس نے نحر کے دن طواف کیا تھا؟ کسی نے اثبات میں جواب دیا۔ اس نے کہا پھر چلے جاؤ۔ (مختلف راویوں نے ذکر کیا ہے کہ) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) صرف حج کی نیت سے روانہ ہوئے، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام باندھنے کا حکم دیا، جب نفر کی رات ہوئی تو صفیہ بنت حیا رضی اللہ عنہا کو حیض آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! میرا خیال ہے کہ وہ آپ کو روک لے گی، اور کہا: "کیا تم نے یوم نحر (ذبح) کا طواف کیا تھا؟" اس نے جواب دیا، "ہاں، آپ نے فرمایا، پھر چلی جاؤ۔" میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عمرہ نہیں کیا، آپ نے فرمایا: تم تنعیم سے عمرہ کرو۔ میرا بھائی میرے ساتھ گیا اور ہم رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، آپ نے فرمایا: فلاں فلاں جگہ ٹھہرو۔
صحیح بخاری : ۱۱۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نے خبر دی، انہیں ابوصالح سمان نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
صحیح بخاری : ۱۱۹
ابن جریج رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ الْعُمْرَةِ، قَبْلَ الْحَجِّ فَقَالَ لاَ بَأْسَ. قَالَ عِكْرِمَةُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مِثْلَهُ.
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ مِثْلَهُ.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی کہ عکرمہ بن خالد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں، عکرمہ نے کہا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ ہی کیا تھا اور ابراہیم بن سعد نے محمد بن اسحاق سے بیان کیا، ان سے عکرمہ بن خالد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا پھر یہی حدیث بیان کی۔ ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، ان سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے عکرمہ بن خالد نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا پھر یہی حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری : ۱۲۰
قتادہ رضی اللہ عنہ
Sahih
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، سَأَلْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَرْبَعٌ عُمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، حَيْثُ صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، حَيْثُ صَالَحَهُمْ، وَعُمْرَةُ الْجِعْرَانَةِ إِذْ قَسَمَ غَنِيمَةَ أُرَاهُ حُنَيْنٍ. قُلْتُ كَمْ حَجَّ قَالَ وَاحِدَةً.
ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار، عمرہ حدیبیہ ذی قعدہ میں جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا تھا، پھر آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں ایک عمرہ قضاء جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے صلح کی تھی اور تیسرا عمرہ جعرانہ جس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، چوتھا حج کے ساتھ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کتنے کئے؟ فرمایا کہ ایک۔